جہانِ فانی کے باسیوں سے نہ دل لگاتے تو چین ہوتا
خدائے بالا کی الفتوں سے جو لو لگاتے تو چین ہوتا
لگائی ہے دوڑ مال و زر کی اسی تماشے میں عمر بیتی
یہ دوڑ عقبی کے گھر کی جانب جو ہم لگاتے تو چین ہوتا
خدائے برتر کی معصیت سے سیاہ قلب و جگر تھا اپنا
جہانِ عصیاں سے اپنا دامن اگر بچاتے تو چین ہوتا
یہ مال و جاں سب اسی خدا نے عدن کے بدلے خرید رکھا
اسی کی راہ میں شہید ہو کر یہ سب لٹاتے تو چین ہوتا
لکھے قصیدے بہت سنائے ہر اک کو لیکن شفا نہ پائی
جو در پہ سرکار مصطفی کے اگر سناتے تو چین ہوتا