اقبال اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

یہ تحریر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری میں سے عشقِ رسول کا وہ پیغام پردۂ نمود پر لاتی ہے جس سے ہم اقبال کے عشق کا زاویہ اور نظریہ جان سکتے ہیں

ذہنی تشتُّت و انتشار اور مادّہ پرستی کے اُس دور میں جب کہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ٹِمٹِماتا ہوا چراغ فرنگی بادِ صَرصَر کی زَد میں آ کر بُجھا چاہتا تھا، تمازتِ غرب نے مسلمانوں کی رگِ حیات سے نمِ نمود چُوس لیا تھا، بادِ سموم کی ہلاکت سامانیاں اور فلاکت خیزیاں تازگی و شگفتگی کی ہر نُمود کو یکسر جُھلسا چکی تھیں، وفورِ تپش سے سینۂِ کائنات میں سانس رکنے لگی تھی، سوختہ بخت انسان اپنی نامراد و خاصِر نگاہیں جھکائے ویرانۂِ حیات میں تماشۂِ ہر نگاہ بن چکا تھا، امتِ محمدیہ کے شبستان کی زمین تعصُّب و مغربی تخیّلات کی حِدّت سے تمتما اٹھی تھی، آسمان کی شعلہ ریزیاں فضائے عالَم کو دہکتا ہوا انگارہ بنا چکی تھیں، پھول مرجھا چکے تھے، شگوفوں کی صراحی نما گردن سے جواہر کی مالا ٹوٹ کر بکھر چکی تھی، لالے کا رنگ اڑ چکا تھا، شاخیں پژمردہ ہو چکی تھیں، تابندہ چشمے دیدۂِ کور کی طرح بے نور ہو چکے تھے، لُو کی دہشت سے چمنستاں تھرتھر کانپتا تھا .............. تب کہیں قسمت کو اُمّت پہ ترس آیا اور عشقِ رسول کی نقابت کا حق ادا کرنے والا ایک مرد درویش بنامِ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فضائے وُجود میں نمود بار ہوا، جس نے رگِ حیات میں پھر سے عشقِ رسول کے دریا رواں کیے، رمزِ عشقِ مصطفیٰ کی عُقدہ کشائی کی، حضرتِ انسان کو اس کی ذات کا پاس و احساس دلایا اور اس کے خمیرِ خاکی میں شعــــلۂِ عشقِ رسول صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رَمَق شامل کی، کیوں کہ اُس کا تو عقیدہ ہی یہ تھا کہ :

 

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنُّم بھی نہ ہو

چَمَنِ دہر میں کلیوں کا تبسُّم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مَے بھی نہ ہو ، خُم بھی نہ ہو

بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو ، تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے

نبضِ ہستی تپش آمادہ اِسی نام سے ہے

 

ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ عشقِ رسول کی یہ چنگاری جو شعلۂِ جــــوّالہ بن کر انسانی شخصیت کے ہر گوشے کو منوّر اور اس کے قلب و باطن کو انقلاب آشنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، کیسے بھڑکائی جائے؟

 

اقبال اس مقام پر ہماری راہنمائی فرماتے ہوئے جمالِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی فریفتگی کی تلقین کرتے ہیں، کیوں کہ جمالِ مصطفیٰ سرچشمۂِ عشق ہے، اقبال کے نزدیک دامنِ احمدی سے وابستہ ہوئے بغیر وہ آتشِ عشق نصیب نہیں ہوتی ، جو پیکرِ خاکی کو رشکِ صَد ملائک کر دے، اقبال جب ارض و سماوات کی وسعتوں پر نظر ڈالتے اور جہانِ رنگ و بُو کی گہرائیوں میں اتر کر دیکھتے ہیں تو انھیں ہر پیکر وجودِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لبریز نظر آتا ہے، اسی طرح جب وہ جذبِ دُروں کی پہنائیوں میں غوطہ زَن ہوتے ہیں تو انھیں زندگی کے مظہر ہائے تمام آفتابِ مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کرنوں سے مستنیر نظر آتے ہیں، اس مقام پر اقبال آخر پُکار اٹھتے ہیں کہ :

 

ہر کجا بینی جـہانِ رنگ و بُو

آں کہ از خاکش بروید آرزو

یا زِ نورِ مصطفیٰ اُو را بہاست

یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفیٰ ست

 

باطل اور طاغوتی قوّتیں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جب تک عشقِ محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی چنگاری اس ملّت کے باطن میں سُلگ رہی ہے، ان کے مکروہ عزائم پورے نہیں ہو سکتے .. ان کی خواہشات انجام آشنا نہیں ہو سکتیں، اس لیے ابلیس اپنی ذُرّیّت کو مخاطَب کر کے کہتا ہے کہ اس ملّت کو تہِ دام کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی متاعِ گراں مایہ سے محروم کر دو، اس کے بدن سے روحِ محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) نکال دو اور یہ چنگاری جو ایک دن شعلۂِ جوّالہ بن کر اس کے باطن کو مجلّی و منوّر کر سکتی ہے ، بُجھا دو ، پھونک دو ، تند و تیز ہواؤں کا رُخ اس طرف موڑ دو، لیکن ابلیس اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ :

 

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بُجھایا نہ جائے گا

 

عشقِ رسول ہی در اصل ظہورِ باری تعالی کا راز ہے، یہ عشقِ رسول ہی ہے کہ بزم و چمن کی رونق نامِ محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نمود پذیر ہے، سورج کے اندر جو تپش ہے ، صرف اس لیے ہے کہ وہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سوختۂِ جگر ہے، اقبال عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے رمز سے آگاہ کرتے ہوئے عالمِ انسانیت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب تک عشقِ حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وظیفۂِ حیات نہ بن جائے، انسان کا انگارۂِ خاکی عروجِ آدمیّت کے زینے پر قدم رنجہ نہیں ہو سکتا، اقبال کا سارا کلام ہی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں رچا بسا ہے، ہر کتاب اسی رنگ میں ڈھلی ہے، صفحہ صفحہ ، سطر سطر ، لفظ لفظ بلکہ حرف حرف بارگاہِ مصطفوی میں سجرہ ریز ہو کر ادب و محبّت کی خیرات طلب کرتا دکھائی دیتا ہے

 

بالکل سچ ہے یہ کہ اقبال اپنے عہد کا ایک سچا عاشق رسول تھا اور عشق کی دولت سے امّت کو مالا مال کر گیا، بس ہمیں اس ثروت کو اپنے دامن دل میں سمیٹنا ہوگا تاکہ کل حشر کے دن شرمندہ نہ ہونا پڑے

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018