قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت قسط نمبر 4

 4 عربی زبان کی جامعیت

عربی زبان کی ایک بہت بڑی خصوصیت اس کی جامعیت ہے ۔یعنی الفاظ تھوڑے ہوں اور ان میں معانی کے سمندر چھپے ہوئے ہوں ۔ بہت سے حضرات نے بلاغۃ کی تعریف میں یہ بات ذکر کی ہے قلیل اللفظ کثیر المعنی یعنی مختصر الفاظ میں وسیع ترین مفھوم کا سمودینا  اور یہ عربی زبان کا خاصہ ہے ۔ کسی بھی دوسری زبان میں کوئی مضمون لکھیں اور وہی مضمون عربی زبان میں لکھا جائے تو عربی زبان کا مضمون کم الفاظ پر مشتمل ہو گا ۔

نبی کریم صلی الله عليه وسلم کو تو یہ وصف خاص طور پر عطاء کیا گیا تھا ۔کہ فرمایا اوتیت بجوامع الکلم پھر خود قرآن کی جامعیت کا تو کیا کہنا کہ ایک ایک آیت پر باقاعدہ کتب تفسیر لکھی گئی ہیں ۔اسی طرح جوامع الکلم کے عنوان سے بھی بہت سی کتب لکھی گئی ہیں ۔

لیکن قرآن وحدیث سے قطع نظر ایک زبان کی حیثیت سے عربی زبان میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ اس کے جملے دریا بکوزہ (کٹورے میں دریا) کا مصداق بن جائیں ۔

اسے ہم ایک مثال سے سمجھتے ہیں ۔

مثلا رات کی منظرکشی کرتے ہوئے میں اردو میں ایک پیراگراف استعمال کرتا ہوں ۔

سردی کا موسم تھا۔رات آدھی کے قریب گذرچکی تھی ۔چاند پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا مغرب کی جانب سے ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔شبنم کے قطرے سبزے کے فرش پر اتر رہے تھے ۔

اب اس پیراگراف میں مندرجہ ذیل چیزوں کا تذکرہ ہے ۔

1 رات کا وقت ہونا

2 رات کا روشن ہونا ۔

3 رات کا کونسا پہر اس کی تعیین

4 ہوا کا چلنا

5 ہوا کی سمت

6 ہوا کی رفتار یعنی اس کا نرمی سے چلنا

7 ہوا کی ٹھنڈک

8 شبنم کا گرنا

اب یہ فصیح اردو ہے ورنہ بات مزید طویل بھی ہوسکتی تھی ۔لیکن عربی زبان میں اسی مضمون کو تین یا چار لفظوں میں بیان کیا جاسکتا ہے ۔

جیسے تھب البَلِیل فی اللیل المنیر

اس میں بھی زیادہ معانی پر مشتمل صرف ایک لفظ ہے یعنی البلیل یہ اس ٹھنڈی ہوا کو کہتے ہیں جو سردی کے موسم میں مغرب کی جانب سے آہستگی سے چلے اس حال میں کہ شبنم گررہی ہو ۔اور شبنم کے گرنے کاوقت عموما آدھی رات کے بعد ہوتا ہے ۔

ایسی مثالیں عربی زبان میں کثرت سے ملتی ہیں ۔مزید دیکھیں صفن کا لفظ اگر گھوڑے کے لئے استعمال ہو تو مطلب یہ کہ گھوڑا تین قدموں پر کھڑا ہوا اور چوتھا پاؤں نرمی سے زمین پر رکھ دیا ۔اور پرندے کے لئے استعمال ہو تو مطلب یہ کہ اس نے اپنے بچے کے لئے ایسا گھونسلہ بنایا جو تنکوں کیساتھ پروں سے بنا ہوا تھا ۔

صِلات ،اضداد ،اور دیگر خصوصیات

عربی زبان کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں فعل کو اسم سے ملانے کے لئے جو حرف استعمال ہوتے ہیں ان کے بدلنے سے معنی بدل جاتا ہے ۔ان حروف کو صِلہ کہتے ہیں ۔مثلا ضربتہ کا معنی میں نے اسے مارا لیکن لام کے ساتھ استعمال ہو اور ضربت لہ کہا جائے تو مطلب میں نے اس کے لئے مثال بیان کی ۔اسی طرح ضربت عنہ میں نے اس سے منہ پھیر لیا ۔ضربت فی الارض میں نے سفرکیا ۔

