قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت قسط نمبر 3

 ایک اور مثال دیکھتے ہیں  ۔

ہم لوگ ہوا کے لئے صرف ہوا کا لفظ استعمال کرتے ہیں یا تیز چلے تو آندھی کہتے ہیں یا ایک مخصوص کیفیت ہو تو بگولا کہہ دیتے ہیں ۔

لیکن اھل عرب کے ہاں مختلف جہات مشرق ،مغرب،شمال، جنوب سے چلنے والی ہواؤں کے الگ الگ نام ہیں ۔پھر صبح سویرے چلنے والی ہوا کا اور نام دوپہر کو چلنے والی ہوا کا مختلف نام، شام کو چلنے والی ہوا اور نام اور رات کو چلنے والی اور نام سے جانی جاتی ہے ۔پھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ رات کے کس حصہ میں چلی؟ ۔گرم تھی یا سرد؟ گرمی یاسردی کی شدت کتنی تھی ؟ خشک تھی یا شبنم آلود ؟بادلوں کے جلو میں تھی یا غبار آلود؟  پھولوں کی خوشبو سے مہک رہی تھی یا بارش کے قطرات سے الجھ رہی تھی ؟اس کی رفتار کتنی تھی؟ صرف رفتار میں نرمی اور شدت کے اعتبار سے تقریبا دس درجات ہیں ۔

اسی طرح چوبیس گھنٹوں میں سے ہر ایک کا علیحدہ نام ہے ۔بچے کی پیدائش سے لے کر جوان ہونے تک سترہ درجات ہیں پھر جوانی کے اور پھر بڑھاپے کے بھی درجات ہیں جن کے علیحدہ علیحدہ نام ہیں ۔

ایک زمانے میں مجھے یہ درجات اور فروق جاننے کا بڑا شوق تھا ۔فروق اللغویہ اور چند دیگر فروق کی کتابیں میرے پاس تھیں ۔لیکن اس فن کی مشہور کتاب علامہ ثعالبی رح کی فقہ اللغۃ کے نام سے ہے وہ اب تو پاکستان میں چھپ گئی ہے اور عام مل جاتی ہے اس دور میں پاکستان میں نہ چھپی تھی تو میں ایک عرصے تک اس کی تلاش میں بیروت کی کتب کے مکتبات چھانتا رہا اور پشاور سے کراچی تک کے کتب خانے دیکھے ۔پشاور والوں سے تو بارہا درخواست کی کہ آپ بیروت سے منگوا دیں ۔آخر ایک دن ایک مکتبہ پر کتاب مل گئی لیکن خریدنے کو جیب میں رقم نہ تھی۔مولانا عبدالرحمن صاحب حالا استاذ مدرسہ احیاء العلوم لاہور کے پاس دوڑا ہوا گیا اور ان کی جیب سے خریداری کی ۔مولانا کے مجھ پر بے شمار احسانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی تعاون سے انکار نہیں کیا۔

خیر تو ترادف کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک مفہوم کو مختلف انداز سے بیان کرنے پر قادر ہوجاتا ہے اور چند الفاظ میں مفاہیم کے سمندر سمو دیتا ہے ۔اس جے علاوہ ایک ہی لفظ کو باربار دھرانے کی ضرورت پیش نہیں آتی جس کی وجہ سے کلام کے تکرار کے عیب سے پاک ہونے کی وجہ سے اس میں ایک حسن پیدا ہوجاتا ہے ۔سحبان وائل عرب کا مشہور خطیب ہے ایک دفعہ اس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک خطبہ دیا۔تقریبا چارگھنٹے کے اس خطبے میں نہ وہ کہیں رکا نہ جھجکا نہ اٹکا اور نہ ہی کسی لفظ یا جملے کو دوبارہ استعمال کیا ۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حاضرین دنگ رہ گئے ۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم تو عرب کے سب سے بڑے خطیب ہو اس پر اس نے جواب دیا صرف عرب کا نہیں بلکہ عرب وعجم جن وانس کا سب سے بڑا خطیب ہوں ۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے درست کہا تم ایسے ہی ہو ۔

