فتاویٰ عالمگیری۔۔۔ تعارف ماہنامہ النخیل شعبان 1440

 اورنگ زیب عالمگیرؒ نے اپنے عہد حکومت کے ابتدائی دور ہی میں مقدمات اور متنازعہ فیہ معاملات و مسائل کو شریعت اسلامی کی روشنی میں تصفیہ کرنے کے لئے فقہ اسلامی پر ایک جامع اور مستند کتاب تدوین کرائی جو ہندوستان میں’’ فتاویٰ عالمگیری ‘‘کے نام سے جبکہ عالم عرب میں ’’فتاویٰ ہندیہ ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ فتاویٰ عالمگیری کی تدوین کام تخت نشینی کے چار سال بعد ایک شاہی فرمان کے ذریعہ ۱۰۷۳ھ بمطابق ۱۶۶۳ء میں شروع ہوا اور آٹھ سال میں یعنی ۱۰۸۱ھ کو پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

یہ کتاب ہدایہ کے بعد فقہائے حنفیہ کے نزدیک مستند، معتبر اور جامع کتاب ہے جو نہایت ہی احتیاط اور سائنٹفک طریقہ پر ترتیب دی گئی ہے۔فتاویٰ عالمگیری کی ترتیب کسی وقتی مصلحت یا محض ایک شخص کی خواہش کا نتیجہ نہیں ہے۔بلکہ فتاویٰ کی ترتیب و تدوین کا اصل محرک مسلمانوں کا یہ شدید احساس تھا کہ ان کے اجتماعی معاملات کا فیصلہ کتاب وسنت کے مطابق ہو اور اسلامی قانون ملک میں جاری وساری ہو۔ ایسی کتاب کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی جو انفرادی فتاویٰ کے اختلافات کو دور کردے اور قانون کی بنیادی کتاب کی حیثیت سے پوری مملکت میں استعمال کی جاسکے، لیکن محض سیاسی وجوہات کی بناء پر اس قسم کی کتاب کی ترتیب کے مواقع نہیں مل سکے تھے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے دور اور اس سے پہلے کے دور کے سیاسی پس منظر کو بھی سامنے رکھیں، اس سے اندازہ ہوسکے گا کہ سیاسی حیثیت سے وہ کون سے تغیرات پیدا ہوگئے تھے،جو ایک ایسی جامع اور ہمہ گیر فقہ کی کتاب کے ترتیب دینے کا باعث بنے ،جو اپنے دور ہی میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے حکومت جانے سے قبل تک مسلمانوں کے معاملات کی اور پوری اسلامی مملکت ہند کی عدلیہ کی بنیادی کتاب تھی اور آج بھی اس کی روشنی میں علماء و مفتیان کرام مسائل کا حل بیان کرتے ہیں ۔

فتاویٰ عالمگیر کی تدوین کی ضرورت کا احساس اور اقدام

عالمگیر کی اصلاحات سے حکومت کے ڈھانچہ میں اسلامی تصورات کو بہت کچھ عمل دخل ہوچکا تھا، لیکن حکومت کا سب سے بنیادی اورا ہم مسئلہ اس کے عدلیہ کے قوانین ہوتے ہیں کیونکہ یہ روزمرہ کی زندگی اور معاملات کو کنٹرول کرتے ہیں اور بہت ہی دوررس نتائج کے حامل ہوتے ہیں، عالمگیر کی دلی خواہش تھی کہ وہ اپنی رعایا کو شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کرے، اس لئے کہ اسلامی حکومت کا بنیادی مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ایسے حالات اور مواقع پیدا کیے جائیں جہاں عامتہ المسلمین آسانی کے ساتھ شریعت کے احکام پر عمل کرسکیں، چنانچہ عالمگیر کو ابتدا ہی سے اس بات کی فکر لاحق تھی کہ وہ ایسے اصلاحات اور اقدامات کرے جس سے روزمرہ کی زندگی کماحقہ اسلامی احکام و قوانین کی گرفت میں آجائے اور روزمرہ کے باہمی معاملات و اختلافات فقہ اسلامی کے مطابق حل کیے جائیں۔ عالمگیر کو اس کام کی فکر ابتدا ہی سے تھی۔ وہ اپنے طالب علمی کے دورمیں بھی فقہ سے دلچسپی رکھتا تھا اور خود مطالعہ کیا کرتا تھا۔ چنانچہ فقہ کی تدوین کی ضرورت کو جس شدت سے محسوس کیا ہے اس کے متعلق ایم بی احمد نے اپنی کتاب The administration of Justice in Mediveal Indis میں تحریر کیا ہے :

’’ یہ معلوم ہوتا ہے کہ عالمگیر اپنے تخت پر متمکن ہونے سے قبل ہی یہ خواہش رکھتا تھا کہ اس کی سرکردگی میں اسلامی فقہ پر کوئی قابل اعتبار کتاب ترتیب دی جائے ۔چنانچہ نہایت ہی قابل ذکر کارنامہ ہے کہ زمامِ حکومت سنبھالنے کے صرف پانچ ہی سال بعد اور تخت نشینی کے چار سال بعد خصوصی کام جو شہنشاہِ ہند نے انجام دیا ہے وہ امپیریل فرمان کے ذریعہ فتاویٰ کی ترتیب کے لیے احکام تھے ،ابتدائی انتظامات کے بعد علما کی تقرری کا کام شروع ہوا اور یہ کام ۱۰۷۳ھ میں شروع ہوا اور آٹھ سال بعد ۱۰۸۱ھ میں ختم ہوا‘‘۔(بحوالہ :ماہنامہ چراغِ راہ،اسلامی قانون نمبر،جون ۱۹۵۸،ص:۴۰۳)

