تبلیغی مراکز واجتماعات میں لاؤڈ اسپیکر کے بغیر نماز پڑھانے کا مسئلہ

تبلیغی مراکز واجتماعات میں اسپیکر پر نماز نہ ہونے کی وجوہات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 اس بار ۲۰۱۹ء کے سالانہ رائیونڈ تبلیغی اجتماع میں شرکت ہوئی، ماشاء اللہ اخلاص وللہیت والے اُس خالص موحول میں ایمانی طبیعت میں بہت تازگی ہوئی، آخری دن مغرب کی نماز کے بعد حضرت مولانا محمد ابراہیم دیولہ صاحب زید مجدہم کا بیان چل رہا تھا، بندہ آگے سے اٹھ کر کسی حاجت کی بنا پر پیچھے کی طرف نکلا تو ایک آواز کانوں میں پڑی: ”مفتی صاحب! ایک منٹ کے لیے رُکیے گا“ بندہ نے آواز کی طرف دیکھا تو مولانا حافظ ………… صاحب حفظہ اللہ تھے، جو بیس کے قریب افراد میں دائرے کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، میں اُن کی طرف بڑھا تو اس جھرمٹ میں ایک اور بڑے مولانا ………… صاحب زید مجدہم بھی تشریف فرما تھے، بندہ ٹھٹکا کہ اللہ خیر کرے کہ کیا معاملہ درپیش ہے؟!
 بیٹھتے ہی حافظ صاحب بولے کہ مفتی صاحب یہ بتائیں کہ یہاں اجتماع میں اور مراکز میں نماز اسپیکر پر کیوں نہیں ہوتی؟ بندہ کے ذہن میں چلتے کئی طرح کے خیالات کو گویا ایک رُخ ملنے پر قرار مل گیا کہ اچھا یہاں بھی ہر بار پیش آنے والا یہ مسئلہ، اور ہر خاص وعام کے ذہن میں اٹھنے والا سوال ہی درپیش ہے۔
 میں نے بڑے مولانا صاحب کی طرف اشارہ کر کے عرض کیا کہ حضرت موجود ہیں اِن سے دریافت کریں، تو حضرت نے مسکرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری تو بات چل ہی رہی تھی آپ اس بارے میں فرمائیں کیونکہ آپ مفتی بھی ہیں، اور رائیونڈ ہی کے پڑھے بھی ہوئے ہیں۔
 اس پر بندہ نے حافظ صاحب کو عرض کیا کہ یہاں اسپیکر پر نماز نہ پڑھانے کے بارے میں بندہ نے اپنے بڑوں سے یہ سنا ہے کہ یہ بات نہیں کہ اسپیکر میں نماز پڑھنا یا پڑھانا درست نہیں، بلکہ اس طرح نماز پڑھنا ”اقرب الی السنۃ“ یعنی: سنت نبوی ﷺ کے زیادہ قریب ہے۔[مطلب یہ کہ جس طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نماز کسی بھی مشینی واسطے کے بغیر ہوتی تھی، اسی طرح یہاں بھی کوشش ہوتی ہے کہ نماز جیسی اہم عبادت میں جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ راز ونیاز ہو رہی ہو تو کوئی مشینی واسطہ درمیان میں نہ ہو۔]
   اس پر حافظ صاحب بولے کہ پھر اقامت، خطبہ اور بیانات کیوں اسپیکر پر ہوتے ہیں؟ 
 تو بندہ نے عرض کیا کہ نماز؛ عبادتِ مقصودہ ہے، اور اقامت؛ برائے نماز ہے، صفوں کی درستگی ہے، اس کے لیے اقامت کی آواز کا کانوں میں پڑھنا ضروری ہے کہ سب نماز کے لیے پوری طرح تیار ہو جائیں، اور صفیں بروقت سیدھی ہو جائیں۔ اور خطبہ جمعہ اسپیکر پر اس لیے ہوتا ہے کہ خلقِ خدا کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا یہ سمندر خطبے کے دوران دوسرے کاموں میں مشغولیت کی وجہ سے کراہت تحریمی سے بچ جائے۔ ]مطلب یہ کہ خطبہ شروع ہو جانے کے بعد چونکہ ہر طرح کا کام حاضرین کے لیے ناجائز ہو جاتا ہے، اس لیے اگر خطبہ جمعہ کی آواز اُن کے کانوں میں پڑے گی تو وہ اپنے آپ کو کراہت تحریمی سے بچا سکیں گے۔