اسلامی مدارس کانصاب و نظام ۔۔ تجزیہ ، تبصرہ ، مشورہ۔ قسط 11

انتظامیہ سے متعلق قابل توجہ امور

آخر میں ’’انتظامیہ ‘‘سے متعلق چند اہم باتیں عرض ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ مدارس کی انتظامیہ پورے طور پر مدارس کی ہر بات کی ذمے دار ہوتی ہے ، مدارس کی خوبی اگر اس کی جانب منسوب ہوتی اور اس کا سہرا اس کے سر بندھتا ہے؛ تو اسی طرح مدارس کی ناکامی و برائی ،اس کا عیب و کھوٹ بھی لا محالہ اسی کی طرف منسوب ہوگا؛ اس لیے ذمے داران ِمدارس جہاں اپنی ذمے داری کو نباہنے اور اپنی صلاحیت و قوت و طاقت کے صحیح استعمال پر فضیلت و ثواب کے مستحق ہیں ،وہیں اپنی صلاحیتوں اور قوت وطاقت کے غلط و ناجائز استعمال پر عذاب کے مستحق بھی ہو سکتے ہیں اور ساری کاروائیاں رائیگاں بھی جاسکتی ہیں۔

لہٰذا ذمے داران ِمدارس کو بھی اپنے اندر خوف و خشیت ، تقوی و پرہیزگاری ، شریعت و سنت کی پاس داری کا پورا پورا لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے ؛ تاکہ وہ صحیح طریقے پر اس اہم ترین کام کو انجام دے سکیں۔

یہاں انتظامیہ سے متعلق چند اہم امور پیش کرتا ہوں :

مدرسین و طلبہ کے اکرام میں کوتاہی

انتظامیہ دو قسم کی ہو تی ہے :ایک غیر علما پر مشتمل۔ دوسری علما پر مشتمل ۔ اور دیکھنے میں آیا ہے کہ غیر علما جو کسی مدرسے کے ذمے دار ہوجاتے ہیں؛ تو وہاں کے علما اور مدرسین پر اس طرح حکومت کرتے ہیں، جیسے کوئی حاکم ہو اور علما کا وقار اور ان کی تعظیم وتکریم کا کوئی حق ادا نہیں کرتے ؛بل کہ بعض جگہ تو ان کے وقار کو مجروح کیا جاتا ہے

اور ان لوگوں کا عمل دخل ہر چیز میں ہو جاتا ہے ،حتی کہ تعلیم و تربیت میں بھی یہ لوگ بے جا مداخلت کرنے لگتے ہیں ، جس کے نتیجے میں عام طور پر ایسے مدارس ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

اس لیے اس قسم کے ذمے داروں کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت و قابلیت پر نظر کرتے ہوئے مداخلت کے حدود قائم کریں اور اسی کے ساتھ مدرسے کے اساتذہ وعلما کا وقار قائم رکھیں اور ان کو اپنا خادم نہیں؛ بل کہ خود کو بھی اور ان کو بھی دین کا خادم خیال کریں اور تعلیمی و تربیتی امور میں علما و مدرسین کی رائے کو مقدم رکھیں ،اس سے ان شاء اللہ العزیز مدارس کامیابی کی راہ پر گامزن ہو ں گے۔

اور جو مدارس علما کے زیر نگرانی چلتے ہیں، ان میں بھی بعض جگہ وہی قابل ِنکیر باتیں ملتی ہیں، کہ مدرسین و اساتذہ کے ساتھ ذمے دار علما، وہ سلوک کرتے ہیں ،جو علما کے شایان شان نہیں ؛بل کہ اپنے زیر دستوں اور خادموں کا سا سلوک کرتے ہیں۔ یہ قابل ِاصلاح و قابل ِنکیر بات ہے ؛ کیوں کہ کوئی مدرس، مہتمم کا خادم نہیں ہو تا اور نہ ذمے داران ِمدرسہ کا خادم ہو تا ہے؛ بل کہ وہ تو اللہ کے دین کا خادم ہو تا ہے ۔

