خواتین ، مذہب ، عبادت ، معاشرت ، معیشت اور اور جانوروں کے متعلق اسلامی تعلیمات

اسلام کا مزاج یہ ہے کہ سماج میں جو جتنا زیادہ کمزور ہے ، وہ اتنا ہی زیادہ قابل توجہ ہے ؛ اسی لئے عورتوں کے سلسلے میں خصوصی لحاظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، عورتوں کو منحوس سمجھا جاتا تھا ، پیغمبر اسلام ﷺنے اس کی نفی فرمائی ، اسلام کی نظر میں منحوس صرف انسان کا عمل ہوتا ہے ، وہ عمل جو گناہ اور ظلم پر مبنی ہو ، باقی نہ کوئی مخلوق منحوس ہوتی ہے نہ کوئی انسان ، نہ کوئی وقت اور نہ کوئی مکان ، یہ بات چلی آرہی تھی کہ چوںکہ جنت میں حضرت حوا علیہا السلام نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ؛ اس لئے عورت گناہ کا دروازہ ہے ، قرآن نے عورتوں کی پوزیشن کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ اصل قصور شیطان کا تھا ، جس نے آدم و حوا دونوں کو بہکادیا تھا ، ( البقرۃ : ۳۶) لیکن مرد ہونے کی حیثیت سے حضرت آدم علیہ السلام پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؛ اس لئے اس چوک کی نسبت حضرت آدم علیہ السلام کی طرف کی گئی : ’’ وَ عَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰی‘‘ ۔ (طٰہٰ : ۱۲۱) بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں قرآن نے واضح کردیا کہ اس میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں  :لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ ۔ (البقرۃ : ۲۲۸)جتنا حق مردوں کا ہے ، اتناہی عورتوں کا ہے ۔ عورت کو حق دیا گیا کہ وہ خود اپنی رضامندی سے اپنا نکاح کرسکتی ہے ، ( البقرۃ : ۲۳۲) اسے یہ بھی حق دیا گیا کہ اگر رشتہ کا نباہ دشوار ہوجائے تو وہ شوہر سے علاحدگی حاصل کرسکتی ہے ، بیوہ اورطلاق شدہ عورتوں کے نکاح کی ترغیب دی گئی ، (النور : ۳۴) اس کو بہت سی ذمہ داریوں سے فارغ رکھا گیا ؛ چنانچہ والدین اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری مردوں پر رکھی گئی اور عورت کی معاشی ذمہ داریاں بھی باپ اور شوہر پر رکھی گئیں ؛ تاکہ وہ کسب معاش پر مجبور نہ ہو ، اس کو اپنی جائداد میں تصرف کا پورا پورا حق دیا گیا ، نہ اس کا باپ بلا اجازت اس کے مال میں تصرف کرسکتا ہے نہ شوہر اور نہ بیٹا ۔ اسے مردوں سے بڑھ کر عزت دی گئی ، آپ ﷺنے باپ کے بارے میں فرمایا کہ وہ جنت کا دروازہ ہے ، (ترمذی ، حدیث نمبر : ۱۹۰۰) اورماں کے بارے میں کہا کہ اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے ، (سنن نسائی ، حدیث نمبر : ۳۱۰۴) بیوی کے بارے میں فرمایا گیا : کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق بہتر ہوں ، اور سب سے بہتر اخلاق والا وہ ہے ، جس کا اپنی بیوی کے ساتھ سلوک اچھا ہو ، (ترمذی ، حدیث نمبر : ۳۸۹۵) نیز بیوی کو گھر کی مالکہ قرار دیا گیا ، آپ ﷺنے فرمایا : عورت اپنے شوہر کے گھر کی انچارج ہے : ’’المرأۃ راعیۃ علی بیت زوجھا‘‘ (بخاری ، حدیث نمبر : ۵۲۰۰) آپ ﷺنے بیٹی کے بارے میں فرمایا کہ جس شخص کی ایک یا دو یا اس