[اور بیانات وخطبات تو تذکیر وتبلیغ کے لیے ہوتے ہیں، اگر آواز ہی حاضرین تک نہ پہنچ پائے تو اُن کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا، اس لیے ان کے لیے اسپیکر کا استعمال لابدی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جہاں اسپیکر کا استعمال شرعا یا انتظاما ً ضروری ہے وہاں کر لیا جائے اور جہاں اس کے استعمال کی ضرورت نہ ہو تو وہاں بچا جائے تو میرا خیال ہے کہ اِ س پر کسی قسم کا کوئی اشکال نہیں ہونا چاہیے۔
 میری اس بات کے بعد بڑے مولانا صاحب گویا ہوئے کہ یہ بتائیں قرآن میں ہے: (وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ) اسپیکر کے بغیر ”استماع“ اور ”انصات“ پر عمل کیسے ہو گا؟ 
 میں نے عرض کیا حضرت! ”انصات“؛ خاموشی اختیار کرنے کو کہتے ہیں، وہ تو اسپیکر ہو یا نہ ہو، یعنی امام کی آواز کے وقت بہر صورت ضروری ہے ہی، اور ”استماع“ کا معنی ومطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر آواز آ رہی ہو تو اس کو توجہ سے سنا جائے اور اگر آواز نہ آ رہی ہو تو اس طرف دھیان رکھا جائے، جیسے: مقتدی مغرب کی تیسری رکعت اور عشاء کی تیسری وچوتھی رکعت میں امام کی طرف محض توجہ رکھے گا۔ چنانچہ اگر نماز اسپیکر پر نہ پڑھائی جا رہی ہو جس کی وجہ سے امام کی قراء ت کی آواز مقتدیوں تک نہ آ رہی ہو تو مقتدی صرف اپنی توجہ امام کی طرف رکھے، اتنا کافی ہے۔
 حضرت فرمانے لگے کہ اسپیکر کے استعمال میں انتشار سے بچاؤ ہے، نمازیوں کی نمازیں خراب ہونے سے بچانے کا محفوظ راستہ ہے۔
 میں نے عرض کیا کہ حضرت اتنے بڑے مجمع میں نمازیوں کی حفاظت کا جتنا محفوظ راستہ مکبرین کی صورت میں ہے اُتنا تو اسپیکر کی صورت میں ممکن ہی نہیں ہے، بجلی اور مشینری کا کیا بھروسہ، کس وقت دغا دے جائے! ایسی صورت میں اتنے کثیر مجمع کی نماز کا فساد یقینی ہے، بخلاف مکبرین کی صورت کے، کہ بجلی ہو یا نہ ہو، اسپیکر ہو یا نہ ہو بہر صورت نماز کی صحت یقینی ہے، اور اس پر مستزاد یہ کہ اسلام کی ابتداء سے اسپیکر کی ایجاد اور اس کے بارے میں جواز کے فتاویٰ سے قبل تک مجمع کثیر میں نمازوں کے لیے مکبرین کی ہی ترتیب تھی۔[بلکہ اب تو مراکز واجتماعات میں مکبر اول کے سامنے اسپیکر کھلا ہوا ہوتا ہے، امام کی آواز مکبر تک پہنچتی ہے، اور مکبر کی تکبیروں کی آواز براہِ راست بھی اور اسپیکر کے واسطے سے بھی دوسرے مکبرین تک پہنچتی ہے، یہ صورت تو اور بھی زیادہ تحفظ والی ہے۔]
 حضرت فرمانے لگے کہ جب نماز میں اسپیکر استعمال نہیں کرتے تو جمعہ کے خطبہ میں کیوں کرتے ہیں؟ اس میں بھی مکبرین کی صورت اپنائیں، جیسے: امام سرخسی رحمہ اللہ کنویں سے منڈیر پر بیٹھے ہوئے تلامذہ کو مسائل فقہیہ املاء کرواتے تھے اور وہ آگے دوسروں کو املاء کرواتے تھے، یا بڑے بڑے محدثین کے ہزاروں تلامذہ کے مجمعوں میں ہوتا تھا، ایک کے بعد دوسرا شاگرد آگے سے آگے املاء کرواتا تھا۔ 
 بندہ نے عرض کیا، حضرت! جمعہ کے خطبہ میں اسپیکر کا استعمال بندہ کے گمان میں تو محض اس لیے ہے کہ حاضر مجمع کراہت تحریمی سے بچ جائے، اور ائمہ ومحدثین کا شاگردوں کا مجمع تو درس وتدریس اور روایتِ حدیث کا مجمع ہوتا تھا، وہاں تو اسی چیز کے مقصود ہونے کی وجہ سے یہی طرز ِانتظام ضروری تھا، لیکن یہاں تو عبادت کا مسئلہ ہے نہ کہ درس وتدریس وروایتِ حدیث کا۔ 
