مضمون 2026/03/11 مشاہدات

ماں جی کے نام

بذریعہ

بلال أحمد

مجھے بچپن میں نخروں سے بہت نازوں سے پالا ہے

مری ماں تیرے دم سے ہی مرے گھر میں اجالا ہے

زمانے کے مصائب نے مجھے جب بھی پچھاڑا ہے

مرے خوابوں کی بستی کا ہر اک ذرہ اجاڑا ہے

میں تھا گھبرا گیا لیکن مجھے تم نے سنبھالا ہے

مری ماں تیرے دم سے ہی مرے گھر میں اجالا ہے

مجھے پردیس میں رہ کر تری یادیں ستاتی ہیں

مری تنہائیوں میں بھی تجھی کو گنگناتی ہیں

تری یادوں کا میرے واسطے ہر پل نرالا ہے

مری ماں تیرے دم سے ہی مرے گھر میں اجالا ہے

تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہے۔ پہلا تبصرہ آپ کریں!