سے زیادہ بیٹیاں ہوں اور وہ بیٹوں کے مقابلے میں اس کو کمتر سمجھے بغیر اس کی پرورش کرے ، وہ اور مَیں جنت میں اس طرح ہوں گے جیسے : یہ دو انگلیاں ، ( ترمذی ، ابواب البر والصلۃ ، حدیث نمبر : ۱۹۱۴) بیٹوں کی پرورش پر آپ ﷺنے یہ فضیلت بیان نہیں فرمائی ، اسلام کی ان تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ یا تو اسلام سے پہلے لوگ بیٹیوں کو دفن کردیتے تھے ، یاپھر یہ ہوا کہ اگر کوئی لڑکی سرپرست سے محروم ہوجاتی تو کئی لوگ اپنا مقدمہ پیش کرتے کہ ہمیں اس کی پرورش اور کفالت کا حق دیا جائے — پیغمبر اسلام ﷺکو خواتین کا اس درجہ لحاظ تھا کہ وفات سے پہلے بالکل آخر آخر میں آپ نے جو نصیحتیں فرمائیں ، ان میں ایک یہ تھی کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے ۔ (ترمذی ، حدیث نمبر : ۱۱۶۳)عبادات اور ان کا مقصد اسلام میں عبادت ان افعال کو کہتے ہیں ، جن کو انسان خدا سے اپنے تعلق کے اظہار کے لئے انجام دیتا ہے ؛ چنانچہ چار عبادتوں کو اسلام میں خصوصی حیثیت حاصل ہے : نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، نماز دن و رات میں پانچ دفعہ پڑھنا فرض ہے ، سال میں ایک ماہ روزہ رکھنا فرض قرار دیا گیاہے ، سال میں ایک بار زکوٰۃ واجب قرار دی گئی ہے ، جو مختلف مالوں میں ڈھائی فیصد سے بیس فیصد تک نکالی جاتی ہے اور غریبوں پر خرچ کی جاتی ہے ، حج زندگی میں ایک بار فرض ہے ، جس کے لئے پوری دنیا کے مسلمان مکہ میں جمع ہوتے ہیں ۔ ان عبادتوں میں تین باتوں کا لحاظ رکھا گیا ہے  : (۱)   انسان کے اندر اپنی بندگی اور اللہ کی غلامی کا احساس باقی رہے ، وہ سمجھے کہ وہ بڑا نہیں ہے ، اللہ کی بڑائی اس کے ذہن میں راسخ ہو ؛ اسی لئے نماز میں بار بار ’ اللہ اکبر ‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ ہی سب سے بڑے ہیں ، بار بار اللہ کی تعریف کی جاتی ہے ، اپنی کمتری کا اعتراف کیا جاتا ہے ، یہ بات انسان کو تکبر اور بڑائی کے احساس اور دوسروں کو حقیر سمجھنے سے باز رکھتی ہے ۔ (۲)  ان عبادتوں کا دوسرا مقصد انسان کی تربیت ہے ، مثلاً ایک مہینہ ہر مسلمان اس طرح روزہ رکھتا ہے کہ موسم کتنا بھی سخت ہو ، وہ بھوکا پیاسا رہتا ہے ، صبح سے شام تک کھانے کا کوئی لقمہ اور پانی کا کوئی قطرہ اس کے حلق سے نیچے نہیں جاتا ، حج کرتے ہوئے ہفتہ دس دن اس طرح گزرتا ہے کہ وہ صرف دوچادریں لپیٹے ہوئے رہتا ہے ، نہ خوشبو لگاتا ہے ، نہ زیب وزینت کی کوئی اور چیز استعمال کرتا ہے ، اس طرح انسان میں یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اپنے کنٹرول میں رکھے ؛ کیوںکہ دنیا میں سارے فساد کی جڑ یہی ہے کہ آدمی اَن کنٹرول ہوجاتا ہے اور اپنی ہر خواہش کو پوری کرنا چاہتا ہے ، چاہے جائز ہو یا ناجائز ، اور چاہے اس کی وجہ سے دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہو ۔ (۳)  تیسرا پہلو یہ ہے کہ عبادتوں کے ذریعہ سماج کے غریب لوگوں کی دشواریوں کا احساس دلایا جاتا ہے ، جیسے جب کوئی شخص روزہ رکھتا ہے اور خود اپنے اختیار سے بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے تو اس وقت اسے اپنے غریب بھائیوں کی دشواریوں اور پریشانیوں کا احساس ہوتا ہے ؛ اسی لئے رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ صدقہ الفطر واجب قرار دیا گیا ، جس کے ذریعہ غریبوں کی مدد کی جاتی ہے ، ہر صاحب ثروت شخص پر زکوٰۃ نکالنا واجب قرار دیا گیا ، جو غریبوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ یہی اسلام کی تمام عبادتوں کی روح ہے ، اسلام میں دو تہوار ہیں ، ایک : عید ، دوسرے : بقرعید ، مسلمان اس دن میدان میں نکل کر خدا کے سامنے اپنی پیشانی جھکادیتے ہیں ، نہ شور ہوتا ہے نہ ہنگامہ ، نہ گانا نہ بجانا ؛ بلکہ زبان پر صرف اللہ کا نام ہوتاہے ۔معاشرت کا اسلامی تصور اسلام نے سماجی زندگی کا ایک مکمل نظام دیا ہے ، والدین اور اولاد ، شوہر اور بیوی ، بھائی بہن اور رشتہ دار ، پڑوس اور ہم سایہ کے حقوق مقرر کئے ہیں — ان قوانین کی بنیاد دوباتوں پر ہے : عدل اور احسان ۔ عدل سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنا حق لے لے اور دوسروں کو اس کا حق دے دے ، دوسروں کو ان کے حق سے محروم کرنے یا ان کے حق سے کم دینے کی کوشش نہ کرے ، قرآن مجید میں ۹۰ بار عدل کا حکم دیا گیا ، عدل کے مقابلہ میں ظلم ہے ، ظلم سے مراد ہے دوسروں کو ان کے حق سے محروم کردینا ، یا ان کو ان کے حق سے کم دینا ہے ، قرآن مجید میں ظلم کی جتنی مذمت کی گئی ہے کم ہی کسی اور گناہ کی اس قدرت مذمت کی گئی ہے ، قرآن مجید نے کم سے کم ۸۶ بار ظلم کی مذمت کی ہے ، یا اس سے منع کیا ہے ۔ (الشوریٰ : ۴۰) احسان یہ ہے کہ انسان اپنے حق سے کم لے یا اپنا حق چھوڑ دے ، اور دوسروں کو اس کے حق سے زیادہ دیدے اور ایثار سے کام لے ، قرآن نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں : ’’ وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘ (آل عمران : ۱۳۴)پیغمبر اسلام ﷺکا عمل احسان ہی پر تھا ، آپ ﷺجب قرض دینے والے کا قرض واپس کرتے تو اس کو بڑھ کر دیتے ، دشمنوں کی غلطیاں معاف کردیتے ، مکہ مکرمہ میں آپ کے دو گھر تھے ، ایک : آپ کا آبائی گھر ، اور دوسرا : آپ کی بیوی حضرت خدیجہؓ کا گھر ؛ لیکن جب فتح مکہ کے موقع سے آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنا گھر واپس نہیں لیا ؛ بلکہ جو لوگ اس پر قابض ہوگئے تھے ، ان ہی کے لئے چھوڑ دیا ، آپ کی پوری زندگی اسی اُصول پر قائم تھی اور یہی مسلمانوں کے لئے زندگی گزارنے کا معیاری طریقہ ہے ۔معیشت کے بارے میں اسلامی تصور انسان کی ایک اہم ضرورت معیشت بھی ہے ، اس لئے اگر جائز حدود میں مال کمانے کی کوشش کی جائے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے ، قرآن مجید نے کسب معاش کے لئے جدوجہد کا حکم دیا ہے ، (الجمعۃ : ۱۰)  قرآن نے مال کو خیر کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ، (العادیات : ۸) جس کے معنی ’بہت اچھی چیز ‘ کے ہیں ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا : فرض نماز