ہجری کیلنڈر؛ تاریخ اہمیت و ضرورت (دوسری اور آخری قسط)

ہجری کیلنڈر کا باضابطہ آغاز

ہجری تقویم کا باضابطہ آغاز دور فاروقی میں ہوا ہے واقعہ یہ پیش آیا کہ؛ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی جانب سے حکومت کے مختلف علاقوں میں خطوط بھیجے جاتے ہیں؛ مگران خطوط پر تاریخ نہیں ہوتی، اس لئے احکام کے نفاذ میں دقت ہوتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اس تحریر کو بہت معقول سمجھا،اس بات کے مشورے کے لیے اکابر صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہ کی ایک میٹنگ منعقد کی اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ رائے اکابر صحابہ کے سامنے رکھی ، تمام صحابہٴ کرام کوبھی حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ بات بہت معقول نظر آئی،پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں مشورہ طلب کیا کہ اس کا آغاز کب سے ہو؛ تو اکابر صحابہٴ کرام کی طرف سے اس سلسلے میں چار قسم کی رائے سامنے آئیں

  1. ایک جماعت نے مشورہ دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے سال سے اسلامی سال کا آغاز ہو۔
  2. دوسری جماعت نے یہ رائے دی کہ نبوت یا بعثت کے سال سے اسلامی سال کا آغاز ہو
  3. اور تیسری جماعت نے (جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے) یہ کہا کہ ہجرت کے سال سے اسلامی سال کا آغاز ہو؛
  4. چوتھی جماعت نے یہ مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالِ وفات سے اسلامی سال کی ابتداء کی جائے۔

          یہ چار قسم کی رائیں اور مشورے فاروق اعظم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے مجلسِ شوریٰ میں آئیں ، ان آراء میں سے کسی ایک کے انتخاب اور تعیین میں صحابہٴ کرام کے درمیان بحث ومباحثہ ہوا، غور وخوض کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ فرمایاکہ ولادت یا نبوت کی تاریخ اور دنوں میں اختلاف کے باعث ولادت یا نبوت سے اسلامی سال کے آغاز کرنے میں اختلاف پیدا ہوسکتا ہے اور وفاتِ نبوی سے اسلامی سال کی ابتداء کرنا اس لیے مناسب نہیں کہ وفاتِ نبوی کا سال اسلام اور مسلمانوں کے لیے رنج وغم اور صدمہ کا سال ہے؛ اس لیے ہجرت سے اسلامی سال کا آغاز کرنا زیادہ مناسب ہے؛ کیونکہ ہجرت نے حق وباطل کے درمیان واضح امتیاز پیدا کریا،

اسلامی تاریخ کے کے نقطہ آغاز میں واقعہ ہجرت کی ترجیح اور اس کی وجوہات

*اسلامی تاریخ کے صفحات پر اور بھی بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو شان و شوکت اور مسرت و شادمانی کے اعتبار سے اہم اور قابل توجہ ہیں جیسے ولادت باسعادت،جنگ بدر،جنگ احد، اور فتح مکہ وغیرہ ان میں سے کسی واقعہ کو کیوں مبداء تاریخ متعین نہیں کیا گیا؟ کیوں پچھلی قوموں کی طرح فتح و شکست اور بادشاہوں کی تخت نشینی کو تاریخ کے آغاز کا معیار نہیں بنایا؟

واقعہ ہجرت کو ہی اولویت کیوں دی گئی؟

*یہ وہ مسئلہ ہے جس میں ایک طرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حکیمانہ سیاست اور دور اندیشی ہے تو دوسری طرف حضرت علی کرم اللہ وجھہ بصیرت اور باریک بینی ہے اور یہ بڑی حکمت و مصلحت سے معمور ہے

*خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہ عظیم الشان جملہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔۔ فرمایا:

*’’لابل نورخ بمھاجر رسول اللہﷺ فان مھاجرہ فرق بین الحق والباطل‘‘ ہجرت حق اور باطل کے درمیان فارق ہےہے لہٰذا اسی کو تاریخ اور سنہ کے لیے ہم آغاز مقرر کریں گے۔ (عمدۃ القاری ج:1 ص:66،ابن عساکر جلد اول ص : 35،)

*ایک اور روایت میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ بھی منقول ہے "الھجرۃ فرقت بین الحق و الباطل" کہ ہجرت حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے (فتح الباری ج:7 ص:286)

*اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے بھی یہ جملہ ثابت ہے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سنہ کی تعیین کے سلسلے میں دریافت فرمایا تھا: من یوم ھاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و ترک ارض الشرک (تاریخ طبری ج:2 ص:5)