اندلس کے ایک قاضی صاحب کی بیٹی فوت ہو گئی ۔لوگ تعزیت کو آنے لگے تقریبا دوسو افراد نے تعزیت کی اور قاضی صاحب نے ہر ایک کو مختلف الفاظ سے جواب دیا اور کوئی بھی جملہ دوبارہ نہیں دھرایا ۔اب غورکیجئے کہ یہ غم کا موقع تھا کوئی ادب و انشاء کی محفل نہ تھی ۔مگر قاضی صاحب کی فصاحت اور قدرت کلام کا یہ عالم تھا کہ دوسو مختلف جملے استعمال کئےاور دوبارہ کوئی جملہ استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئی ۔

اس موضوع پر کہ ایک مفھوم کو مختلف جملوں میں کیسے اداء کیا جاتا ہے عبدالرحمن الھمدانی کی ایک کتاب ہے الکتابۃ کے نام سے۔ جس میں ایک معنی کو بیس بیس جملوں سے تعبیر کرکے دکھایا گیا ہے ۔

2 اشتراک

عربی زبان کی ایک اور بڑی خصوصیت اشتراک ہے ۔ترادف میں تو ایک معنی کے لئے کئی الفاظ استعمال ہوتے تھے اشتراک میں ایک لفظ کے کئی معانی ہوتے ہیں ۔کہا جاتا ہے تقریبا ہر لفظ ہی متعدد معنی رکھتا ہے ۔مثلا لفظ عین عربی میں ستر کے قریب معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔اسی طرح عجوز کا لفظ ساٹھ سے زائد معنوں میں مستعمل ہے ۔بعض لوگوں نے لفظ عجوز کے مختلف معانی کو لے کر قصائد لکھے ہیں جن میں ہر شعر میں یہ لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔

 اصول بلاغت میں ایک وصف ہے تجنیس جس میں ایک ہی لفظ کو مختلف معنوں میں استعمال کرکے کلام میں حسن پیدا کیا جاتا ہے۔اردو شعراء اس کو ضلع سے تعبیر کرتے ہیں مگر اس کے استعمال کے لئے ایسی زبان ہونا ضروری ہے جو کثیر المعنی ہو ۔مثلا اردو میں ایک مثال دیکھیں

شانے سے بل نکال دئیے زلف یار کے

اک مار ہم نےزیر کیا مار مار کے

یہاں پہلا مار سانپ کے معنی میں ہے اور دوسرا پٹائی کے معنی میں ۔مگر اردو کا دامن تنگ ہے اس لئے فارسی سے مدد لینی پڑی کہ مار بمعنی سانپ درحقیقت فارسی کا لفظ ہے ۔

عربی زبان میں اس حوالے سے بہت وسعت ہے ۔اس لئے شعراء کثرت سے تجنیس کے ذریعے کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں ۔مقامات حریری میں جگہ جگہ یہ وصف استعمال ہوا ہے ۔

 

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔


قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت

قرآن مجید کے اس چیلنج کا تذکرہ جو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو دیا تھا جن کو اپنی زبان دانی اور قوت کلام پر ناز تھا جن کے ہاں شعروادب ہی بزرگی وفضیلت کا معیار تھا ۔
عربی زبان کی فصاحت وبلاغت اہل عرب کی زباندانی ،عرب معاشرے پر شعراء کے اثرات ،اور اس کے تناظر میں قرآن مجید کے اس چیلنج کا دلچسپ قسط وار تذکرہ۔

کل مضامین : 16
اس سلسلے کے تمام مضامین

مفتی عبد اللہ اسلم صاحب

مدیر مدرسہ مصباح العلوم لاہور ۔
کل مواد : 20
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019