ناروے میں قرآنِ کریم کی بے حرمتی پر عمر الیاس کی جرأتِ رِندانہ کو سلام!

قرآن کریم خدائے لم یزل ولایزال وایزد متعال کا وہ ازلی ، ابدی ، مقدس کلام ، معجز نظام ہے جو بذریعہ وحی افضل کائنات ، فخر موجودات ، سید الانبیاء و المرسلین ، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل حسب ضرورت تیئیس (23 ) سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوکر ہم تک ناقابل شک تواتر کے ساتھ اس طرح پہنچا ہے کہ اس میں ایک لفظ کیا ایک زبر ، زیر اور پیش بلکہ ایک نقطہ تک کا بھی تغیر و تبدل نہیں ہے۔یہی وہ کتاب ہے جس کی فصاحت و بلاغت کو دیکھ دُنیا محو حیرت ہوگئی۔اِس کے سامنے بڑے بڑے فصحاء و بلغاء اور پڑھے لکھے دانش ور لوگوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ اِس کے الفاظ و کلمات کی سحر انگیزی کے سامنے پتھر دل لوگ بھی موم ہوگئے۔ اِس کے معانی و مطالب کے بحر ناپیدا کنار میںراسخین فی العلم ہمیشہ غوطہ زَن رہے۔ اِس کے فوائد و ثمرات سے تمام عالم انسانیت متمتع ر ہا۔ اِس کے انوارات و برکات سے مسلمان کیا غیر مسلم بھی مستفیض ہوتے رہے۔اِس کا قیامت تک آنے والے دُنیابھر کے تمام انسان و جنات کو یہ چیلنچ ہے کہ باہم ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن کر اِس جیسا ایک کلام پیش کریں، لیکن عرب و عجم، مشرق و مغرب کے بلند پایہ فصحاء و بلغاء، نثر نگار و شعراء،دانش وَر و ادباء اور ماہرین لغات اِس جیسی ایک آیت پیش کرنے سے قاصر ہیں اور قیامت تک عاجز رہیں گے اور یہ کلام بلاغت نظام اِن شاء اللہ! قیامت کی صبح تک اسی آب و تاب کے ساتھ چمکتا دمکتا رہے گا۔

            سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ چیلنچ دیا کہ اے پیغمبر! آپ کہہ دو کہ اگر تمام انسان اور جنات اِس کام پر اِکٹھے بھی ہوجائیں کہ اِس قرآن جیسا کلام بناکر لے آئیں ، تب بھی وہ اِس جیسا نہیں لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کی کتنی مدد کرلیں۔‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل:۱۷/۸۸) جب دُنیا قرآنِ کریم جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز ہوگئی اور اُلٹا یہ کہنے لگ گئی کہ یہ قرآن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے گھڑا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے دوسرا چیلنچ یہ دیا کہ اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ پھر تو تم بھی اِس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں بنا لاؤ، اور (اِس کام میں مدد کے لئے)اللہ کے سوا جس کسی کو بلا سکو ، بلا لو، اگر تم سچے ہو!‘‘ (سورۂ ہود: ۱۱/۱۳) جب قرآنِ مجید کی دس سورتیں پیش کرنے سے بھی دُنیا عاجز ہوگئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے تیسرا چیلنچ یہ دیا کہ اگر تم اِس قرآن کے بارے میں ذرا بھی شک میں ہو تو جو ہم نے اپنے بندے  (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر اُتارا ہے تو اِس جیسی ایک سورت ہی بنالاؤ! اور اگر سچے ہو تو اللہ کے سوا اپنے تمام مدد گاروں کو بلا لو!‘‘ (سورۂ بقرۃ: ۲/۲۳) اسی طرح سورۂ یونس میں چیلنچ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’کیا پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے؟ کہوکہ پھر تو تم بھی اِس جیسی ایک سورت (گھڑ کر) لے آؤ! اور (اِس کام میں مدد لینے کے لئے) اللہ کے سوا جس کسی کو بلاسکو بلالو، اگر سچے ہو!‘‘ (سورۂ یونس:۱۰/۳۸) جب دُنیا قرآنِ مجید کی ایک سورت کی طرح کوئی ایک سورت بھی پیش نہ کرسکی اور اُلٹا یہ کہنے لگی کہ پیغمبر نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے؟ تو پھر اللہ تعالیٰ نے چوتھا چیلنچ یہ دیا کہ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اِ ن صاحب نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ اگر یہ واقعی سچے ہیں تو اِس جیسا کوئی کلام (گھڑ کر) لے آئیں!( یعنی کم از کم قرآن مجید کی آیت کی طرح ایک آیت ہی پیش کردیں! ) (سورۂ طور: ۵۲/ ۳۳، ۳۴) بلکہ آخر میں تو پانچواں اور آخری چیلنچ یہ بھی دے دیا کہ: ’’ یہ کام یقیناً وہ کبھی نہیں کرسکں گے!‘‘ (سورۂ بقرۃ: ۲/۲۳) لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آج تقریباً ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اور اِن شاء اللہ! قیامت کی صبح تک کوئی مائی کا لعل ایسا پیدا نہیں ہوگا جو اِس کے چیلنچ کو قبول کرسکے اور قرآنِ حکیم کی فصاحت و بلاغت،جاہ و جلالت اور اِس کے جمال و خوب صورتی کے سامنے ایک سورت کیا ایک کلام بلکہ ایک کلمہ تک بنا ڈالے۔

