زمانے کے مصائب نے جسے بے تاب کر ڈالا تہ پوشاک میں ایسا دل معصوم رکھتا ہوں
نہی ملتی وفا اس دہر کے بازار میں اے دل انہی سوچوں میں صبح وشام میں مغموم رہتا ہوں
ہر اک کو خود سے ہے مطلب نجانے کیسی دنیا ہے ہر اک انساں کے چہرے پر یہی مضمون پڑھتا ہوں
نجانے پھر بھی کیوں دھوکہ مجھے ہر بار لگتا ہے کسی کی ظاہری الفت کو میں چاہت سمجھتا ہوں
بہت ناداں ہے دل میرا نہیں شکوہ زمانے سے میں اپنی ذات کی ہر اک شکایت خود سے کہتا ہوں
لگا کر اپنا دل لوگوں سے میں نے اک خطا کی ہے اسی اک جرم کی پاداش میں ہر درد سہتا ہوں
نہیں تکتا مرا دل کس طرف رستہ وفا کا ہے بنا دیکھے دیکھے مثال سیل ہر اک سمت بہتا ہوں