عالمگیر سے قبل فقہ کا کوئی ایسا جامع، مستند مجموعہ موجود نہیں تھا جس میں تمام فقہائے اسلام کے فیصلے اور آراء محفوظ ہوں ، جو کچھ بھی تھا وہ منتشر تھا، اس لئے عام افراد کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ ان سے آسانی سے استفادہ کرسکیں اور اب عالمگیر کے سامنے بھی کئی مشکلات آرہی تھیں، روزمرہ کے مسائل، باہمی اختلافات کے معاملات اور متنازعہ فیہ مسائل پر جب قاضیوں کو فیصلہ دینے پڑتے تو انہیں بہت ہی محنت و جانفشانی کرنی پڑتی ، اس کے باوجود بھی انہیں یہ اطمینان نہ ہوتا تھا کہ انہوں نے فقہاء کے تمام اہم فیصلوں کو دیکھ لیا ہے ،اس لئے کہ فقہ کا تمام کا تمام ذخیرہ منتشر تھا اور اس کے بعد بھی امکان ہوتا تھا کہ کچھ اہم فیصلے پھر بھی نظر انداز ہوگئے ہوں جو ممکن ہے کہ فیصلہ کو متاثر کرسکتے تھے، یہ عملی دشواری و مشکل پہلے بھی موجود تھی، لیکن اب جب کہ ایک خاص اسلامی فضا اور ماحول ،معاملات کو طے کرنے کے لیے پیدا ہورہا تھا تو قاضیوں کو یہ احساس ہمیشہ خوفزدہ رکھنے لگا کہ ان کے فیصلے اگر غلط یا غیر محتاط ہوئے تو ان کو اس کا جواب دینا ہوگا اور اس کا سارا گناہ ان کے سر پڑے گا۔ اس خدا ترسی کے جذبہ نے فقہ کی تدوین کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرایا کہ فقہ کا کوئی مستند، جامع اور سائنٹفک مجموعہ ہونا چاہیے جوقاضیوں کو مقدمات کے فیصلہ کرنے میں ممدومعاون ہو۔ اس لئے عالمگیر نے یہ فیصلہ کیا کہ مناسب طریقہ سے اسلامی فقہ کی تدوین کرنے کے لئے ہندوستان کے علماء اور فقہا کی ایک کمیٹی مقرر کی جائے جو فقہ کی ایک جامع کتاب مرتب کرے تاکہ مسلمانوں کی زندگی کے مسائل فقہ اسلامی کی روشنی میں مناسب طریقہ سے طے کئے جائیں۔

بادشاہ نے ہندوستان کے مشاہیر علماء کے ایک گروہ کو حکم دیا کہ تمام فقہ کی کتابوں سے مفتی بہا مسائل کا انتخاب کرکے ایک کتاب تیار کریں اور اس گروہِ علما کا صدر شیخ نظام کو مقرر کیا ۔ جن کو علماء کی ایک جماعت بلانے کا کام بھی سپرد ہوااور جن کی متفقہ رائے ہی سے تمام فیصلوں کو کتاب میں شامل کیا جاسکتا تھا، اہل علم اور فقہ کی جو نامور شخصیات اس وقت دارالخلافہ میں موجود تھیں ان کو یہ کام سپرد کیا گیا اور ایک فرمان کے ذریعہ ان تمام اہل علم کو جو علمی شہرت رکھتے تھے اور علم فقہ میں عبور رکھتے تھے، ملک سے منتخب کرکے بلایا گیا اوراس بورڈ کا شریک کار کیا گیا ۔سرکاری خزانہ سے ان کا ایک معقول وظیفہ مقرر کیا گیا، تاکہ یکسوئی کے ساتھ اس کام کو انجام دے سکیں۔ ان کے لیے امپیریل کتب خانہ کی تمام کتابیں مہیا کی گئیں اور جو کتابیں درکار ہوتیں، اس کو مہیا کرنے کا انتظام کیا جاتا ، ہر سال سرکاری خزانہ سے ان کے اخراجات کے لیے ایک کثیر رقم عطا کی جاتی، اس طرح سرسری اندازہ کے مطابق اس کام پر دو لاکھ روپے(اُس زمانے کے اعتبار سے) صرف ہوا ،اور آٹھ سال کی مدت میں یہ کتاب تیار ہوئی ۔

فتاویٰ کی ترتیب وتدوین

فتاویٰ عالمگیری فقہ حنفی کی ایک عظیم اور بلند پایہ تصنیف ہے ،اس میں مستند ترین فقہاء کے فیصلے، ان کی آراء ،مختلف دقیق مسائل کی شرح ، تنقیدیں، مذہبی قوانین، قواعد وضوابط اور ایسے رسم ورواج جو معاملات زندگی پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں، ان کا تذکرہ تفصیل سے موجود ہے ، مسلمانوں کے شخصی قوانین جن کا تعلق وراثت، وصیت، طلاق وغیرہ کے معاملات سے ہے وہ تمام قواعد وضوابط تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس طرح فتاویٰ کا دائرہ بہت وسیع اور ہمہ گیر ہے۔

