تحقیق حدیث من صلی رکعتی الفجر یوسع لہ فی رزقہ

من صلی رکعتی الفجر یوسع لہ فی رزقہ۔۔۔

اس حدیث کی سند کی تحقیق درکار ہے۔۔

 

الجواب حامدا ومصلیا :

اس حدیث کی کسی کتاب میں کوئی سند ہی دستیاب نہیں.

وقال السخاوي في الأجوبة المرضية : لا أصل له.

بعض مشایخ کی طرف نسبت کر کے اس کو پھیلایا جاتا ہے کہ انہوں نے مراقی الفلاح سے نقل کیا ہے، تو یاد رکھیں حدیث کے ثبوت کے لیے سب سے پہلے سند درکار ہوتی ہے، پھر اس پر اہل فن یعنی محدثین حکم لگاتے ہیں، یہاں سند ہی نہیں، نیز علامہ سخاوی نے صاف فرمادیا ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں.

واللہ اعلم بالصواب

ابو الخیر عارف محمود

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019