اسلامی مدارس کانصاب و نظام ۔۔ تجزیہ ، تبصرہ ، مشورہ۔ قسط 4

مضمون نگاری کی مشق

اسی کے ساتھ ایک بات یہ بھی قابل ِتوجہ ہے کہ طلبا کو جس طرح تقریر کی مشق کرائی جاتی ہے، اسی طرح’’ تحریر‘‘ کی مشق بھی کرانی چاہیے ؛تاکہ آج صحافت کی دنیا پر جو الحاد و دہریت اور جدیدیت کا قبضہ ہو چکاہے اور اس کی وجہ سے عوام الناس ہر وقت علما مخالف و دین مخالف تحریرات و بیانات پڑھ کر ذہنا ًو فکراً ان سے مرعوب و متأثر ہوجاتے اور علما و مدارس سے؛ بل کہ دین و شریعت ہی سے بے زار ہوجاتے ہیں ، اس صورت حال کا تدارک کیا جا سکے ۔

آج عام طور پر علما کے اس میدان سے ہٹ جانے کی وجہ سے الحاد و دہریت زدہ لوگوں کا اس پر پوری طرح راج نظر آتا ہے ۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی مناسب ہوگا کہ پروفیسر بشیر حسین جو عام طور پر’’روزنامہ سالار ‘‘وغیرہ اخبارات میں علما مخالف و دین مخالف بیانات دینے کےعادی تھے ،انھوں نے آج سے تقریباً تیرہ چودہ سال قبل اپنے چند مضامین میں’’مسلم پرسنل لا‘‘ اور شریعت کے احکامات پر سخت اعتراضات کیے۔ اس وقت احقر نے ’’سالار اخبار‘‘ ہی کے ذریعے ان کا کئی قسطوں میں جواب لکھا اور’’ روز نامہ سالار‘‘ نے بھی پوری اہمیت کے ساتھ اس کو شائع کیا ،جب میرا یہ مضمون شائع ہوا، تو اس کے بعد وہی پروفیسر بشیر حسین نے ’’سالار‘‘ ہی میں یہ لکھا کہ ’’ میں سالہا سال سے اخبارات میں لکھ رہا ہوں؛ مگر یہ پہلا موقع ہے کہ کسی عالم نے میرا جواب لکھا ہو۔‘‘

اس سے میں یہ بتانا چاہتا ہوں ،کہ آج صحافت کی دنیا پر اسی قسم کے لوگوں کا تسلط ہے اور ان کا جواب بھی دینے والا کوئی نہیں ،اگر بر وقت ان کا تعاقب کیا جائے؛ تو یہ ضرور میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ،چناں چہ الحمد للہ میرے اس جواب کے بعد ان پرو فیسر صاحب کا منہ ایسا بند ہوا کہ آج تک کھل نہیں سکا ۔

نظام تعلیم

دوسری بات: نظام ِتعلیم کی اصلاح کے بارے میں ہے۔ آج جو نظامِ تعلیم مروج ہے ،اس میں اپنی بے شمار خوبیوں کے باوجود بعض خامیاں واضح طور پر محسوس کی جاتی ہیں ،جن کی اصلاح کی طرف توجہ دینا از حد ضروری ہے۔

طلبہ سے محنت کرانے کا اہتمام

ایک یہ کہ عام طور پر عربی جماعتوں میں ساری محنت اساتذہ کرتے ہیں اور مطالعہ و تحقیق کے سارے مراحل یہی حضرات طے فرماتے ہیں اور پھر اپنی علمی استعداد کے مطابق طلبا کے سامنے اپنی تحقیقات و تدقیقات کا خلاصہ اور نچوڑ پیش کردیتے ہیں ،اس کے بر خلاف طالب علم؛ نہ مطالعہ کرتا ہے اور نہ پیدا کرنے کی محنت کرتا ہے اور نہ سبق ہی کا کوئی خاص اہتمام و التزام کرتا ہے ،اس صورت ِحال کا جو نقصان طلبا کے حق میں رونما ہوتا ہے، وہ کسی بھی ذی عقل و ہوش پر مخفی نہیں ۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنے والد حضرت مولانا یحییٰ صاحب رحمہ اللہ کے متعلق لکھا ہے کہ:

’’ میرے والد صاحب مدارس کے موجودہ طرز ِتعلیم کے بہت ہی خلاف تھے،وہ فرمایا کرتے تھے کہ اس سے استعداد نہیں بن سکتی، کہ مدرس تو رات بھر مطالعہ دیکھے اور سبق میں ساری تقریریں کرے اور طلبائے عظام کا احسان ہے، کہ وہ سنیں یا نہ سنیں ،اِدھر اُدھر مشغول رہیں۔ ان کا (یعنی شیخ کے والد کا )مشہور طرز ِتعلیم یہ تھا کہ سارا بار طالب ِ علم کے اوپر رہے ،وہ مطالعہ دیکھے ،سبق کی تقریر کرے ، وہ فرماتے تھے کہ استاذ کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ’’ ہوں‘‘ کرے یا’’اوہوں‘‘ ۔

(آپ بیتی:۱؍۸۴)

الغرض یہ موجودہ طریق بالخصوص ابتدائی کتابوں کے لیے انتہائی مضر اور طلبا کی استعداد کے لیے سم ِقاتل ہے ،ہاں! جب طالب ِعلم ان ابتدائی مراحل سے گزر کر پختہ استعداد و صلاحیت کا حامل ہو جائے، تو تفسیر و حدیث اور فقہ کی بڑی کتابوں میں اس طریق سے کوئی نقصان نہیں ۔

درسی تقریر میں طلبہ کی استعدادکا لحاظ

دوسری بات: یہ کہ عام طور پر درسیات میں لمبی لمبی تقریر کا رواج ہے، جو عام طور پر نفس ِمضمون اور کتاب کے مشمولات سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ؛ بل کہ محض تقریری یاعلمی استعداد و صلاحیت جتانے کے لیے پیش کی جاتی ہے اور بعض اوقات یہ بالکل عوامی ذوق کی تسکین کا سامان معلوم ہو تی ہے اور اس کے نتیجے میں طلبا بھی اسی کے عادی ہو جاتے اور علمی ابحاث سے دوری و بعد کا شکار ہو جا تے ہیں۔

اور بعض حضرات ِمدرسین کے یہاں فطرت سے بعید اور مضحکہ خیز انداز بھی دیکھنے میں آیا ہے، کہ محض اپنی قابلیت جتانے کے لیے ابتدائی کتابوں: جیسے ’’نحو میر‘‘ و ’’ہدایۃ النحو‘‘ اور’’نور الایضاح‘‘ اور’’ قدوری‘‘ وغیرہ میں اتنی لمبی تقریریں، طویل بحثیں اور علمائے نحاۃ و فقہا کے متعدد اقوال اور ان کے اختلافات بیان کر کے طلبا کو اس کا مکلف کیا جاتا ہے ،کہ وہ اس کو یاد کریں اور سنائیں ۔

اور یہ ظاہر ہے کہ مبتدی طلبا، نہ ان مباحث کو صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں اور نہ ان سے ان کو کوئی معتد بہ فائدہ ہے ۔

اس سلسلے میں حضرت مولانا مناظرا حسن گیلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’نظام ِتعلیم و تربیت‘‘ میں ایک لطیفہ بھی ایک معقولی استاذ کا نقل کیا ہے:

’’ ایک مشہور معقولی استاذ کا قاعدہ تھا ،کہ جب سبق پڑھانے بیٹھتے، تو’’ تہذیب ‘‘میں ’’ملا جلال‘‘ کی باتیں او ر ’’ملا جلال‘‘ میں ’’شفاء ‘‘و’’ اشارات‘‘ کے مباحث طلبا کے سامنے بیان کیا کرتے تھے ، نتیجہ یہ تھا کہ اس درجے کے طلبا کی سمجھ سے وہ اونچی باتیں باہر ہوتی تھیں ؛اس لیے طلبا جب پڑھ کر اٹھنے لگتے، تو استاذ صاحب خود ہی فرماتے کہ ’’ پڑھانے کو تو میں نے سب پڑھادیا؛ لیکن میری تقریر میرے مصلے سے باہر نہیں ہوئی ،گھوم گھام کر اسی میں رہ جاتی ہے ۔‘‘

(بہ حوالہ تاریخ درس نظامی:۹۹)

 

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دینی مدارس کا نصاب ونظام

از افادات
شیخ طریقت حضرت اقدس مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہم العالی
(بانی ومہتمم الجامعۃ الاسلامیۃ مسیح العلوم،بنگلور)

نشر واہتمام
مفتی ابو الحسن المنجہ خیلوی عفی عنہ

کل مضامین : 14
اس سلسلے کے تمام مضامین

مفتی محمد شعیب اللہ خان صاحب

بانی ومہتمم الجامعۃ الاسلامیۃ مسیح العلوم،بنگلور
کل مواد : 14
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019