ہجری کیلنڈر؛ تاریخ اہمیت و ضرورت (پہلی قسط)

ہجری تقویم (کیلنڈر) وہ واحد تقویم ہے جو خدائی روش پر قائم اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور اسلامی ادوار میں اس پر تعامل رہا ہے، عرصہ دراز تک امت مسلمہ ہجری (اسلامی) تقویم کو اپنےمراسلات، دستاویزات، اور روزہ مرہ کی زندگی میں جاری رکھے ہوئے تھی،اور اسکے برکات سے بہرہ ور ہورہی تھی،مگر افسوس صد افسوس آج یہ تقویم خال خال نظر آتی ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ اس کو گنے چنے افراد نے قابل استعمال سمجھا ہوا ہے؛کیا خواص کیا عوام،کیا اساتذہ کیا طلبہ،کیا دانشمند کیا جاہل،ہر کوئی اس سے بے نیاز نظر آتا ہے!! . 

اسے اپنوں کی بے حسی کہیے یا اغیار کی منصوبہ بندی،اپنوں کے ترک استعمال کی خامی کہیے یا اسلام دشمن عناصر کی طویل سازش کی کارستانی،غرض جو بھی ہو نقصان اس قدر ہوا ہے کہ اسکی تلافی جلد ممکن نہیں ہے (الا بتوفيق اللہ) 

چنانچہ عصر حاضر میں امت مسلمہ اس تقویم سے نابلد و نا آشنا نظر آتی ہے؛اگر کچھ واقفیت اور آشنائی ہو بھی؛ تو اسکے استعمال سے گریزاں ہیں،حتی کہ بعض لوگ واقفیت کے باوجود بھی اس تقویم کو لکھنا اور اسکا استعمال کرنا عار سمجھتے ہیں. 

افسوس صد افسوس! مرور ایام نے قوم مسلم کو کہاں سے کہاں لا کر کھڑا کردیا ہے،مسلمانوں کی ذہنی غلامی پر کس قدر افسوس کیا جائے؟کیا کہا جائے؟کیا قلم و قرطاس کے سپرد کیا جائے؟ایک وہ لڑکا جو مسلم گھرانے میں آنکھیں کھولتا ہے، پیدائش پر جسکے کانوں میں اذان و اقامت کے کلمات کی صدائیں دی گئی ہوں،مگر جب وہی بچہ پھلتا اور پھولتا ہے تو ایسی حالت میں کہ اسلامی اقدار و افکار، شعائر و امتیازات، اسلامی تہذیب و تمدن سے اس قدر غافل ہے کہ اسے شریعت محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کے دوسرے شعائر کے ساتھ اسلامی مہینوں کے نام اور دن تک یاد نہیں ہوتے جب کہ اس کے برعکس عیسوی کیلنڈر کے اصول اور اسکے تواریخ ازبر ہوتے ہیں؛ ہاں! یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے موجودہ دور میں عیسوی کیلنڈر کو پذیرائی حاصل ہے مختلف ممالک بلکہ ہر ہر علاقے میں اس کا ہی چال چلن ہے حکومتی سطح پر اسکو عروج حاصل ہے،بحث اس سے نہیں کہ شریعت میں عیسوی تقویم کا استعمال جائز ہے یا نا جائز؛مگر بات تو یہ بھی ہے کہ شریعت نے جب ہماری تقویم کی ضرورت کو پورا کردیا اور دیگر اقوام کی تقاویم سے عمدہ اور بہترین کیلنڈر ہمیں عطا کیا تو کیوں ہم اس کے استعمال سے کوسوں دور ہیں؟ کیوں ہجری تقویم کے ہوتے ہوئے بھی اسکا استعمال ترک کئے ہوئے ہیں؟ 

بات صرف اسلامی تقویم تک محدود نہیں ہے بلکہ مغربیت کے طوفان بلا خیز کے سامنے امت مسلمہ پوری طرح غرقابی کی ہے،قوم مسلم مغربی استعمار اور مغربی ذہنیت کی حامل ہوچکی ہے؛کیا تہذیب و تمدن؟کیا تعلیم و تعلم؟کیا ذاتی زندگی کے مراحل اور کیا سیاسی مصالح؟قوم مسلم مغرب کی طرف سے ہر میدان میں دینی فکری تہذیبی ثقافتی عسکری یلغار کی زد میں ہے؛ ہاں جو لوگ اس سے علیحدہ ہیں شاید وہ عنقاء (گنے چنے) ہیں، 

علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا:

دیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂ تسبیح شیخ

بتکدے میں برہمن کی پختہ زنّاری بھی دیکھ

 الحاصل:مسلمان اگر دنیا میں بحیثیت قوم زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اُنہیں اس صورت حال کی سنگینی کو محسوس کر نا ہوگا، اور موجودہ حالات کی تبدیلی کیلئے بہت کچھ کرنا ہوگا، ایمان و یقین کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے جذبہ قربانی کو پروان چڑھانا ہوگا،ہجری تقویم کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کرنا ہوگا،ملت اسلامیہ میں اسکو رائج کرنا ہوگا،شکوک و شبہات کا ازالہ کرکے اسکے امتیازات اور خصائص پر بحث کرنی ہوگی اور مکمل شرح صدر کے ساتھ اس تقویم کو اپنانا ہوگا تب جاکر اس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے اور اچھے اثرات اور خیر و برکات امت مسلمہ سے وابستہ رہیں گے.
ہر زمانے میں تاریخ کا اثر رہا ہے حساس قوموں نے اسکی ضرورت کو محسوس کیا ہے ذیل میں قدیم زمانوں کی تاریخ اور ان کے اثرات پیش خدمت ہیں 

گذشتہ قوموں میں تاریخ کا اثر

  *جب روئے زمین پر اولاد آدم کثرت ہوگئی اور انسانوں کی آبادی میں اضافہ ہوگیا اور انسان تہذیب و تمدن کو اپنانا شروع کیا، اپنے لکھنے اور پڑھنے کی شروعات کی اس وقت سے ہی لوگوں میں زمانے اور ان کے ماہ وسال اور ایام کی تقسیم کا رواج شروع ہوگیا تھا تو ایسے وقت میں ہی لوگ تاریخ کی ضرورت محسوس کرنے لگے، چنانچہ ہر زمانہ میں تاریخ کی علامتوں کی جانکاری کے ذرائع موجود رہے ہیں؛ چنانچہ 

  *لوگ جب تاریخ کی ضرورت کو محسوس کرنے لگے تو ہبوط آدم علیہ السلام سے تاریخ شمار کی جانے لگی، پھر طوفان نوح علیہ السلام سے اس کی ابتدا ہوئی، پھر نار خلیل سے، پھر یوسف علیہ السلام کے مصر میں وزیر بنائے جانے سے، پھر موسی علیہ السلام کے خروج مصر سے، پھر حضرت داؤد سے، ان کے فوراً بعد سلیمان علیہ السلام سے پھر حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے۔ اس کے بعد ہر قوم اپنے اپنے علاقہ میں کسی اہم واقعہ کو سن قرار دیتی تھی،

  *(تاریخ طبری ج:١ ص:١٢٠) 

زمانہ نوح میں تاریخ کا اثر 

اصحاح فقرہ ٧_٨ کے ضمن میں لکھا ہے کہ طوفان نوح کا زور اور اسکی قوت دوسرے مہینہ کی ١٧ تاریخ سے لیکر ساتویں مہینے کی ١٠ تاریخ تک تھا یعنی١٥٠ دن تک طوفان نوح کی کل مدت رہی. 

(سفر تکوین) 

اس عبارت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ و تقویم کا رواج اور اسکا اثر، لیل و نہار سے دنوں اور مہینوں کی تعیین کا سلسلہ حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان بلا خیز سے قبل سے ہی تھا 

بنو اسرائیل میں تاریخ کا اثر 

*قاموس المقدس، سفر الخروج باب ١٣،فقرہ ٤ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبانِ مبارک سے ماہِ ابیب کا تذکرہ واردہے جوکہ انکی تقویم کا ایک مہینہ تھا 

*(قاموس کتاب المقدس) 

*بعد کے دور میں یہود نے بیت المقدس کی ویرانی و بربادی سے تاریخ اخذ کرنے لگے

**حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں تاریخ کا اثر *

جازر(ایک مقام کا نام ہے) میں آثارِ قدیمہ کی تلاش میں کی جانے والی کھدائیوں میں پتھر کی کچھ ایسی سلیں دستیاب ہوئیں تھیں جن میں12 ماہ کی تقویم (کیلنڈر) نقش تھا جسکا تعلق حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ سے تھا

 