ترتیب دینے کا طریق کار

 فتاویٰ کو ترتیب دینے کے متعلق فتاویٰ کو دیکھ کر جو کچھ اندازہ ہوتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ فتاویٰ کو ترتیب دینے میں نہایت ہی احتیاط اور سائنٹفک طریقہ اختیار کیا گیا تھا، وہ تمام ذرائع جو ممکن ہوسکتے تھے ان کو اختیار کرنے کی کوشش کی گئی، کتاب کومرتب کرنے کے لیے مختلف مضامین و مباحث کے اعتبار سے مختلف حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا اورہر حصہ کے لیے علماء کی ایک مستقل الگ جماعت تھی، جو دس بارہ افراد پر مشتمل ہوتی اور اس کا ایک صدر ہوتا جس کی زیر نگرانی یہ جماعت کام کرتی تھی ، اور ان تمام جماعتوں کے صدر شیخ نظام برہانپوری تھے، جو پورے کام کے نگران یا انچارج تھے اور وہ براہ راست فتاویٰ کی تیاری کے سلسلے میں جو مسائل و معاملات پیدا ہوتے ان کی جواب دہی عالمگیر کے سامنے کرتے۔

عالمگیر کی فتاویٰ کی تدوین سے دلچسپی  

فتاویٰ کی تصنیف میں عالمگیر نے خود بے پناہ دلچسپی لی ہے اورعملی طور پر اس کام کی تیاری میں غیر معمولی شغف اور انہماک دکھایا ہے۔ اس نے ایک طرف تو بورڈ کے علماء اور فقہاء ایسے حضرات مقرر کیے جو اپنے دور کے ممتاز اور معتمد اور مستند عالم تھے، ان کو وظائف اور ’’مدد معاش‘‘ کے طور پر قطعات اراضی دے کر روزمرہ کی ضروریات سے بے نیاز کیا، مادی سہولتوں کے بہم پہنچانے کے علاوہ فقہ کی کتابوں کا ایک ذخیرہ جمع کیا تاکہ اس سے استفادہ کرسکیں، اس کے علاوہ دیگر ممکن سہولتیں فراہم کیں، ان سب باتوں سے بڑھ کر وہ خود روزانہ ایک مقررہ وقت پر شیخ نظام برہانپوری کو، جو فتاویٰ مرتب کرنے والے علماء کے بورڈ کے صدر تھے، بلاکر نہایت ہی انہماک اور تنقیدی نظر سے تین یا چار صفحات یومیہ مطالعہ کیا کرتا تھا اور شیخ نظام کو ان کی بھول چوک اور غلطیوں پر فوراً متوجہ کیا کرتا تھا۔ اس قسم کاایک واقعہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒنے اپنے والد شاہ عبدالرحیم دہلویؒ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ:

’’والد ماجد(حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب ؒ)فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن فتاویٰ عالمگیری کے مفوضہ حصے پر نظر ثانی کے دوران ایک ایسی عبارت پر میری نظر پڑی جس میں صورت مسئلہ کو گڈ مڈ کر کے گنجلک بنا دیا گیا تھا ، میں نے ان کتابوں کی طر ف رجوع کیا جو اس مسئلے کا ماخذ تھیں، مطالعہ سے معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ دو کتابوں میں مذکور ہے اور ہر کتاب میں مختلف انداز سے بیان ہوا ہے ، مؤلف عالمگیری نے دونوں عبارتوں کو یکجا کردیا ہے ، چنانچہ اس وجہ سے صورت مسئلہ کچھ سے کچھ ہو کر رہ گئی ہے ، میں نے اس مقام پر ایک نوٹ دیا جس میں لکھا :’’من لم یتفقہ فی الدین قد خلط فیہ ، ھذا غلط ، وصوابہ کذا‘‘  یعنی ’’ جو دین کی سمجھ نہیں رکھتا اس نے یہاں گڑ بڑ کردی ہے ، یہ عبارت غلط ہے اور صحیح یوں ہے ‘‘… ان دنوں عالمگیر کو اس کتاب کی ترتیب و تدوین میں حد سے زیادہ اہتمام تھا اور ملا نظام روزانہ ایک دو صفحات بادشاہ کو پڑھ کر سناتے تھے ۔ جب میرے اختلافی نوٹ پر پہنچے تو انہوں نے عجلت میں حاشیہ کے نوٹ اور اصل متن کو ملادیا جس سے تمام کا تمام مطلب خلط ملط ہوکر رہ گیا۔ عالمگیر نے فوراً مداخلت کی اور ملا نظام سے اس کا مطلب دریافت کیا، ملا نظام دم بخود رہ گئے۔ انہوںنے چوں کہ پہلے سے مطالعہ نہیں کر رکھا تھاتو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیااورانہیں اپنی غلطی اور کوتاہی پر معافی مانگنی پڑی۔‘‘

