قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت قسط نمبر 8

  لازوال اور منفرد معجزہ

انبیاء کے ہاتھوں پر معجزات کا ظہور قوم کے سامنے ان کی حقانیت کی دلیل کے طور پر ہوتا تھا ۔پر کسی بھی نبی کی شریعت کو صبح قیامت تک دوام نہیں بخشا گیا تھا اس لئے کسی ایسے معجزے کی ضرورت نہ تھی جو دائمی ہو زمانے کے اثرات وحوادث کا اس پر کچھ اثر نہ ہو ۔لیکن جب سید المرسلین خاتم النبیین تشریف لائے تو آپ کی شریعت کا دائرہ کسی ملک یا اقلیم یا زمان ومکان تک محدود نہ تھا۔ہرقوم وفرد ہر زمانہ ومقام آپ کی نبوت کے تحت آتا تھا ۔اس لئے آپ کو دائمی معجزات بھی عطاء کئے گئے ۔علامہ سیوطی رحمہ الله نے لکھا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو معجزے ایسے ہیں جو اب تک باقی ہیں ۔ایک تو یہ قرآن مجید کے اس میں کھلا چیلنج موجود ہے کہ اس جیسا کلام بنا کرلاسکتے ہو تو لے آؤ اور یہ چیلنج آج بھی موجود ہے پر دنیا اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔پھر اعجاز القرآن صرف اس کی فصاحت وبلاغت میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس کی تو ہر جہت ہی معجزہ ہے صاحب مناہل العرفان نے چوبیس وجوہ اعجاز ذکر کی ہیں ۔جن میں اس کی حفاظت بھی داخل ہے ۔تو بہرحال ایک دائمی معجزہ تو اللہ کا یہ کلام مقدس ہے اس کے علاوہ دوسرا معجزہ وہ فرماتے ہیں کہ جمرات پر جو کنکریاں ماری جاتی ہیں بمطابق حدیث جن لوگوں کا حج قبول ہوجاتا ہے ان کی کنکریاں اٹھا لی جاتی ہیں یہ معجزہ بھی ابھی تک باقی ہے کہ لاکھوں لوگ آج تک حج کرتے ہیں اور ان کی پھینکی گئیں کنکریوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچتی ہے اور یہ صدیوں کا تسلسل ہے لیکن جمرات پر کوئی پہاڑ قائم نہیں ہوتا ۔

قرآن مجید کے چیلنج پر عرب شعراء وادباء کی اکثریت تو ایسی تھی جنہوں نے اپنی مہارت فن کی بنیاد پر سمجھ لیا کہ اس کلام کا معارضہ ممکن نہیں بلکہ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ انہوں نے قرآن مجید کے نزول کے بعد شعر کہنا ہی چھوڑ دیا کہ حقیقی ماہر فن کے سامنے جب کسی چیز کا اعلی درجہ آجاتا ہے تو اس سے کم درجہ کی چیز اس کی نگاہ میں جچتی نہیں ۔تو قرآن مجید جیسا کلام لانا جب ممکن نہ ہوا تو انہوں نے اپنے کلام کو ناقص مانتے ہوئے دوبارہ شعر ہی نہیں کہا ۔جیسے لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہ ان سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے خلافت میں فرمایا کہ اپنا کچھ کلام سناؤ تو انہوں نے عرض کیا کہ جب سے قرآن مجید نازل ہوا ہے میں نے شعر کہنا چھوڑ دیا یہ لبید کوئی معمولی شاعر نہ تھے ان کا کلام ان سات قصائد میں شامل ہے جن کو شعراء نے بالاتفاق بے مثال تسلیم کیا تھا اور سونے کے پانی سے لکھ کر کعبے کی دیوار پر لٹکائے گئے تھے۔ان کے کلام میں ایسی فصاحت تھی کہ فرزدق جو خود انتہائی بڑا شاعر تھا اس نے کسی کو پڑھتے ہوئے سنا کہ وہ لبید رض کا یہ شعر پڑھ رہا ہے ۔

وَجَلاَ السُّيُولُ عَنِ الطُّلُولِ كَأَنَّهَا ... زُبُرٌ تُجِدُّ مُتُونَهَا أَقْلاَمُهَا

یعنی سیلاب کے پانی نے محبوبہ کے پرانے گھر کے کھنڈرات کو ایسے واضح کردیا ہے ۔جیسے کتاب کے دھندلے ہوجانے والے نقوش کو دوبارہ قلم پھیر کر تازہ کردیا گیا ہو ۔

