قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کافکر انگیز خطاب

مولانا فضل الرحمان ایک زیرک ، فہیم اور دور اندیش سیاستدان کی حیثیت سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔مگر یہ حقیقت بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ قوی علوم ظاہریہ کے قوی استعداد کے حامل، نکتہ رس اور دقیق النظر عالم دین ہونے کے ساتھ علوم باطنیہ کے بھی رموز آشنا ہیں۔ تفہیم کا حیرت انگیز ملکہ رکھتے ہیں۔ منتخب اور موزوں الفاظ۔ متین لب ولہجہ۔اس پر مستزاد ان کا شخصی وقار۔کبھی خطیبوں والا آہنگ اور کبھی منجھے ہوئے کہنہ مشق مدرسوں کا نمط بیاں۔جامعہ فاروقیہ میں مولانا ہمیشہ اپنائیت، نشاط اور سکون واطمئنان سے تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔سیاسی رہنما کی بجائے وہ علوم دینیہ کے ایک کہنہ مشق مدرس کے روپ میں نظر آتے ہیں۔اسلاف کے علمی تراث، نظری اور کلامی مباحث پر مولانا کی گہری نظر ہے۔ جامعہ فاروقیہ فیز II کے اس خطاب میں انہوں نے بتایا کہ وہ سیاست کی طرف نہ آتے تو درس وتدریس ہی سے وابستہ ہوتے۔ان کی زیر نظر گفتگو جو راقم نے بعجلت تمام لکھی ہے، بہت ہی پرمغز اور فکر انگیز ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے ان کی اس جامع گفتگو کا بارہا حوالہ دیا۔ حضرت کا خطاب اسی پیچ پر الگ سے شائع کیا جائے گا۔

اب مولانا کا مفصل فکر انگیز خطاب پڑھئے:

حضرت مولانا سلیم اللہ خان سے تلمذ:

"ذاتی طور پر خود کوخوش قسمت سمجھتا ہوں کہ جامعہ فاروقیہ کے اس مبارک اجتماع اور انتہائی خوشگوار ماحول میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

جب جامعہ فاروقیہ کا نام سامنے آتا ہے تو حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ اس جامعہ کے ساتھ لازم ہوا کرتا ہے اس سے جدا نہیں ہو سکتا۔

حضرت شیخ اگرچہ میرے براہ راست استاذ تو نہ تھے، لیکن لیکن میں نے مختلف طریقوں سے ان کے دروس حدیث اور مصنفات سے استفادہ کیا ہے ۔

اور میں خود کو ان کے شاگردوں کی فہرست میں ایک ادنی شاگرد تصور کرتا ہوں۔ جن کی تمام زندگی علوم دینیہ کی خدمت میں گذری۔

مولانا سلیم اللہ خان نے وفاق کو طاقت ور ادارہ بنایا:

"مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ نے ملک بھر کے مدارس کی سرپرستی کی۔ ان کی ترقی کے لئے کام کیا۔ اور وفاق المدارس کی تنظیم کو انہوں نے پروان چڑھاکر، طاقتور ادارہ بنایا۔"

مفتی محمد تقی عثمانی سے زیادہ کوئی موزوں نہیں :

اور آج اس ادارے کی سربراہی حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے پاس ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ماحول میں ان سے زیادہ مناسب شخصیت ہمارے پاس اور کوئی دوسری نہیں۔۔ اللہ تعالی ان کی عمر میں مزید برکتیں عطا فرماے،صحت و سلامتی کے ساتھ ان کی خدمات کو رب العزت قبول فرمائے۔ ہم انشاءاللہ ہر محاذ پر ان کے خادم ہیں اور ہم اس خدمت کو اپنے لئے ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔"

دین کی حفاظت :

"محترم دوستو! اللہ تعالی اپنے دین کی حفاظت کی ذمہ داری خود لے چکا ہے۔ اس سے پہلے انبیاء کرام آئے۔ ان پر وحی اتاری گئی۔ صحائف اتارے گئے۔ لیکن جناب نبی کریم پر جو قران اتارا گیا صرف اس کی خصوصیت ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا إنا نحن نزلنا الذکر وإنا له لحافظون ۔ "

دینی تعلیم کے خلاف انگریز کی سازشیں اور خدا کی مدد:

"انگریز استعمار نے جب برصغیر کو نیا نصاب تعلیم دیا۔ تو انہوں نے اس سےقرآن اور اس کی تفسیر، فقہ اور اس کی تعلیم، اور فارسی زبان نکال دی۔

