اسلامی مدارس کانصاب و نظام ۔۔ تجزیہ ، تبصرہ ، مشورہ۔ قسط 5

مدارس میں دو قسم کا نصاب ہونا چاہیے

لہٰذا مدارس میں دو قسم کا نصاب ہو نا چاہیے :ایک اصلاحی و تربیتی نصاب ،جو ہر طالب کے لیے مفید ہو سکتا ہے؛ تا کہ اس کی اصلاح ہو اور وہ ایک اچھا اور دین دار مسلمان بن جائے اور اس کے بعد وہ اپنے دنیوی کاموں میں لگ جائے اور دوسرا نصاب: وہ جو عام طور پر مدارس میں رائج ہے، جس کو پڑھ کر ایک شخص عالم ِدین اور ملت کا رہنما بنتا ہے ،یہ نصاب ذہین و فطین اور شریف ونیک طبع طلبا کے لیے خاص ہو ۔

تبدیلی ٔ مدرسہ تصدیق

اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے، کہ عام طور پر ہمارے مدارس میں طلبا کے ایک مدرسے سے دوسرے مدرسے کو منتقلی کے لیے ’’تصدیق‘‘ کا رواج نہیں ہے، جس کا نقصان یہ ہے کہ نا اہل و ناکارہ اور بد مزاج و شریر طلبا ایک مدرسے سے دوسرے مدرسے کو جب چاہتے ہیں ،منتقل ہو تے رہتے ہیں ، اگر ایک مدرسے میں ان کی تعلیم یا اصلاح کے لیے ان پر سختی کی گئی، تو فوراً وہاں سے راہ ِفرار اختیار کرتے اور دوسرے مدرسے میں بہ آسانی داخلہ لے لیتے ہیں اور مزید یہ کہ دوسرے مدرسے میں وہ اپنا کوئی قصور نہیں بتاتے؛ بل کہ سابق مدرسے کا قصور بتا کر داخلہ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی عمر بھر نہ تعلیمی لیاقت ہی درست ہوتی ہے اور نہ اصلاح ہی ہوتی ہے ،اسی طرح وہ اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ہو تے ہوتے فارغ التحصیل بھی ہو جاتے ہیں اور اپنی تعلیمی کمزوریوں کو باقی رکھتے ہوئے ’’ عالم و فاضل‘‘کی سند پالیتے ہیں۔

یہ صورت ِحال جس طرح طالب ِعلم کے حق میں نقصان دہ ہے، اسی طرح مدارس کے حق میں بھی سخت مضر ہے؛ لہٰذا یہ مناسب ہے کہ اہل ِمدارس کسی بھی مدرسے سے آنے والے طالب علم سے تصدیق کا مطالبہ کریں ؛ ورنہ اس کا داخلہ نہ لیں اور اس کو اپنے من جملہ اصول کے ایک اصول قرار دیں؛ تاکہ طالب ِعلم کا بھی بھلا ہو اور مدرسے بھی نقصان کی زد سے محفوظ رہیں۔

اس سلسلے میں ایک اور پہلو بھی قابل ِلحاظ ہے : وہ یہ کہ اگر طالب ِعلم کو کوئی واقعی عذر ہو اور وہ ایک مدرسے سے دوسرے مدرسے میں منتقل ہو نا چاہے، تو اس سلسلے میں بھی اعذار کی تصدیق کے بعد مدرسے والوں کو بہ خوشی و فراخ دلی تصدیق دے دینا چاہیے؛ تاکہ وہ اپنی تعلیم کو جاری رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہ پائے ۔ بعض اہل ِمدارس اس سلسلے میں بخل سے کام لیتے ہیں، جو مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔

نظامِ تربیت

تعلیم کے بعد مدارس ِاسلامیہ کے تربیتی نظام کے متعلق اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں ۔

یہ بات ہر شبہے سے بالاتر ہے ،کہ مدارس کا قیام محض تعلیم کے لیے نہیں ہے؛ بل کہ تعلیم کے ساتھ ان کا اس سے بھی اونچا مقصد طلبا کی ذہنی و فکری اصلاح ،عملی و اخلاقی تربیت بھی ہے ؛اس لیے یوں کہا جا سکتا ہے ،کہ مدارس دو کاموں کے ذمے دار ہیں : ایک یہ کہ طلبا میں صلاحیت پیدا کریں اور دوسرے یہ کہ ان میں صالحیت پیدا کریں ؛ لہٰذا مدارس کا کام عام اسکو لوں اور کالجوں کے لحاظ سے بڑا بھی ہے اور بڑھا ہوا بھی ہے ۔

اگر چہ مدارس کی فضا اور وہاں کا ماحول ہر وارد و صادر کے لیے ’’روحانیت ونورانیت ‘‘ کا سبق و درس دیتا ہے ؛ لیکن اس میں کیا شک ہے کہ اس سبق و درس سے فائدہ وہی لوگ اُٹھا تے ہیں، جو اپنی سرشت میں خیر؛ فطرت میں نیکی اور مزاج میں اعتدال کی خو بیوں کے حامل ہو تے ہیں ؛اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس ماحول

میں پلنے والے طلبا کا مزاج و طبیعت بنانے کی بھی فکر کی جائے ۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دینی مدارس کا نصاب ونظام

از افادات
شیخ طریقت حضرت اقدس مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہم العالی
(بانی ومہتمم الجامعۃ الاسلامیۃ مسیح العلوم،بنگلور)

نشر واہتمام
مفتی ابو الحسن المنجہ خیلوی عفی عنہ

کل مضامین : 14
اس سلسلے کے تمام مضامین

مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب

بانی ومہتمم الجامعۃ الاسلامیۃ مسیح العلوم،بنگلور
کل مواد : 14
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019