کے بعد سب سے بڑا فریضہ کسب حلال ہے ، (سنن الکبریٰ للبیہقی ، حدیث نمبر : ۱۱۶۹۵) لیکن معاشی تگ و دو اور کسب معاش کی جدوجہد کے لئے آپ ﷺنے کچھ حدود مقرر فرمائی ہیں ، ان میں سے تین باتیں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں  : (۱)   زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کے لئے کسی کا استحصال نہ کیا جائے ، جیسے ایک ضرورت مند شخص قرض کا طلب گار ہو ، اوردوسرے شخص کے پاس پیسے ہوں ، اور وہ اس کی مجبوری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قرض دے کر اس سے سود وصول کرے ، یہ ایک غریب شخص کی مجبوری کا فائدہ اُٹھانا ہے ، یا ایک شخص کو فوری طورپر کسی خاص دوا کی ضرورت ہو ، جس کی قیمت مارکٹ میں چار سے پانچ سو روپے ہو ؛ لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ دوا کی اور دُکانیں بند ہیں ، اوریہ ہم سے دوا خریدنے پر مجبور ہے ، اس کی قیمت چار سے پانچ ہزار وصول کرلی جائے ، اس کو اسلامی قانون کی اصطلاح میں ’ غبن فاحش ‘ کہا جاتا ہے ، یہ جائز نہیں ہے ؛ کیوںکہ یہ غریبوں کا استحصال ہے ۔ (۲)  دوسرے : اسلام کا معاشی نظام دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم پر مبنی ہے ، وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ قوم کی پوری دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر آجائے ، (الحشر : ۸) اس لئے اسلام نے کہا کہ کاروبار کی بنیاد سود کے بجائے پارٹنروں میں نفع کی تقسیم پر ہو — اسی طرح میراث کی تقسیم کا ایک وسیع نظام مقرر کیا گیا ہے ، جس کے تحت انسان کے مرنے کے بعد اس کی دولت ماں باپ ، شوہر و بیوی ، بیٹوں اور بیٹیوں اور بعض حالات میں دوسرے رشتہ داروں کے درمیان تقسیم ہوجاتی ہے ۔ (۳)  اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ انسان دولت کے کمانے میں اخلاقی اقدار سے آزاد نہ ہوجائے ، جیسے پیغمبر اسلام ﷺنے اس بات سے منع فرمایا کہ مارکٹ میں کسی چیز کی ضرورت ہو اور کچھ تاجرین اس کا ذخیرہ اپنے پاس روک لیں ؛ تاکہ وہ چیز مہنگی ہوجائے ؛ کیوںکہ یہ تقاضۂ اخلاق کے خلاف ہے کہ انسان خود زیادہ نفع حاصل کرنے کے لئے سماج کو دشواری اور تنگی میں مبتلا کردے ، پیغمبر اسلام ﷺنے ایسی حرکت کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے ۔ (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۲۱۵۳) اسی طرح اسلام میں اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ کوئی شخص شراب فروخت کرے ، یا لڑنے جھگڑنے والوں کے ہاتھ ہتھیار بیچے ؛ کیوںکہ یہ عام لوگوں کو نقصان پہنچانے والی چیزیں ہیں ؛ چنانچہ آج ازدواجی اور خاندانی زندگی میں بہت سے تکلیف دہ واقعات شراب نوشی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ، اور آج دنیا میں جو جنگیں ہورہی ہیں ، وہ اصل میں ان ملکوں کی وجہ ہیں ، جن کی معیشت کا سب سے بڑا ذریعہ ہتھیار کا بنانا اور بیچنا ہے ۔