میں حضرت شیخ کو دیں کا علمبردار کہتا ہوں
میں اُن کو ملتِ اسلام کا غم خوار کہتا ہوں
علومِ دیں کے حامل سب کے دل میں عشق ہے پیوست
مگر میں شیخ کو عُشّاق کا سردار کہتا ہوں
اکابر کی نشانی ہیں، اکابر کی روایت ہیں
اکابر کی امانت کا انہیں حق دار کہتا ہوں
حدیثِ نبوی ہو فقہ و فتاویٰ یا معیشت ہو
زیارت کو میں اُن کی علم کا دیدار کہتا ہوں
علومِ عارفی اور مفتئ اعظم کا وارث ہے
انہیں اسلاف کے قلعہ کا قلعہ دار کہتا ہوں
سند سرکارِ عالم سے، نسب عثمانِ غنی سے ہے
بس اُن کو گلشنِ احمد کی اک مہکار کہتا ہوں
بہت حملے ہوئے کفر و نظامِ سود کے لیکن
تری پامردی کو میں آہنی دیوار کہتا ہوں
یہ ایسا دور ہے کہ چار سو باطل کی ظلمت ہے
میں اس ظلمت میں اُن کو نور کا انبار کہتا ہوں