شعبہ تخصص فی الافتاء کا تعارف ۔ جامعہ تراث الاسلام کراچی ماہنامہ النخیل شعبان 1440

 الحمدللہ!…جامعہ تراث الاسلام کراچی گزشتہ 12 سالوں سےدرجہ تخصص فی الافتاءکے شرکاء کی خدمت کے لیے کوشاں ہےاور جامعہ سے فارغ التحصیل علماء کرام مختلف مدارس میں دین کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔طلباء کرام کی استعداد ،وقت کی قلت اور عصر حاضر کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تخصص فی الافتاء کے نصاب میں فقہی ذوق پیدا کرنے کیلئے غیر معمولی تبدیلی کی گئی، جس کے بہتر نتائج حاصل ہوئے ۔ عمومی طورپرتمرین میں پیش آمدہ مسائل کے حل پر زیادہ توجہ دی گئی اور اسی طرح مضبوط استعداد کے لئے مطالعہ کا بہترین نظم تشکیل دیا گیا۔اچھی تحریر کا مستقل ذوق پیدا کرنے کیلئے مختلف لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔ہر سہ ماہی کا نصاب اور تمرین کی مطلوبہ تعداد کو بروقت مکمل کیا گیا ۔نصاب میں ذکر کردہ تمام کتب اور تمرین کا ہر سہ ماہی کے اختتام پر امتحان لیاگیا جس میں طلباء نے اچھے نتائج حاصل کیےاور جامع کی سطح پر نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔مکمل سال میں تعلیمی سرگرمیوں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

نصاب برائے یک سالہ تخصص فی الافتاء

پہلی سہماہی

تدریس

1 امداد الفتاویٰ (جلد ۳)2اصول الافتاء وآدابہ 3الاشباہ والنظائر 4مقدمہ شامی

 

مطالعہ

1الدر المختار مع الشامی(کتاب الطہارۃ و کتاب الصلوٰۃ ۔منتخبات)2کفایت المفتی (جلد ۱)

3فتاویٰ عثمانی (جلد ۳)4فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (جلد ۱)

5 اسلام و کفر قرآن کی روشنی میں 6وحدت امت

تمرین

۳۰ فتاویٰ

شارٹ کورس

1مضمون نگاری ۔2قربانی کے مسائل

دوسری سہماہی

تدریس

1الاشباہ والنظائر          2بحوث قضایا فقہیہ معاصرۃ؍ فقہ البیوع3 السراجی

مطالعہ

1 الدر المختارمع الشامی(کتاب الزکاۃ ،کتاب الصوم، کتاب النکاح۔منتخبات) 2امداد الاحکام (جلد ۲)  3فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (جلد ۳)  4رؤیت ہلال  5 آسان فلکیات

تمرین

۵۰ فتاوی

شارٹ کورس

1ٹائم منیجمنٹ   2 تکافل کورس   3مالیاتی اداروں کی شرعی رہنمائی

   4فہم فلکیات     5نماز کا عملی طریقہ

تیسری سہماہی

تدریس

1 الاشباہ والنظائر     2 المعاییر الشرعیہ    3 انگریزی

مطالعہ

1الدر المختارمع الشامی (کتاب البیوع ، کتاب الحظر والاباحۃ ، منتخبات)

  2 فتاویٰ محمودیہ (کتاب الوقف ، الحظر والاباحۃ)   3 مسئلہ سود

تمرین

1 ۲۰ تخریجات    2 مختصر تحقیقی مقالہ (۴۰ تا ۵۰ صفحات)

شارٹ کورس

1بینکاری کورس    2 عمرہ کا طریقہ 3تقابل ادیان  4جدید عربی کورس

پہلی سہ ماہی:…نصاب ترتیب دیتے وقت ہر سہ ماہی میں بنیادی طور پرتین چیزوں کو مدنظر رکھا گیا تھا ،ذیل میں اسی ترتیب سے تعلیمی سرگرمیاں ذکر کی جاتی ہیں:

 تدریس…پہلی سہ ماہی میں چونکہ طلباء درسِ نظامی سے مطالعہ،تکرار اور سبق کا ایک خاص مزاج کے حامل  ہوتے ہیں اور فتویٰ یا فقہ پر مہارت حاصل کرنا اس مزاج سے سراسر مختلف ہے اس لئے پہلی سہ ماہی میں چند فقہی کتابوں کی تدریس کو بطورِ خاص درسِ نظامی کے انداز سے یکسر مختلف پڑھایا گیا۔

1… امہات الفتاوٰی میں خاص فقہی مزاج سے بھرپور حضرت تھانویؒ کے’’امداد الفتاوی‘‘کو درساً پڑھایا گیا۔  ’’امدادالفتاویٰ‘‘میں بھی چونکہ معرکۃ الآراء حصہ کتاب البیوع ہے جس کو عموماً حضراتِ اکابر بھی درساً پڑھاتے تھے اس لئے کتاب البیوع کے ابتدائی مسائل اس طرز پڑھائے گئے کہ کتاب میں ذکر کردہ فقہی اصولوں پر بعد میں آنے والے فقہاء کی تفصیلات کی روشنی میں مطالعہ کروایا گیا۔ جیسےجہاں امداد الفتاویٰ میں ’’محلے کے دوکاندار سے ایک عرصے تک اشیاءِ خوردونوش لیتے رہنا اور پھر یکمشت قیمت دےدینےکامسئلہ‘‘آیاتو اسی کی روشنی میں لکھاگیا حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا تحقیقی مقالہ’’بیع الاستجرار‘‘کا تفصیلی مطالعہ بھی کروادیا گیا۔اس کوشش سےقدیم پیچیدہ مسائل کو عصرِ حاضر کی صورتوں پر انطباق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد ملی۔اسی طرح مختلف مقامات پر مختلف مسائل جیسے ’’خیارات‘‘وغیرہ کا مطالعہ فقہ کے متون و شروح سے جزئیات ڈھونڈ کر نکانے کی صورت میں کروایا گیا جس سے مقصود فقہی ذوق اور فقہی کتب سے مناسبت پیدا کرنا تھا۔

2…فتویٰ کے اصول وآداب سے بہرہ ور ہوئے بغیر فتویٰ کاکام ناممکن ہے،چنانچہ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اصول و آداب کی آسان کتاب’’اصول الافتاء وآدابہ‘‘کو درساً پڑھایا گیا اور مختلف اصولوں کو مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کی گئی۔جس سے فتویٰ کے ابتدائی ناقل کےلئے سازگار اور معاون مزاج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

3…فقہی اصول کسی بھی مفتی کے لئے رگِ جاں کی حیثیت رکھتے ہیں چنانچہ اسی نقطہ نظر سے فقہ کے اصولوں پر مشتمل مشہور کتاب’’الاشباہ والنظائر ‘‘کے درس کا اہتمام کیا گیا اور اسی اہمیت کے پیشِ نظرمذکورہ کتاب کا درس دو سری سہ ماہی کے آخر تک جاری رہا۔اس دوران بھی یہ کوشش بطورِ خاص کی گئی کہ قدیم فقہی اصولوں کی بقدر وسعت عصر حاضر سے مثالیں دی جائیں تا کہ افہام و تفہیم آسان ہو سکے۔

4…ردالمحتار یعنی حاشیہ ابن عابدین معاصر فقہاء کرام کے ہاں فقہ کا انسائیکلوپیڈیا سمجھا جاتا ہے، چنانچہ یہی وجہ ہےکہ تخصص میں اس کا مطالعہ لازمی قراردیاجاتا ہے۔تاہم چونکہ اس کتاب کا مقدمہ بھی ایک منفردحیثیت کا حامل ہے اسی لئے ’’مقدمہ ردالمحتار‘‘پڑھانے کےلئے بڑے اساتذہ کرام کی خدمت حاصل کی گئی تاکہ طلباء کرام اس کتاب کے مقدمہ کے ساتھ ساتھ ان کے تجربے سے بھی مستفید ہوسکیں۔