*انہیں حکمتوں اور مصالح کے سلسلے میں مفتی شعیب اللہ خان صاحب مدظلہ تحریر فرماتے ہیں:

حضرات صحابہ نے تاریخ اسلامی کی ابتداء ہجرت سے اس لئے قرار دی کہ یہ واقعہ حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے، اس سے لوگوں میں یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی کہ اسلام حق ہے اسکو ختم کرنا ناممکن ہے اگرچہ اس کے خلاف ہزارہا سازشیں و کوششیں کی جائیں یہ دین حق ہے جو اللہ کی جانب سے آیا ہے جو ہر حال میں ابھر کر رہے گا*(ہجری تاریخ کی تاریخی و شرعی حیثیت ص:10)

اس سلسلے میں قول فیصل سید اسعد گیلانی کا اقتباس ہوگا، لکھتے ہیں:

* ’’ حضو ر اکرمﷺ کی عظیم اسلامی تحریک کی جدوجہد میں وقعہ ہجرت بظاہر تو ایک نا خوشگوار واقعہ ہے لیکن حقیقتا ًیہ اسلامی انقلاب کی طرف ایک اہم پیش قدمی ہے۔ مسلمانوں نے اسی لیے اپنی تقویم کو کسی شخصیت، خاندان یا قوم کی طرف نسبت دینے کے بجائے ایک نظریہ کی جدوجہد کے ایک مخصوص مرحلے سے نسبت دی ہے۔ مسلمانوں کا سنہ سنہ ہجری ہے جو ہجرت کے واقعہ سے شروع ہوتا ہے چناں چہ ہردفعہ جب مسلمان اپنے سالِ نو کا آغاز کرتے ہیں تو ویہ اپنی تاریخ کی عظیم ترین اسلامی تاریخ کی بھرپور جدوجہد کے لیے ایک ایسے مرحلے کی یادتازہ کرتے ہیں جب وہ کسمپرسی اور جبروتشدد کے ماحول سے نکل کر ایک اسلامی ریاست کے قیام کے مرحلے میں قدم رکھ رہے تھے … یہ اللہ کی حکمت ہے کہ ہجرت کی تاریخ نئے سال کی یکم تاریخ کے ساتھ اس طرح منطبق ہوگئی کہ ہجرت ہی مسلمانوں کے لیے سال نو کا موضوع بن کر رہ گئی ہے۔ …… اس طرح جب مسلمان اپنے سال نو کا آغاز کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو ایک نظریاتی گروہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ ہجرت مدینہ کا واقعہ اپنی تاریخی اہمیت کے لحاظ سے فتح مکہ سے کسی صورت کم نہیں ہے بلکہ شاید کچھ زائد ہی ہے۔ جس روز ہجرت کرکے مکہ چھوڑا جارہا تھا، اسی روز تاریخ کے ایوان میں مکہ کی فتح کا سنگ بنیاد رکھا جارہا تھا۔ ‘‘ (ہجرت رسولﷺ سید اسعد گیلانیؒ، نقوش سیرت نمبر ج 8، ص 250۔ 251)

* حقیقت یہ ہے کہ واقعہ ہجرت ہی اسلام کی سربلندی اور اہل اسلام کی فتح و کامرانی کا پیش خیمہ تھا، کیوں کہ ایک طرف اس کے دامن میں بے نظیر قربانیاں ہیں تو دوسری طرف فتح ونصرت کی ہموار راہیں بھی ہیں

* مزید یہ کہ صحابہ نے اسلامی کلینڈر کا آغاز اسلامی فتوحات سے کیا، نہ ہی حضور ؐ کی پیدائش اور وفات کے سال سے۔ اس میں یہ پوشیدہ پیغام ہے کہ اسلام میں کسی کی پیدائش اور وفات پر منائی جانے والی خرافات کی کوئی جگہ ہی نہیں ہے ، اگر کسی کی پیدائش کی اہمیت ہوتی تو وہ آپ کی پیدائش کا دن ہوتا اور اسی سے صحابہ ہجری سال کاآغاز فرماتے، اسی طرح کسی کی یوم وفات پر ماتمی مجلس منعقد کی جاتی ہے اسکی بھی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے، 

* معلوم ہوا کہ ہجرت سے اسلامی سنہ کا آغاز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتخاب انتخاب لاجواب ہے.