ہندوستان کے قدیم زمانے میں تاریخ کا اثر

*منو سمرتی (ہندؤں کی مشہور اور مقدس کتاب) کے فقرہ٦٥، ٦٥ میں لکھا ہے

’’ایک روز ایک دن اور رات کا ہوتا ہے اور ٣٠/مہورت کے برابر ہوتا ہے ۔ایک مہورت ٤٨منٹ کا ہوتا ہے۔ رات آرام کیلئے اور دن کام کیلئے ہے ‘‘ 

(منوسمرتی)

*اس سے معلوم ہوتا ہے ہندوستان میں اور ہندو سماج میں بھی تقویم کا رواج منوسمرتی کی تالیف سے قبل کا ہے جبکہ منو سمرتی کا زمانۂ تالیف دوسرے ہزار قبل مسیح کا اوائل بتایا جاتا ہے۔

اہل فارس اور ایران میں تاریخ کا اثر

اہلِ فارس و ایران میں عام طور پر یہ دستور تھا جب کوئی بادشاہ تخت نشین ہوتا تھا تو اسی دن سے تاریخ کا حساب لگایا جاتا اور اس کی موت کے ساتھ ہی یہ سلسلہ ختم کردیا جاتا۔ (البدایہ و النہایہ ج:٣،ص:٢)

 لیکن یزدگر بن شہریار بن پرویز خسرو کی تخت نشینی سے لیکر فارسی یانوشیر وانی تقویم عمل میں آئی اور یہ مسلسل چلی آرہی ہے کیونکہ وہ آخری ایسا بادشاہ تھا جو بابل اور مشرق پر حکمران تھا  (ہجری تاریخ، بحوالہ تاریخ خلیفہ بن خیاط) 

اہل عرب کی تاریخ اور قدیم زمانے میں اسکا اثر

اہل عرب تاریخ کے سلسلے میں عظیم واقعات کو بنیاد بنایا کرتے تھے چناں چہ انہوں نے سب سے پہلے حرب بسوس(ایک مشہور جنگ بکر بن وائل اور بنی ذہل کے درمیان ایک اونٹنی کی وجہ سے شروع ہوئی تھی جو مسلسل چالیس سال تک جاری رہی)کو بنیاد بنا کر تاریخ کا آغاز کیا ۔ اسکے بعد جنگ داحس( بنی عبس اوربنی ذبیان کے درمینان نصف صدی تک جاری رہنے والی جنگ) سے اپنی تاریخ کا آغاز کیا، پھر جنگ غبرہ، جنگ ذی قار اور جنگ فجار سے مختلف ادوار میں تاریخ مرتب کرتے رہے، مؤرخین نے لکھا ہے حضور کے اجداد میں ایک بزرگ کعب نامی گزرے ہیں ان کے کسی واقعہ سے سالہا سال اہل عرب تاریخ کا حساب لگاتے رہے، پھر اخیر میں اصحاب الفیل کے واقعہ سے عام الفیل کی اصطلاح اہل عرب میں مشہور ہوگئی۔ چنانچہ سنہ اذن، سنہ امر بالقتال، سنہ تمحیص، سنہ ترفئہ، سنہ استغلاب، سنہ استوار، سنہ برأت، اور سنہ وداع وغیرہ مذکورہ سنین ہوا کرتے تھے (الزیج البتانی) 

ان کے علاوہ عراق ، شام ، مصر ، یمن ، چین ، خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ۔

تقویم(کیلنڈر) کی اہمیت و ضرورت

     ہر زمانہ میں تقویم زندہ قوموں کے لئے ضروری رہی ہے؛ اس وجہ سے کہ تقویم جہاں گذشتہ زمانوں کے واقعات کی حفاظت کے لیے ایک زبردست آلہ ہے تو وہیں آئندہ زمانوں کی ضروریات و مقاصد کی تکمیل کے لئے بھی ایک زبردست پیمانہ ہے،جہاں تقویم ماضی کی یادوں کو دوامیت عطا کرتی ہے تو وہیں مستقبل میں مضبوط لائحۂ عمل پر ابھارتی بھی ہے، غرضیکہ تقویم متمدن و مہذب قوموں کی بنیادی اور اہم ضرورت ہے جس کے بغیر نہ ماضی میں چارہ کار تھا نہ مستقبل میں چھٹکارا ہے بلکہ حال کی خوشحالی بھی اسی کی منصوبہ بندی سے وابستہ ہے.