یہ ایک واقعہ اس بات پر مشاہد ہے کہ بادشاہ کا خود اس کام میں بہت بڑا ہاتھ تھا، علماء اور فقہاء کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ بادشاہ خود چونکہ اس کا پروف(PROOF ) دیکھتا ہے اس لیے وہ بہت ہی محنت اور تندہی سے کام کو انجام دیتے اور کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی نہ کرتے تھے اور یہی سب سے بڑی خصوصیت فتاویٰ عالمگیر کی ہے کہ انسان کے دائرہ اختیار میں جہاں تک غلطیوں اور کوتاہیوں پر قابو پانے کی کوشش کی جاسکتی ہے وہ اس کی ترتیب کے سلسلے کی گئی ہے۔

حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ فرمایا کرتے کہ

’’ اساتذہ کی روایت ہے کہ جب سلطان عالمگیر نے فتاویٰ مراتب کرایا تو علماء رات کے وقت ،بعد نمازِ تہجد جو مسائل روزانہ لکھا کرتے تھے ،سنایا کرتے تھے اور جب کسی مسئلہ میں علماء الجھ جاتے تو سلطان عالمگیر جو کہتے تھے وہی مسئلہ پاس ہوکر تحریر ہوتا تھا۔‘‘(انوار انوری:ص۸۶)

 فتاویٰ کی ماخذ کتابیں

فتاویٰ عالمگیری کی تدوین میں فقہ اسلامی پرجو کتابیں اس وقت تک تحریر ی شکل میں موجود تھیں، وہ سب جمع کی گئی تھیں، لیکن ان کتابوں کی تعداد کاصحیح اندازہ تو ممکن نہیں،اس لئے کہ بہت ہی کثیر تعداد میں تھیں، ان کے علاوہ قلمی مسودات اور مفتیوں کے فتاویٰ بھی تھے، جن سب کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔غرض یہ کہ فقہ اسلامی اور اصول فقہ پرجو کتابیں بھی اس وقت موجود تھیں ان سے ضرور استفادہ کیا گیا، تاکہ فقہ پر اس وقت تک جوکچھ علمی کام ہوچکا ہے وہ نظر انداز نہ ہوسکے۔

 کتاب کا انداز 

عام کتب فقہ کے طرز پر کتاب الطہارۃ تا کتاب الفرائض کے مسائل پر مشتمل ہے ۔ سب سے پہلے ’’کتاب ‘‘ کا عنوان قائم کرتے ہیں ،اس کے تحت ابواب کا ذکر کرتے ہیں ،ہرباب کے تحت مختلف فصول قائم کر کے مسائل ذکر کرتے ہیں ،مثلاً:کتاب الطھارۃ ،وفیہ سبعۃ أبواب… الباب الأول في الوضوء … وفیہ خمسۃ فصول: الفصل الأول في فرائض الوضوء، الفصل الثاني في سنن الوضوء… الباب الثاني في الغسل وفیہ ثلاثۃ فصول:الفصل الأول في فرائضہ…پوری کتاب کا تقریباً یہی انداز ہے سوائے چند مقامات کے،کہ وہاں ’’کتاب‘‘ کا عنوان تو ہے لیکن ’’ابواب‘‘ نہیں اور کہیں ’’ابواب‘‘  ہیں تو ’’فصول ‘‘نہیں۔

اسی طرح نئے عنوان کے تحت اس کی تعریف و معنی بیان کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ،مثلاً:’’ کتاب الصلاۃ ‘‘ کی ابتدا میں نماز کی اہمیت ،اس کا حکم ، تارک صلاۃ کا حکم وغیرہ بیان کر نے کے بعد فرماتے ہیں :و فیہ اثنان و عشرون بابا… الباب الاول فی المواقیت… الفصل الاول فی اوقات الصلاۃ…’’کتاب الحوالہ  ‘‘ کے آغاز میں حوالہ کی تعریف،معنی وغیرہ ذکر کیے ہیں ، اسی طرح ’’کتاب الشہادات ‘‘ کے شروع میں شہادت کے معنی ،تعریف اور ضروری تفصیلات کا ذکر کیا گیا ہے ۔لیکن یہ التزام ہر جگہ نہیں ، چند مقامات پر ہے ۔

خصوصیات

فتاویٰ عالم گیری چند ایسی خصوصیات اور اوصاف کا حامل ہے جو اس کو دیگر کتب فقہ سے ممتاز کرتی ہے:

پہلی خصوصیت:…

اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ فردِ واحد کی تالیف نہیں، بلکہ علماء احناف کی ایک ممتاز جماعت(جو علم کے ساتھ ساتھ زہد و تقویٰ میں بھی بلند مقام کے حامل تھے) کی محنت اور جد وجہد کا نتیجہ ہے، اس لئے اس میں فقہی اعتبار سے غلطی کا امکان کم ہے۔

دوسری خصوصیت :…

ہر مسئلہ کے ساتھ اس کے ماخذ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے، اگر اس میں کسی دوسری کتاب سے نقل کیا گیا ہے تو ’’ناقلا عن فلان‘‘ لکھ کراصل ماخذ کی طرف بھی اشارہ کردیا۔