اسی طرح رغب فیہ اس کی خواہش کی اور رغب عنہ اس سے اعراض کیا ۔

ان صلات کے بدلنے سے معانی کے تبدیل ہوجانے کی وجہ سے بھی عربی زبان میں بہت وسعت پیدا ہوگئی ہے ۔

اسی طرح اعراب کے بدلنے سے معنی کا بدلنا تو معروف بات ہے جيسے وُضوء

واؤ پر پیش کے ساتھ وضؤ کرنے کو کہتے ہیں اور وَضؤ واؤ پر زبر کیساتھ اس پانی کو کہتے ہیں جس سے وضوء کیا جائے ۔اسی طرح میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ وِضؤ واؤ کی زیر کیساتھ اس برتن کو کہتے ہیں جس سے وضؤ کیا جاتا ہے ۔لیکن یہ تیسری بات کتب لغات میں مجھے کہیں ملی نہیں ۔بہرحال عربی زبان میں باقاعدہ ایسی کتب موجود ہیں جو ایسے الفاظ پر مشتمل ہیں جو تین اعراب کیساتھ تین مختلف معانی دیتے ہیں ۔

اس کے علاوہ ایک ایسی خصوصیت عربی زبان میں پائی جاتی ہے جس کی نظیر کسی دوسری زبان میں ملنا مشکل ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات ایک ہی لفظ کے دو بالکل الٹ معنی ہوتے ہیں ۔مثلا مولٰی کا لفظ آقا کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور غلام کے لئے بھی اسی طرح صارخ فریاد کرنے والے کو بھی کہتے ہیں اور جو فریاد سن کر مدد کو آئے اسے بھی صارخ کہاجاتا ہے ۔رہوۃ بلندی کو بھی کہتے ہیں اور پستی کو بھی اس وصف کو صنعت اضداد کہتے ہیں اور اس سے بھی شعراء وادباء کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں ۔

علامہ ابن فارس کی فقہ اللغۃ اور علامہ سیوطی کی المزہر میں ایسے الفاظ کا تذکرہ بکثرت موجود ہے۔

عربی زبان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اسم آلہ اسم ظرف وغیرہ کے طے شدہ اوزان پائے جاتے ہیں اس لئے نئے الفاظ وضع کرنا دشوار نہیں ہے اسی وجہ سے عربی زبان جدید الفاظ میں دیگر زبانوں کی محتاج کبھی نہیں رہی ۔

اسی طرح تغیر وتبدل سے محفوظ رہنا بھی عربی زبان کی بڑی خاصیت ہے ورنہ ہر زبان رفتہ رفتہ اتنا بدل جاتی ہے کہ بعد میں آنے والوں کے لئے پرانی زبان کا سمجھنا بھی دشوار ہوجاتا ہے ۔اردو اور انگریزی کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔اس حفاظت زبان کا بڑا سبب کتاب اللہ وسنت رسول کی منجانب اللہ حفاظت ہے ۔

عربی زبان میں اور بھی بہت سی خصوصیات ہیں جن کا احاطہ اس مختصر مضمون میں دشوار ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔


قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت

قرآن مجید کے اس چیلنج کا تذکرہ جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو دیا تھا جن کو اپنی زبان دانی اور قوت کلام پر ناز تھا جن کے ہاں شعروادب ہی بزرگی وفضیلت کا معیار تھا ۔
عربی زبان کی فصاحت وبلاغت اہل عرب کی زباندانی ،عرب معاشرے پر شعراء کے اثرات ،اور اس کے تناظر میں قرآن مجید کے اس چیلنج کا دلچسپ قسط وار تذکرہ۔

کل مضامین : 16
اس سلسلے کے تمام مضامین

مفتی عبد اللہ اسلم صاحب

مدیر مدرسہ مصباح العلوم لاہور ۔
کل مواد : 20
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019