     تقویم کی اقسام

     تاریخ انسانی میں کئی طرح کی تقاویم (کیلنڈروں) کا رواج رہا ہے جن کا دارومدار تین چیزوں پر ہوا کرتا تھا،

     (1)سورج (2)چاند (3)ستارے۔

اس طرح بنیادی طور پر تین تقاویم منظر عام پر آئیں :

     (1)تقویم شمسی (2)تقویم قمری (3)تقویم نجومی 

 

     مشہور تقاویم اور ان کا مختصر تعارف 

     تاریخ قمری:

     یہ وہ اسلامی تقویم و تاریخ ہے ،جو دنیا میں پائے جانے والے دیگر تقاویم سے ہر لحاظ سے ممتاز ہے، اور یہ کیلنڈر نظام الہی اور فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اسلامی تمام امور کا دارومدار اسی تقویم پر قائم ہے اس تقویم کا باضابطہ آغاز یکم محرم الحرام بروز جمعۃ المبارک 01ھ مطابق 16؍ جولائی 622ء ہوا ۔ جسکے مہینے یہ ہیں:

1محرم الحرام، 2صفر المظفر،3 ربیع الاول، 4 ربیع الثانی، 5 جمادی الاول، 6 جمادی الثانی، 7 رجب المرجب، 8 شعبان المعظم، 9 رمضان المبارک، 10 شوال المکرم، 1 1 ذوالقعدۃ، 12 ذوالحجہ 

 

تاریخ عیسوی:

     (جس کو تاریخ انگریزی اور میلادی بھی کہا جاتا ہے)یہ شمسی تقویم ہے۔نصاریٰ کا کہنا ہے کہ:اس تقویم کی ابتداء حضرت عیسیٰ کی ولادت سے ہوئی ہے یا پھر نصاری کے باطل اور خود ساختہ زعم کے مطابق حضرت عیسیٰ کے سولی پر چڑھائے جانے والے دن سے اس تاریخ کی ابتداء ہوئی ہے،اس تقویم کا استعمال 130ھ بمطابق 748ء سے شروع ہوتا ہے۔ سال میں بارہ مہینے جنوری، فروری، مارچ اور 365 دن ہوتے ہیں۔ یہ تقویم حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دارومدار ہمیشہ فرضی بنیادوں پر رہا ہے۔ 

     محققین کا کہنا ہے:کہ یہ تقویم در اصل پرانا رومی کلنڈر سے ترمیم شدہ ہے۔ جس میں اگٹس نے سب سے پہلے ترمیم کیا، پھر جولین نے اس میں حذف و اضافہ کرکے دوبارہ ترتیب دی۔ اس طرح کئی بار اس کی تقویم کی ترمیم ہوتی رہی۔ آخری مرتبہ گریگوری(مشہور عیسائی پادری)کے حکم سے 1582ء میں ہوئی اور یہی ترمیم شدہ کلنڈر آج عیسوی سنہ کے نام سے جاری ہے۔

     قطع نظر اس سے؛کہ بعض قلمکاروں نے اس تقویم کو amarican people encyclopedia کے حساب سے غلط بھی ثابت کیا ہے، لیکن موجودہ دور میں اپنے عروج کے ساتھ کئی ممالک میں مستعمل بھی ہے۔

 

تاریخ نجومی:

     اس کو عام طور پر شاکھا کہا جاتا ہے ، جس یہ مہینے پائے جاتے ہیں: (1)حمل، (2)ثور، (3)جوزا، (4)سرطان، (5)اسد،(6) سنبلہ، (7)میزان، (8)عقرب،(9) قوس، (10)جدی، (11)دلو، (12)حوت۔

     تاریخ ہندی:

      اس تاریخ کو بکرمی بھی کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سن ہجری سے تقریباً637 سال پہلے اور سن عیسوی سے 57 سال پہلے سے گجرات کاٹھیاوار میں رائج تھی۔جس کے مہینے یہ ہیں، (1)چیت، (2)بیساکھ، (3)جیٹھ،(4)اساڑھ،(5)ساون، (6)بھادوں، (7)کنوار، (8)کاتک، (9)اگہن، (10)پوس،(11) ماگھ،(12) پھاگن

      تاریخ رومی:

      تاریخ رومی اسکندر بادشاہ کے عہد سے مروج ہے، اس کا دوسرا نام تاریخ اسکندری ہے، یہ 282 قبل المسیح سے شروع ہوتی ہے۔ تاریخ رومی کے مہینے یہ ہیں؛ (1)تشرین اول، (2)تشرین آخر، (3)کانون اول، (4)کانون آخر، (5)شباط، (6)اذار، (7)نیسان،(8) ابار، (9)حزیران،(10) تموز، (11)اب، (12)ایلول۔

      تاریخ الٰہی:

      یہ تقویم جلال الدین اکبر بادشاہ کے عہد میں رائج تھی اور اسکی ابتداء اکبر بادشاہ کے جلوس سے ہوا کرتی تھی، اور یہ تقویم شمسی سال کے حساب سے چلتی تھی جس کے مہینے یہ ہیں:(1) فروردین، (2)اردی، (3)بہشت،(4) خورداد، (5)تیر،ا (6)مرداد،(7) شہر پو،(8) مہر، (9)آبان (10)ذے، (11)بہمن، (12)اسفندار۔ 

      عصر حاضر میں ہجری تقویم کی اہمیت 

      ہجری تقویم اور تاریخ بلاشبہ اسلامی تقویم ہے کیونکہ براہ راست اسکا تعلق اسلامی تاریخ سے ہے، اور اسکا سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خلفائے راشدین اور عہد صحابہ سے وابستہ ہے حتی کہ خلفائے راشدین سے لیکر عہد بنو امیہ بنو عباس اور اسلامی عہود میں اس پر تعامل رہا ہے بلکہ سرکاری اور عوامی دونوں سطح پر یہ تقویم مقبول رہی ہے بلکہ ملت اسلامیہ کے دور میں اس تقویم کو بین الاقوامی حیثیت حاصل رہی ہے. 

      اہل اسلام کا تابناک ماضی اور اسلاف کے یادگار واقعات بھی اسی تاریخ میں سموئے ہوئے ہیں؛ اس لئے اس تاریخ اور سنہ سے واقفیت انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ ہجری تقویم کا مدار قمری تقویم پر ہے اور یہ فطری اور حقیقی ہے ۔

      چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے 

       ’’ هوالذي جعل الشمس ضياء و القمر نورا و قدره منازل لتعلموا عدد السنین والحساب‘‘ (یونس:5، توبہ: 37)

       ترجمہ:وہی ہے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو منور فرمایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو ترجمہ (مولانا احمد علی لاہوری) 

ایک دوسری جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہے 

﴿یسئلونک عن الاھلة قل ھی مواقیت للناس والحج﴾․ (البقرہ:189)

ترجمہ:آپ سے چاندوں کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے وقت کے اندازے ہیں (ترجمہ مولانا احمد علی لاہوری) 

 

اس کے علاوہ آپﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا:’’ایھا الناس انما النسیء زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ وحرموا ما احل اللہ وان الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق السماوات والارض وان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والارض منھا اربعۃ حرم، ثلاثۃ متوالیۃ ذوالقعدۃ وذوالحجۃ ومحرم ورجب مضر الذی بین جمادی وشعبان۔ (تاریخ طبری جلد سوم ص 150)

ترجمہ:        اے لوگو!نسی کفر میں اضافہ ہے، یہ کافروں کو گمراہ کرنے کے لیے ہے۔ کسی سال اس کو حلال ٹھراتے ہیں اور کسی سال حرام کہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی گنتی پوری کرکے اس کے حرام کیے ہوئے کو جائز بنالیں اور جائز حرام کرلیں۔ اب زمانہ پھر گھوم گھوماکر صحیح وقت اور اصل صورت پر آگیا ہے۔ جیسا کہ وہ تخلیق کائنات کے دن تھا۔ مہینوں کی تعداد اللہ کے یہاں نوشتۂ الٰہی میں جس دن سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا بارہ مہینے ہیں۔ سنو! اب آئندہ نہ کبیسہ ہوگا نہ نسی ہواکرے گی۔ چار مہینے حرمت والے ہیں، تین پے درپے اور ایک رجب کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے بیچ میں ہوتا ہے۔ ( صحیح بخاری بروایت ابی بکرہ :حدیث4662، 3197، 7447، مسلم:4383، ابوداؤد 1947) 

        ان آیات قرآنی اور حدیث نبویﷺ سے اسلام میں ہجری سن کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہجری سنہ اسلامی شعائر میں سے ایک اہم شعار ہے. 

 

مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی


خادم تدریس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد
کل مواد : 18
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024