جانوروں کے ساتھ رحم دلی اسلام نے جس طرح انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے ، اسی طرح جانوروں کے ساتھ بھی بہتر سلوک کا حکم دیا ہے ، اسلام نے جانور سے صحیح طریقے پر فائدہ اُٹھانے کی اجازت دی ہے ، جانور کے منھ پر مارنے سے منع کیا گیا ہے ، (مسلم ، کتاب اللباس ، حدیث نمبر : ۲۱۱۶) لوگ جانوروں کو باہم لڑاتے اور اس کا تماشہ دیکھتے تھے ، آپ نے اس درندگی سے منع فرمادیا ، (ترمذی ، کتاب الجہاد ، حدیث نمبر : ۲۵۶۴) پیغمبر اسلام ﷺنے جانور کو اسٹیج کے طورپر استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا ، ( مسند احمد ، حدیث نمبر : ۱۵۶۶۷)آپ ﷺنے فرمایا  : قیامت کے دن ایک عورت محض اس لئے دوزخ میں ڈالی جائے گی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا ، اسے اس کا موقع نہیں دیا گیا کہ وہ خود کھائے اور چر کر اپنی ضرورت پوری کرے ، (بخاری ، حدیث نمبر : ۲۳۶۵ ) اورایک شخص اس بناپر جنت میں داخل کیا جائے گا کہ اس نے ایک پیاسے کتے کی پیاس دُور کی ہوگی اور اسے پانی پلایا ہوگا ۔ ( بخاری ، حدیث نمبر : ۲۳۶۳) آپ ﷺنے فرمایا کہ انسان کی لگائی ہوئی کھیتیوں میں سے چرندو پرند جو کھالیں ، اس پر بھی صدقہ کا ثواب ہے ، ( بخاری ، حدیث نمبر : ۲۳۲۰) اسلام نے گوشت خوری کی اجازت ضرور دی ہے ؛ لیکن بلا وجہ جانوروں کو مارنے کے درپے ہونا درست نہیں ہے ، کسی صاحب نے ایک گوریا کی طرح کا پرندہ پکڑ رکھا تھا اور اس کی ماں بے قرار تھی ، آپ ﷺنے اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا ، (ابوداؤد ، کتاب الجہاد ، حدیث نمبر : ۶۲۷۷) آپ ﷺنے فرمایا کہ بلا ضرورت اس کو ذبح کرنے پر بھی جواب دہی ہے ؛ ( نسائی ، کتاب الصید ، حدیث نمبر : ۴۳۶۹)اسی لئے جو چیزیں انسان کے کام نہیں آتیں ، آپ ﷺنے ان کو مارنے سے منع فرمایا ، چیونٹی ، شہد کی مکھی اور ھُدْ ھُدْوغیرہ کے مارنے کی آپ ﷺنے صراحتاً ممانعت فرمائی ، (ابوداؤد ، کتاب الادب ، حدیث نمبر : ۵۲۶۷)کسی ذی روح کے جلانے کو آپ ﷺنے شدت سے روکا ہے ، ایک دفعہ لوگوں نے ایسی جگہ چولھا سلگایا جہاں چیونٹی کے بِل تھے ، آپ ﷺنے چولھا بُجھانے کا حکم دیا ۔ (مسند احمد ، حدیث نمبر :۳۷۶۳)دین میں کوئی جبر نہیں اسلام کا عقیدہ ہے کہ خدا کو ایک ماننے اور اس کے احکام کو قبول کرنے میں دنیا کی بھی بھلائی ہے اور آخرت کی بھی نجات ہے ، اورمسلمانوں کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے لئے جو پسند کرے ، وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کرے ؛ اس لئے وہ اس بات کو ضروری سمجھتا ہے کہ دوسرے انسانی بھائیوں کے سامنے کامیابی اور نجات کے اس راستہ کو پیش کرے اور انھیں اسلام کی طرف آنے کی دعوت دے ؛ لیکن کسی مسلمان کے لئے خواہ وہ حکمراں ہو یا ملک کا عام شہری ، اور خواہ مسلم اکثریت ملک ہو یا مسلم اقلیت ملک ، اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ زبردستی دوسرے کا مذہب تبدیل کرائے اور اسے مسلمان بنائے ، قرآن مجید نے صاف اعلان کردیا ہے  :لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ۔ (البقرۃ : ۲۵۶)دین میں کوئی جبر اور زبردستی نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فطری طورپر اس بات کے لئے بے قرار رہتے تھے کہ مکہ کے لوگ اسلام قبول کرلیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا  :اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰی یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (یونس : ۹۹)کیا آپ لوگوں کو اس بات پر مجبور کردیں گے کہ وہ مسلمان ہوجائیں ۔ اسی لئے اسلام کی جو کچھ اشاعت ہوئی ہے ، وہ محبت اور اخلاق کے ذریعہ اور اسلامی تعلیمات کی کشش کی وجہ سے ہوئی ہے ، آپﷺنے تیرہ سال مکہ میں دعوت دی ، اس وقت مسلمان اس حال میں تھے کہ وہ کھلے عام نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تھے ، وہ اعلانیہ طورپر قرآن کی تلاوت کرنے سے بھی قاصر تھے ، انھیں مجبور ہوکر دو دفعہ مکہ چھوڑ کر حبش جانا پڑا اور پھر اپنے گھر بار سے محروم ہوکر مدینہ آنا پڑا ، اس تیرہ سالہ زندگی میں مکہ کے کئی معز ز لوگوں نے اسلام قبول کیا ، جیسے : حضرت ابوبکر ؓ، حضرت عمرؓ ، حضرت عثمان ؓ، حضرت حمزہؓ وغیرہ ، کیا یہاں زور زبردستی سے لوگوں کو مسلمان بنایا جاسکتا تھا ؟ مدینہ کے لوگوں نے خود مکہ پہنچ کر اور اہل مکہ سے چھپ چھپاکر اسلام قبول کیا ، پھر ان کی دعوت پر مسلمان مدینہ آئے ، اس وقت ان کے پاس نہ رہنے کو گھر تھا نہ کمانے کے لئے کوئی ذریعہ معاش ، کیا یہ دوسروں کو زور زبردستی سے مسلمان بناسکتے تھے ، مدینہ میں یہودیوں کے تین قبائل تھے ، یہ تینوں اخیر تک یہودیت پر قائم رہے ، اگر آپ چاہتے تو مسلمانوں کی اکثریت کا سہارا لے کر ان پر زور زبردستی کرسکتے تھے ؛ لیکن آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا اور ان میں سے چند ہی لوگ تھے ، جو مسلمان ہوئے ۔ پھر دنیا کے نقشہ پر نظر ڈال کر دیکھیں تو اسپین میں آٹھ سو سال مسلمانوں کی حکومت رہی ؛ لیکن پھر بھی وہ عیسائی اکثریت ملک رہا ، انڈونیشیا مسلمانوں کا سب سے بڑا ملک ہے ، اسی طرح ملیشیا ایک بڑا مسلم اکثریت ملک ہے ، افریقہ کے مشرقی ساحل پر بیشتر مسلم ممالک ہیں ، یہ سب وہ علاقے ہیں ، جہاں کبھی مسلمانوں کی فوج داخل نہیں ہوئی؛ بلکہ مسلمان سیاحوں اورتاجروں کی دعوت پر اور ان کی زندگی کو دیکھ کر وہاں کے لوگوں نے اپنے طورپر اسلام قبول کیا ، اسی طرح ہندوستان میں مختلف مسلمان خاندانوں نے تقریباً ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے اوربعض چھوٹی مسلم ریاستوں کو شامل کرلیا جائے تو ۱۹۴۸ ء میں ہندوستان کے ساتھ ضم ہونے تک تو تقریباً بارہ سو سال ان کی حکومت کی مدت ہوتی ہے ، اگر مسلمان زور زبردستی سے لوگوں کو اسلام قبول کراتے تو یقیناً وہ آج اقلیت میں نہ ہوتے ، اس کا سبب یہی ہے کہ مسلمانوں کو خود ان کے دین نے اس بات سے منع کیا ہے کہ مذہب کے معاملہ میں جبر و تشدد سے کام لیا جائے ؛ چنانچہ وہ ہمیشہ اپنے مذہب کی اس تعلیم پر قائم رہے ، اور محبت کے ساتھ لوگوں کے سامنے اسلام کی تعلیمات پیش کیں۔

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018