فارسی برصغیر کی سرکاری زبان ہوا کرتی تھی۔ہمارے اکابر کو اللہ کروٹ کروٹ رحمتیں عطا فرمائے۔ جنہوں نے ان علوم کے تحفظ کے لئے خود کو وقف کیا۔ اور اللہ نے ان کی خدمت کو اس قدر قبولیت دی کہ آج کرہ ارض کے گاوں اور محلوں میں مکاتب کھل گئے۔ "

وفاق المدارس العربیہ میں چالیس ہزار جدید داخلے:

"اس سال وفاق کے زیر انتظام امتحانات کے لئے پچھلے سال کی بنسبت چالیس ہزار نئے داخلے ہوئے۔ دشمن ان مدارس کو ختم کرتا جائے اور اللہ بڑھاتا جائے۔ وہ کیا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ وفاق المدارس کے مقابلے میں سرکاری سطح پر کچھ وفاق بنائے گئے ، بڑی لالچیں دی گئیں ان کو، مراعات دی گئیں۔ تقریبا بیس سے بچیس ایسے مدارس ہوں گے جنہوں نے ان کے ساتھ الحاق کیا۔ لیکن وفاق المدارس کے ساتھ ایک سو چوبیس یا بچیس مدارس کا الحاق ہوا ہے۔

مدرسے کا طالب علم امریکا کو شکست دے سکتا ہے:

" ان کو سوچنا چاہئے کہ ان مدارس کو ختم کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کی خصوصی مدد سے چلنے والے ادارے ہیں۔ خود کو بھی پریشان کر رہے ہو اور اللہ کو بھی ناراض کر رہے ہو۔ ان ارادوں سے باز آجاو! ان مدارس کو ختم کرنا تمہارے بس کا روگ نہیں ہے۔ اور اگر مدرسے کا طالب امریکا کو شکست دے سکتا ہے تو یہ ہمارے والے کیا گاجر مولی ہیں کہ وہ ان مدارس کو ختم کردیں گے۔ یہ اپنا خاتمہ کردیں گے۔ زیادہ گھمنڈ میں مت رہو۔ "

" أکملت لکم دینکم" وأتممت علیکم نعمتی" کی دقیق تفسیر:

"اللہ تعالی نے ایک کامل دین ہمیں دیا۔ خود اس اعلان فرمایا۔

الیوم أکملت لکم دینکم۔نظام زندگی، تمام تر تعلیمات، اخلاقیات، معاملات، معیشت الغرض ہرطرح کی انسانی رہنمائی اللہ تعالی نے مکمل کرلی۔

اتمام دین تعلیمات ہیں اور اتمام نعمت اقتدار:

"وأتممت علیکم نعمتی " تو اتمام دین اور اکمال نعمت دو چیزیں ہوئیں۔ اتمامِ دین احکامات اور تعلیمات کی جہت سے اور اتمامِ نعمت اس قرآن کی تعلیمات کے اقتدار کی جہت سے۔ شخصی زندگی میں آپ اس پر عمل کریں. اجتماعی طور پر اس پر عمل کریں گویا اس دین کو آپ نے اقتدار دیا۔"

معاشرے میں وسکون کے پیامبر بنئے:

"انسان کی دینی کا آغاز شخصی زندگی سے عبادت اور دیانت کی صورت میں ہوتا ہے۔ "وما خلقت الإنس والجن إلا ليعبدون" اور عبادت ودیانت کے لئے تنہائی اور پرسکون ماحول چائیے۔ ماحول میں پراگندگی ہو تو ذکر واذکار اور عبادت کا مزہ نہیں رہتا۔ لیکن اسلام کامزاج رہبانیت کا نہیں۔ کہ اللہ نے آپ کو جو تنہائی میں عبادت کی توفیق دیکر آپ کا دل دیانت سے بھردیا۔ آپ کی شخصی زندگی کو پرسکون بنادیا۔تو شخصی زندگی کے گرد آپ کا یہ پرسکون ماحول تقاضا کرتا ہے کہ آپ پورے معاشرے کو یہ پرامن اور پر سکون ماحول دیں۔ تب جاکر دین اسلام کا مزاج سامنے آ سکتا ہے۔ اس سکون کو اقتدار اور مملکتی زندگی میں لائیں۔

الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے شریعت نے یا تو وعظ کا لفظ استعمال کیا ہے یا نصیحت کان لفظ استعمال کیا ہے۔ یا دعوت کا لفظ استعمال کیا۔ جب لفظ امر معروف کے لئے آۓ گا اور نہی منکر کے لئے آے گا۔ تو پھر اس کے پیچھے قوت کا ہونا بھی ضروری ہے اور قوت اس کا "اقتدار" ہے۔ تب جاکر اتمام نعمت ہوگا۔ اس کے فیوض انسانی معاشرے تک جانے چاہئے۔ تو دعوت کا نظام بھی ہے۔ اور ہم اس وقت ظاہر ہے کہ مقام دعوت میں ہیں۔ لیکن اس کو آگے لے جانا ہے۔

وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ ابتداء تو دعوت الی الخیر سے ہے۔لیکن اس کی انتہا وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ ہے۔ انسانی معاشرے میں امن برپا کرنا۔"

امن کا مفہوم:

" جب ہم امن کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے انسانی حقوق کا تحفظ۔ جان سے متعلق حقوق۔ مال سے متعلق حقوق، عزت و آبرو سے متعلق حقوق۔ دنیا بھر میں جو قانون سازی ہوتی ہے وہ ان تینوں کے ارد گرد گھومتی ہے۔

خلافت کا معیار کون؟

تخلیق انسان کا مقصد عبدیت ہے۔ کہ اللہ کے ساتھ بندگی کا عہد ہو۔ میں آپ کا بندہ ہوں اور آپ میرے رب ہیں۔ اور پھر اس کے بعد جب آپ اس معیار پر پورے اترتے ہیں تو پھر یہ کرائٹیریا بنتا ہے خلافت کے لئے۔ زمین پر اللہ کا خلیفہ وہی شخص بن سکتا ہے جس کے اندر بندگی اور عبادت والی خوبی ہو۔

ہم سیاسیات کیوں نہیں سکھاتے؟ ایک شکوہ!

ان علوم کے پیچھے اتنے عظیم الشان مقاصد ہیں۔ نہیں معلوم ان مقاصد پر کیوں ہم نے پردہ ڈالے رکھا ہے؟ یہ مقاصد ہمارے اساتذہ کیوں نہیں بتاتے؟ تاریخ اسلام پڑھئے آپ۔ پہلے علم حاصل کیجئے۔ اس کے لئے یکسوئی چاہئے۔ دوران تعلیم آپ عملی سیاست کی بجائے علمی سیاست پر توجہ دیں۔ اپنے اکابر کی تاریخ پڑھئے۔

یہاں تشریف فرما اکابرمیری اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ہماری ہی سند سے وابستہ علما نے سیاست کے موضوع پر پانچ سو سے زیادہ کتابیں لکھیں ہیں۔

مروجہ طریقہ تدریس کی اصلاح ہونی چاہئے:

لیکن ہمارے مدارس میں سب سے زیادہ زور کتاب الطہارة پر ہوتا ہے اور ششماہی تک بمشکل ہم ان ابحاث سے نکلتے ہیں۔ پھر اس کے بعد کتاب کو دوڑاتے ہیں۔ بس کتاب ختم کرنے کے لئے ورق گردانی ہوتی ہے۔ اس کی بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔"

رسول اللہ علیہ السلام معلم بھی تھے اورمربی بھی:

"ایک علم ہے اور ایک تربیت۔ جو علم آپ نے حاصل کیا۔ اپنی زندگی کو بھی اس کا نمونہ بنائیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" إنما بعثت معلما"(میں ایک استاذ بناکر بھیجا گیا ہوں)۔ لیکن علم کے ساتھ ساتھ آپ مربی بھی تھے۔ "بعثت متمما لمکارم الأخلاق"( میں عمدہ اخلاق کی تکمیل کے کئے بھیجا گیا ہوں) اور یہ دین اسلام کی خصوصیت کے کہ وہ شخص کی انفرادی زندگی کی اصلاح کا اغاز اخلاقیات سے کرتا ہے۔ تمام دنیا میں انفرادی زندگی کا اغاز قانون سازی سے ہوتا ہے۔ لیکن اسلام اخلاقیات سے کرتا ہے۔ آپ کسی سے قرض لے کر معین وقت لوٹانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اور پھر وقت پر نہیں لوٹا سکے تو اسلام کہتا ہے مہلت دو۔ لوٹانے کی صلاحیت بھی نہیں تو اسلام کہتا ہے معاف کر دو۔ لیکن اگر ایک طرف سے ادائیگی نہ ہو اور دوسری طرف معاف بھی نہیں کیا جارہا۔ تو یہاں سے قانون کا آغاز ہوتا ہے۔ "

عملی میدان کا انتخاب:

"یہاں سے جانے کے بعد آپ نے عملی زندگی کا آغاز کرنا ہے۔ اپنے لئے میدان عمل کا انتخاب کرنا۔ کچھ مدارس جاتے ہیں۔ استاذ بننے۔ کچھ لوگ جمعیت میں چلے جاتے ہیں۔ اور مدرسے کا کام بھی کررہے ہوتے ہیں۔ جب دیوبند کا نام آئے گا تو اس کی بنیاد میں محمود نامی طالب علم کا ذکر ملے گا۔ اسی مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد جمعیت کا نام آئے گا تو اس بنیاد میں بھی حضرت شیخ الہند محمود حسن کا ذکر ملے گا۔ ایک ہی شخصیت۔ مدرسے کا موسس اور جمعیت کا بھی۔"

نظم اور اجتماعیت سے جڑنا واجب ہے:

"اخلاص سے کام لیں۔ نظم کے بغیر ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ علیکم بالجماعہ والإطاعہ۔ علیکم پہلے آیا۔ تقدیم لزوم کا فائدہ دیتا ہے۔ تو اس کا معنی یہ ہے کہ جماعتی زندگی لازم ہے۔ لیکن اس جماعت کی پیروی لازم ہےجس کا منشور قرآن وسنت کی بنیاد پر ہو۔ اگر اس کا منشور حق ہے تو اس جماعت سے منسلک ہونا واجب ہے۔ اگر باطل ہے تو اس سے لاتعلق ہونا واجب ہے۔

جماعت کے پورے منشور کو اکائی کی صورت میں دیکھنا ہوگا۔ جماعت ہے، فیصلے کرتی ہے۔ حق کے ہوتے ہوئے بھی کسی وقتی اور جزوی طور پر وہ اجتہادی طور پر کوئی غلط فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ مگر اس کا جامع نظریہ حق پر ہے ۔ اور کسی جزوی مسئلے میں اس نے اپنا فیصلہ اجتہادی طور پر غلط دیا۔ تو یہ ایک جزوی غلطی اس جماعت سے لاتعلق ہونے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔

اور باطل نظریات کی جماعت کسی جزوی اور وقتی مسئلے میں صحیح فیصلہ دے سکتی ہے۔ لیکن جامع نظریہ باطل ہو تو ایک جزوی مسئلے میں اسکا صحیح فیصلہ اس جماعت سے وابستہ ہونے کا جواز فراہم نہیں کرسکتا۔ "

حق پرست اور باطل جماعت کی عمدہ مثال:

"اس کی مثال ایک سایہ دار گھنے درخت کی ہے۔ ایک شاخ خشک ہوگئی ہے۔ مگر اس چھوٹی سی شاخ کا خشک ہونا اس درخت کے سائے سے آپ کو بے نیاز نہیں کرسکتا۔ ایک درخت ایسا ہے جس کی ایک شاخ ہری ہے۔ باقی خشک۔ تو ایک چھوٹی سی شاخ والا درخت جو سورج کی تپش کو نہیں روک سکتا، کوئی بے وقوف ہی اس کے سائے میں کھڑا ہوگا۔ لہذا حق پرست جماعت کے ساتھ جڑے رہئے۔ "

میدان سیاست خالی نہ مت چھوڑیئے:

"مدارس کا یہ خوشگوار ماحول بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن سیاست کے میدان کو خالی نہیں رکھنا چاہئے۔ وہاں بھی لڑنا ہے۔ موتی اگر کیچڑ میں ہے۔ تواسے پانے کے لئے آپ کیچڑ کی پرواہ نہیں کرتے۔ تو اس مقصد کے لئے مخلتف محاذات پر جانا پڑتا ہے۔ اور یہ ہمارے اسلاف کا معمول رہا ہے۔ جن کے تقوی پر سب کا اعتماد ہے۔ میری دعاء ہے کہ جو طلبہ جامعہ فاروقیہ آئے ہیں، وہ دینی علوم سے فیض یاب ہوکر معاشرے میں کارآمد بنیں۔ "

مدرسہ ماں، استاذ باپ اور کتاب غذا ہے:

"کتاب، مدرسہ اور استاذ سے آپ کا تعلق ادب کا ہونا چاہئے۔مدرسہ ماں ہیں۔ جس کی گود میں آپ نشونما پاتے ہیں۔ استاذ باپ ہے۔ جو روزانہ آپ کو آپ کی استعداد کے مطابق غذا تلاش کرکے آپ کو مہیا کرتا ہے۔ کتاب آپ کی غذا کا ذخیرہ ہے۔ جہاں سے استاذ چن چن کر آپ کو غذا فراہم کرتا ہے تینوں کا ادب لازم ہے۔ اس کی برکات ہوں گی اور اللہ تعالی آپ سے اپنی مرضی کا کام لے گا۔ "

 

حبيب حسين

استاذ ادب عربی جامعہ فاروقیہ فیز II کراچی
کل مواد : 5
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2023

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2023