ابھی نہ مجھ پہ کرو یہ ستم لوگو غم فراق کو تنہا ہی سہنے دو
کہیں جہان پہ ہوجائے نا یہ راز افشاں ابھی مری نیاز کو پنہاں ہی رہنے دو
غبار دل کو نکلنے کی راہ سوجھی ہے ابھی مری جبین پہ اشکوں کو بہنے دو
مرہم کہاں جہان کے ان باسیوں کے پاس خود ہی سے حال دل مجھے بے باک کہنے دو
جہان ہستی میں اک دل شکستہ ہوں مرے جہان میں تنہا ہی مجھ کو رہنے دو