لائق اساتذہ کا انتخاب

دوسری بات یہ ہے کہ مدارس میں ذمے داروں کی ایک اہم ترین ذمے داری، یہ بھی ہے کہ وہ اچھے اساتذہ کا انتخاب کریں، جو اپنے اندر صلاحیت و صالحیت دونوں عناصر رکھتے ہوں،ان میں ایک طرف اگر علمی استعداد و قابلیت عمدہ ہو ، تدریسی صلاحیت اور افہام و تفہیم کی لیاقت ہو ؛تو دوسری جانب ان میں اخلاص وللہیت ، تقوی و طہارت ،خوف و خشیت ،رجوع الی اللہ و انابت ،اخلاق حمیدہ و صفات جمیلہ بھی موجود ہوں اور اسی کے ساتھ محنتی و مجاہد مزاج ہوں؛ تاکہ طلبا کی تعلیم و تربیت کی جو ذمے داری ان پر عائد ہوتی ہے؛ وہ پوری کی جا سکے ،اگر ایسا نہ کیا گیا اور قابل ِ اساتذہ کی جگہ ناکارہ اساتذہ اور غلط کار استادوں کو رکھا گیا ،تو اللہ کے یہاں اس کی باز پرس ہونے کے علاوہ مدرسے کے قیام کا مقصد ہی پورا نہ ہوگا ؛ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے، کہ بعض جگہ کے اساتذہ کی تعلیمی قابلیت یا عملی صلاحیت دیکھ کر رونے کو جی چاہتا ہے اور بہت جگہ یہ صورت ِحال بھی دیکھنے میں آتی ہے، کہ اساتذہ میں تعلیمی صلاحیت تو خوب ہے؛ مگر تقوی وطہارت اور عمل و اخلاق سے بے بہرا ہیں ، یاان کا انداز و طور طریقہ سوقیانہ یا جاہلانہ ہے، یا تہذیب و شائستگی سے دور ہیں۔ بھلا ایسے لوگوں سے طلبا کی تربیت کس طرح ہو سکے گی ؟اور وہ ان کو کس طرح قابل وصالح ،با اخلاق وباکردار بنا سکیں گے؟جب یہ خود محتاج اصلاح ہیں، تودوسروں کی کیا اصلاح کر سکیں گے ؟ بل کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ طلبا کواور زیادہ بگاڑ دیں گے ۔

اس سلسلے میں جو کوتاہی ہو تی ہے، اس کی وجہ بعض اداروں میں یہ دیکھنے میں آئی ہے، کہ انتظامیہ اساتذہ کے انتخاب میں صرف یہ پیش ِنظر رکھتی ہے، کہ مدرس ہماری ہاں میں ہاں ملانے والا اور ذاتی طور پر ہمارا تابع دار ہو ، خواہ صلاحیت و صالحیت اس میں ہو یا نہ ہو ، اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی ۔ اسی طرح ناکارہ مدرس کو اس لیے برداشت کیا جاتا ہے، کہ وہ انتظامیہ کی اچھی و بری بات میں تائید کرتا ہے اور اچھے وماہر اساتذہ کو اس لیے برخواست کردیا جاتا ہے، کہ وہ انتظامیہ کی اس طرح تائید نہیں کرتا یا ان کا ذاتی طور پر تابع دار نہیں ہے ۔ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا ہے اور کیا ہو سکتا ہے، کہ مدارس میں ناکاروں کی ایک ٹیم جمع ہو جائے اور حق وناحق میں انتظامیہ کی ہاں میں ہاں ملائے۔ جسے نہ پڑھنا ہے ، نہ پڑھانا ہے ۔یہ صورت ِحال مدارس و مدارس کے طلبہ کے حق میں کس قدر خطر ناک ہے، وہ ظاہر ہے ۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دینی مدارس کا نصاب ونظام

از افادات
شیخ طریقت حضرت اقدس مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہم العالی
(بانی ومہتمم الجامعۃ الاسلامیۃ مسیح العلوم،بنگلور)

نشر واہتمام
مفتی ابو الحسن المنجہ خیلوی عفی عنہ

کل مضامین : 14
اس سلسلے کے تمام مضامین

مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب

بانی ومہتمم الجامعۃ الاسلامیۃ مسیح العلوم،بنگلور
کل مواد : 14
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019