تحقیق حدیث : لتنهكن الأصابع بالطهور ، أو لتنهكنها النار

لتنهكن الأصابع بالطهور ، أو لتنهكنها النار

 

کیا یہ حدیث کے الفاظ ہیں؟ 

 

الجواب حامدا ومصلیا :

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : لتنتهكن الأصابع بالطهور، أو لتنتهكنها النار.

أخرجه الطبراني في الأوسط، وقال : لم يرو هذا الحديث عن أبي عوانة إلا شيبان.

وقال الهيثمي في المجمع : رواه الطبراني في الأوسط ووقفه في الكبير على ابن مسعود، وإسناده حسن.

وكذا نقل المناوي في الفيض عن المنذري.

وقال في التيسير : بإسناد حسن.

یہ روایت مرفوعا بھی صحیح الإسناد ہے اور شیبان صحیح مسلم کا راوی ہے اور ابو عوانہ ثقہ ہے اور صحیحین کا راوی ہے، یہ روایت اس کا تفرد نہیں بلکہ سفیان ثوری کی قوی متابعت بھی موجود ہے.

قال المناوي في الفيض :

أي لتبالغن في غسلها في الوضوء والغسل أو لتبالغن نار جهنم في إحراقها، فأحد الأمرين كائن لا محالة، إما المبالغة في إيصال الماء إليها بالتخليل وإما أن يتخللها نار جهنم، وهذا وعيد شديد على عدم إيصال الماء لما بين الأصابع.

تنبیہ : یہاں حدیث کے الفاظ لتنتهكن اور لتنتهكنها میں تصحیف واقع ہوئی ہے،   طبرانی اور ہیثمی کے نسخوں میں تا کی زیادتی اور ھا کے کسرہ کے ساتھ آیا ہے، یہ لفظ درحقیقت لتَنْهَكَنَّ اور لتَنْهَكَنَّها ہے، بلا تاء أخرى وبفتح الهاء، یہی وجہ ہے کہ حافظ ناجی نے اپنے عجالہ میں اس پر گرفت کی ہے.

وجہ یہ ہے کہ النھك المبالغة في كل شيء کو کہتے ہیں، یہی حدیث کا مدعا ہے، جب کہ الانتهاك یہاں یقینی طور پر مراد نہیں، اس لیے علماء نے تصحیف کا قول کیا ہے.

واللہ اعلم بالصواب.

 

کتبه أبو الخير عارف محمود الجلجتي

21/2/19

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019