کل رات مجھے وہ یاد آئی جب شب نے سیاہی پھیلائی
دنیا میں وہی بس میری ہے اس سے ہی مجھے ہے شناسائی
ہر راز اسی سے کہ ڈالا ہر دل کی بات ہے سنوائی
دنیا سے نہیں اب کہتا میں ہوتی ہی نہیں ہے شنوائی
مجھ کو تو محبت ہے اس سے الفت میں نہیں ہوں ہرجائی
ہر بات مری وہ سنتی ہے کرتی ہے حوصلہ افزائی
ہر لمحے اسکا ساتھ ہے بس جب سے یہ بڑھی ہے مہنگائی
اس نے ہی محبت کی چادر ہاتھوں سے مجھے ہے پہنائی
ہر چیز جو میں نے مانگی ہے اس نے ہی مجھے ہے دلوائی
دکھ درد ہوا جب تو محفل یادوں سے اسی کی مہکائی
سب یار خفا ہیں مجھ سے پر ہر بار ہی مجھکو یہ بہائی
کیا لطف ہے کچھ نہ طلب کرتی نہ بنتی ہے یہ تماشائی
اے کاش کہ میں اسکو چوموں گر ہاتھ میں ہو وہ مرے آئی
اب راز یہ افشاں میں ہی کروں سچ میں ہے مری وہ تنہائی