 مطالعہ…تمرینِ افتا ءدو چیزوں پر مشتمل ہوتی ہے،اردو تعبیر اور اس کے متعلق حوالہ جات۔اسی وجہ سے تمرین کے شرکاء کے لئے عربی و اُردو دونوں طرح کے فتاویٰ کا مطالعہ کروایا جاتا ہے تاکہ اردو تعبیر اور حوالہ جات دونوں پر مشق کے ذریعے حوالہ جات کے مطابق تعبیر بنانے کا مزاج پیدا ہو،چنانچہ عربی مطالعہ کے لئے ’’الدر المختار مع حاشیۃ ابن عابدین‘‘کے منتخب ابواب کا مطالعہ ہر سہ ماہی میںاردو فتاوٰی کے ابواب کی مناسبت سے رکھا گیا۔اردو فتاوٰی میں’’کفایت المفتی جلد اول،’’فتاوٰی عثمانی ج3‘‘،’’فتاوٰی دارالعلوم دیوبندج1‘‘کامطالعہ صفحات کی یومیہ ترتیب سے کروایا گیا ۔ مطالعاتی کارکردگی کو جانچنے کےلئے تمام کتب کا سہ ماہی کے آخر میں امتحان بھی لیا گیا۔

تمرین…پہلی سہ ماہی تمرین کا نصاب’’30فتاوٰی جات‘‘رکھا گیااورکوشش کی گئی کہ ابتدا میں آسان فتاوٰی کے ذریعے طلبہ کو اس ہنر سے آراستہ کیا جائے۔

 دوسری سہ ماہی:…تدریس…مذکورہ بالا ترتیب کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دوسری سہ ماہی میں مندرجہ ذیل تین کتابیں بطوردرس پڑھائی گئیں:(۱)…بحوث فی قضایا فقہیہ معاصرۃ(منتخب ابحاث) (۲)…السراجی (۳)…الاشباہ والنظائر

 مطالعہ…عربی کتب میں ’’الدر المختار مع حاشیۃ ابن عابدین‘‘کے منتخب ابواب اور اردو فتاویٰ میں ’’امداد الاحکام ج2‘‘،فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج2‘‘کا مطالعہ مذکورہ بالا طریقے سے ہی کروایا گیا۔

 تمرین…دوسری سہ ماہی میں تمرین پر خصوصی توجہ دی گئی اور نصاب کے مطابق مختلف ابواب سے متعلق 50فتاوٰی جات حل کروائے گئے۔جن کے لئےباقاعدہ طور پر تین اساتذہ کرام سے دو مرتبہ اصلاح یقینی بنائی گئی۔

 تیسری سہ ماہی

تدریس…اس سہ ماہی میں جدید معاملات کے معیارات پر مشتمل مشہور کتاب’’المعاییر الشرعیۃ‘‘ سے چند معاییر درسا پڑھائے گئے۔اس کے ساتھ ساتھ وقت کی ضرورت اور جدید مسائل سے ہم آہنگ کرنےکےلئے طلباء کو’’انگریزی‘‘کی بنیادی کتب بھی پڑھائی گئیں۔

 مطالعہ …عربی کتب میں ’’الدر المختار مع حاشیۃ ابن عابدین‘‘کے منتخب ابواب اور اردو فتاویٰ میں ’’فتاویٰ محمودیہ منتخب ابواب‘‘،مسئلہ سود اور چند مفید رسائل کا مطالعہ مذکورہ بالا طریقے سے کروایا گیا۔

 تمرین…اس سہ ماہی میں تمرین کا عمل مختصر کر کے’’20 تخریجات‘‘کر دیا گیا اور ساتھ ساتھ کسی بھی فقہی موضوع پر ایک مختصر فقہی تحقیقی مقالہ لکھوانے کا التزام کیا گیا،جس کامقصد طلباء کو تحقیق اور نت نئے مسائل کا حل تلاش کرنےکا انداز سکھانا تھا۔

 

