رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت عادل حکمران

اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عدل و انصاف آیات اور واقعات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے

جناب نبی کریم ﷺ کا سب سے اونچا منصب نبوت و رسالت ہے۔آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے تاقیامت نبی منتخب فرماکر مخلوقات میں سے سب سے عظیم ترین اعزاز عطا کیا گیا۔تاہم آپ ﷺ کا صرف یہی منصب ہی نہیں بلکہ آپ کو دیگر عظیم الشان مناصب بھی عطا کیے گئے۔ ان میں سے ایک منصبِ حاکمیت ہے۔ آپﷺ نےمدینہ منورہ تشریف لاکر اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور اس کے سب سے پہلے حاکم منتخب ہوئے۔جیسے آپ ﷺ کی رسالت مخصوص علاقوں تک محدود نہیں ،اسی طرح آپ ﷺ کی حاکمیت بھی محدود نہیں۔ اسلام ریاستوں کی جغرافیائی تقسیم کا قائل نہیں بلکہ ایک متحدہ عالمگیر اسلامی ریاست کے قیام کی تعلیم دیتا ہے۔اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپﷺ صرف ریاستِ مدینہ ہی کے بانی نہیں تھے، بلکہ تاقیامت اسلام کے زیرِ نگین آنے والی تمام ریاستوں کے بانی و حاکم تھے۔
اسلامی ریاست کی حاکمیت کا عہدہ عظیم ذمہ داریوں کا متقاضی تھا۔متنوع الاقسام ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری معاشرہ میں عدل وانصاف کی ترویج تھی، ریاست کے تمام طبقات کے ساتھ یکساں قانونی برتاؤ، فیصلوں  اور اُن کے نفاذمیں اعلیٰ وادنیٰ کی تقسیم کا خاتمہ، اور طاقتور کو قانونی یا حیلی ریلیف دینے کی مکمل حوصلہ شکنی اِس مثالی حاکمیت کا بنیادی عنصر تھا۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ ﷺ کے بطورِ حاکم فرضِ منصبی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
{وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ} [النساء: 58]
ترجمہ:۔اورآپ جب بھی لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں تو عدل کے ساتھ کریں۔
{ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ } [المائدة: 42]
ترجمہ:۔ جب آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
اسی طرح اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ 
(آپ لوگوں بتادیجیے) کہ مجھے تمہارے درمیان عدل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی عظیم ترین،قابلِ تقلید مثالی ریاست کی حاکمیت کی بنیاد اسی پالیسی پر رکھی گئی۔ اِس بنیادی پالیسی سے پوری زندگی سرِ موانحراف نہیں پایاگیا۔ آپ ﷺ نے بطورِ حاکم سینکڑوں فیصلے فرمائے، ہر فیصلہ کی بنیاد عدل تھی،کسی کے حق میں فیصلہ ہوا تو محض اس کے استحقاق کی بناء پر، اُس کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئےکبھی بھی اُس کے کمزور یا طاقتور ہونے کو ملحوظ نہیں رکھا گیا، جب کسی کے خلاف فیصلہ ہوا تو اس کے پیچھے اُس شخص کے کمزور ہونے یا طاقتور ہونے کا فلسفہ کارفرما نہیں تھا۔قضایا نمٹاتے ہوئے اپنی ذات کے مفادات کی طرف ذرہ بھر التفات نہیں ہوا۔ مختلف فریقوں کے درمیان عدالتی فیصلے کرنے کے دوران اپنے پرائے کی تقسیم کا شائبہ تک نہیں تھا۔خلاصہ یہ ہے آپ ﷺ کے عدالتی فیصلے ہی وہ بنیاد ہیں جن پر امت مسلمہ کے دورِ عدل کی عظیم الشان عدلیہ کی عمارت کھڑی ہے۔
آپ ﷺ کے  فیصلوں  کے عدل وانصاف پر مبنی ہونے کا معاشرہ کے تمام سلیم الفطرت طبقات کو اعتماد تھا۔ یہ بات تاریخ سے ہی نہیں ، خود خالق کائنات کی شہادت سے محقق ہے۔ باری تعالیٰ نے اُن طبقات کی مدح فرمائی ہے جو اِس امر واقع(آپ ﷺ کے عدل وانصاف) کی قلبی ولسانی تصدیق کرتے ہیں، جبکہ جو اِس اظہرمن الشمس عدل وانصاف پر محض اِس لیے عدمِ اعتماد کرتے ہیں کہ اُن کے ذاتی تعصب، یا ذاتی مفادات آڑے آتے ہیں، قرآن مجید اِن کی اِس ہٹ دھرمی کو اُن کے قلبی امراض کا شاخسانہ قرار دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ (48) وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ (49) أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ بَلْ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (50)

اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے کچھ لوگ ایک دم رخ پھیر لیتے ہیں۔
 اور اگر خود انہیں حق وصول کرنا ہو تو وہ بڑے فرمانبردار بن کر رسول کے پاس چلے آتے ہیں۔
 کیا ان کے دلوں میں کوئی روگ ہے یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا انہیں یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم ڈھائے گا ؟ نہیں بلکہ ظلم ڈھانے والے تو خود یہ لوگ ہیں۔
( آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی) 

اسلامی ریاست کی پہلی حاکمیت کی بنیاد جس عظیم الشان عدل پر کھڑی ہے، اُس عدل کی سینکڑوں مثالیں سیرتِ نبویہ ﷺ کے مطالعہ سے سامنے آتی ہیں۔ 
ایک عام انسان و قاضی سے عموماً عدل کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈالنے اور ظلم کو اپنے گلے کا طوق بنانے کے جو واقعات سامنے آتے ہیں، اُس کے بنیادی اسباب میں سے ایک سبب کسی طاقتور ادارہ، فرد، خاندان کا دباؤ ہے۔ یہ دباؤ حاکم پر بعض اوقات دھونس دھمکی کے ذریعہ پڑتا ہے، بعض اوقات رشوت کے ذریعہ اور کبھی سفارش کے ذریعہ عدل کا گلا گھونٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔جناب نبی کریم ﷺ کی عدالتِ طیبہ نے قیامِ عدل میں حائل ان تمام رکاوٹوں کا قلع قمع فرمایا۔
  جناب نبی کریم ﷺ کو حق پر عمل سے ہٹانے کے لیےاگر کوئی دھونس دھمکی ذرہ سابھی کردار ادا کرسکتی تو کفار مکہ تیرہ سال تک خاک نہ چاٹتے رہتے، آپ ﷺفرمانِ باری تعالیٰ {وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ} [المائدة: 54] کا سب سے پہلے اور کامل ترین مصداق تھے، آپ ﷺ کو کسی کی ملامت یا دھمکی کا نہ خوف تھا، نہ ہی ذرہ سی بھی پرواہ۔
رشوت کالالچ دے کر کبھی آپ ﷺ کو حق فیصلوں سے ہٹانے کا کبھی اُس شخص نے سوچا ہی نہیں ہوگا، جِس نے یہ واقعہ سُن رکھا ہوگا کہ مکہ کے سرداروں کا ایک وفد جناب ابوطالب کے پاس حاضر ہوا،اُن کی جانب سے جناب نبی کریم ﷺ پیکج پیش کیا گیا کہ اگر تم دولت کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہو تو ہم تمہارے واسطے اتنا مال جمع کردیں گے کہ تم اہلِ مکہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے۔ اگر سرداری حاصل کرنا چاہتے ہو تو ہم اس پر راضی ہیں کہ تمہیں قریش کا سردار بنادیں،غرض اِس راستہ سے ہٹ جائیں تو اس کے بدلے میں ہم ان کے ہر مطالبے کو پورا کردیں گے۔ اِس رشوت کے لالچ کا آپ ﷺ نے تاریخی ناقابلِ فرموش جواب دیا، فرمایا:
چا جان ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند لا کر رکھ دیں اور مجھ سے کہیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں تو میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا۔ یا تو اللہ اس دین کو غالب کردے یا میں اس راستے میں اپنی جان قربان کردوں گا۔‘‘
