قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت قسط نمبر 10

 

 لوگوں کی طبیعت پر فصاحت قرآن کے اثرات

قاضی عیاض رح مالکی عالم دین ہیں ۔قرطبہ جو اندلس کا مشہور شہر تھا اس کے قاضی تھے ۔بڑے صاحب علم اور نیک آدمی تھےبیس کے قریب کتب تصنیف کیں جن میں بخاری ومسلم کی شروحات بھی ہیں ۔انہوں نے ایک کتاب ایسی لکھی جس نے انہیں شہرت کے آسمان پر پہنچادیا ۔آج ان کی دیگر کتب کا وجود تلاش کرنا بھی ممکن ہے ۔لیکن یہ ایسی کتاب ہے جو آج بھی دنیا کے ہر اس خطے میں دستیاب ہے جہاں عربی بولی یا سمجھی جاتی ہے ۔ان کی یہ کتاب نبی کریم صلی الله عليه وسلم کی سیرت پر تھی گویا ایک عاشق کی زبان سے صاحب قرآن کا والہانہ تذکرہ تھا۔الشفاء بتعریف حقوق المصطفی نامی یہ کتاب واقعی مرض عشق کے مبتلاء دردمندوں کے لئے پیام شفاء تھی ۔

انہوں نے اس میں جب صاحب قرآن کا تذکرہ کیا تو قرآن کا تذکرہ لازمی تھا ۔جب فصاحت قرآن کی بات چلی تو انہوں نے چند عجیب واقعات تحریر کئے ۔لکھتے ہیں ۔

کہ ایک اعرابی (عرب کے دیہات کا رہنے والا) نے کسی کو پڑھتے ہوئے سنا فاصدع بما تؤمر یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کھول کر بیان کردیجئے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ۔اس اعرابی نے یہ سنا تو وہ سجدے میں گرگیا اور کہا میں نے اس کلام کی فصاحت کو سجدہ کیا ہے۔ (آیت میں فصاحت کیا ہے اس کا قصہ میں تذکرہ نہیں ہے ۔پر میں بتاتا ہوں اصل میں بیان کرنے کے لئے عربی میں بہت سے لفظ استعمال ہوتے ہیں ۔تو اللہ تعالیٰ یوں فرما سکتے تھے بَیِّن بما تؤمر کہ جس بات کا حکم دیا گیا ہے اسے بیان فرما دیں ۔یا یوں کہہ سکتے تھے بَلِّغ بما تؤمر جیسا کہ دوسری جگہ کہا بھی ہے یاایّھا الرسول بلغّ ماانزل الیک من ربک کہ نبی کریم صلی الله عليه وسلم آپ پہنچا دیجئیے جو آپ پر آپ کے رب کی جانب سے نازل ہوا ۔اسی طرح اِکشف، وضِّح، صَرِّح، أظھر بہت سے الفاظ تھے جو بیان کردیجئے پہنچادیجئے، واضح کردیجئے کا معنی اداء کرتے ہیں ۔لیکن اللہ تعالیٰ ان تمام صریح الفاظ کو چھوڑ کر کنایہ استعمال کرتے ہیں ۔کہ صدع کے لفظ کا اصل معنی بیان کردینا یا پہنچادینا نہیں ہے ۔بلکہ اس کا معنی کسی چیز میں دراڑ کا پیدا ہونا جب شیشے میں دراڑ پڑجاتی ہے تو عرب کہتے ہیں صدعت الزجاجۃ ۔قرآن مجید نے بھی اس معنی میں سورہ طارق میں استعمال کیا ہے والارض ذات الصدع یعنی قسم ہے اس زمین کی جو پھٹن (شگاف) والی ہے ۔تو چونکہ دراڑ پڑ جانے سے چیز کی دونوں جانبیں بالکل علیحدہ علیحدہ اور واضح ہوجاتی ہیں تو جب کسی چیز کو ایسے کھول کر بتانا ہو کہ حق وباطل میں فرق بالکل واضح نظر آئے کسی قسم کا التباس واختلاط باقی نہ رہے تو صدع کے لفظ کو عاریت لے کر واضح بیان کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔اور میرے علم کے مطابق قرآن سے پہلے کسی نے بھی اس معنی میں استعمال نہیں کیا ۔

بہرحال اب پس منظر پر بھی ذرا نظر ڈالیں حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء اسلام میں آپ صلی الله عليه وسلم زیادہ تر مخفی رہتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی ۔تو آپ صلی الله عليه وسلم اور آپ کے صحابہ علی الاعلان دعوت دینے لگے ۔

تو یہاں صرف یہ کہنا مقصود نہ تھا کہ اے نبی صلی الله عليه وسلم آپ پہنچادیجئے ۔،آپ بتادیجئے یا آپ واضح کردیجئے ۔یہاں تو یہ کہا جارہا ہے ۔کہ آپ ایسا کھول کر بیان کردیں کہ حق اور باطل بالکل جدا ہوجائیں اور حق ایک کنارے پر ہو تو باطل دوسرے کنارے پر نظر آئے اور ان کے معبودان باطلہ کی نفی میں کسی مصلحت ورعایت سے کام نہ لیں ۔اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کے اس طرز دعوت سے تعلقات کے شیشے میں دراڑ آئے گی ۔وہ لوگ جو عزت ومحبت سے صادق وامین کہتے تھے اب نفرت وحقارت سے ساحر ودیوانہ کہیں گے جو لوگ حجر اسود کے نصب جیسے اھم فیصلے کراتے تھے اب وہ بات سننے کے رودار نہیں ہوں گے ۔اپنے پرائے ہوجائیں گے رشتہ دار اجنبی بن جائیں گے ۔کہ آپ کی دعوت ماننے والوں اور نافرمانوں میں ایسی دراڑ قائم کردے گی جسے پاٹا نہیں جاسکتا ۔تو اے نبی صلی الله عليه وسلم آپ اس کی پرواہ نہ کریں اور کھول کر واضح کرکے بیان فرمائیں ۔

