حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنه کا ٹاٹ کا لباس پہننا

سوال

ایک مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی ا للہ عنہ نے ٹاٹ کا لباس پہنا تو ان پر اللہ تعالی کی طرف سے سلام آیا اور کہا گیا کہ ابوبکر سے پوچھو کہ وہ مجھ سے راضی ہے یا نہیں… کیا یہ واقعہ درست ہے؟

الجواب باسمه تعالی

مذکورہ واقعہ اگرچہ کافی مشہور ہے لیکن یہ روایت سند کے لحاظ سے درست نہیں.

امام ذہبی نے’میزان الاعتدال’ میں اس واقعے کے راوی العلاء بن عمرو الحنفی الکوفی کے تذکرے میں اس روایت کو نقل کرکے اس واقعے پر جھوٹا ہونے کا حکم لگایا اور اس راوی کو بھی متروک قرار دیا ہے.

حديث ابن عمر “بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وعنده أبو بكر وعليه عباءة قد خللها على صدره بخلال إذ نزل جبريل عليه السلام فأقرأه عن الله السلام وقال له: يا رسول الله ما لي أرى أبا بكر عليه عباءة قد خللها على صدره بخلال؟ فقال: أنفق ماله علي قبل الفتح، قال: فأقرئه من الله السلام وقل له يقول لك ربك: أراض أنت عني في فقرك هذا أم ساخط؟ قال: فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر وقال: يا أبا بكر هذا جبريل يقرئك السلام من الله ويقول أراض أنت عني في فقرك هذا أم ساخط؟ قال: فبكى أبو بكر رض ي الله عنه وقال: أ على ربي أسخط؟ أنا عن  ربي راض”

أخرجه ابن حبان والعقيلي في الضعفاء، قال الذهبي في الميزان: هو كذب.

اسی طرح حافظ عراقی نے بھی امام ذہبی کے قول کو نقل کیا ہے.

وقال الحافظ العراقي في تخريج الإحياء:

حديث ابن عمر: “بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وعنده أبوبكر وعليه عباءة قد خللها على صدره بخلال إذ نزل جبريل عليه السلام فأقرأه عن الله السلام وقال له: يارسول الله! ما لي أرى أبابكر عليه عباءة قد خللها على صدره بخلال؟ فقال: أنفق ماله علي قبل الفتح، قال: فأقرئه من الله السلام وقل له: يقول لك ربك: أراض أنت عني في فقرك هذا أم ساخط؟ قال: فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر وقال: يا أبابكر! هذا جبريل يقرئك السلام من الله ويقول: أراض أنت عني في فقرك هذا أم ساخط؟ قال: فبكى أبوبكر رضي الله عنه وقال:  أ على ربي أسخط؟ أنا عن ربي راض”.

أخرجه ابن حبان والعقيلي في الضعفاء.

قال الذهبي في الميزان: هو كذب.

ابن حبان فرماتے ہیں کہ علاء بن عمرو ایسی روایات نقل کرتا ہے جو بےدلیل اور بےاصل ہوتی ہیں.

وقال ابن حبان في المجروحين (ج:2، ص:185): العلاء بن عمرو شيخ يروي عن أبي إسحاق الفزاري العجائب لا يجوز الاحتجاج به بحال.

خلاصہ کلام

یہ واقعہ صحیح سند سے کہیں بھی منقول نہیں،  لہذا اس کی نسبت آپ علیہ السلام کی طرف کرنا درست نہیں.

 

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: عبدالباقی اخونزادہ

مفتی عبد الباقی اخوانزادہ صاحب

مہتمم جامعہ اسلامیہ رضیہ للبنات سائیٹ کراچی
مفتی عبدالباقی اخونزادہ مدظلہ نے 1994 میں جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاون کراچی سے درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کی۔
جس کے بعد 1995-1996 میں اسی ادارے سے تخصص فی الفقہ کیا۔
بعد ازاں2001-2004 تک جامعہ دارلعلوم کراچی سے تمرینِ افتاء کیا اور وفاقی اردو یونیورسٹی سے تاریخِ اسلام میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اس وقت مفتی صاحب جامعہ اسلامیہ رضیہ للبنات سائیٹ کراچی میں مہتمم کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

کل مواد : 12
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019