اُس معاشرہ نے حق پر قائم رہنے کا اتنا زبردست جذبہ،استقلال کے بارے میں سُن رکھاہوگا، دیکھ رکھا ہوگا، وہ کب کسی معاملہ میں رشوت دینے کی جرأت کرسکے ہوں گے۔
طاقتور طبقات نے آپ ﷺ کی قریبی شخصیت حضرت اسامہ بن زید کی سفارش لاکر آپ ﷺ کو قیامِ عدل سے روکنے کی کوشش کرکے دیکھ لی تھی کہ آپﷺ نے اُس کس مضبوطی سے ایسا رد کیا کہ انصاف کے معاملہ میں، اپنی قریبی شخصیت کی سفارش قبول کرکے عدل سے ذرہ بھرپیچھے ہٹنا تو دور کی بات، اگر اُس سے بھی زیادہ قریبی شخصیت یہاں تک اپنے جگر کا ٹکڑا بھی انصاف کے قیام میں مانع ہوجائے، ایسا ممکن نہیں ہے۔
ایک عام شخص کے عدل وانصاف سے انحراف کاسبب فریقین میں سے ایک کا اپنا ہونااور دوسرے کا اجنبی ہوناہوتاہے۔ بانی ریاستِ اسلامیہ ﷺ نے اِس تصور کا خاتمہ کیا۔ آپ کے ہاں انصاف دلانے کے معاملہ میں اپنے پرائے کی تقسیم نہیں تھی۔ حضرت عبداللہ بن صبحی رضی اللہ عنہ خیبر میں مقتول ہوگئے، اُن کے کزن حضرت محیصہ نے اُس قتل کا انتقام یہودیوں سے لینے کامُطالبہ کیا۔ لیکن قتل پر کوئی ثبوت نہیں تھا، اِس لیے آپ ﷺ نے اُن کے دعویٰ کی بناء پریہودیوں سے انتقام نہیں لیا۔
اسی طرح ایک مرتبہ ایک مسلمان منافق اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا ہوا تو مسلمان منافق نے کہا:چلو کعب بن اشرف سے فیصلہ کرائیں گے۔ یہودی نے کہا: نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، ان سے فیصلہ کرائیں گے۔ وہ مسلمان منافق(مجبوراً) آمادہ ہوگیا اور دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (فریقین کے بیانات سن کر) یہودی کے حق میں فیصلہ فرمادیا۔
جناب رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ حق کی بناء پر تھا، یہ نہیں دیکھا کہ معاشرہ کسے اپنا سمجھتا ہے، کسے بیگانہ سمجھتا ہے، بس جس کے دعویٰ میں سچائی تھی، اُس کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔
سطور بالا میں ذکر کیے گئے واقعات نمونہ از خروار وہ فیصلے ہیں جو آپ ﷺ نے بحیثیت حاکم وقاضی لوگوں کے درمیان فرمائے ہیں، ورنہ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہرہرلمحہ عدل سے بھرپور تھا۔ آپ ﷺ نے  ہر فرد، ہر طبقہ، ہر معاشرہ، ہر جنس اور ہر مخلوق کے ساتھ نہ صرف یہ کہ عدل کی تعلیم دی بلکہ خود سب کے ساتھ عدل فرماکر آنے والی اسلامی ریاستوں کو مضبوط کرنے کی سب سے پہلی اور اہم بنیاد فراہم کر دی۔ یہ بنیاد ریاستوں کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اِس طرف قدم بڑھانا ہوگا۔

محمد اویس ارشاد

استاذ ،پی ایچ ڈی اسکالر
استاذ جامعہ دارالعلوم عیدگاہ کبیروالا
پی ایچ ڈی اسکالر جامعہ بہاء الدین زکریا ملتان

کل مواد : 2
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020