 حضرت فرمانے لگے اچھا یہ بتاؤ کہ محدثین ائمہ کے دور میں   ان کے دروس وعلمی مجالس میں جب اتنا مجمع ہوتا تھا تو وہاں جمعہ کے خطبہ کے لیے کیا صورت اپنائی جاتی تھی؟
 بندہ نے مسکراتے ہوئے عرض کیا حضرت! اس کا جواب تو آپ کے ذمہ بنتا ہے نہ کہ ہمارے ذمہ، اس پر سب حاضرین ہنس پڑے، بندہ نے مزید عرض کیا کہ حضرت! یہ حضرات]جو ہمارے موجودہ تبلیغی نظام کے بڑے ہیں [ سب جید قسم کے اہلِ علم ہیں، اکابرین ہیں ہمیں اُن پر اعتماد رکھنا چاہیے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں سوچ سمجھ کر ہی کر رہے ہیں، حضرت فرمانے لگے یہ بات درست ہے لیکن ہمیں تو کوئی مضبوط فتویٰ یا تحریر دکھاؤ جس میں کوئی تسلی بخش بات ہو۔میں نے عرض کیا کہ ان شاء اللہ دیکھتے ہیں۔ یہ کہہ کر بندہ وہاں سے سلام لے کر اٹھ گیا۔ 
 اس سب کے بعد بندہ سوچتا رہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ عوام الناس کا ٹھاٹھے مارتا ہوا مجمع ایک نیت اور جذبے کے ساتھ ایک جگہ جمع ہوا ہے مسلسل تربیتی بیانات ومجالس کا ایک تسلسل قائم ہے، اس طرح کی مجلس لگانا اور عوام کالانعام کے سامنے ایسی بحث چھیڑنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں تھا، عوام کو تو یکسو اور مطمئن کرنا چاہیے نہ کہ تشکیک کا بیج ان کے ذہنوں میں ڈال دینا۔ یہ ایک علمی مسئلہ ہے اسے اہلِ علم کے درمیان ہی باقی رہنا چاہیے۔
 دوسری بات یہ کہ اس مسئلہ کی علمی حیثیت کو سوچا جائے تو نتیجہ صرف افضل وغیر افضل کی صورت کے اختیار کرنے یا ترک کرنا کا بنتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اسپیکر پر نماز کے جواز پر موجودہ دور میں تو گویا اجماع قائم ہو چکا ہے، خود رائیونڈ ونظام الدین کے اکابرین بھی اسپیکر پر جواز کے قائل ہیں۔
 ایک بار بندہ نے خود دورہ حدیث کے سال استاذ محترم حضرت مولانا محمد جمیل صاحب مرحوم قدس سرہ امام تبلیغی مرکز رائیونڈ سے سوال کیا کہ حضرت یہاں مرکز میں اسپیکر پر نماز کیوں نہیں ہوتی؟ 
  حضرت رحمہ اللہ نے جواب میں ارشاد فرمایا: بھائی ہم اسے ناجائز نہیں کہتے، لیکن ایک بات بتاؤ؛ جنگل میں قسما قسم کے جانور ہوں، اُن میں شکاری شکار کرتے کرتے کسی جانور کی نسل کو ہی ختم کرنے کے درپے ہو جائیں، مثلا: شیر کا شکار اتنا کریں اتنا کریں کہ پورے جنگل میں اس نسل کے شیروں میں سے صرف ایک شیر باقی بچے تو مجھے بتاؤ کہ اس شکاری کو اس شیر کا شکار کرنے کا بھی مشورہ دے دینا چاہیے، یا اُسے اُس شیر کے شکار سے روک دینا چاہیے، کہ بھائی اِس کا شکار مت کرو، ورنہ اِس شیر کی نسل ہی ختم ہو جائے گی، اِس کا وجود ہی مٹ جائے گا، اِس کو چھوڑ دو، تا کہ کم از کم اِس کی نسل تو باقی رہے۔ 
  تو میرے بچو! پوری دنیا میں یہ تبلیغی مراکز واحد ایک ایسی جگہ ہیں جہاں نماز جیسا فریضہ [ایجادات سے دور ہونے کی وجہ سے] اُسی طرز اور نہج پر قائم ہے جیسے جناب ِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں قائم تھا، اب بتاؤ! کیا تم اس بات کو چاہتے ہو کہ پوری دنیا میں موجود اِس ایک جگہ میں موجود نماز کے اِس طریقہ کو بھی ختم کروا دیا جائے، یا اِسے باقی رکھنا چاہیے؟؟!!۔
 حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب قدس سرہ رائیونڈ مرکز کے بزرگ حضرت مولانا احسان الحق صاحب زید مجدہم کو اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: 
  ”دعوت وتبلیغ کا کام کرنے والے حضرات کی بنیادی پالیسیوں میں اہم ترین پالیسی اور بنیاد یہ تھی کہ اس کام کو جدت سے بچتے ہوئے، جتنا زیادہ سے زیادہ سادگی کے قریب رکھا جا سکتا ہے، رکھا جائے، الا ماشاء اللہ۔ چنانچہ! اسی کا نتیجہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اس کام کو اللہ تعالیٰ نے مقبولیت ِ عامہ عطا فرمائی، ہر غریب سے غریب شخص (شہری ہو یا دیہاتی، ان پڑھ، جاہل ہو یا پڑھا لکھا اور عقل مند، علاقے کے اعتبار سے، رنگ ونسل کے اعتبار سے کوئی بھی ہو،وہ) اس کام کو اختیار کرنے میں کسی قسم کی جھجک ورکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔
  اسی بنیاد کے تحت آپ حضرات کے ہاں آلاتِ جدیدہ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے، حتی کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی اجتماعات کا مواقع پر مراکز کی طرف جو خطوط ارسال کیے جاتے ہیں، انہیں کمپوز کر کے پرنٹ وغیرہ کروانا تو دور کی بات ہے، انہیں تو فوٹو کاپی تک کروائے بغیر ہر ہر مرکز کے لیے جداگانہ طور پر قلم سے لکھوایا جاتا ہے۔ 
  نیز!اسی بنیاد کا اثر ہے کہ آپ حضرات کے ہاں نمازوں میں ابھی تک الاوڈاسپیکر کے استعمال نہیں کیا جا رہا، یقینا!  مکبرین کے منضبط اور مضبوط نظام کے ساتھ یہ فعل اقرب الی السنۃ ہے، اور یہی بات کہہ کر ہم لوگوں کو مطمئن کرتے ہیں“۔
 حضرت مولانا مفتی عبد الستار صاحب رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ نماز کے وقت مکبروں کو مقرر کیا جائے یا لاؤد اسپیکر بہتر ہے؟ 
  تو حضرت رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”بہتر تو یہی ہے کہ بوقت ِ کثرتِ نمازیوں کے مکبر ہی کا نتظام کیا جائے اور یہ آلہ استعمال نہ کیا جائے ہاں! اگر ایسی کثرت ہو کہ مکبرین کے انتظام میں بھی دشواری ہو تو اس آلہ کے استعمال کی گنجائش ہے، اور نماز دونوں صورتوں میں ہو جائے گی، فقط واللہ اعلم۔ [خیر الفتاویٰ: ۲/۳۸۴]
 جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کا ایک فتوی بھی اس جگہ ملاحظہ فرما لیجیے: 
  ”اسپیکر پر نماز پڑھانا ضرورت کے مواقع پر (مثلاً: نمازیوں کی کثرت اور نمازیوں تک امام کی آواز نہ پہنچنے کی بناپر) جمہور علماء کے نزدیک بلا کراہت جائز ہے، اسپیکر کی ایجاد کے ابتدائی دور میں اہلِ علم کی آراء نماز میں اس کے استعمال کے حوالے سے مختلف تھیں کہ آیا اس کی آواز کی بنیاد پر مقتدی کی نماز درست ہوگی یا نہیں؟ اور اس اختلاف کا منشا یہ تھا کہ خود سائنس دانوں کا اس نکتے پر اختلاف تھا کہ آیا اسپیکر سے سنائی دینے والی آواز قائل کی اصل آواز ہی ہے یا اس کی صدائے بازگشت؟ دونوں آراء تھیں، نتیجتاً اہلِ علم میں بھی دونوں آراء سامنے آئیں، اور اسی بنا پر بعض اہلِ علم نے احتیاطاً فرض نماز میں اس کے استعمال کو منع کیا۔
