مضمون 2026/03/11 مشاہدات

شکستہ دل ترے در پر ہوں آیا

بذریعہ

بلال أحمد

الہی بندہ عاصی ہے آیا ترے در پر گناہوں میں نہایا

پریشاں ہے جہان بے وفا سے دل بے چین کو ہے ساتھ لایا

بنایا زیست میں اک دار عصیاں ہر اک باطل کو اس میں ہے بسایا

ترے ہر حکم کو گھر سے نکالا اطاعت کو پس پردہ سلایا

جو من چاہا کیا بے خوف ہو کر تجھے ہر موڑ پر یارب بھلایا

دیا تھا مال و زر تو نے خدایا زمانے کے جھمیلوں میں لٹایا

بالآخر ہو گیا جب دل شکستہ تری چوکھٹ پہ سر کو ہے جھکایا

پڑھی لا تقنطوا من رحمۃ اللہ. سرور بے بیاں دل میں ہے پایا

تو مجھ کو تھام لے اے میرے مولا شکستہ دل ترے در پر ہوں آیا 

گناہوں سے مجھے تو پاک کردے نہیں تجھ بن مرا کوئی خدایا

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!