 شارٹ کورسز

مذکورہ بالا نصاب کے ساتھ ساتھ اضافی صلاحیتوں کو نکھارنے اور معلومات کا دائرہ وسیع کرنے کی غرض سے طلباء کرام کو مختلف موضوعات پر شارٹ کورسز کروائے گئےجن میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ،فن کے ماہرین حضرات کو مدعو کیا گیا۔ذیل میں اس سال (۱۴۴۰ھ، ۲۰۱۹ء)میں ہونے والے شارٹ کورسز کی تفصیل ذکر کی جاتی ہے:

…(۱)… کاروبار کی بنیادی قسمیں اور شئیر ٹریڈنگ

(معلم : مفتی اویس نعیم، شریعہ کمپلائنس آفیسرپاک قطر تکافل)

۱۱و۱۲محرم الحرام ۱۴۴۰ بمطابق۲۲و۲۳ستمبر۲۰۱۸ءکو شرکاءتخصص کےلیےایک مختصرکورس کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلباء کو کاروبار کی ابتدائی قسمیں بتانےکے بعد ’’شیئرٹریڈنگ ‘‘،’’اسٹاک ایکسچینج‘‘اور’’شرعیہ سکریننگ کرائٹیریا ‘‘ کا تفصیلی تعارف کروایا گیا۔

 پہلےدن کے لیکچر میں کاروبار کی بنیاد ی قسمیں،ان کی شرعی اور قانونی حیثیت، شئیر ٹریڈنگ،اسٹاک ایکسچینج،بروکرکے کردار اورشئیرٹریڈنگ کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات بیان ہوئیں۔

کورس کےدوسرے دن کے لیکچر میں شیئرٹریڈنگ کےبنیادی نکات : ۱۔ کمپنی کا بنیادی کاروبار ۲۔سودی قرضے ۳۔جامداثاثے۴۔ناجائز آمدنی ۵۔شیئرز کی اصل اور بازاری قیمت ۶۔ ناجائز انوسٹمنٹ سے حاصل ہونے والا نفع   ۷۔T+2کی تفصیل  ۸۔پیوری فیکیشن کی تفصیل، ۹۔ پیوری فیکیشن کا طریقہ کار۔ وغیرہ پر تفصیلی معلومات شرکاء تخصص کی دی گئیں۔ مجموعی طورطلباء کے لئے ایک مفید کورس رہا،جسے طلباءکرام کی طرف سے بہت سراہا گیا۔

…(۲)… ٹائم مینیجمنٹ کورس

(معلم : مفتی افضل کاسی)

 ۳۰دسمبر۲۰۱۸ءبمطابق۲۲ربیع الثانی۱۴۳۸ھ بروز اتواریہ کورس منعقد ہوا۔کورس’’ مفتی افضل کاسی صاحب‘‘ نے کرایا۔ موصوف جامعہ دارالعلوم کراچی کے فارغ التحصیل اور اسلامیات کے پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ’’ٹائم لینڈرز ‘‘کے سند یافتہ بھی ہیں۔

سب سے پہلے اس کورس کی اہمیت بیان کی گئی کہ ہمارے اپنے اوقات کو منظم کرنا کتنا اہم اور ضروری ہے،اور مثالوں کے ساتھ وضاحت کی گئی کہ جس نے بھی زندگی میں کامیابی حاصل کی ہے اس نے سب سے پہلے اپنے اوقات کو منظم کیا ہے۔

اس بات کو بیان کیا گیا کہ ہمیں اکثر  اوقات بہت سارے کاموں کا وقت نہیں ملتا اس کی کیا وجہ ہے۔

زندگی کو کامیاب بنانے کےلیے اپنے کاموں کو مرتب کرنا اور غیر اہم کاموں کو اپنی زندگی سےنکالنا، اہم کاموں میں سے ارجنٹ کو مقدم کرنا اور اس میں سے ہر کام کا طریقہ۔