تیسری خصوصیت:…

اسلامی ہندوستان میں علمِ فقہ کی یہ پہلی مفصل و مبسوط کتاب ہے، جو ایک دین دار بادشاہ کی ذاتی سعی و محنت سے لکھی گئی اور اس پر عمل کی دیواریں تعمیر کی گئیں اور پھر یہ کتاب کئی بار کتابت و طباعت کی منزلوں سے گزری، فارسی اور اردو زبانوں میں اس کے ترجمے کیے گیے، تاکہ اس کے مضامین و مندرجات سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔

چوتھی خصوصیت :…

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ نے لکھی ہے ،وہ یہ کہ

’’اس کی تالیف میں عدالتی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا ہے ،چنانچہ اس میں بعض ایسے ابواب بھی شامل ہیں جو عام کتب فقہ میں دستیاب نہیں،مثلاً:کتاب الشروط اور کتاب المحاضرات والسجلات ‘‘محضر نویسی ،معاہدہ نویسی اور وثیقہ نویسی کے نمونوں پر مشتمل ہیں اور ان سے اسلامی فقہ کی روشنی میں معاہدات کی ترتیب وغیرہ کا انداز سامنے آجاتا ہے ۔‘‘

 (پیش لفظ فتاویٰ عالمگیری مترجم:۱/۸،دارالاشاعت ،کراچی)

 فتاویٰ عالمگیری کی علمی وفقہی حیثیت

فتاویٰ ہندیہ کو علمی وفقہی دنیا میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں جو مسائل بیان ہوئے ہیں، وہ فقہ حنفی کی رو سے یا تو راجح اور مفتی بہ ہیں یا ظاہر الروایہ میں سے ہیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ فقہ کی تمام اہم اور قابل ذکر کتابوں کا نچوڑ ہے، اس کے مآخذ اور مراجع فقہ حنفی میں بڑی وقعت رکھتے ہیں۔

فتاویٰ کی تدوین میں شریک علماء و فقہاء

 فتاویٰ عالمگیری کی جو سب سے اہم خصوصیت ہے وہ یہ کہ اس کتاب کو ترتیب دینے میں اس دور کے بہترین علماء اور فقہاء کی شرکت ہے ، یہ تمام حضرات اپنے دور کے ممتاز اہل علم تھے، جن کی بڑی علمی شہرت تھی اور جو معتمد علیہ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ درس و تدریس میں گزرا تھا، وہ اخلاق وکردار کے لحاظ سے اعلیٰ ترین مقام پر تھے، فتاویٰ کی ترتیب کے لیے علماء کا ایک باقاعدہ بورڈ تھا جس میں کابل اور بخارا سے لے کر ارکان تک اور کشمیر سے لے کر راس کماری تک اکیس صوبوں کے ممتاز اور نامورعلماء اور فقہاء موجود تھے۔ ان میں سے بعض فقہ کی کتابوں کو جمع کرتے، جزئیات اور حوالہ جات کا مطالعہ کرتے اور اقتباسات جمع کرتے اور اسے نقل کرکے یکجا کرتے۔ اس طرح علماء اور فقہاء کی ایک ٹیم اس کام کو سر انجام دے رہی تھی، جس میں ہر قسم کی صلاحیت کے افراد تھے۔اس عظیم کام کی نجام دہی میں کتنے حضرات علماء کرام شریک تھے اس کی صحیح حتمی تعداد کا ندازہ نہیں لگایا جاسکتا،مختلف اصحاب تحقیق نے اس موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے ،جس کو جس عالم کے متعلق اس کار خیر میں شریک ہونے کا علم ہوا انہوں نے اس کا ذکرکردیا۔ اندازہ ہے کہ اس کام میں کم و بیش ۴۰ سے ۵۰ علماء شریک تھے ۔ نامور مؤرخ جناب محمد اسحاق بھٹی نے ۲۸ حضرات کا ذکر کیا ہے جو فتاویٰ کی تدوین میں شریک ہوئے،جبکہ مولانا مجیب اللہ ندوی صاحب کی تحقیق کے مطابق ان اٹھائیس میں سے صرف آٹھ حضرات کے متعلق تو یقینی ہے کہ وہ اس کتاب کی تالیف میں شریک تھے،باقی حضرات کی شمولیت کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ تحقیق و تدقیق کی ضرورت ہے ۔ذیل میںان ۲۸علماء و فقہاء کے اسمائے گرامی پیش ہیں:

(۱)… شیخ نظام برہان پوری… (۲)…شیخ نظام الدین ٹھٹھوی سندھی …(۳)…شیخ ابو الخیر ٹھٹھوی … (۴)…شیخ رضی الدین بھاگل پوری …(۵)…مولانا محمد جمیل جون پوری…(۶)…قاضی محمد حسین جونپوری (۷)…مفتی وجیہ الدین گوپامئوی …(۸)…سیّد محمد بن قنوجی …(۹)…مولانا حامد جون پوری … (۱۰)…مولانا جلال الدین مچھلی شہری …(۱۱)…قاضی علی اکبر الٰہ آبادی …(۱۲)…قاضی عبد الصمد جونپوری (۱۳)…مولانا ابو الواعظ ہرگامی …(۱۴)…مفتی ابو البرکات دہلوی …(۱۵)…شیخ احمد بن ابو المنصور (۱۶)…مولانا عبد الفتاح صمدانی …(۱۷)…قاضی عصمت اللہ لکھنوی … (۱۸)…قاضی محمد دولت فتح پوری (۱۹)مولانا محمد سعید سہالوی …(۲۰)…شیخ محمد غوث کاکوروی … (۲۱)…مفتی محمد اکرم لاہوری … (۲۲)…شاہ عبد الرحیم دہلوی …(۲۳)…ملا فصیح الدین پھلواروی… (۲۴)…قاضی سیّد عنایت اللہ مونگیری …(۲۵)…مولانا محمد شفیع سرہندی …(۲۶)…ملا وجیہ الرب… (۲۷)…ملا غلام محمد … (۲۸)…علامہ ابو الفرح۔

