خواتین کا گاڑی ڈرائیونگ کرنا

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته

برصغیر یعنی ہندوستان اور پاکستان جیسے ماحول میں جہاں ضرورت شدیدہ اور گھریلو ضروریات کو مرد کی غیر موجودگی میں پورا کرنے کی غرض سے خواتین ڈرائیونگ کرسکتی ہیں؟ اور کار کے ساتھ ساتھ بائک یا اسکوٹی بھی چلا سکتی ہیں؟

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

عزیز برادرم ! آپ ماشاء اللہ خود جید عالم دین ہیں اور دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں، آپ کے سامنے اپنی رائے پیش کرنا سورج کے سامنے چراغ روشن کرنے کے مترادف ہے، چونکہ آپ نے بندہ کی رائے طلب کی ہے تو اس پر چند طالبعلمانہ گزارشات عرض کردیتا ہوں، مسئلہ تو بڑے حضرات سے پوچھ لیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ خواتین کا برقعہ میں پردہ کے اہتمام کے ساتھ سائیکل یا اسکوٹر یا گاڑی چلانا اگر چہ فی نفسہ جائز ہے، اور اگر نہایت مجبوری کی صورت ہو کہ جب کوئی اور ذریعہ میسر نہ ہو، تب ممکن ہے کہ اجازت بھی ہو تاہم بلاضرورت خواتین کا گاڑی خود چلانا قطعا درست نہیں ہے اگرچہ محرم بھی ساتھ میں ہو۔

لا ترکب مسلمة علی سرج للحدیث هذا لو للتلہي ولو لحاجة غزو أو حجّ أو مقصد دیني أو دنیويّ لابدّ لہا منه فلا بأس به (الدر مع الرد: ۸/ ٦٠٦، باب الاستبراء وغیرہ، زکریا)

ہمارے عرف میں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے کے ناپسندیدہ ہونے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں :

١- برصغیر میں یہ سواریاں خواتین کے چلانے کے لئے متعارف نہیں ہیں بلکہ مردوں کے لئے متعارف ہے، اس لئے مردوں کے ساتھ ایک قسم کی مشابہت لازم آتی ہے، لہٰذا جہاں تک ہوسکے خواتین کا اس سے اجتناب کرنا بہتر ہے، حدیث میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کریں :

لعن اللہ المتشبہین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال رواہ البخاری (مشکاة المصابیح ۳۸ عن البخاری)

 

٢- خواتین کے لئے چہرے کا پردہ بھی اجنبیوں سے لازم اور ضروری ہے اور چہرے کے پردہ کے ساتھ گاڑی چلانا مشکل بھی ہے اور مشقت کا سبب بھی، نیز جب کوئی عورت کسی قسم کی گاڑی چلاتی ہے، تو حیرت کی وجہ سے یا اس کی ادا پسند آنے کی وجہ سے مردوں کی نگاہیں اس کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں، اس لئے عورتوں کو گاڑی چلانے منع کرنا مزاج شریعت کے عین مطابق ہے، اس کی تائید اس سے آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے۔

وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّْة الْاُوْلَیٰ۔ [الاحزاب: ۳۳]  (مستفاد: فتاوی رحیمیہ قدیم ٦؍٤٢٥)

 

٣- ہمارے اکابر اور مہذب گھرانے بھی اس کو پسند نہیں کرتے کہ ان کی بہو بیٹیاں گاڑیاں چلائیں اور راستے میں گاڑی کی خرابی کی صورت میں ان کو مختلف قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ ایک تکلیف دہ امر ہے پھر جبکہ یہ معاشرت کے دین کے بھی خلاف ہے، اس لئے اجتناب ہی اولی ہے۔

میرے شیخ و مرشد عارف باللہ حضرت واصف منظور صاحب نور اللہ مرقدہ اس کو ایمانی غیرت اور اسلامی حیاء کے خلاف سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ایسے مرد اپنی ذمہ داری سے بھاگنے کے لئے یہ کرتے ہیں، ان کی گھریلو زندگی میں برکت نہیں رہتی، میرے شیخ الشیخ عارف باللہ حضرت سید رضی الدین احمد فخری نور اللہ مرقدہ فرماتے تھے کہ جب خواتین سڑکوں پر خود ڈرائیونگ کرینگی تو زمین پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔

اب آپ خود ہی سوچ لیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟

فائدہ : بعض روایات میں بھی اس کی ممانعت مذکور ہے لیکن وہ روایات سند کے اعتبار سے کمزور ہیں تاہم ان کا مضمون اسلامی معاشرت کے عین مطابق ہے، وہ روایات یہ ہیں:

۱- بئس نساء قریش علی السرج

۲- بئس الفروج علی السرج یا لعن اللہ الفروج علی السرج، أوکما قال علیہ السلام

والسلام مع الاکرام خیر ختام

مفتی سفیان بلند صاحب

رکن شریعہ کمیٹی حلال آگہی و تحقیقاتی کونسل
مدرس جامعہ دارالہدی گلستان جوہر
رکن شریعہ کمیٹی حلال آگہی و تحقیقاتی کونسل

کل مواد : 29
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019