اہم اور ارجنٹ کی تعریف اوروقت بچانے کے مختلف فارمولے بیان کیے گئے ،جیسے لیٹ ہونے سے بچنے کےلیے ’’بفر‘‘ کا فارمولا کہ ’’ہر کام کےلیے احتیاطا کچھ وقت اضافی رکھ لیا جائے۔‘‘… ’’اپنے اندر اچھی صفات پیدا کی جائیں جیسے ایفائے عہد۔‘‘… ’’وہی کام اپنے  ذمے لیں جس کو کرنے کی صلاحیت اور وقت ہو اگر کسی خارجی مجبوری کی وجہ  سے وہ کام نہ کر سکیں تو پہلے سے اطلاع کریں۔‘‘… ’’ہر کام لکھ کر مرتب کر لیا جائے تا کہ ذہن پر  بوجھ نہ رہے۔‘‘… ’’اپنے آپ کو کچھ وقت دیاجائے اور اپنا جائزہ لیا جائے کہ کتنے غیر اہم کام کیے۔‘‘

…(۳)… ڈیجیٹل لٹریسی کورس

(معلمین: جناب سلمان عباسی ، جناب جنید درانی، جناب مسعود اقبال ، جناب فیضان شکیل )

یہ کورس ۱۶گھنٹوں پر مشتمل تھااور۸، ۱۵،۹اور۱۶ربیع الاول۱۴۴۰ھ بمطابق۱۷  ،۱۸ ،۲۴اور۲۵  نومبر۲۰۱۸ ء  چار دن میں ہوا۔کورس کروانے والے تمام مہمان باہر سے تشریف لائے تھے ۔محترم سلمان عباسی صاحب سر سید یونیورسٹی میں نیٹ ورک اینڈ ہارڈویئر انجینئر ہیں۔محترم جنید درانی صاحب سافٹ ویئر ڈویلپنگ میں مہارت رکھتے ہیں۔محترم مسعود اقبا ل صاحب موبائل ایپس میں مہارت رکھنے اور گیم ڈویلپر ہونے کے ساتھ ساتھ پروگرامنگ میں بھی قابل ذکر تجربہ رکھتے ہیں۔محترم فیضان شکیل صاحب کا تعلق گرافک ،ڈیزائننگ اور ویب ڈویلپنگ سے ہے۔ یہ حضرات  P-T-E[پاکستان ٹیکنالوجی ایجوکیشن] کے نام سے ایک اکیڈمی بھی چلا  رہے ہیں جس کے ایڈمنسٹریٹر جناب سلمان عباسی اور جنید درانی صاحب ہیں۔

کورس کی ابتداء میں ’’ڈیجیٹل لٹریسی ‘‘کا مفہوم بیان کیا گیا اور اس کورس کی ضرورت ،اہمیت اور فوائد بیان کیے گئے۔اس کے بعد جدید سہولیات پر بات کی گئی ،ان کے فوائد بیان کیے گئے اورنقصانات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔اس کے ساتھ یہ بات بھی واضح کی گئی کہ جدید اصطلاحات کو جاننا کتنا ضروری ہے۔اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ جدید سہولیات اور مشینیں ہماری زندگی کا کس طرح سے احاطہ کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے با رے میں معلومات   حاصل کرنا اور ان کو سمجھنا ضروری ہے۔مشینوں میں سب سے اہم چونکہ کمپیوٹر ہےاور تقریبا ہر جگہ اور ہر چیز میں اس کا دخل ہے اس لیے اس کا تعارف تفصیل کے ساتھ کرایا گیا۔کمپیوٹر کے مختلف حصوں کی وضاحت کی گئی،نظر آنے والے اجزاء اور نظر نہ آنے والے اجزاء )جو سی پی یو کے اندر ہوتے ہیں (کے باقاعدہ نمونے دکھا کر ان کے نام اور کام بتائے گئے۔ ہارڈویئر اور سافٹ ویئرکا مطلب ،ان دونوں میں فرق اور دونوں کا مقصد بیان کیا گیا۔اس کی تاریخ اور ایجاد کے مختلف مراحل سے شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔اس کے علاوہ موبائل فون کی جدید و قدیم صورتیں،اس کی ایجاد کے مختلف مراحل،اس میں موجود سہولیات اور ان سے فائدہ حاصل کرنے کا طریقہ بتایا بھی گیا۔سوشل میڈیا سے متعلقہ ایپس ،ان کی تاریخ اور ان کو ایجاد کرنے والوں کا تعارف جامع انداز میں کرایا گیا۔