            اِس بلاغت نظام پاک کلام کا حق تو یہ تھا کہ دُنیا ئے کفر اِس کی صداقت و حقانیت کو تہ دل سے تسلیم کرتی، اِس پر ایمان و یقین لاتی اور اِس کے احکامات پر عمل پیرا ہوتی، کفر و شرک ، ظلمت و جہالت اور قہر و جبر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اِس کی نورانی کرنوں کو مشعل راہ کے طور پر استعمال کرکے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ معلوم کرتی اور اُس کا قرب حاصل کرتی، لیکن افسوس کہ اُنہوں نے اِس پاک کلام کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کی، بلکہ انتہائی بری طرح اُس کی توہین و تنقیص کی،اُس کی بے حرمتی و پامالی کی، اُس کی ردائے تقدیس کو پارہ پارہ کیا اور اُس کی حرمت و عظمت کا جنازہ نکالا، چنانچہ کسی نے اسے نذرِ آتش کیا تو کسی نے اُس کو گٹر میں پھینکا، کسی نے اُس کو جوتوں تلے روندا تو کسی نے اُس کو پارہ پارہ کرکے کچرہ دان میں ڈالا، کسی نے اُس کے اندر فحاشی و عریانی کی برہنہ تصاویر چھاپیں تو کسی نے اُس پٹاخوں میں استعمال کرکے اسے جلا کر راکھ بنادیا۔

            چنانچہ اسی طرح کا ایک افسوس ناک واقعہ 21 نومبر 2019ء کوناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں اُس وقت پیش آیا جب اسلام مخالف تنظیم ’’سیان‘‘کے کارکنوں نے ایک ریلی نکالی جس میں تنظیم کے لیڈر لارس تھوسن نے قرآن مجید کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے نذرِ آتش کیا ہی تھا کہ وہاں موجود ایک تئیس سالہ شامی مسلم نوجوان عمرالیاس تمام رکاوٹیں اورپولیس حصار توڑتا ہوا آگے بڑھا اور لارس تھورسن پر ٹوٹ پڑا، عمر الیاس نے پہلے فضاء میں جمپ لگاکر ملعون لارس کو ہوا میں گھمایا اور پھر دوسرے وار میں ایک زور دار لات اُس کے سینے پر مار کر اسے زمین پر پٹخا دیا ۔مسلمانوں کے ہیروعمرالیاس کی مومنانہ جرأت کودیکھ کر مزیدمسلم نوجوانوں کو ہمت ملی اور وہ بھی ملعون تھورسن پرحملہ آور ہوئے جس پر پولیس اہلکار وں کی رگ شیطانیت پھڑک اٹھی اورانہوں نے عمرالیاس اوردیگرکئی مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جبکہ لارس تھورسن کو بھی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔

            اس سے قبل تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ ادوار میں قرآنِ مجید کی بے حرمتی و پامالی سے متعلق کئی ایک واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عیسائی آدمی مسلمان ہوا تو اس نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آلِ عمران پڑھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے (وحی کی) کتابت کرنے لگا، لیکن بعد میں مرتد ہوگیا اورکہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو تو (معاذ اللہ!) کسی بات کا پتا ہی نہیں ہے ،جو کچھ میں لکھ کر دیتا ہوں بس وہی کہہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب اس عیسائی کو موت دی تو اسے عیسائیوں نے قبر میں دفن کر دیا ،صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے۔ عیسائیوں نے کہا کہ یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے کیونکہ وہ ان کے دین سے بھاگ کر آیا ہے۔لہٰذا انہوں نے اُس کے لئے دوسری قبر کھودی اور پہلے کی بہ نسبت بہت گہری قبربنائی اور اس کو دفن کر دیا ۔جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا ہے۔ عیسائیوں نے پھر الزام لگایا کہ یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے کیوں کہ وہ ان کے دین سے بھاگ کر آیا ہے۔ لہٰذاان لوگوں نے اس کی قبر کھود کر لاش باہر نکال کرپھینک دیا ہے۔ عیسائیوں نے تیسری مرتبہ اُس کے لئے قبر کھودی اور اتنی گہری کھودی جتنی گہری وہ بنا سکتے تھے۔ صبح جب ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے پھر اسے باہر نکال پھینکا ہے۔ تب انہیں یقین ہوا کہ یہ کام مسلمانوں کانہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس کی لاش ایسے ہی چھوڑ دی۔‘‘ (صحیح بخاری)

            اسی طرح اگر ماضی قریب کا جائزہ لیا جائے تو 2005ء میں افغانستان میں امریکا مخالف مظاہروں کا سلسلہ دس مئی کو اس وقت شروع ہوا جب امریکی جریدے ’’نیوز ویک‘‘ نے اپنی اشاعت میں لکھا کہ گوانتا ناموبے جیل میں امریکی فوج کے تفتیشی افسروں نے مسلمان قیدیوں پر نفسیاتی دبائو ڈالنے کے لیے قرآن کریم کے نسخوں کی بے حرمتی اور توہین کی۔ امریکی فوجیوں کی طرف سے اسلامی مقدسات کی توہین کے خلاف عالم اسلام کے احتجاج میں اضافے کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس سمیت بعض دیگر امریکی حکام نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ان واقعات میں صداقت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی، لیکن امریکی حکام کے ان بیانات سے نہ صرف احتجاج میں کمی نہیں آئی ہے بلکہ سلسلہ پوری دنیا میں پھیلتا جارہا ہے۔ کیونکہ احتجاج کرنے والے امریکی حکام کے ان بیانات کو مسلمانوں کے غصے اور نفرت کو کم کرنے کے لیے ایک حربہ سمجھتے اور وہ امریکیوں کو جھوٹا بھی جانتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام کی مخالفت اور اسلامی مقدسات کی توہین ایسی پالیسی ہے جس پر گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد سے بعض امریکی حکمران اور ذرائع ابلاغ عمل پیرا ہیں۔ اس بنا پر گوانتا ناموبے جیل میں قیدیوں پر تشدد اور اسلامی مقدسات کی توہین‘ ایک سوچا سمجھا اقدام سمجھا جارہا ہے کہ جس سے امریکی حکام باخبر ہیں۔ افغانستان کے عوام نے گذشتہ ساڑھے تین سال کے دوران امریکیوں کی رفتار و گفتار اور قول و فعل میں تضاد اور جھوٹ کو قریب سے دیکھا ہے۔ اسلام اور اسلامی مقدسات کی توہین اور مغربی اقدار کو فروغ دینے کے سلسلے میں منصوبہ بند سازشوں کے علاوہ افغانستان کے عوام نے اپنے ملک میں امریکیوں کے انسانیت سوز اقدامات کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کی توہین کے مرتکب افراد کو سزا دینے کے امریکی وعدے افغان عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہیں کیونکہ افغانستان کے عوام دیکھ چکے ہیں کہ افغانستان کی عدالتوں میں کابل کی خصوصی جیل میں امریکی فوجیوں اور ان کے پٹھوئوں کے جرم ثابت ہونے کے باوجود امریکی حکام نے کس طرح ان مجرموں کی سزا میں کمی کرنے اور انہیں بچانے کے لیے کوشش کی تھی۔