مطبوعہ ایڈیشن

اس وقت ہمارے پیش نظر فتاویٰ عالم گیری کے دو مطبوعہ ایڈیشن ہیں :

(۱)…لیتھو ٹائپ پر مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ کا شائع کردہ ایڈیشن جو بڑے سائز کی چھ جلدوں پر مشتمل ہے ۔ ابتدائی تین جلدوں کے حاشیہ پر فتاویٰ قاضی خان، جبکہ آخری تین جلدوں کے حواشی پر فتاویٰ بزازیہ شائع کیا گیا ہے ۔

(۲)…چھوٹے سائز کی ۶ جلدوں پر مشتمل دارالکتب العلمیہ بیروت سے شائع شدہ نسخہ ۔ اسی کا عکس پاکستان میں قدیمی کتب خانہ کراچی نے شائع کیا ہے ۔

٭…٭…٭

فتاویٰ عالم گیری کے مختلف زبانو ں میں ترجمے

فارسی تراجم  :…

فتاویٰ عالمگیری ،اورنگ زیب عالم گیرکی مساعی اور علمائے ہندوستان کی کاوشوں کا ایک حسین مجموعہ ہے ۔ جس کی بنا پر اورنگ زیب کی خواہش تھی کہ یہ ذخیرۂ فقہ، صرف عربی زبان تک محدود نہ رہے ، بلکہ اس زمانے کے ہندوستان کی اصل زبان فارسی میں بھی اسے منتقل کیا جائے، ہماری دانست میں فتاویٰ عالم گیری کے فارسی مترجمین دو ہیں، ذیل میں ان کا تعارف پیش ہے:

(۱)…ملا عبد اللہ چلپی:…آپ ترکی کے مشہور عالم ہیں اور اس کام کے لیے آپ کا انتخاب اورنگ زیب عالمگیر نے خود کیااور آپ کے سا تھ آپ کے شاگردوں کی ایک جماعت بھی شریک کار تھی۔آپ اورنگ زیب کے باپ ، شاہ جہاں کے عہدِ حکومت میں فقیروں کے لباس میں ہندوستان آئے اور دہلی میں اقامت گزین ہوئے۔  ان کا تعارف درج ذیل ہے:

یعنی ’’علامہ عبد اللہ رومی، ’’چلپی‘‘ کی نسبت سے معروف تھے اور کبار علما میں سے تھے۔ انھوں نے اورنگ زیب کے حکم پر فتاویٰ عالم گیری کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ وہ عربی، ترکی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور ان کی مروّجہ اصطلاحات سے پوری طرح واقف تھے۔ فقہ اور اصول فقہ میں ان کو یدِ طولیٰ حاصل تھا ۔ مغل حکمران شاہ جہاں بادشاہ کے زمانۂ سلطنت میں ہندوستان آئے اور فقیروں کی سی ہیئت میں دہلی میں سکونت پذیر ہوئے ۔ سعد اللہ خان وزیر ان سے بہت تعلق رکھتا تھااور ان کو باقاعدہ وظیفہ دیتا تھا پھر ان کا رابطہ شاہ جہاںسے پیدا ہو گیا اور اس نے ان کا یومیہ وظیفہ مقرر کر دیا۔ شاہ جہاں کے بعد جب اورنگ زیب عالم گیر سریر آرائے سلطنت ہوا تو اس نے ان کو اپنی نوازشہائے خصوصی اور عنایتِ خسروانہ کے لیے مختص کر لیا اور فتاویٰ عالم گیری کے ترجمے پر مامور کر دیا۔ عبد اللہ چلپی، علوم و فنون میں نادرۂ روزگار شخصیت تھے۔حکمت و تصوف میں ماہر تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے متعدد تصنیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔‘‘(بزم تیموریہ ،ص:۲۴۳)

(۲)…قاضی نجم الدین علی خان کاکوروی:… آپ حمید الدین بن غازی الدین بن محمد غوث کاکوروی کے بیٹے تھے۔ آپ کا شمار ہندوستان کے مشہور علما میں ہوتا تھا ۔ ۱۵؍ ربیع الاوّل ۱۱۵۷ھ کو کا کوری میں پیدا ہوئے۔ عرصے تک اپنے والد سے تعلیم حاصل کرتے رہے۔ پھر شیخ عبد الرشید جون پوری (مدفون بہ لکھنؤ) شیخ غلام یحیٰ بن نجم الدین بہاری اور ملا حسن بن غلام مصطفی لکھنوی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ حسن اخلاق سے متصف مگر ساتھ ہی بارعب شخصیت کے مالک تھے۔فقرا ء و ضیوف سے محبت کا برتاؤ کرتے اور اپنے قرابت داروں اور اہلِ شہر سے بہت اچھی طرح پیش آتے۔متعدد کتابوں کے مصنف تھے، جن میں فتاویٰ عالم گیری کی کتاب الجنایات کا فارسی زبان میںترجمہ اور مفصل شرح ہے جو آپ نے لارڈ سرجان شور کے مشورے سے لکھی ۔ جبر و مقابلہ کے موضوع سے متعلق ’’ الستۃ الجبریۃ‘‘ اور فارسی میں ’’ شرح علی الستۃ الجبریۃ‘‘ بھی ان کی تصنیفات میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مختلف عنوانات پر کئی کتب و رسائل کے مصنف ہیں۔ عربی زبان میں ان سے بہت سے اشعار بھی منقول ہیں۔منگل کے روز ۱۳؍ ربیع الثانی ۱۲۲۹ھ کو وفات پائی۔(اردو دائرہ معارف اسلامیہ:۱۵/۱۵۷)