…(۴)… تعارف ادیان باطلہ

(معلم:مفتی نجیب اللہ عمر صاحب)

یہ کورس ہفتہ اور اتوار ۲۴،۲۵صفر۱۴۴۰ھ /۳،۴ نومبر ۲۰۱۸ء ،دو دن پر مشتمل تھا،جس میںمختلف مذاہب اور مسالک کا تعارف ، ان کے عقائد و نظریات کا ذکر، ان کی تردیداور دلا ئل و براہین پیش کرنے کا انداز واسلوب، اس فن کی اہم کتب و مراجع کا ذکرکیا گیا،نیزمناظرے کی مبادیات اور ضروری امور و اصول بیان کیے گئے۔

  …(۵)… آن لائن خریدوفروخت کے شرعی احکام

(معلمین:مفتی حسین خلیل خیل صاحب ۔ ڈاکٹر ذیشان صاحب ۔ڈاکٹر اعجاز احمد ارشاد صاحب)

  ۲۰جنوری ۲۰۱۹کوگل بہارلان ،کراچی میںمنعقد ہ سیمینارمیںشرکائے تخصص نے شرکت کی۔ مذکورہ تینوں حضرات نے آن لائن خریدوفروخت کے مختلف فنی اور شرعی مسائل پر بات کی، تخصص کے طلباء کے لیے یہ سیمینار اس حوالے سے کافی مفید رہا کہ:

(۱) … تحقیق پسند طلباء کو تحقیق کے مختلف پہلو مل گئے۔

(۲)…اگر اس طرح کے مسائل سےمتعلق کوئی استفتاء آئے تو کن امور کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے اس سے ضروری آگاہی حاصل ہوگئی۔

(۳)…  ان کی ہدایات کو سن کر شرکائے تخصص کواندازہ ہو گیا کہ تاجر اور مستفتی جب مسئلہ معلوم کرنے آئے تو اسے کس انداز میں مسئلے سے آگاہ کیا جائے تاکہ اس کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔

…(۷)… جدید عربی لینگویج کورس

(معلم: مولانا ابوطاہر صدیق صاحب )

 عربی زبان کی ضرورت  اہمیت سے انکار ممکن نہیں، خصوصاً علماء و طلباء کے حوالے سے ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ جرائد اور اخبارات میں لکھی جانے والی عربی کتابی عربی سے یکسر مختلف ہونے کی وجہ سے جامعہ شرکاء تخصص کےلئے پندرہ روزہ ’’جدید عربی لینگویج کورس‘‘کا اہتمام کیا۔ جس میں معروف عربی دان، فاضل مدینہ یونی ورسٹی شیخ ابوطاہر صدیق صاحب سے وقت لیا گیا۔آپ نے اپنے منفرد اسلوب اور اپنی کامل صلاحیتوں سے تمام شرکاء کو مستفید فرمایا۔

…(۸)… کالم نگاری کورس

تحریر کی ضرورت اور اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے جامعہ کی انتظامیہ نے تخصص فی الافتاء کے شرکاء کے لیے اس سال ایک ہفت روزہ کورس بعنوان ’’تحریر و کالم نگاری‘‘ (۲۷اکتوبر تا۵ نومبر ۲۰۱۸ء)منعقد کیا، جس میں فن کے ماہرین نے درج ذیل موضوعات پراپنے تجربات سے روشناس کرایا۔

موضوع

مدرس

۱…مضمون نگاری عصر حاضر میں …………  مولانا ابن الحسن عباسی صاحب(معروف ادیب و کالم نگار)

۲…اصول املاء اورعلامات ترقیم… … …  مفتی محمد ساجد (استاد جامعہ تراث الاسلام ،ایڈیٹر ماہنامہ حیا )