* ہجری سال کا پیغام مسلمانوں کے نام

 ہجری سال ہر برس مسلمانوں کو یہ پیغام دیتاہے

 (1)اسلام کی خاطر جس جذبہ سے قرن اول کے لوگوں نے قربانی دی وہی جذبہ اسلام کے ہرفرد بشر کے اندر ہونا چاہیے

 (2)جس طرح انھوں نے اپنے گھر بار اور آل و اولاد پر اسلام کو مقد م رکھا اسی جذبہ کے ساتھ ہر مسلمان کو ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے

 (3) کسی کامیابی اور ترقی پر فخر ومباہات کرنےکی بجائے اعتدال کی راہ اپنانا ہی اصل شریعت ہے۔

ہجری تقویم (کیلنڈر) کے بعض خصوصیات و امتیازات

 اسلامی کیلنڈر دین اسلام کے محاسن اور اس کی خوبیوں میں سے ایک ہے، اگر تاریخی تناظر میں اس بات پر غور کیا جائے تو یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کی تخلیق کی تاریخ جس قدر قدیم ہے، اتنی ہی اسلامی تقویم کی تاریخ بھی پرانی ہے۔ جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت ابوبکرؓ سے مروی حدیث ہے کہ:وان الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق السماوات والارض آپ ﷺ نے فرمایا ’’زمانہ گھوم گھما کر پھر اسی حالت پر آ گیا ہے، جس حالت پر اس وقت تھا، جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی‘‘اس کے علاوہ اسلامی تقویم دنیا میں پائے جانے والے دیگر تقاویم سے اپنے خصوصیات کی وجہ سے ممتاز اور جدا گانہ ہے

 (1)اسلامی تقویم جن بارہ مہینوں پر مشتمل ہے ان کی تخلیق جانب اللہ ہے جیسا کہ سورۂ توبہ میں فرمایا گیا۔۔۔ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والارض منھا اربعۃ حرم.

 ترجمہ: ’’مہینوں کی گنتی تخلیق کائنات کے دن سے اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے اور ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں‘‘۔۔۔(توبہ: 36)

 (2)اسلامی کیلنڈر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا تعلق چاند سے ہے (جس سے ہر ماہ کے آغاز و اختتام کا اندازہ ہر کوئی با آسانی لگا سکتا ہے اور اس کے عروج و زوال کے مظاہر کو بخوبی دیکھ سکتا ہے،جب کہ شمسی تقویم میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی ہے۔

 َ اسی طرف باری تعالیٰ جل مجدہ نے اشارہ فرمایا۔۔۔ و یسئلونک عن الاھلۃ قل ھی مواقيت للناس و الحج ترجمہ: ’’اے محمدﷺ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں کی عبادت کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے‘‘(بقرۃ: 189)۔۔۔ مفسرین کرام نےاس آیت کی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے ، اس آیت میں کفار و مشرکین بعض یہودیوں اور منافقین کے چاند کے گھٹنے یا بڑھنے پر اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے کہ چاند اللہ کی قدرت کا ایک مظہر ہے، جس سے اس نے انسانی زندگی کی کئی شرعی اور دنیوی ضرورتوں کو جوڑ دیا ہے، مثلاً عبادت کی تعیین، قرض وغیرہ کی تعیین مدت، عورتوں کی تاریخ عدت وغیرہ۔

 (3)اسلامی تقویم کی ترتیب اور اس کی صحیح تعداد کا بقا بھی دین اسلام کی درستگی کا ایک حصہ ہیں، جیسا کہ اللہ نے مہینوں کی تعداد ذکر کرنے کے بعد فرمایا ۔۔۔ ترجمہ: ’’یعنی یہی درست دین ہے‘‘ (سورۂ توبۃ :36)۔۔۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ اسلامی کیلنڈر کے بارہ مہینوں کی تعداد پر قائم رہنا، اصل دین کی علامت ہے،

 (4)اسلامی تقویم کی ابتداء کا تعلق ہجرت نبویﷺ سے ہے، حضرت عمرؓ نے ہجرت نبوی ﷺ کو اسلامی کیلنڈر کی بنیاد بنائے جانے پر آیت ’’من أول یوم احق أن تقوم فیہ‘‘ (توبہ :108) سے استدلال کیا تھا۔

 (5)اسلامی تقویم کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اسلامی تقویم عقیدے کے لحاظ سے بالکل پاک و صاف صاف ہے، سال کے بارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ نے برکتِ پیدا کر رکھی ہے،اور خاص طور پر رمضان المبارک، ذوالحجہ کے دس ابتدائی ایام، ہر ہفتہ جمعہ کی مشروعیت، وغیرہ یہ وہ بابرکات خصوصیات سے ہیں یہ اللہ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے اور اسکا تقاضا ہے کہ مومن وقت کا صحیح استعمال کرے پھر اس کی زندگی کا ہر لمحہ بابرکت بن جاتا ہے، اور تو اور دیگر تقاویم کی طرح کوئی دن اسلامی تقویم میں منحوس نہیں ہے بلکہ نحوست اور برائی تو انسانی اعمال کا برااثر ہے۔