  لیکن بعد میں تقریباً تمام اہلِ علم اس کے استعمال کے جواز پر متفق ہوگئے، تبلیغ سے وابستہ بزرگان وعلماء بھی لاؤڈ اسپیکر میں نماز کے جواز کے قائل ہیں، باقی ان کا نماز کے دوران لاؤڈ اسپیکر استعمال نہ کرنا عدمِ جواز کی بنیاد پر نہیں، بلکہ مرکز کے بعض بزرگوں نے خاص ذوق کی بنا پر اس سلسلے کو دو وجہ سے برقرار رکھا ہے:
  1۔ جب بعض اکابر علماء نے نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے احتیاطاً منع کیا تھا اور وہ اسی رائے کے ساتھ دنیا سے تشریف لے گئے، تو آج بھی احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اس کا استعمال کم سے کم کیا جائے، لہٰذا نماز میں چوں کہ اقتدا کی صحت وعدمِ صحت کا مسئلہ ہے، اس لیے نماز بغیر اسپیکر کے پڑھائی جائے، جب کہ اذان و اقامت میں چوں کہ ایسی کوئی وجہ نہیں اس لیے وہ اسپیکر پر دی جاتی ہیں۔
  2۔ قرونِ اولیٰ میں جب مجمع زیادہ ہوتاتھا تو نماز میں مکبرین کے ذریعے آواز پہنچائی جاتی تھی، نماز جیسی عظیم عبادت کی ادائیگی کی ایک مثالی صورت جو قرونِ اولیٰ میں مکبرین کا نظم قائم کرکے اختیار کی گئی، اس ترقی یافتہ دور میں قرونِ اولیٰ کی اس سنت کا احیاء اور نئی نسل کو سادہ انداز میں نماز کے ان احکامات کا عملی صورت میں مشاہدہ کرواکر علم منتقل کرنا اس کا ایک مقصد ہے، اگر تبلیغ سے وابستہ حضرات بھی یہ سلسلہ ختم کردیں تو شاید دورِ جدید میں دورِ قدیم کی اس سنت کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
  باقی بزرگانِ تبلیغ نماز میں بھی لاؤڈ اسپیکر کے جواز کے قائل ہیں؛ اسی لیے بعض اوقات مجمع بہت زیادہ ہونے پر بوقتِ ضرورت لاؤڈ اسپیکر کا استعمال مشاہدے میں آجاتاہے۔ فقط واللہ اعلم  (فتوی نمبر: 143909201506 دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)
 حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ نے اسی بارے میں جو تفصیل قلم بند فرمائی وہ بھی بہت سے فوائد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے قابل دید ہے، ملاحظہ فرمائیے: 
  (سوال)ایک مسجد بہت بڑی اور مصلی بھی بہت ہوتے ہیں، یہاں تک کہ مسجد کا جماعت خانہ بھر جانے کے بعد باہر صحن پر ہوجانے کے باوجود نماز ی بچ رہتے ہیں، ایسی مسجد کے لئے امام کی قراء ت سننے کے واسطے لاؤڈ اسپیکر سے آواز پہنچانا کیسا ہے؟ اور نماز کے اعلان کے لئے لاؤڈ اسپیکر کااستعمال کیا جاسکتا ہے؟
  (الجواب)(الف) الاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ جو آواز دور کے مصلیوں تک پہنچتی ہے وہ امام کی اصلی آواز ہے یا (صدائے گنبد کے مانند) نقلی دوسری آواز ہے، اس میں سائنسدان مختلف ہیں، 