فرزدق نے یہ سنا تو وہ سجدہ میں گرگیا کسی نے کہا اے ابوفراس یہ کیا کررہے ہو تو اس نے جواب دیا جیسے تم قرآن کی وہ آیات پہچانتے ہو جن پر سجدہ کیا جاتا ہے ایسے ہی میں وہ شعر پہچانتا ہوں جن کی فصاحت سجدے کے لائق ہے ۔(بظاہر شعر کی فصاحت وبلاغت سے خوش ہوکر سجدہ اس نے اللہ ہی کو کیا کہ مسلمان تھا )

تو لبید رض جیسا شاعر کہتا ہے کہ میں نے شعر کہنا چھوڑدیا کہ قرآن آچکا ہے ۔

البتہ بعض لوگوں کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے کچھ کوششیں اس ضمن میں کیں لیکن بالاخر عاجز ہوئے ۔

ان کوشش کرنے والوں میں ایک نام عبداللہ ابن مقفع کا ملتا ہے جو عباسی دور کے ادباء میں سے ہے ۔یہ شخص پہلے مجوسی تھا بعد میں اسلام لایا عربی زبان کا بہت بلندپایہ ادیب تھا ۔مشہور کتاب کلیلہ ودمنہ کا عربی میں ترجمہ اسی نے کیا ہے ۔اس کا خیال تھا کہ وہ قرآن مجید جیسی عبارت لکھ سکتا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زنادقہ کی ایک جماعت نے اس کو اس کام کے لئے ایک خطیر رقم بھی دی تھی ۔اس نے ایک سال کی مہلت مانگی ۔کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا انتظام کیا اور گوشہ تنہائی میں چلا گیا سال بھر غور وفکر اور محنت سے کچھ کلام تیار کیا ۔جب باہر نکلا تو ایک بچے کو سنا کہ وہ یہ آیت پڑھ رہا ہے ۔{وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} [هود: 44]  ابن مقفع اس کلام کی فصاحت پر دنگ رہ گیا اس نے جو لکھا تھا وہ پھاڑ ڈالا کہ اس کلام جیسا بنانا ممکن نہیں ۔

(اس آیت پر مفصل کلام آگے آئے گا ).

شیخ طنطاوی جوھری مصری عالم دین ہیں انہوں نے جواھر فی تفسیر القرآن کے نام سے پچیس جلدوں پر مشتمل ایک تفسیر لکھی ہے ۔اس کے مقدمہ میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک جرمن مستشرق سے ہماری کبھی کبھی ملاقات ہوتی تھی ۔یہ شخص عربی زبان کا بڑا ماہر اور بلند پایہ ادیب تھا ۔ایک دن اس نے مجھے سے کہا کہ کیا تم بھی قرآن کے اس دعوی پر یقین رکھتے ہو کہ اس جیسا کلام بنانا ممکن نہیں اور طنز سے ہنسا میں نے کہا کہ تجربہ کرلیتے ہہیں۔ہم ایک مضمون چنتے ہیں اور اس پر عربی میں فصیح جملے تیار کرتے ہیں پھر قرآن سے موازنہ کرتے ہیں کہ قرآن مجید اس مضمون میں کیا کہتا ہے ۔مشورہ سے طے ہوگیا کہ جہنم بہت وسیع ہے اس پر جملے بنائیں گے شیخ کہتے ہیں ہم نے پوری محنت صرف کرکے بیس جملے فصیح عربی کے تیار کئے جن میں جھنم کی وسعت کو بیان کیا گیا تھا ۔جب یہ جملے تیار ہوچکے تو وہ مستشرق کہنے لگا اب اس سے بہتر ممکن نہیں ۔اس پر میں نے کہا قرآن مجید کے سامنے ہم بالکل بچے ثابت ہوئے ہیں کہ قرآن کہتا ہے ۔

{يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ} [ق: 30]

اس پر وہ مستشرق دنگ رہ گیا اور کچھ جواب نہ بن پڑا کہ وہ کتنا ہی معاند سہی پر عربی ادب میں مہارت رکھتا تھا لہذا فورا سمجھ گیا اور اعتراف کرنے پرمجبور ہوگیا۔

 

جاری ہے ۔۔۔۔۔

عبداللہ اسلم لاہور


قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت

قرآن مجید کے اس چیلنج کا تذکرہ جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو دیا تھا جن کو اپنی زبان دانی اور قوت کلام پر ناز تھا جن کے ہاں شعروادب ہی بزرگی وفضیلت کا معیار تھا ۔
عربی زبان کی فصاحت وبلاغت اہل عرب کی زباندانی ،عرب معاشرے پر شعراء کے اثرات ،اور اس کے تناظر میں قرآن مجید کے اس چیلنج کا دلچسپ قسط وار تذکرہ۔

کل مضامین : 16
اس سلسلے کے تمام مضامین

مفتی عبد اللہ اسلم صاحب

مدیر مدرسہ مصباح العلوم لاہور ۔
کل مواد : 20
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019