            مارچ 2011ء میں امریکی ریاست فلوریڈا کے قصبے گینس ویل میں اتوار کو ملعون پادری ٹیری جونز نے قرآن پاک کی شان میں گستاخی کے لئے ایک نام نہاد عدالت لگائی، جس کے بعد اس کے ساتھی ملعون پادری وائن ساپ نے قرآن پاک کے ایک نسخے کو آگ لگادی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق چرچ میں قرآن پاک کے خلاف ’’مقدمہ‘‘ چلایا گیا۔ ملعون ٹیری جونز نے اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کو (نعوذ باللہ) دہشت گردی اور دیگر جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کے بعد ’’جیوری‘‘ نے آٹھ منٹ تک غور وخوض کیا اور پھر ’’سزا‘‘ سنائی۔ اس دوران قرآن پاک کو ایک گھنٹے تک مٹی کے تیل میں ڈبوئے رکھا گیا۔ ملعون پادریوں نے شیطانی عدالتی کارروائی کے بعد قرآن کو نکال کر پیتل کے ایک ٹرے میں چرچ کے عین درمیان رکھا۔ملعون ٹیری جونز کی نگرانی میں دوسرے ذہنی دیوالیہ پادری وائن ساپ نے قرآن پاک کے نسخے کو آگ لگادی۔ اس موقع پر چند لوگوں نے جلتے قرآن مجید کے نسخے کے ہم رااہ فوٹو بھی بنوائے۔ اطلاعات کے مطابق چرچ میں 30کے قریب لوگ موجود تھے جن میں ایک خاتون سمیت اسلام سے مرتد ہونے والے 3بدبخت بھی شامل تھے۔ ملعون ٹیری جونز کا کہنا تھا کہ میں نے ستمبر میں مسلمانوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی کتاب کی حفاظت کرلیں اور اس کا دفاع کریں لیکن مجھے کوئی جواب موصول نہ ہوا تو میں نے سوچا کہ حقیقی سزا دیئے بغیر حقیقی ٹرائل نہیں ہوسکتا، اس لئے میں نے قرآن پاک کو (نعوذ باللہ) سزا دے دی ہے۔ قرآن پاک کو شہید کرنے کے موقع پر گینس ویل شہر میں زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ ملعون ٹیری جونز نے لوگوں کو چرچ کی اس کارروائی میں شرکت کے لئے دعوت نامے تقسیم کئے تھے، تاہم مقامی انتظامیہ نے اس کاکوئی نوٹس نہیں لیا۔ ملعون ٹیری جونز نے اِس سے ایک برس پہلے ستمبر میں قرآن پاک کو شہید کرنے کے اپنے مذموم عزائم کا اعلان کیا تھا، جس پر مسلمانوں کا شدید رد عمل سامنے آیا اور امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اگر اس نے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں گی۔ امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اس وقت ٹیری جونز کی مذمت کی، جس پر ملعون پادری نے منصوبہ ترک کرنے کا اعلان کیا، تاہم اسے روکنے کے لئے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے، جب کہ اس کے بعد امریکی کانگریس کی کمیٹی نے مسلمانوں کے خلاف ایک متعصبانہ سماعت بھی کی، جس میں مسلمانوں میں دہشت گردی کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ سماعت اس قدر تعصب پر مبنی تھی کہ امریکی کانگریس کے واحد مسلم رکن آبدیدہ ہوگئے۔ مبصرین کے مطابق اس سماعت کے بعد امریکہ میں اسلام مخالف انتہاء پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوئی، کیوں کہ پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت کی دفعات کو اقلیت کے خلاف قرار دینے والے امریکہ نے اپنے ملک کی مسلم اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔‘‘

