مضمون 2025/12/24 مشاہدات

فلسطین کی پکار (نظم)

اے امتِ احمد یہ ہے للکار کا موقع 

 اے عالمِ اسلام ہے یلغار کا موقع

 

 اے خواب ِاسیری میں بھٹکتے ہوئے شیرو

یہ ظلمتِ باطل ہے اٹھو کفر کو گھیرو

 اب مسجدِ اقصیٰ کے دیدار کا موقع

 

 اٹھ جا کے ترے خون پہ جنّت کی خبر ہے

 اٹھ جا کے فلسطین پہ کافر کی نظر ہے

 اقصی کی محبت کے ہے اظہار کا موقع

 

 ملت کے جواں مرد تو تلوار اٹھا لے 

اسلام کا پرچم اے علم دار اٹھا لے

 یہ ارضِ مقدّس کے لیے وار کا موقع

 

 آؤ کہ تمہیں قدس کے انوار دکھائیں 

داؤد و سلیمان کے دربار دکھائیں

 مظلوم کی خاطر یہ ہے ایثار کا موقع

 

 آزادی کی تنویر ہو تقدیر بھی تم ہو 

اسلام کی تصویر ہو شمشیر بھی تم ہو

 محصور کی فریاد پہ اقرار کا موقع

 

 امّید ِفلسطین ہو کشمیر بھی تم ہو

 پُر نور فتوحات کی تعبیر بھی تم ہو 

ظالم کی منادی پہ ہے انکار کا موقع

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!