  نقلی آواز ہے تو اس پر اقتداء صحیح نہیں ہے اس لئے کہ صحتِ اقتداء کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ جس کی آواز پر اقتداء کا مدار ہی وہ مکلف ہو، ورنہ جس نے اس آواز کی اقتداء کی ہے اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی،  ”اِعلَم أَنَّ الْإِمَامَ إذَا کبَّر لِلْاِفْتِتَاحِ لَا بُدَّ لِصِحَّۃِ صَلٰوتِہٖ مِنْ قَصْدِہٖ بِالتَّکْبِیْرِ الْإِحْرَامِ، وإِلَّافَلا صَلٰوۃَ  لَہٗ، إِذَا قَصَدَ الْإِعْلَامَ فَقَطْ۔ فَإِنْ جَمَعَ  بَیْنَ الْأَمْرَیْنِ فَحَسُنَ، وکَذَا الْمُبَلِّغُ إِذَا قَصَدَ بِہٖ التَّبْلِیْغَ فَقَطْ خَالِیَاً عَنِ  الْإِحْرَامِ  فَلاَ صَلٰوۃَ  لَہٗ وَلَا لِمَنْ یُّصَلِّيْ بِتَبْلِیْغِہٖ فِيْ ھٰذِہِ الْحَالَۃِ لِأنَّہٗ اِقْتِدَاءٌ بِمَنْ لَمْ یَدْخُلْ فِيْ الصَّلٰوۃِ“. (طحطاوي علی الدر المختار، ج:۱، ص: ۳۲۸، باب: صفۃ الصلاۃ، سن الصلاۃ)
  (ب)اور اگر لاؤڈ اسپیکر کی آواز گنبد کی آواز کی طرح نقلی نہیں ہے، امام کی اصلی آواز ہے تو اس صورت میں  بھی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ یہ اس سادگی اور بے تکلفی کے خلاف ہے جو اسلامی عبادات کی خصوصیت ہے اور ظاہر ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال میں سرا سر تکلف ہے، حضرت شاہ ولی اللہ ؒ فرماتے ہیں کہ عبادتوں  میں تشدد اور تکلّف من جملہ اَسبابِ تحریفِ دین ہے اور یہ وہی بیماری ہے جس میں یہودو نصاریٰ کے راہب مبتلا ہوئے تھے۔(حجۃ اللہ البالغہ)
  (ج)اس کے علاوہ بہت زیادہ قابل توجہ یہ ہے کہ خشوع نماز کی جان ہے لاؤڈ اسپیکر کا تماشہ اس خشوع میں  خلل انداز ہوتا ہے، نماز کی اسی روح کے پیش نظر زیادہ چیخ کر پڑھنے کو نا پسند فرمایا گیا ہے اور اعتدال کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: (وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذَٰلِکَ سَبِیلًا) ]بنی اسرائیل[  (اور اپنی جہری نمازوں میں نہ تو زیادہ زور سے پڑھو، نہ بالکل آہستہ، ان دونوں کے بیچ درمیانی راہ اختیار کرو)۔]بیان القرآن، ج: ۶، ص:  ۱۰۶[ آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام تحریر فرماتے ہیں کہ درمیانی آواز سے پڑھنے میں دل پر اثر ہوتا ہے ا ور حد سے تجاوز کرنے میں حضور ِقلب میں خلل آتا ہے۔
  (د)رات دن کا مشاہدہ ہے کہ بجلی خراب ہوجاتی ہے یا خود لاؤڈ اسپیکر میں خرابی آجاتی ہے تو انتشار پیدا ہوجاتا ہے خصوصاً پچھلی صف والوں کو امام کے رکوع سجدے کی خبر بھی نہیں ہوتی، انتشارِ نماز کا خطرہ خود موجبِ کراہت ہے۔
  (ہ) شریعت کااصول ہے کہ فائدہ حاصل کرنے کی بہ نسبت، خرابی کو دور کرنا اور اس سے احتراز مقدم ہے۔ ”الاشباہ والنظائر“ میں ہے:  ”وَھِيَ دَرْءُ الْمَفَاسِدِ أَوْلٰی مِنْ جَلْبِ الْمَصَالِحِ،  فَإِذَا تَعَارَضَ مَفْسَدَۃٌ وَمَصْلَحَۃٌ قُدِّمَ دَفْعُ الْمَفْسَدَۃِ غَالِبًا، لِأَنَّ اعْتِنَاءَ الشَّارِعِ بِالْمَنْہِیَّاتِ أَشَدُّ مِنْ اعْتِنَاءِہِ بِالْمَأْمُورَاتِ“.]ص: ۱۱۴، حصہ قواعد، القاعدہ الخامسۃ: الضرر یزال[ (یعنی) فائدہ حاصل کرنے کی بہ نسبت خرابیوں کا دور کرنا مقدم ہے پس جب مفسدہ اور مصلحت کا تعارض ہوتو عام طور پر مفسدہ کو مصلحت پر مقدم کیا جائے گا اور ترک کر دینے کا حکم دیا جائے گا کیونکہ شرعیات میں مامورات کی بہ نسبت منہیات سے احتراز کا زیادہ اہتمام اور تاکید ہے۔
   دیکھیے؛ وضو اور غسل میں غر غرہ سنت ہے، مگر پانی گلے میں اُتر جانے کے خوف سے روزہ دار کے لیے ممنوع ہے، اسی طرح داڑھی کے بالوں کا خلال سنت ہے مگر حالت احرام میں بال ٹوٹ جانے کے ڈر سے مکروہ ہے۔
