آگیا وہ دن بالآخر پھول قسمت کا کھلا
باند کر دو چادریں میں جانب مکہ چلا
آرزو تھی میں کروں گا واں طواف آرزو
گھوم کر میں گرد کعبہ کے کروں گا جستجو
مصطفی کی بارگاہ سے مجھ کو ہے مژدہ ملا
باندھ کر دو چادریں میں جانب مکہ چلا
جب پڑے گی کعبۃ اللہ پر مری پہلی نظر
جس کے تکنے کیلئے تھی آنکھ میری منتظر
دے گا یہ منظر مری بے چین آنکھوں کو جلا
باندھ کر دو چادریں میں جانب مکہ چلا
تشنگی دل کی بجھاوں گا ترے دیدار سے
غیر کی الفت نکالوں گا دل بیمار سے
مجھ کو اپنی قربتوں سے جام الفت کا پلا
باندھ کر دو چادریں میں جانب مکہ چلا
جب مدینے کی فضاؤں میں چلا جاؤں گا میں
خاک بن کر ارض طیبہ میں سما جاوں گا میں
پھر نہیں مجھ کو زمانے کے مصائب سے گلہ
باندھ کر دو چادریں میں جانب مکہ چلا
اے خدا صد شکر تیرا میں نے عمرہ کرلیا
برکت و خیرات سے دامن کو اپنے بھر لیا
الفت سرکار کا ہے مل گیا مجھ کو صلہ
باند کر دو چادریں میں جانب مکہ چلا