فتاویٰ عالمگیری کے اُردوتراجم

 ہندوستان میںانگریز کے دور اقتدار شروع ہوجانے کے بعد مسلمان آہستہ آہستہ عربی اور فارسی سے نابلد ہونے لگے تو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس علمی ذخیرے کو بھی اُردو میں منتقل کیا جائے ،تا کہ اردو دان طبقہ اس سے مستفید ہو سکے ، چنانچہ ہماری معلومات کے مطابق اردو میں فتاویٰ عالم گیری کے تین ترجمے ہوئے ہیں ۔

پہلا اردو ترجمہ:…ہندوستان کے ممتاز قانون دان اور نامور مترجم سید امیر علی کا کیا ہوا اردو ترجمہ ، جو اَب ہندو پاک میں چھپ کر مقبولِ عام ہوچکا ہے ۔آغاز کتاب میں فاضل مترجم نے ایک مبسوط اور مفصل مقدمہ تحریر فرمایا ہے، جو  بے شمار معلومات پر مشتمل ہے۔

مطبوعہ ایڈیشن :…ہمارے پیش نظر اس اردو ترجمہ کے دو ایڈیشن ہیں :

پہلا ایڈیشن…دارالاشاعت ،اردو بازار کراچی کا۶جلدوں میں شائع کردہ قدیم نسخہ،جو گذشتہ تقریباً تین دہائی قبل شائع ہواتھا۔چوںکہ یہ ترجمہ ہندوستان میں کیا گیا تھا اور وقت گذرنے کے ساتھ زبان ،اسلوب اور طرز بیان سب کچھ میں تبدیلی آگئی ہے ،تو ضرورت تھی اس بات کی کہ اس کو تسہیل اور ترتیب جدید سے مزین کر کے شائع کیا جائے ، چنانچہ  ادارہ دارالاشاعت کے کارپردازوں نے اس کام کا بیڑہ اٹھایا ،جو درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے :

۱…سابقہ ترجمہ میں جہاں ضرورت محسوس ہوئی بقدر ضرورت بعض مقامات پر الفاظ میں تقدم و تأخر کیا گیا ہے یا قدیم طرز کو چھوڑ کر آسان و جدید مستعمل الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ۔

۲… بعض مقامات پر مشکل و قدیم الفاظ کے معانی قوسین میں درج کردیے ہیں یا حاشیہ میں اس کی تفصیل ذکر کردی ہے ۔

۳…قدیم نسخہ میں کتابوں کے حوالہ جات میں لمبی عبارت تھی ،جب کہ اس جدید ایڈیشن میں صرف کتاب کا نام قوسین میں ذکر کیا ہے ۔

۴… عناوین کا اضافہ کیا گیا ہے ۔

۵… خاص خاص مقامات کو بولڈ کر کے نمایاں کردیا ہے ۔

۶…سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ مختلف مقامات پر اردو فتاویٰ(مثلاً:فتاویٰ محمودیہ ، فتاویٰ رحیمیہ اور فتاویٰ عثمانی) اور کتب فقہ (فقہی مقالات )سے استفادہ کرتے ہوئے حواشی میں جدید مسائل کا اضافہ کیا گیا ہے ، جس سے نئے پیش آمدہ مسائل کا حل بخوبی معلوم ہوسکے گا ۔

فتاویٰ عالمگیری کا یہ ایڈیشن12جلدوں میں شائع ہوا ہے ، تسہیل اور اضافات کے فرائض مفتی محمد عابد قریشی اور دیگر علمائے کرام نے سر انجام دیے ہیں ۔

دوسرا ایڈیشن…6جلدوں پر مشتمل یہ ایڈیشن مکتبہ رحمانیہ ،غزنی اسٹریٹ لاہورکا تسہیل اور اضافہ عنوانات کے ساتھ شائع شدہ نسخہ ۔تسہیل و عنوانات کی ذمہ داری مولانا ابو عبیداللہ (خطیب جامع مسجدرحمۃ للعالمین ،ڈیفنس، لاہور ) نے نبھائی ہے ۔

دوسرااردو ترجمہ :…مولانا محمد صادق مغل نے کیا ہے۔ یہ ترجمہ مکمل کتاب کا نہیں ہے بلکہ فتاویٰ عالمگیری کے چند خاص ابواب کا ترجمہ ہے۔مجلس منتظمہ اشاعت فتاویٰ عالمگیری ،راول پنڈی نے اسے شائع کیا ہے ۔( نقد و نظر ، از مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید ؒ:۱/۴۱۷)