  الحاصل نماز میں امام کے لئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال میں فائدہ کی بہ نسبت خرابی کا پلہ بھاری اور غالب ہے،  لہذا شرعاً اس کی اجازت نہیں ہے اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ نماز کی صحت اور تکمیل امام کی قراء ت سننے پر موقوف نہیں ہے اور تکبیراتِ انتقال سننے کی ضرورت جن پر اقتداء اور رکوع و سجود کا مدار ہے وہ مکبرین کے انتظام سے پوری ہوجاتی ہے، رہا نماز میں دل لگنے کا مسئلہ تو کیا مغرب کی اخیری رکعت میں اور عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعتوں اور ظہرو عصر کی چاروں رکعتوں میں قراء ت سنائی دیتی ہے؟ ارشاد خدا وندی ہے: (وَإِذَا قُرِءَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَہُ وَأَنصِتُواَ)جب قرآن شریف پڑھا جائے تو کان لگا لو اور خاموش رہو۔ یعنی: یہ حکم نہیں ہے کہ امام کی قراء ت ضرور سنو، بلکہ حکم یہ ہے کہ کان لگا لو، آواز آئے یا نہ آئے، کان لگانے کا ثواب مل جائے گا۔ بہر حال عبادات؛ خصوصاً نماز کی ادائیگی میں سلف صالحین کے طریقہ کی اتباع لازم ہے اوراسی میں دین و دنیا کی کامیابی اور مذکورہ بالا مفاسد سے نجات ہے۔
  خطبہ میں بھی اس [اسپیکر]کا استعمال مناسب نہیں ہے، خطبہ کی شان کے خلاف ہے اور کبھی بگڑ جانے کی صورت میں حاضرین میں انتشار اور تشویش پیدا ہوجانے کا باعث ہوسکتا ہے، لہذا عدمِ استعمال ہی اولیٰ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (فتاوی رحیمیہ، کتاب الصلوٰۃ، متفرق الصلوٰۃ: ۶/۰۲)
اسی بارے میں فتاوی رحیمیہ سے ہی ایک اور سوال وجواب ملاحظہ کی جیے: 
  (سوال) نماز میں آلہ مکبر الصوت(لاؤڈ اسپیکر) کے استعمال کے متعلق آپ کے فتاویٰ رحیمیہ (ص: ۰۹، ج: ۱، نیز؛ ص: ۲۰۷، ج: ۱)  وغیرہ مقامات میں جو جوابات ہیں وہ ماشاء اللہ بہت مدلل اور قابلِ عمل ہیں، لیکن حضرت ایک بات عرض ہے کبھی تبلیغی اجتماع میں مجمع بہت بڑا ہوتا ہے، مکبرین مقرر کرنے کے باوجود پیچھے کی صفوں میں انتشار رہتا ہے، گاہے بہت سے لوگوں کی نمازیں بھی خراب ہوجاتی ہیں، ایسی ضرورت کے موقعہ پر اگر نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جائے تو گنجائش ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
  (الجواب) نماز جیسی اہم عبادت تو وہی سلف صالحین کے سادہ اور بابرکت طریقہ کے مطابق ادا کی جائے، مذکورہ صورت میں امام کے بجائے امام کے قریب رہنے والا مکبر؛ آلہ مکبر الصوت کا استعمال کرے تو اس کی گنجائش ہے اور یہ طریقہ اختیار کرنے سے جو تکلیف اور شکایت ہے وہ دور ہوجائے گی اور تکلفات سے بچیں اور اس طرح استعمال کریں  کہ جگہ نہ رکے، آج کل چھوٹا سا مائک بھی ملتا ہے جو گریبان یا گلے میں ڈال لیا جاتا ہے وہ استعمال کریں، فقط واللہ اعلم بالصواب۔ (فتاوی رحیمیہ، کتاب الصلوٰۃ، متفرق الصلوٰۃ: ۶/۷۳)
