اے مرے ہمسفر چل مدینے چلیں جام انکی محبت کا پینے چلیں
اب تو دل میں فقط ہے یہی آرزو زیست سرکار کے در پہ جینے چلیں
شوق و حسرت سے اب ٹوٹ جاتا ہوں میں جب مدینے کی جانب سفینے چلیں
پاک ہو کر پلٹتے ہیں ہر جرم سے ان کے در کو جو مجھ سے کمینے چلیں
خوف ہرگز نا جرموں کا اب تم کرو لوٹنے آو انکے خزینے چلیں
بے کسو غم کے مارو نہ گھبراؤ تم آو ملکر سبھی ہم مدینے چلیں