تیسرااردو ترجمہ :… دارالعلوم دیوبند کے فضلاء اور اساتذہ کا کیا ہوا ترجمہ، نگرانی کے فرائض دارالعلوم دیوبند کے اربابِ افتاء نے سرانجام دیے ہیں۔کتاب کے ٹائٹل پر تعارفی عبارت کچھ یوں ہے :

’’حضرت اورنگ زیب عالمگیر قدس اللہ سرہ کا عظیم کارنامہ ، اسلامی دستور کی مکمل انسائیکلو پیڈیا ’فتاویٰ عالمگیری‘ تازہ فٹ نوٹس،مفید ضمیموں ، سلیس و شگفتہ اور بامحاورہ زبان کے ساتھ، اردو کے حسین قالب میں ‘‘۔

سن اشاعت ۱۹۶۴ء اور ۱۹۶۵ء ہے ۔ ہمارے پیش نظر اس کے چند اجزاء ہیں ، جن کی تفصیل کچھ یوں ہے :

جزنمبر

نگران

مترجم

جز ۲(کتاب الصلوٰۃ نصف اول)

مفتی محمود احمد صدیقی

مفتی جمیل الرحمن

مولانا لقمان الحق فاروقی

جز۳(کتاب الصلوٰۃ نصف ثانی)

مفتی محمود احمد صدیقی

مفتی جمیل الرحمن

مولانا لقمان الحق فاروقی

جز۵(کتاب الحج)

مفتی جمیل الرحمن

مولانا لقمان الحق فاروقی

جز۸ (کتاب الطلاق)

مفتی جمیل الرحمن

مولانا خورشید عالم

جز۹ (کتاب الطلاق)

مفتی محمود احمد گنگوہیؒ

مولانا خورشید عالم

مترجمین حضرات نے جہاں ضرورت محسوس کی ،وہاں حاشیہ میں مسئلہ کی وضاحت اور تفصیل بھی ذکر کرنے کا اہتمام کیا ہے ۔ کتاب کی ابتداء میں فخر المحدثین حضرت مولانا سید ٖفخر الدین صاحبؒ، مفتی محمود الحسن گنگوہیؒ،مفتی جمیل الرحمن صاحب،مفتی محمود احمد صدیقی کے تاثرات بھی شامل ہیں ۔مکتبہ آفتاب ہدایت ،دیوبند سے اس کی اشاعت ہوئی ہے ۔

انگریزی ترجمہ :… انگریزی زبان میں اس کا کوئی مکمل اردو ترجمہ موجود نہیں ، البتہ ’’A Diegest of Mohammadan Hanific & Islamic Law in Indai‘‘کے نام سے ایک ترجمہ کا ذکر ملتا ہے ، جوسن ۱۸۵۰ء میں  N.B.A Baila نے کیا ہے ، لیکن یہ بھی نامکمل ہے۔ (ماہنامہ چراغِ راہ ،ص:۴۱۲،اردو دائرہ معارف اسلامیہ :۱۵/۱۵۰)

تحقیق کی ضرورت:…یہ بات نہایت باعث حیرت بھی ہے اور قابل افسوس بھی کہ اس قدر اہم اور عظیم الشان کتاب اپنی جلالت شان اور قدر و قیمت کے باوجود محققین کی نظروں سے اوجھل ہے اورہماری دانست کے مطابق فتاویٰ عالم گیری پر اب تک کوئی علمی اور تحقیقی کام نہیں ہوا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کتاب کی شایانِ شان انداز میں تحقیق کی جائے اورتحقیق میں درج ذیل امور کا بطور خاص اہتمام کیا جائے:

(۱)… مختلف نسخہ جات کی مراجعت کر کے صحیح عبارت نقل کی جائے ۔

(۲)…اگرکسی مسئلہ کا حکم عرف ،زمانہ یا ابتلائے عام کی بنا پر بدل گیا ہو ، حاشیہ میں اس کی طرف اشارہ کیا جائے۔

(۳)…کتاب میں جن شخصیات ، اماکن یا کتب کا تذکرہ ہے ، ان کا تعارف کرایا جائے ۔

(۴)…جن مراجع ومصادر سے مرتبین نے استفادہ کیا ہے ،ان کی طرف مراجعت کر کے صحیح عبارت نقل کی جائے۔

(۵)…قرآنی آیات، احادیث مبارکہ اور آثار کی تخریج کی جائے ۔


ماخذ و مراجع:

(۱) مآثر عالمگیری ، مصنف : محمد مستعد خان ساقی (۲) برصغیر میں علم فقہ ، مصنف: مولانا محمد اسحاق بھٹی ، (۳) رقعات عالمگیری ، مصنف : سید نجیب اشرف ندوی ، (۴) حدائق الحنفیہ ،(۵) علمائے ہند کا شاندار ماضی،(۶)انوار انوری، (۷) ملفوظات فقیہ الامت ، (۸)ماہنامہ چراغ راہ، (۹) اردو دائرہ معارف اسلامیہ 

 

٭…٭…٭

 ماہنامہ النخیل، شمارہ نمبر۱، شعبان ۱۴۴۰ھ

 

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020