اقبال ترے خواب کا کیا حال بتاؤں حالات کی روداد بتا کس کو سناؤں
آدیکھ ترے دیس کے حالات ہیں کیا کیا سب روٹھ گئے ہم سے انعامات ہیں کیا کیا
ہر سمت ہے افلاس کے بادل کا بسیرا آفاق پہ چھایا ہے جہالت کا اندھیرا
ہر صبح کو ہیں دست و گریبان جو بھائی ہر شام کو لٹتی ہے غریبوں کی کمائی
وہ دیس جو کرتا تھا محبت کی عکاسی اب معرکہ آرا ہیں بہم اسکے ہی باسی
افکار وقلم مال پہ بک جاتے ہیں یکدم حکام بھی اغیار سے مل جاتے ہیں یکدم
راہیں مری دھرتی کی امن بھول گیا ہے انسان بھی آدابِ سخن بھول گیا ہے
شکوہ تری پستی کا بیاں کس سے کروں میں جس حال میں جیتا ہوں اسی میں ہی مروں میں
اے کاش قلم سے مرے الفاظ وہ نکلیں اے کاش کہ اب لوگ یہ روداد کو سمجھیں
پھر سے ہمیں اقبال سا اک مرد عطا ہو ہر فرد کو اے کاش یہ اب درد عطا ہو