 (6)اسلامی تقویم کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ شروع سے اپنی اصل صورت مجوزہ پر باقی اور قائم ہے، اس میں کبھی ترمیم نہیں ہوئی اور نہ ہوگی ۔ اسلامی تقویم کی یہ وہ منفرد خصوصیت ہے جو غالباً دنیا کے کسی کلنڈر میں موجود نہیں، عیسوی تقویم بھی اس خصوصیت سے عاری ہے۔ (رحمۃ للعالمین جلد دوم ص 450)

   سنہ ہجری اپنے استعمال کے حساب سے دنیا کے اکثر مروجہ سنین سے قدیم سنہ ہے گرچہ دوسرے مروجہ سنین اپنے اعداد کے لحاظ سے سنہ ہجری سے زیادہ پرانے معلوم ہوتے ہیں کہ دنیا کے اکثر مروجہ کیلنڈروں میں سے یہ ہجری کیلنڈر قدیم تر ہے   ،مثلاً : {یکم محرم 1ھ بمطابق16 جولائی 5335جولین}    بظاہر جولین5334سال قدیم نظر آتاہے مگر در حقیقت یہ ہجری کیلنڈر سے 989سال بعد 1582ء میں وضع ہوا ۔

    {’’یکم محرم 1ھ ، بمطابق3 آب 4382عبری ‘‘} اس سے بظاہر عبرانی تقویم 4381سال قدیم لگتی ہے مگر دراصل یہ بھی989 سالِ ہجری کے بعد1582ء میں وضع ہوئی ‘‘(تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا،چہارم )

    کل جُگ کلینڈر ، ہجری تقویم سے3723 سال پہلے معلوم ہوتا ہے مگر یورپی مؤرخین کا اعتراف کہ یہ چوتھی صدی عیسوی میں وضع کیا گیا ۔ گویا اپنے حساب سے34 صدیاں گزرنے کے بعد خود اس کا اپنا جنم ہوا ۔اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لیے قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی معرکۃ الآراء کتاب رحمۃ للعالمین جلد دوم کا مطالعہ مفید ہوگا) شمسی تقویم پر عمل کی صورت میں نقصانات

    عیسوی کیلنڈر کی بنیاد شمسی تقویم پر ہوتی ہے اس حساب سے عیسوی کیلنڈر میں 365 دن ہوتے ہیں جبکہ ہجری کیلنڈر میں 355 دن ہوتے ہیں    بایں وجہ اس میں ہمیشہ ترتیب بدلتی رہتی ہے اس وجہ سے اس پر عمل کی صورت میں شرعی طور پر کچھ نقصانات کا بھگتان کرنا پڑ سکتا ہے    مثال کے طور پر اللہ رب العالمین نے حکم دیا ہے: وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ    جو مدت رضاعت کو پورا کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے حکم ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو دوسال دودھ پلائیں۔(البقرۃ : ۲۳۳)

    اور شمسى تقویم کے حساب سے تو ایک سال 365دن کا ہوتا ہے جبکہ قمرى تقویم کا ایک سال 355 دنوں کا ہوتا ہے ۔ یعنی شمسی وقمری سال میں دس دن کا فرق ہوتا ہے۔    لہذا جو قمرى تقویم کے مطابق دو سال مکمل کرے گا وہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر کسى نے شمسى تقویم کے مطابق دو سال دودھ پلایا تو یقینا انہوں نے بچے کو بیس دن زائد دودھ پلادیا...! ۔ جبکہ اللہ تعالى نے صرف دو سال متعین کیے تھے ۔ دین اسلام کے جتنے بھى حساب کتاب کے جو معیار ہیں وہ سارے کے سارے اسى چاند کے ارد گرد گھومتے ہیں۔

    اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالى فرماتے ہیں: وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ (الطلاق : ۴)    وہ عورتیں حیض سے مایوس ہو گئى ہیں ان کى (طلاق سے) عدت تین ماہ ہے اور ان عوتوں کى عدت بھى جن کو ابھى حیض نہیں آیا ان کى عدت بھى طلاق کے بعد تین مہینے ہے۔

    اور شمسى تقویم کے دومہینے (جولائی اور اگست )مسلسل ۳۱ دنوں کے ہوتے ہیں ایک ۳۰کا تو یہ کل ۹۲ دن بن گئے جبکہ قمرى تقویم میں دو مہینے ۳۰دن کے اور ایک ۲۹ کا لازمى ہوتا ہے تو اس حساب سے 89دن بنتے ہیں ۔