            اکتوبر 2015ء میں افغانستان کے صوبے غزنی ضلع رشیدان میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے کے لگ بھگ مجاہدین نے تنگی گاؤں کے رہائشی عبدالحکیم ولد عبدالرحیم کو سینکڑوں کے مجمع میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے جرم میں شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق سزادی۔واضح رہے کہ مذکورہ شخص نے کچھ عرصہ قرآن کریم کی بے حرمتی کی تھی اور مجاہدین نے انہیں گرفتار کرکے ان کے مقدمہ کو شرعی عدالت کے حوالے کردی تھی۔

            جنوری 2017ء میں  لاہور کے علاقے نشتر کالونی کے رہائشی ایک عیسائی پادری  کو قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام پر گرفتار کیا گیا، جس کا نام بابو شہباز قرآن پاک کے صفحات پر تحریر تھا اور یہ اوراق کماہاں گاؤں کے قریب واقع عیسائیوں کے رہائشی علاقے کی گلیوں سے ملے تھے جس پر ملزم کے خلا ف ایف آئی آر در ج کی گئی۔

            مارچ 2017ء میں ایک ہندو شخص نے مبینہ طور پر قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرکے اُس کے اوراق کو نذرِ آتش کیا تو اُس کے جواب میں غصہ سے بپھرے ہوئے ایک ہجوم نے جناح باغ چوک کے علاقے میں ایک ہندو مندر دھرم شالہ پر حملہ کرکے اُسے نذرِ آتش کردیا۔  مقامی پولیس عہدیداروں کے بموجب قرآنِ مجید کی اس شخص کی جانب سے اہانت کی خبر جیسے ہی پھیلی توبرہم طلبہ اور ان کے مقامی دینی مدارس کے حامی افراد نے گروہ کی شکل میں جمع ہوکر اس شخص کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

            اپریل 2018ء میں ترکی کی بحریہ کے کسی ساحل پرایک پرائیویٹ بحری جہاز پر رقص و سرود کی ایک محفل منعقد کی گئی ، جس میں شرکا کی تعداد تقریباً تین ہزار سے بھی زاید تھی، ناچ گانا کرنے والیوں کی تعداد بھی خاصی تھی۔ اسرائیل سے خاص ناچ گانا کرنے والی لڑکیوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ فنکشن میں 30 سے زائدعسکری قیادت کے جرنیل شریک تھے۔ انتہائی بے حیائی اور فحش مناظر پر مجلس چل رہی تھی کہ ترکی کے ایک جزل نے ایک کیپٹن کے زریعے قران کریم کا ایک نسخہ منگوایا اور اس سے پڑھنے کو کہا، اس نے جب پڑھا تو جزل نے اس کی تفسیر پوچھی ،اُس نے لا علمی کا اظہار کیا تو اس جزل نے وہ نسخہ لیا اور اسے پھاڑ کے پھینک دیا،نسخے کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ناچنے والیوں کے پیروں میں آنے لگے،اس جنرل نے کہا کہ ِاس قران کو نازل کرنے والا کہاں ہے؟قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے اس قران کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اِس قران کی حفاظت کرنے والا کہاں ہے؟کون اس کی حفاظت اور اس کا دفاع کرے گا؟‘‘ اُس کی یہ آواز سن کر اس کو لانے والے کیپٹن پر انتہائی خوف و لرزہ طاری ہو گیا،اور وہ تیزی سے اُس بھرے اڈے سے باہر ا ٓگیا۔ اس کے باہر آتے ہی ایک خوف ناک روشنی نظر آئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اس پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سمندر پھٹ گیا اور اس میں سے آگ کے شعلے بھڑکنے لگے۔لوگوں کے پھٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پورے بحری اڈے کو اٹھا کر سمندر سے اٹھنے والی خوف ناک لہروں کے درمیان پھینک دیا،،اور اردگرد کے علاقے بھی زلزلے کی لپیٹ میں ا ٓگئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ دوسرے علاقوں سے آنے والوں کی لاشین بھی نہیں مل سکیں۔ قران کریم کی بے حرمتی کر کے ان لوگوں نے اللہ تعالی کے عذاب کو دعوت دی تھی، تو اللہ تعالی نے انتقام لے لیا۔

