میں اور ترجمہ (پانچویں اور آخری قسط)

سعودی سفارتخانے میں ملازمت کے بعد ایک دن جناب ڈاکٹر نور جمعہ صاحب کا فون آیا۔ علیک سلیک کے بعد اپنے مزاحیہ انداز میں کہنے لگے کہ ایک دوست نے مجھ سے کسی عربی اردو مترجم کا پوچھا ہے۔ میں نے اس کے سامنے جھوٹ بولا ہے کہ آپ بہت اچھے مترجم ہیں۔ ان سے نمونہ لے کر ترجمہ کر دیں ہو سکتا ہے وہ آپ کو کوئی کام دے دیں۔ اس طرح ‘‘ہارمونی پبلی کیشنز’’ سے میرا پہلا رابطہ ہوا۔ یہ ادارہ ترکی کے پچھلی صدی کے مشہور عالم بدیع الزمان سعید نورسی رحمہ اللہ کی کتابوں کا ترجمہ کراتا اور شائع کرتا تھا۔

میں نے ترجمے کا نمونہ دیا۔ نمونہ کامیاب رہا اور مجھے رسائل نور میں سے ایک رسالہ برائے ترجمہ مل گیا۔ یہاں سے اجرت بہت مناسب اور بروقت ملتی تھی جبکہ کام بھی اچھی طرح لیا جاتا تھا کیونکہ ترجمے کا اصل سے موازنے کے بعد اس کی زبان کی درستگی کے لئے اصل کے بغیر کسی اچھے ماہر لغت سے بھی پڑھوایا جاتا تھا۔ اس لئے آپ کو ترجمے میں اصل الفاظ کی پوری پوری حفاظت کرتے ہوئے زبان کے اسلوب کو بھی درست رکھنا پڑتا تھا۔ یہ بڑا مشکل کام تھا۔ ایک اور بات یہ کہ رسائل نور کے بعض جملے آدھے آدھے صفحے کے ہیں۔ اتنے لمبے جملوں کو عربی سے اردو میں لکھنا کارے دارد لیکن اللہ کے فضل سے اسی معیار کے مطابق میں نے لگ بھگ اٹھارہ رسائل کا ترجمہ کیا اور وہ سارے چھپ بھی گئے۔

گزشتہ تین چار سالوں میں لاہور اور اسلام آباد میں چار پانچ بین الاقوامی کانفرنسوں میں انگریزی اور عربی سے اردو اور اردو سے عربی رواں ترجمہ کرنے کا بھی موقع ملا۔ یہ بھی ایک دلچسپ چیز ہے کیونکہ ہر زبان کا اسلوب اور جملے کے اجزاء کی ترتیب مختلف ہونے کی وجہ سے کبھی آدمی کو رک کر خطیب کا جملہ ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور کبھی ایک لفظ کا ترجمے پورے جملے میں کرنا ہوتا ہے جس کے وجہ سے جلدی بولنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کبھی دو زبانوں کو اس انداز سے سوچ کر دیکھیں، بڑا مزہ آئے گا۔

یہ تھی میرے ترجمے کے کام سے وابستگی کی کتھا۔ ترجمے کے اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل فرمایا اور وہ سارے کام جو ہمارے ہاں لوگ سرکاری نوکریوں سے سبکدوش ہو کر یا بڑی محنت کے بعد کر سکتے ہیں، اللہ نے قلیل مدت میں مجھ سے کرا دئے۔ سب سے پہلے رہنے کے لئے اپنا گھر دیا، پھر اس نے اپنی سواری نصیب فرمائی، اس کے بعد حج نصیب فرمایا۔ اب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کہاں سے چلا تھا اور کس منزل پر آ گیا ہوں۔ ایک وقت تھا کہ میں بازار سے کم از کم پچیس کلو کا گیس سلنڈر کاندھے پر اٹھا کر تھک ہار کر ہانپتے کانپتے گھر پہنچاتا تھا اور آج یہ وقت ہے کہ صحت برقرار رکھنے کے لئے ورزش کی ضرورت ہے مگر اس کی ترتیب میں نہیں بنا سکا۔

یہ ساری کہانی لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جن لوگوں نے زندگی میں کوئی تنگی اور مشقت نہیں دیکھی، وہ اللہ کا شکر ادا کریں، جو مشکلات میں ہیں وہ اپنی محنت جاری رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اور ان کے لئے رستے کھولے گا۔ بس حوصلہ رکھیں، ہمت نہ ہاریں، دوسروں کی باتوں پر جانے کی بجائے ہر دروازے کو خود کھٹکھٹا کر دیکھیں، ان شاء اللہ کوئی نہ کوئی در کھل جائے گا اور جو مشکلات دیکھ کر اس مرحلے سے نکل آئے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے، اپنے تجربات سے دوسروں کو مستفید کریں اور حوصلہ دیں کیونکہ بہت سی دفعہ آپ کی زبان سے نکلا ایک جملہ دوسرے کی زندگی کی راہ متعین کر سکتا ہے۔ اسی لئے میں نے یہ تحریر حسب معمول مرچ مصالحے کے بغیر لکھی ہے۔ یہاں ایک شعر یاد آ گیا ؎

کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی
دنیا تو لطف لے گی مرے واقعات میں

یہاں تک ترجمے کی کہانی مکمل ہو گئی ہے لیکن اب ایک نیا سوال کچھ دوستوں نے اٹھایا ہے کہ میں اس کی بھی کچھ وضاحت کروں کہ میں نے تدریس کیوں چھوڑی اور اس کے بعد کیا کیا؟ میرے لئے یہ سوال اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ میں نے کل وقتی تدریس چھوڑنے کے بعد بھی تدریس سے جڑے رہنے کی کوشش کی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس سلسلے میں مجھے لکھنا چاہئے تو رائے ضرور دیجئے گا تاکہ ان آراء کی روشنی میں قلم اٹھایا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ھمدردیات)

 

عبد الخالق همدرد

مضمون نگار وسیاسی تجزیہ کار
عبد الخالق ہمدرد، آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کے ایک دور افتادہ گاؤں چھولاوئی میں تقریبا سنہ ۱۹۷۴ میں پیدا ہوئے۔
تعلیم کا آغاز گھر اور گاؤں اور اس کے بعد ایبٹ آباد میں جماعت پنجم سے کالج تک تعلیم حاصل کی۔
پھر ٹی آئی پی میں اپرینٹس بھرتی ہوئے مگر وہاں سے مستعفی ہو کر دار العلوم کراچی سے دوبارہ دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ تین سال وہاں اور پانچ سال جامعہ علوم اسلامیہ میں پڑھنے کے بعد ۱۹۹۹ میں درس نظامی مکمل کرکے اسلامی اور عربی علوم کی تدریس سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور سولہ سال تک مختلف تعلیمی اداروں میں کل وقتی اور جز وقتی تدریس کرتے رہے۔
۲۰۰۱ میں فیڈرل بورڈ سے طلائی تمغہ ملا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے عربی اور ایم اے سیاسیات کیا، ۲۰۱۶ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل عربی کیا۔
پانچ سال ایک عربی اخبار اور دس سال سے زیادہ عرصہ ایک سفارتخانے میں انگریزی سے عربی مترجم رہے۔ بیس سے زیادہ کتابوں کا عربی سے اردو میں ترجمہ اور کئی بین الاقوامی کانفرسوں میں اردو عربی رواں ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔

کل مواد : 5
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019