۳…عملی کالم نگاری……… ………  مولانا عبد المنعم فائز صاحب(یڈیٹر ہفت روزہ شریعہ اینڈ بزنس)

۴…مطالعہ کا طریقہ اور اسکیننگ چارٹ…… …مولانا عمر فاروق راشد صاحب(معاون مدیر شریعہ اینڈ بزنس)

۵…رپورٹنگ اورشعبہ معاشیات کی صحافت……محترم متوکل الرحمٰن(صحافی)

۶… اداریہ نویسی اور کالم نگاری……مولانا شفیع چترالی صاحب( معروف کالم نگار واداریہ نویس)

۷…اردو تحریر میں کمال اور مہارت … … …   مولانا حبیب حسین صاحب( سابق استاد جامعہ فاروقیہ)

اس کورس کی قابل ذکر خصوصیت یہ تھی کہ مذکورہ لیکچرز کے ساتھ ساتھ تمرین اور عملی مشق پر بھی زور دیا گیا، جس کی نگرانی مفتی محمد اویس نعیم صاحب فرماتے رہے۔ کورس کےاختتام پر باقاعدہ شرکاء کے درمیان مضمون نویسی کا مقابلہ ہوا ۔نیز۱۰ نومبر کو ایک ’’بزم سخن ‘‘منعقد کی گئی ، جس میں ہر شریک کے لیے ایک مخصوص تعداد میں زبانی اشعارسنانا ضروری تھا، اس کا مقصد طلبہ میں شعری ذوق پیدا کرنا اور اپنی تحریر میں ان کو بر محل استعمال کرکے اس میں مزید نکھار پیدا کرنا تھا۔

عنوان مقالہ جات

 

فتویٰ نویسی کے ساتھ ساتھ ہر طالب علم سے فقہی موضوع پرتحقیقی مقالہ بھی لکھوایاجاتا ہے، چنانچہ اس سال شرکائے تخصص کے لیے درج ذیل موضوعات طے کیے گئے:

۱…مدارس دینیہ میں رائج نظام اوقاف…مولوی عبد السمیع

۲…مسئلہ قفیز الطحان………………مولوی عبد الحمید

۳…نیت(مسائل و احکام)…………مولوی محمد حسین

۴…احکام الذبح اور ذبح کی مروجہ صورتیں …مولوی عبد القدیر

۵…اسٹاک ایکسچینج کا تعارف…… …مولوی جمشید اسلم

۶…غصب کی شرعی حیثیت……………مولوی محمد عمر

۷…دارالاسلام میں ذمی کے احکام……مولوی عرفان اللہ

۸…عقد کی اقسام …………………مولوی علی حمزہ

۹…اسلام کا نظام قضاء……………مولوی ضیاء الرحمن

۱۰…نظام تکافل کے چند پہلو کا فقہی جائزہ…مولوی عبد الحنان

۱۱…الحرکۃ الجہادیہ فی الباکستان(شرعی حیثیت) …مولوی علی رحمان

۱۲…بیع السلم…………………مو لوی عرفان فاضل

۱۳…تسعیر……………………مولوی محمد شعیب

۱۴…گستاخِ صحابہؓ کا حکم……………مولوی حمزہ طارق

 

مذکورہ بالا ۱۴ شرکاء کے علاوہ بقیہ ۱۷ شرکائے تخصص فتاویٰ شامی میں مذکور اصولوں پر کام کریں گے۔ جس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ ان حضرات پر مختلف ابواب تقسیم کردیے گئے ہیں ، یہ حضرات ان ابواب میں جو اصول ذکر کیے گئے ہیں ،(۱)ان کی نشاندہی کر کے ان کی تحقیق کریں گے ۔ (۲) اس کا مطلب اور وضاحت کریں گے۔(۳) اس کا ماخذ بیان کریں گے۔(۴) یہ اصول دیگر کن کتابوں میں موجود ہے،ان کے حوالہ جات۔(۵)اس کا دائرہ کا ر کیاہے۔

 

٭…٭…٭

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019