"چراغ تلے اندھیرا" یہ محاورہ کافی حد تک اُردو زبان کے موجودہ حال پر صادق آتا ہے۔ یعنی اُردو پچھلی دو صدیوں میں تو علمی و ادبی دنیا کی بہت سی تاریکیوں کا قلع قمع کر چکی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ فارسی اور عربی زبان کے بعد ہی وہ زبان ہے جس کے نصیب میں مستند دینی خدمتیں آئیں تو بے جا نہ ہوگا، اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ اس دور جدید میں اُردو کی حفاظت دراصل دین کی حفاظت ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اردو زبان اپنے گھر میں ہی اجنبی ہوتی جا رہی ہے جس کا سب سے بھیانک نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نئی نسل مستند دینی مواد اور درست دینی رہنمائی سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔
پھر ستم در ستم یہ ہے کہ اُردو زبان کا مسئلہ انتہائی اہم ہونے کے باوجود کما حقہ اس کا ادراک اور اس کے حل کی طرف قوم متوجہ نہیں ہو پا رہی کیوں کہ اس طرح کے بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ اپنے شاندار ماضی کے باوجود پاکستان کی قومی زبان اُردو ہماری قانونی/سرکاری زبان نہیں ہے، کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں؟ بلکہ ہماری قانونی زبان وہ ہے جس سے ہم نے ۷۸ برس پہلے جان ہتھیلیوں پہ رکھ کر آزادی حاصل کی تھی، کیا ہم اُن شہداء کے لہو کو رائیگاں جانے دے رہے ہیں؟ کیا ہم اُن کی شہادتوں کا خدا نخواستہ مذاق اُڑا رہے ہیں؟
جو زبان اہل زبان کے یہاں ہی غیر محسوس طریقے سے ذلت کی علامت ہو جائے اور جب وہ دوسری زبان بولنے پر فخر محسوس کریں تو اُن کی ذاتی شناخت کہاں سے سلامت رہ سکتی ہے؟ وہ قوم غلامی سے کیسے حفاظت پا سکتی ہے؟ بدنصیبی یہ ہے کہ صرف اُردو کی اہمیت میں کمی نہیں آرہی بلکہ اینگلو اردو رواج پانے لگی ہے اور خالص اُردو مدفون ہونے لگی ہے اسی طرح اُردو کا اصلی رسم الخط عربی رسم الخط ہے مگر وائے بد قسمتی کہ اب رومن رسم الخط میں منتقل ہونے لگا ہے گویا دل خون کے آنسو روتے ہوئے کہتا ہے:
اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
مگر شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ ابھی کچھ عشاقِ اُردو باقی ہیں جن میں کافی بڑی تعداد اہل مدارس، تبلیغی جماعت اور خانقاہی نظم سے منسلک حضرات کی بھی ہے، جو زبانِ حال سے کہتے ہیں:
ابھی تہذیب کا نوحہ نہ لکھنا
ابھی کچھ لوگ اُردو بولتے ہیں
حضرت مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب مد ظلہم اسی مسئلے کے متعلق اپنی کتاب "عالمی یہودی تنظیمیں" (ص:21-22)میں رقم طراز ہیں:
"ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اب اُردو کے بجائے اینگلو اُردو رائج ہوتی جا رہی ہے۔ ڈرائیور طبقہ بھی جب گاڑی یا سواری کی قیمت بڑھانا چاہتا ہے تو یوں بات کرتا ہے: "اتنا لوڈ الاؤ نہیں ہے"، "اس سے زیادہ پسنجر بٹھانا اِل لیگل ہے"۔ اردو جو عربی اور انگریزی کے بعد عالمی زبان بننے کی پوری استعداد اور صلاحیت رکھتی ہے، اپنے دیس میں اجنبی ہے۔ ہم دنیا کے ان بدنصیب اور غلام ذہنیت کے مالک ممالک میں سے ہیں جن کی قومی زبان اور ہے اور سرکاری اور۔ بھارت میں اگر اُردو کو مٹا کر ہندی کو رائج کیا جا رہا ہے تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ہمارے ہاں اُردو کا حلیہ بگاڑ کر انگلش کو رائج کرنا کسی طرح سمجھ میں نہیں آتا۔
دراصل ٹھیٹھ اُردو بولنے سمجھنے کو مشکل ترین کر کے ہمیں علمائے کرام سے دور کیا جا رہا ہے جو مستند علماء کرام کا تحریر کردہ ہے۔ جو نسل اخبار کی صحافتی اردو نہیں پڑھ سکتی وہ علمی کتابوں کی ادبی اُردو کیسے پڑھے گی؟ جدید تعلیم یافتہ طبقے اور نئی نسل کو دین اور دین دار طبقے سے دور کرنے کی اس مہم میں این جی اوز کے علاوہ ایف ایم ریڈیوز اور مختلف ٹی وی چینلز کا بہت دخل ہے۔ سب مل کر اس زبان کو جس کی دھوم سارے جہاں میں تھی، خود اپنے گھر میں نابود کرنا چاہتے ہیں۔
اس کے مقابلے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم ایک تو اُردو کی ترویج کریں اور اُردو ادب کی تعلیم کو عام کریں۔ بندہ کی کتاب کا نام پہلے "اردو تحریر کے آداب" تھا پھر پانچویں بار اس کا نام "آداب تحریر" ہو گیا اور کتاب کا نام کچھ احباب کے مشورے سے بدل کر "تحریر کیسے سیکھیں؟" رکھ دیا گیا۔ دوسرے ہمیں چاہیے کہ علمائے کرام کو انگلش سکھانے کی کوشش کریں تاکہ جب وہ اُردو بولیں تو ٹھیٹھ اُردو بولیں اور جب کوئی اُن سے اینگلو اردو میں بات کرے تو وہ معیاری انگلش میں اس سے گفتگو شروع کر دیں۔ "