کراچی کے علماء سے چند ملاقاتیں قسط نمبر 2

حضرت مولانا نورالبشر صاحب سے ملاقات

علوم الحدیث میں حضرت مولانا نورالبشر صاحب کی خدمات کسی سے مخفی نہیں ہیں ۔پاکستان بھر میں اصول حدیث پر کام کے حوالے سے جو گنتی کے چند حضرات ہیں ۔ان میں استاد محترم حضرت مولانا عبدالحلیم چشتی صاحب اور حضرت مولانا نورالبشر صاحب یہ دو حضرات نمایاں ترین حیثیت کے حامل ہیں اور باقی حضرات کے اساتذہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔بندہ کا کراچی کا یہ سفر درحقیقت انہی دو حضرات اساتذہ کرام سے استفادہ کی خاطر تھا ۔

 گذشتہ سال حضرت مولانا سید ھشام مغربی صاحب کی زیرقیادت لاہور کے علماء کے ایک وفد کیساتھ حضرت مولانا نورالبشر صاحب کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی ۔حضرت نے اپنے مدرسہ اور تخصص کا مکمل نظام دکھایا تھا ۔تخصص کا نظام تخصص فی الفقہ اور تخصص فی الحدیث دونوں کو جمع کرکے ترتیب دیا گیا تھا ۔نظام دیکھنے پر اندازہ ہوا کہ بہت ہی مفید اور مرتب نظام ہے ۔حضرت فرمانے لگے کے بعض اوقات طلباء 16 سے 18 گھنٹے بھی پڑھائی کرتے ہیں ۔کہ ان سے خوب کام لیا جاتا ہے ۔نیز احادیث سے متعلقہ فتاوی جات میں 80 سے 100 صفحات کا جواب بھی بعض طلباء لکھتے ہیں ۔نیز فرمانے لگے کہ ہمارے ہاں حدیث کو بھی فقہ کے تابع کرکے پڑھایا جاتا ہے ۔اور زیادہ زور فقہی اختلافات پردیا جاتا ہے درس حدیث میں علوم الحدیث پر گفتگو کی ضرورت ہے ۔فرمایا کہ علمی ذوق ختم ہوتا جارہا ہے بعض اوقات دوران درس مخاطب کو دیکھتے ہیں تواندازہ ہوتا ہے کہ وہ بات کو توجہ سے سن ہی نہیں رہا سمجھنا تو دور کی بات ہے ۔اس پر استاد کا اپنا جذبہ ٹھنڈا پڑجاتا ہے ۔

اس ملاقات میں بھی حضرت سے تخصص فی الحدیث کے حوالے سے بہت ہی قیمتی گفتگو ہوئی ۔میں نے عرض کیا کہ تو ایک عرصہ افتاء کی خدمت کرنے کے بعد حاضر ہوا ہوں تو ظاہر ہے اس اجتماعی نظام میں جہاں مجھ سے فقہ کے بنیادی مسائل حل کروائے جائیں گے شاید کچھ زیادہ نفع نہ ہوگا ۔حضرت نے اس بات سے اتفاق کیا اور انتہائی شفقت فرماتے ہوئے اپنے اوقات کی مکمل تفصیل بتائی جس سے اندازہ ہوا کہ کسی شخص کو انفرادی وقت دینا ان کے لئے بہت مشکل تھا ۔پھر فرمایا کہ آپ کے لئے میرے نزدیک سب سے بہترین جگہ بنوری ٹاؤن ہے ۔آپ وہاں چلے جاؤ۔ایک صاحب یاسر حمید یا یاسر عبداللہ نام لیا کہ ان سے مشاورت میں رہنا ۔

ابھی رمضان سے قبل اصول تحقیق اور مناھج المحدثین پر حضرت کے رفقاء نے آٹھ دن پر مشتمل دورہ کروایا تھا اس پر بھی تفصیلی گفتگو رہی ۔میں نے عرض کیا حضرت لاہور کو بھی اپنے فیوض سے مستفید فرمائیں کہ ہمارے پاس وہاں ہرطرح قیام کی سہولیات موجود ہیں اور عموما کراچی وغیرہ سے جو علماء تشریف لاتے ہیں ہمارے ہاں قیام کرتے ہیں تو حضرت نے حامی بھرلی اور کہا کہ کوشش کریں گے کہ دوران سال ششماہی کی چھٹیوں میں آٹھ دن کا دورہ لاہور ہوسکے ۔

حضرت کی طبیعت میں انتہائی جمال ہے ۔تین گھنٹے کی مسلسل گفتگو ہوئی ۔بہت ہی خندہ پیشانی سے میرے سؤالات کے جوابات دیتے رہے ۔مجھے ایسی رغبت اور محبت پیدا ہوئی کہ مستقل حاضری ارادہ کر کے اٹھا ۔

اثناء گفتگو علوم الحدیث میں کن موضوعات پر تصنیف کی ضرورت ہے اور منھج کیا ہونا چاہئے اس پر بھی  مفصل بات ہوئی تھی جو ان شاء الله پھرکس موقع پر ذکر کروں گا ۔

اللہ تعالیٰ ہمارے ان حضرات اکابر کی عمروں میں برکت عطاء فرمائے ان کی مثال اس ٹھنڈی چھاؤں والے درخت جیسی ہے جو بلاکسی مفاد اور بلاتخصیص ہر مسافر غریب الدیار کو نفع پہنچارہا ہو ۔

عبداللہ اسلم غفرلہ

حال مقیم جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی ۔

مفتی عبد اللہ اسلم صاحب

مدیر مدرسہ مصباح العلوم لاہور ۔
کل مواد : 20
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019