 علاوہ ازیں! مفتی اعظم محمد کفایت اللہ صاحب دہلویؒ، مفتی سید مہدی حسن ؒ صاحب، مفتی سعید احمدؒ صاحب مفتی اعظم مظاہر علوم سہارنپور، مفتی محمود حسن گنگوہیؒ صاحب صدر مفتی دار العلوم دیوبند، مفتی سید محمد میاں ؒصاحب، مدرسہ امینیہ دہلی، مفتی محمد یحییٰ ؒصاحب، مظاہر علوم سہارنپور، مفتی مظفر حسین ؒصاحب، مفتی عبد العزیزؒ صاحب، مفتی محمد شفیع  ؒصاحب مفتی اعظم پاکستان وغیرہم سب اکابرین لاؤڈ اسپیکر پر نماز کے جواز کے قائل ہیں لیکن احتیاطاً اسپیکر کے بغیر مکبرین کی ترتیب پر نماز کا فتویٰ دیتے تھے۔ ان حضرات کی تفصیلی فتاویٰ جات فتاویٰ رحیمیہ جلد ششم میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ 
 الغرض: نماز میں امام کی قراء ت کی آواز مقتدیوں تک پہنچنے کا حکم کیا ہے؟ اس بارے میں فقہی کتب میں واضح طور پر موجود ہے کہ بس امام کی حالت مقتدیوں پر واضح رہنی چاہیے، چاہے امام کو دیکھ کر ہو، یا امام کی آواز سن کر ہو، یا مکبرین کی آواز سن کر ہو، بہر صورت نماز درست ہو جائے گی۔ 
 یہی حکم خطبہ جمعہ کا ہے کہ حاضرین مجلس جن کے سامنے خطبہ شروع ہو جائے تو اُن کے لیے امام کی آواز اُن تک پہنچنے کی صورت میں خطبہ کو سننا واجب ہے اور آواز نہ پہنچنے کی صورت میں امام کی طرف متوجہ رہنا ضروری ہے، آواز نہ آنے کی صورت میں اُن کی نماز جمعہ بلا کراہت درست ہے۔اس مسئلہ کی بنیاد اس پر ہے کہ خطبہ کا درجہ شریعت میں مفتی بہ قول کے مطابق وعظ ونصیحت وتذکیر کا نہیں ہے کہ ہر ہر فرد تک اس کی آواز کا پہنچنا ضرور باضرور پایا جائے، اگر یہ بات ہوتی تو خطبہ جمعہ عربی زبان کی بجائے ہر ہر قوم کی اپنی زبان میں مشروع ہوتا، جب کہ ایسا نہیں ہے، خطبہ کا عربی زبان میں ہی ہونا ضروری ہے، چاہے عجمیوں کو اس کی سمجھ آئے یا نہ آئے، اور اس کی آواز مقتدیوں کو آئے یا نہ آئے۔ کتب فقہیہ میں یہ جزئیہ موجود ہے کہ اگر کوئی خطبہ کے دوران سوتا رہا، یا اس تک آواز نہ پہنچی، تب بھی اُن کی نماز جمعہ درست ہے۔ 
 چنانچہ! اس سے ہی یہ بات قرین قیاس ہے کہ زمانہ قدیم میں محدثین عطام وائمہ کرام کے بڑے بڑے مجمعوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی ادائیگی کے وقت خطبہ بغیر مکبر کے ایک ہی ہوتا تھا، کیوں کہ خطبہ کی آواز تمام حاضرین تک پہنچانا ضروری تھا ہی نہیں۔ ہاں یہ عمل سنت ضرور ہے کہ امام کے خطبہ کی آواز حاضرین تک پہنچے، سو اس امر کے لیے اگر اسپیکر استعمال کرنے کے دو فائدے ہیں، ایک: حاضرین تک خطبہ کی آواز پہنچ کر سنت پر عمل ہو جائے گا، دوسرا: دوران خطبہ کسی اور کام میں مشغولیت سے بچ کر حاضرین کراہت تحریمی کے گناہ سے بچ جائیں گے۔ 
 خلاصہ کلام! یہ کہ تبلیغی مراکز میں اور اجتماعات میں اسپیکر کے بغیر جو نمازیں پڑھائی جا رہی ہیں اور اس کے لیے تکبیر کہنے والوں کا ایک منظم نظام قائم کیا گیا ہوتا ہے، وہ بالکل درست، احتیاط کے عین مطابق اور سنت رسول ﷺ کے قریب ترین ہے، اور اسی طرح خطبہ جمعہ کا سپیکر پر ہونا بھی بلا کراہت درست ہے۔ 
 ٭٭٭…………٭٭…………٭٭٭

مفتی محمد راشد ڈَسکوی

تدریس وتصنیف
مفتی محمد راشد ڈَسکوی عفی اللہ عنہ
دار الافتاء جامع مسجد اشتیاق، ڈسکہ، سیالکوٹ
سابق استاذ ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف، جامعہ فاروقیہ، کراچی

کل مواد : 12
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020