            اپریل 2019ء میں ڈنمارک میں انتہائی دائیں بازو کی بنیاد پرست جماعت اسٹرام کرس کیلیڈر راسموس پالوڈان کے مسلمانوں کے گنجان آباد علاقے میں اشتعال انگیزی پر فساد پھوٹا۔اکسٹرا  بلاڈٹ نامی اخبار کے مطابق یہ واقعہ کوپن ہیگن کے علاقے بلاگاڑدس میدان میں اس وقت پیش آیا جب پالوڈان نے پولیس کے گھیرے میں جاری ایک مظاہرے کے دوران قرآن کریم کو ہوا میں پھینک دیا۔ اس بے حرمتی کے بعد وہاں موجود مسلمانوں نے پولیس پر پتھر پھینکے اور کوڑے دانوں کو نذر آتش کر دیا، جس پر پولیس نے عوام کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا بھی استعمال کیا۔ یہ پالوڈان وہی شخص ہے جس نے اِس سے پچھلے ماہ 22 مارچ کو ڈیشن پارلیمان کے سامنے نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران احتجاجاً قرآن کریم کو شہید کیا تھا۔

            ابھی 25نومبر 2019ء میں مراکش کی پولیس نے داربیضاء کی ایک مسجد میں 40سالہ مراکشی خاتون کو قرآن پاک کی بے حرمتی پر گرفتار کیا۔ نیشنل سیکیورٹی کے ادارے نے اعلامیہ جاری کرکے واضح کیا کہ یہ گرفتاری داربیضاء شہر کے لیساسفہ محلے کی ابوشعیب الدکالی مسجد میں پیش آیا۔ رواں ہفتے کے دوران پولیس کو رپورٹ ملی تھی کہ الحسنی محلے میں واقع 5مساجد میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعات ہوئے ہیں۔ اس کے بعد پولیس چوکس ہوگئی اور بے حرمتی کرنے و الوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کی کارروائی شروع کردی گئی تھی۔

            یہ مغرب و یورپ کا وہ کریہہ المنظر اور سیاہ چہرہ ہے جس کی سیاہی اور بدنمائی خود تو اسے دکھائی نہیں دیتی ، لیکن مسلمانوں کو وہ بڑے جوش و خروش سے امن و امان کی تعلیم سکھاتا ہے۔ خود کو امن پسند پابند اور مسلمانوں کو دہشت گرد باور کراتا ہے۔ لیکن حسبِ سابق اِس مرتبہ بھی الحمد للہ! ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کے شدید ردّعمل نے پوری دُنیا کے سامنے ناروے سمیت یورپ و مغرب کے سیاہ و بدنما چہرے سے امن پسندی کا نقاب اُلٹ کر اُس کو دہشت گرد اور اہل اسلام کو امن پسند ثابت کردیا ہے۔

            بنابریں ہم حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ 57 اسلامی ممالک پر مشتمل اُس کے پلیٹ فارم او، آئی ، سی (Organisation of islamic) کا فوراً اجلاس بلائے اور اس میں کوئی مضبوط اور ٹھوس لائحہ عمل طے کرکے اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو پیش کرے اور تمام اسلامی ممالک کی طرف سے مطالبہ کرے کہ لارس تھوسن اور اس کے تمام ہم نواؤں کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلایا جائے اور اسے عبرت ناک سزا دے کر کیفر کردار تک پہنچایاجائے اور اگر یورپ و امریکہ اورمغربی اقوام ان ملعون پادریوں کے ہم نوا بنتے ہیں تو تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو چاہیے کہ ان سے سفارتی تعلقات منقطع کردیں اور اِس کے ساتھ ساتھ ان کی تمام پروڈیکٹس اور مصنوعات کے بائیکاٹ کردیں۔

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020