حارث اور اویس نام رکھنا

سوال: 

گذشتہ دنوں استاد محترم مفتی زرولی خان صاحب کا ایک کلپ سننے کا موقعہ ملا جس میں حضرت نے “حارث” نام  رکھنے سے منع فرمایا کہ اس نام کے صحابہ موجود نہیں تھے…اس کے بارے میں تحقیق مطلوب ہے…

الجواب باسمه تعالی

سرسری مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس نام کے بہت سے صحابہ کرام موجود ہیں جن میں اہل بدر، اہل احد اور صلح حدیبیہ میں شریک صحابہ بھی ہیں. “اسد الغابة” میں “حارث” نامی ٢٩ صحابہ کا ذکر موجود ہے، فہرست میں 957 نمبر سے لے کر 986 نمبر تک “حارث” نام کے صحابہ ہیں، نمونے کے طور پر تین صحابہ کے نام اور حالات یہاں درج کئے جاتے ہیں:

 

١.  الحارث بن مالک 958:

الحارث بن مالك مولى أبي هند الحجام.

  • قال ابن منده: سماه لنا بعض أهل العلم، ويقال: إن اسم أبي هند الحارث بن مالك.
  • روى أبوعوانة عن جابر عن الشعبي عن ابن عباس، قال: احتجم النبي صلى الله عليه وسلم وأعطى الحجام أجره، حجمه أبوهند، غلام لبني بياضة، وكان أجره كل يوم مدا ونصفا، فشفع له رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى مولاه، فوضع عنه نصف مد.
  • ورواه شعبة، والثوري، وشريك، وأبوإسرائيل، عن جابر، فمنهم من قال: أبوطيبة، ومنهم من قال: مولى لبني بياضة.
  • ورواه إسحاق بن بهلول، عن أبيه، عن ورقاء، عن جابر، عن الشعبي، عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم حجمه أبوهند، واسمه الحارث بن مالك.

٢. الحارث بن مضرس 964:

الحارث بن مضرس بن عبد رزاح.

بایع تحت الشجرة وشهد ما بعدها واستشهد بالقادسیة.

٣. الحارث بن معاذ بن نعمان بن امری القیس965:

له صحبة وشهد بدرا، وهم ثلاثة: اخوہ سعد، الحارث وأوس.

روایات سے اویس نام کا ثبوت:

مسلم شریف کی روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تابعین میں بہتر انسان اویس ہوگا.

(فقد قال عنه صلى الله عليه وسلم: إن خير التابعين رجل يقال له أويس. (رواه مسلم.

اویس بن عامر بن جزء بن مالك القرنی: اویس رحمه اللہ آپ علیہ السلام کے زمانے میں موجود تو تھے لیکن آپ علیہ السلام کو دیکھ نہیں سکے تھے.

(ادرك النبی صلی الله علیه وسلم ولم یرہ، وسکن الکوفة، وهو من کبار تابعیها.(اسد الغابة:331

خلاصہ کلام

بلاشبہ حارث اور اویس نام رکھنا درست ہے اور حضور علیہ السلام کے زمانے میں اس نام کے صحابہ بھی موجود تھے،  لہذا سوال میں مذکور دعوی درست نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

مفتی عبد الباقی اخوانزادہ صاحب

مہتمم جامعہ اسلامیہ رضیہ للبنات سائیٹ کراچی
مفتی عبدالباقی اخونزادہ مدظلہ نے 1994 میں جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی سے درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کی۔
جس کے بعد 1995-1996 میں اسی ادارے سے تخصص فی الفقہ کیا۔
بعد ازاں2001-2004 تک جامعہ دارلعلوم کراچی سے تمرینِ افتاء کیا اور وفاقی اردو یونیورسٹی سے تاریخِ اسلام میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اس وقت مفتی صاحب جامعہ اسلامیہ رضیہ للبنات سائیٹ کراچی میں مہتمم کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

کل مواد : 12
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019