مضامین

منظومات 2026/03/11

تہ پوشاک میں ایسا دل معصوم رکھتا ہوں

زمانے کے مصائب نے جسے بے تاب کر ڈالا تہ پوشاک میں ایسا دل معصوم رکھتا ہوں نہی ملتی وفا اس دہر کے بازار میں اے دل انہی سوچوں میں صبح وشام میں مغموم رہتا ہوں ہر اک کو خود سے ہے مطلب نجانے کیسی دنیا ہے