میں اور ترجمہ (چوتھی قسط)

بہر حال، کام کی تلاش جاری رہی اور اتفاق سے رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے مترجم کی ضرورت کا اشتہار آیا۔ ان کو عربی انگریزی مترجم کی ضرورت تھی۔ میں نے درخواست بھیجی تو انہوں نے مجھے بلا لیا۔ وہاں تین دن میں نے تجرباتی طور پر کام کیا۔ ان دنوں رحمت اللہ نذیر خان پاکستان میں رابطہ کے سربراہ تھے۔ بہت اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ان کا آبائی تعلق ازبکستان سے تھا مگر باپ دادا ہجرت کر کے سعودی عرب آ گئے تھے۔ اس لئے ان کے پاس سعودی شہریت تھی۔ انہوں نے میرے کام کی بڑی تعریف کی اور کہا کل آجانا۔ میں اگلے دن گیا تو کہنے لگے کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک (حقیقی) مومن نہیں ہو سکتا جب تک دوسرے کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ اس کے بعد کہنے لگے کہ سعودی سفارتخانے میں ایک مترجم کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان کو آپ کی مجھ سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس لئے آپ وہاں چلے جائیں میں نبیل بہلول سے بات کر لوں گا۔ میں نے دل میں سوچا کہ بابا جی نے سفارتی طریقے سے جان چھڑا لی۔ چنانچہ اجازت لی اور سلام کر کے ان کے دفتر سے نکل گیا۔

رابطہ عالم اسلامی میں تقرری نہ ہو سکی مگر کچھ دنوں بعد سعودی سفارتخانے کی جانب سے مترجم کے لئے اشتہار آیا۔ میں نے بھی درخواست جمع کرائی اور پھر وہاں سے بلاوا بھی آ گیا اور میں پہلی بار ملازمت اور کام کی نیت سے کسی سفارتخانے کی عمارت میں داخل ہوا۔ میرے علاوہ تیرہ آدمی اور بھی امتحان دینے آئے تھے۔ ہر آدمی اپنا اپنا تجربہ بیان کر رہا تھا مگر میرے پاس ان کو بتانے کے لئے کوئی خاص بات نہیں تھی۔ خیر امتحان کے طور پر مجھے ایک خبر اور ایک مراسلہ انگریزی سے عربی میں ترجمے کے لئے دیا گیا۔ اس امتحان میں لغت دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

امتحان کے بعد میں یہ سوچ کر واپس روانہ ہوا کہ اتنے تجربہ کار لوگوں میں میں کیا کر سکوں گا؟ لیکن دل کو تسلی دی کہ کوئی بات نہیں ایک تجربہ اور سہی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ترجمہ ایک ایسا میدان ہے جہاں آپ سفارش یا کسی اور ذریعے سے پہنچ بھی جائیں تو ٹک نہیں سکتے کیونکہ کام کے دوران آپ اکیلے ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ میں نے اس بات کو زندگی میں ایک اصول کے طور پر اپنایا ہے کہ کسی بھی کام کو چھو کر دیکھنے سے پہلے ہمت مت ہارو کیونکہ نتیجہ آپ کے ہاتھ میں نہ ہونے کے باوجود کوشش آپ کے ذمے ہے۔

کچھ عرصے بعد سفارتخانے سے فون آیا کہ اپنے کاغذات بھیج دیں۔ میں نے کہا کہ وہ تو امتحان کے دن جمع کرا دئے تھے۔ ان دنوں عبد العزیز العتیق شعبے کے سربراہ تھے۔ کہنے لگے دوبارہ بھیجیں یہاں نہیں مل رہے۔ میں نیٹ کیفے پر گیا مگر بمشکل تمام ڈیڑھ دو گھنٹے میں صرف ایک سی وی بھیج سکا کیونکہ نیٹ بہت کمزور تھا۔ اس کے بعد عبد العزیز صاحب نے بتایا کہ یہ میں سفیر کو دے دیتا ہوں، آپ کل کاغذات لے کر آ جائیں۔ اگلے دن میں سفارتخانے کے باہر پہنچا اور بتایا کہ مجھے بلایا گیا ہے تو ایک چوکیدار کہنے لگا کہ جب تک ہمیں اندر سے کوئی نہیں بتائے گا، ہم آپ کو اندر نہیں بھیج سکتے۔ میں نے کہا اچھا اندر فون کر کے بتا دیں کہ فلاں آدمی آیا ہے تو وہ کہنے لگا کہ ہم فون نہیں کر سکتے۔ میں نے کہا اچھا مجھے بات کرنے دیں تاکہ میں بتا دوں، تو وہ بولا ہمیں اس کی اجازت نہیں۔ آخر کار میں حیران وپریشان ایک طرف کھڑا ہو گیا کہ اب کیا کروں؟ میرے پاس عبد العزیز صاحب کا نمبر نہیں اور یہ لوگ بات نہیں کرا رہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ چوکیدار کہنے لگا ’’ایتھے نہ کھلوؤ، کیونکہ توانوں تے نوکری مل جانی اے، پر ساڈی نوکری چلی جائے گی۔’’