    یعنی اگر کوئی شخص طلاق دینے کے بعد شمسی یا عیسوی سن کے مہینوں کا اعتبار کرے گا تو وہ شرعی عدت ختم ہو جانے کے دو تین دن بعد بھی رجوع کے اختیار کا حق سمجھے گا، جبکہ شرعی طور پر عدت ختم ہوچکی ہے ۔اگر اس طرح کرتا ہے تو ایک خطرناک حرام کام کا زندگی بھر مرتکب ہوتا ر ہے گا جسکی اسکو خبر تک نہیں ہوگی۔

    ان سب سے قطع نظر جب ہمارے پاس منجانب اللہ ایک بے مثال تقویم ہے تو کیوں ہم دیگر اقوام کی تقویم کو اپناکر اپنے ہی شعائر کی بے حرمتی میں مصروف ہیں؟ یہ امر انتہائی حساس اور قابل غور ہے

    ھجری تقویم پر عمل کی آسان صورتیں

    آج ہم پر شعار اسلام تحفظ کے تحت ہجری تقویم کے سلسلے میں یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس کی حفاظت کریں اور اسکی ترویج و اشاعت کو لازمی سمجھیں جسکے لئے یہ ممکنہ سورتوں پر عمل ضروری ہے کہ:

    (1)اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسلامی تقویم (کیلنڈر) کا بکثرت استعمال کریں

    (2)اسلامی کیلنڈر کے حساب سے اپنے ضروریات کو مرتب کریں

    (3)اسلامی کیلنڈر کے مہینے اور اسکے ایام کے نام کو زبان زد کریں

    (4)جہاں جہاں ہجری تاریخ کا استعمال ممکن ہو وہاں ضرور اسکا استعمال کریں (جیسے تنخواہ کا حساب اور گھریلو مسائل میں)

    (5) علماء و خطباء کی ذمہ داری ہے کہ نسل نو کے سامنے اسلامی تقویم کا پس منظر اور خصائص و امتیازات اس طرح بیان کریں کہ نسل کو احساس ذمہ داری ہو

    (6)علماء اور طلبہ بالخصوص اس ہجری تقویم کو لازمی سمجھ کر استعمال کریں

    تاریخ کی حفاظت امت پر فرض علی الکفایہ ہے

    تقویم (اسلامی تاریخ) کی حفاظت امت مسلمہ پر فرض علی الکفایہ ہے چنانچہ؛

    حضرت حکیم الأمت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر”بیان القرآن “ میں رقمطرازہیں:

”… البتہ چوں کہ احکام شرعیہ کامدار حساب ِقمری پرہے،اس لیے اس کی حفاظت ”فرض علی الکفایہ“ ہے، پس اگرساری امت دوسری اصطلاح کواپنا معمول بنالیوے، جس سے حساب ِقمری ضائع ہوجاوے ؛ (تو)سب گنہگار ہوں گے اوراگر وہ محفوظ رہے تودوسرے حساب کااستعمال بھی مباح ہے؛ لیکن خلافِ سنتِ سلف ضرور ہے اورحساب ِقمری کابرتنا بوجہ اُس کے فرض کفایہ ہونے کے لابُدَّ افضل واحسن ہے “۔(بیان القرآن)

    اور مفتی اعظم پاکستان مولانا محمدشفیع صاحب لکھتے ہیں:

     کہ اس کے یہ معنی نہیں کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا ناجائز ہے، بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز، روزہ ، زکو اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے، مگر اپنے کاروبار تجارت وغیرہ میں شمسی استعمال کرے۔ شرط یہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے، تاکہ رمضان او رحج وغیرہ کے اوقات معلوم ہوتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ اسے جنوری فروری کے سوا کوئی مہینے ہی معلوم نہ ہوں ، فقہا نے قمری حساب باقی رکھنے کو مسلمانوں کے ذمہ فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ ہاں! اس میں شبہ نہیں ہے کہ سنت انبیا او رسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم او رخلفائے راشدین میں قمری حساب استعمال کیا گیا ہے، اس کا اتباع موجب برکت وثواب ہے اورشمسی حساب سے بھی اسلام منع نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اسلامی تشخصات اور امتیازات کی حفاظت کے ساتھ دین مستقیم کے ساتھ تادم حیات وابستہ رکھے اور امت مسلمہ کو صحیح دین پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین

 

مفتی احمد عبید اللہ یاسر قاسمی


خادم تدریس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد
کل مواد : 18
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2024