اب اس سارے مفہوم کو میرا رب صرف ایک لفظ فاصدع سے بیان کررہا ہے ۔تو وہ اعرابی جو اس بات کی گہرائی کو فطری طور پر سمجھتا ہے اس کلام کی باریکیوں کا ادراک رکھتا ہے کیوں نہ اس کلام کی فصاحت پر سجدہ کرے ۔

جب سے میں نے یہ واقعہ پڑھا تھا میں اس تلاش میں تھا کہ اس آیت میں ایسی کونسی فصاحت چھپی ہے جو اعرابی سجدہ میں گر گیا ۔مفسرین نے مختصر لکھا ہے کہ یہاں استعارہ مکنیہ ہے ۔لیکن

اس آیت کی ایسے واضح اور مفصل تفسیر مجھے قدیم وجدید کسی تفسیر میں نہیں ملی یہ تو اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اس کے مضامین کو ایسے کھول دیا جیسے رات کی گھٹاٹوپ تاریکی کے بعد صبح کا سورج طلوع ہو جائے یا خشک وبنجر زمین ہلکی ونرم بارش سے سیراب ہوجائے لیکن میں نے اس میں محض اپنی رائے پر اعتماد نہیں کیا بلکہ مختلف مفسرین نے ان باتوں کی طرف اشارات ذکرکئے ہیں جو میں نے تحریر کیں اور صاحب ذوق جب متعدد تفاسیر دیکھ لے گا تو وہ ان شاء الله اسی نتیجہ پر پہنچے گا ۔وللہ الحمد ۔)

قاضی عیاض رح ایک اور واقعہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک اعرابی نے سورہ یوسف کی یہ آیت سنی فلما استیئسوا منه خلصوا نجيا

یعنی جب برادران یوسف بالکل مایوس ہو گئے تو علیحدہ ہو کر چپکے سے مشورہ کرنے لگے ۔

تو اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ مخلوق کا کلام نہیں ہے ۔

مزید فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دن مسجد میں آرام فرمارہے تھے کہ اچانک ایک آدمی کو دیکھا کہ ان کے سر کے پاس کھڑا کلمہ شہادت پڑھ رہا ہے ۔اس پر اس سے احوال دریافت کئے تو اس نے کہا میں روم کے بڑے پادریوں میں سے ایک ہوں اور ہمارے پاس کچھ مسلمان قید ہوکر آئے تھے۔ میں نے ان میں سے ایک قیدی کو ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا تو میں بہت غوروخوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام پر نازل کیا ہے وہ سب اس ایک آیت میں ذکر کردیا گیا ہے ۔اور وہ آیت یہ ہے ۔

ومن يُطِعِ الله ورسوله ويخش الله ويتقه 

اصمعی رح کا قصہ پیچھے ذکر ہوا کہ انہوں نے ایک بچی کے شعر سنے تو کہا قاتلک اللہ ماافصحک یعنی اس کی فصاحت پر تعجب کا اظہار کیا تو اس نے کہا اے اصمعی کیا قرآن کے بعد بھی کچھ فصاحت بچی ہے ۔

وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي ۖ إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ. الآیۃ

اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کو الہام کیا کہ : تم اس (بچے) کو دودھ پلاؤ، پھر جب تمہیں اس کے بارے میں کوئی خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا، اور ڈرنا نہیں، اور نہ صدمہ کرنا، یقین رکھو ہم اسے واپس تمہارے پاس پہنچا کر رہیں گے، اور اس کو پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر بنائیں گے.

تو اس آیت میں دو امر ہیں یعنی ارضعیہ اور القیہ  اور دو نہی ہیں لاتخافی اور لاتحزنی اور دوخبریں ہیں یعنی اوحینا اور  اذا خفت علیہ (اس میں اشارہ ہے کہ یہ خوف کا عالم پیش آئے گا ۔اس اعتبار سے یہ خبر ہے) اور دو بشارتیں ہیں انا رادوہ الیک اور جاعلوہ من المرسلین

علامہ قرطبی رحمہ نے بھی اس آخری قصہ کا تذکرہ کیا ہےاور وہ اشعار بھی ذکر کئے ہیں جو وہ بچی پڑھ رہی تھی۔

 

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔


قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت

قرآن مجید کے اس چیلنج کا تذکرہ جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو دیا تھا جن کو اپنی زبان دانی اور قوت کلام پر ناز تھا جن کے ہاں شعروادب ہی بزرگی وفضیلت کا معیار تھا ۔
عربی زبان کی فصاحت وبلاغت اہل عرب کی زباندانی ،عرب معاشرے پر شعراء کے اثرات ،اور اس کے تناظر میں قرآن مجید کے اس چیلنج کا دلچسپ قسط وار تذکرہ۔

کل مضامین : 16
اس سلسلے کے تمام مضامین

مفتی عبد اللہ اسلم صاحب

مدیر مدرسہ مصباح العلوم لاہور ۔
کل مواد : 20
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019