مجھے اس پر رحم اور غصہ دونوں آئے مگر کچھ کہنے کی بجائے سپر مارکیٹ چلا گیا اور وہاں ایک پی سی او سے سفارتخانے کا نمبر ملا کر عبد العزیز العتیق صاحب سے بات کی۔ وہ کہنے لگے آپ ابھی تک نہیں آئے؟ میں نے کہا آیا تھا مگر چوکیدار نے نہیں چھوڑا۔ کہنے لگے جلدی آ جائیں میں گیٹ پر بتاتا ہوں۔ عجیب اتفاق ہے کہ دس سال سے کچھ زیادہ عرصہ کام کرنے کے بعد میں نے سعودی سفارتخانہ چھوڑ دیا مگر وہ چوکیدار شاید اب بھی وہیں ہے۔ میں اس طویل عرصے میں جب بھی اس کے پاس سے گزرا اس کا پہلی ملاقات والا جملہ یاد آجاتا۔

خیر میں اندر پہنچا۔ عبد العزیز صاحب سے ملاقات ہوئی اور وہ مجھے سفیر جناب علی عواض عسیری کے پاس لے گئے۔ انہوں نے رسمی بات چیت کی۔ حال احوال پوچھا۔ تعلیم کے بارے میں سوالات کئے۔ جب میں نے بتایا کہ میں نے پاکستان میں ہی تعلیم حاصل کی ہے کہیں اور نہیں گیا تو وہ میری عربی دانی سے بڑے متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ دینی مدارس کے اور طلبہ بھی آپ کی طرح اچھی جگہوں پر کام کریں۔ ملاقات خوشگوار رہی مگر آخر میں انہوں نے یہ جملہ کہنا ضروری سمجھا کہ ’’میں کام کے بارے میں ذرا سخت ہوں۔ اس میں کوئی عذر نہیں چلے گا۔‘‘ میں نے جواب میں کہا کہ ان شاء اللہ میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ کوتاہی نہ ہو۔ کہنے لگے ٹھیک ہے، کل سے آپ کام پر آ جائیں۔ اس طرح میں سعودی سفارتخانے میں ملازم ہو گیا اور کل وقتی تدریس چھوٹ گئی۔ یوں مجھے پیسے کمانے کا موقع تو فراہم ہو گیا لیکن جس جذبے سے میں نے دینی علوم کی تدریس شروع کی تھی، اس سے محروم ہو گیا۔

یہاں میرا کام پہلے دن سے ہی انگریزی اخبارات سے منتخب خبروں اور مضامین کا عربی ترجمہ کرنا ہوتا تھا۔ کبھی کبھی عربی سے انگریزی ترجمے کا کام بھی ہوتا تھا لیکن یہ صرف پانچ سے دس فیصد ہوتا تھا۔ شروع میں صحافتی ترجمے میں خاصی مشکل پیش آتی تھی اور ایک خبر کے ترجمے کے دوران بعض اوقات پانچ پانچ بار بھی ‘‘المورد’’ کی جانب رجوع کرنا پڑتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مراجعت کی نسبت کم ہوتی چلی گئی لیکن یہ بات یاد رکھئے کہ اچھا مترجم ہونے کے لئے ضرورت کے بغیر بھی لغت دیکھ لینا چاہئے۔ اس کا کم سے کم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی خوبصورت لفظ مل سکتا ہے۔ اسی طرح جس دن کوئی اردو مترجم چھٹی پر ہوتا، مجھے اردو سے عربی کا ترجمہ بھی کرنا پڑتا تھا لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ میں جب بھی کسی عام آدمی کو بتاتا کہ میں انگریزی عربی کا مترجم ہوں تو میری شکل دیکھ کر پہلی بار اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی تھی کیونکہ اللہ کے فضل سے میں نے ابھی تک ٹوپی اور ڈاڑھی کو نہیں چھیڑا جبکہ لوگوں کا خیال شاید یہ ہے کہ آدمی نہیں بلکہ پتلون اور ٹائی انگریزی جانتی ہے۔ (جاری ہے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ھمدردیات)

 

عبد الخالق همدرد

مضمون نگار وسیاسی تجزیہ کار
عبد الخالق ہمدرد، آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کے ایک دور افتادہ گاؤں چھولاوئی میں تقریبا سنہ ۱۹۷۴ میں پیدا ہوئے۔
تعلیم کا آغاز گھر اور گاؤں اور اس کے بعد ایبٹ آباد میں جماعت پنجم سے کالج تک تعلیم حاصل کی۔
پھر ٹی آئی پی میں اپرینٹس بھرتی ہوئے مگر وہاں سے مستعفی ہو کر دار العلوم کراچی سے دوبارہ دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ تین سال وہاں اور پانچ سال جامعہ علوم اسلامیہ میں پڑھنے کے بعد ۱۹۹۹ میں درس نظامی مکمل کرکے اسلامی اور عربی علوم کی تدریس سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور سولہ سال تک مختلف تعلیمی اداروں میں کل وقتی اور جز وقتی تدریس کرتے رہے۔
۲۰۰۱ میں فیڈرل بورڈ سے طلائی تمغہ ملا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے عربی اور ایم اے سیاسیات کیا، ۲۰۱۶ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل عربی کیا۔
پانچ سال ایک عربی اخبار اور دس سال سے زیادہ عرصہ ایک سفارتخانے میں انگریزی سے عربی مترجم رہے۔ بیس سے زیادہ کتابوں کا عربی سے اردو میں ترجمہ اور کئی بین الاقوامی کانفرسوں میں اردو عربی رواں ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔

کل مواد : 5
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019