کراچی کے علماء سے چند ملاقاتیں قسط نمبر 3

حضرت مولانا ابن الحسن عباسی صاحب سے ملاقات

(پہلا حصہ )

شاعر نے کہا تھا

یہ قصہ ہے جب کا جب آتش جواں تھا

بچپن سے ہی ادبی ذوق تھا ۔اردو مادری زبان تھی ،فارسی نصاب کا ضروری حصہ اور عربی ذریعہ تعلیم تھی عنفوان شباب تھا اور ادب سے جنوں کی حد تک دلچسپی تھی ۔غالب ومیر کے اشعار نوک زباں تھے سعدی وشیرازی کے دیوان حفظ تھے کہ سبع المعلقہ شروع ہوئی۔پڑھانے والے بھی صاحب ذوق تھے پھر امرؤالقیس کی تشبیہات، زھیر کی سلاست، ولید کی فصاحت، حارث بن حلزہ کی حمیت وغیرت سے بھرپور بداہت گویا کہ خرمن شوق میں آگ لگ گئی ۔اردو عربی فارسی کے اشعار اور نثرپارے میری نظر میں جواہرات سے زیادہ قیمتی ہوگئے ۔

انہی دنوں ابن الحسن عباسی صاحب کی پہلی کتاب آئی تھی ۔میں نے کتاب اٹھائی تو ہاتھ سے رکھنا بھول گیا ۔مجھ جیسے آدمی کے لئے یہ کتاب ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھی ۔

میں نے مولانا ابوالکلام آزاد صاحب کو پڑھا تھا ۔احسان دانش اور شورش کی نثرنگاری دیکھی تھی پرموجودہ دور کے قلمکاروں میں کسی ایسے قلمکار کا مل جانا جس کے قلم سے سیاہی کی جگہ خون جگر ٹپکتا ہو جو احساسات کے قرطاس پر آنسؤوں کی تحریر لکھتا ہو۔

جس کے الفاظ محض لفظوں کی کرشمہ سازی نہ ہو بلکہ اس کے درد دل کی تعبیر ہوں میرے وھم وگمان میں بھی نہ تھا۔

مجھے یاد ہے کہ کیسے میں پسینے میں ڈوبا ہوا تپتی دوپہر میں کئی کلومیڑ سائیکل چلا کر اردو بازار پہنچا تھا تاکہ اس قلمکار کی دوسری کتاب بھی خرید سکوں ۔مجھے یاد ہے کہ میں نے کیسے مہینوں تک اس کی نئی کتاب کا کسی محبوب کی طرح انتظار کیا تھا ۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں نے پہلی دفعہ ان کی کتاب میں اقبال کا یہ شعر دیکھا تھا ۔

بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ

کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں

تو میرے آنسو نہ تھمتے تھے ۔میں نے اقبال کا کلام بھی پڑھا تھا پر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ احساسات کا آئینہ رفتہ رفتہ غم والم کی ضربوں سے ایسا شکستہ ہوجاتا ہے کہ اس کو بکھرنے کے لئے ہلکی سے ٹھیس کافی ہوتی ہے ۔

اس طرح حضرت مولانا ابن الحسن عباسی صاحب سے میرا تعارف ہوا ۔

میں ایک فقیر آدمی ہوں جس کے پاس دشت درد کی آبلہ پائی کے سواء کچھ نہیں سو کبھی خیال بھی نہ تھا کہ ان سے کبھی ملاقات ہوگی کہ میری نظر میں ان کا مقام ایسے ہی بلند تھا جیسے بیابان وحشت کے مسافر کے نزدیک آسمان پر چمکتے چاند کا ہوتا ہے ۔

لیکن میرے کریم رب کو جس کے لئے یہ محبت تھی یہ منظور تھا کہ ہماری ملاقات ہو سو اس دفعہ کراچی کے سفر میں حضرت سے ملاقات ہوئی ۔

حضرت بہت ہی شفقت سے ملے ۔دیکھ کر ایک رعب سا جو مجھ پر طاری تھا وہ جاتا رہا ۔واٹس ایپ پر میری لکھی تحاریر پر تبصرہ فرماتے رہے ۔جس سے اندازہ ہوا کہ باریک بینی سے ہر تحریر کو دیکھتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ آخر یہ ان کا فن ہے ۔میں نے بھی پوری کشادہ دلی سے گپ شپ کی حتی کہ رات کے بارہ بج گئے اور میں تھک گیا لیکن حضرت کی طبیعت پر تھکاوٹ کے کوئی آثار نہ تھے اسی دوران گھر کا بنا ہوا کھانا بھی ایک بڑے سے تھال میں رکھ کرلایا گیا ۔

بہت سی مباحث پر گفتگو ہوتی رہی میں نے عرض کیا کہ آپ سے دوستوں کی طرح گفتگو ہورہی ہے حالانکہ عموما پہلی ملاقات میں مخاطب کوئی بڑے عالم ہوں تو میں خاموشی کو ترجیح دیتا ہوں فرمانے لگے کہ میں فقیر آدمی ہوں میرا معاملہ مختلف ہے ۔

جاری ہے ۔۔۔۔

مفتی عبد اللہ اسلم صاحب

مدیر مدرسہ مصباح العلوم لاہور ۔
کل مواد : 20
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019