میں اور ترجمہ (تیسری قسط)

میں ان مشکل حالات سے گزر رہا تھا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے اسلامی بینکاری کا ایک کورس شروع کیا جو تین سال پر محیط تھا اور مزے کی بات یہ تھی کہ اس میں ہر ماہ اڑھائی ہزار روپے وظیفہ بھی تھا۔ میں نے بھی اپنے کئی شاگردوں کے ساتھ اس میں داخلہ لے لیا کیونکہ خرچہ کوئی نہیں تھا مگر اس کے اکثر مضامین خصوصاً ریاضی، شماریات اور اکاؤنٹنگ میرے لئے پہاڑ تھے کیونکہ ریاضی تو پرائمری سے میرے لئے عذاب تھی جبکہ دوسرے مضامین بھی پہلے کبھی نہیں پڑھے تھے۔

اس دوران استاد گرامی جناب طاہر منصوری صاحب نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو ترجمے کا ایک کام آپ کو دے دیتے ہیں۔ میں نے ہامی بھر لی تو انھوں نے شریعہ اکیڈمی کی جانب سے باقاعدہ ایک مراسلے کے ذریعے ڈاکٹر عبد الکریم زیدان کی کتاب ‘‘المدخل لدراسۃ الفقہ الاسلامی’’ ترجمے کے لئے دے دی جبکہ ترجمے کا نرخ شاید تین سو روپے فی ہزار الفاظ مقرر تھا۔ میں نے شریعہ اکیڈمی جا کر جناب ڈاکٹر اکرام الحق صاحب سے کتاب وصول کی۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑے اچھے انداز سے ساری باتیں سمجھا دیں اور بتایا کہ آدھی اجرت کام پورا ہونے پر اور بقیہ آخری پروف کے بعد ملے گی۔ ہم نے کتاب کی سطریں اور صفحات کا اوسط نکالا تو چھتیس ہزار روپے بنے۔

میں نے کام پورا کر کے دے دیا کیونکہ کتاب اس لئے مشکل نہیں لگی کہ مدرسے میں فقہ اور اصول فقہ پڑھ چکا تھا۔ اس کے بعد اجرت کی وصولی کے لئے چکر شروع ہو گئے۔ آج، کل، پرسوں، اگلے ہفتے۔۔۔ الغرض کلیجہ منہ کو آ گیا۔ ایک دن میں نے ڈاکٹر اکرام الحق صاحب سے صاف صاف کہہ دیا کہ اس طرح کام نہیں چلے گا۔ میں نے کام کیا ہے، اس کی اجرت ملنی چاہئے تو وہ کہنے لگے کہ آپ کی بات درست ہے لیکن ہم بھی مجبور ہیں، ہر کام ایک طریقے سے ہوتا ہے۔ ہم فائل بھیج دیتے ہیں باقی کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر آپ چاہیں تو ڈائریکٹر صاحب سے مل لیں۔

مجھے اس لیت ولعل پر بڑا غصہ آیا ہوا تھا۔ چنانچہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر مرحوم ڈاکٹر عبد الجبار صاحب کے پاس گیا۔ انھوں نے مجھے بٹھایا اور آنے کا سبب پوچھا تو میں نے بتایا کہ میں نے ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ چھ مہینے ہو گئے ترجمہ حوالے کر چکا ہوں مگر تا حال اجرت نہیں ملی۔ وہ کہنے لگے کہ یہاں بہت سے دفاتر ہیں جن سے ہو کر فائلیں آتی ہیں۔ اس میں وقت لگتا ہے۔ میں نے کہا حضور اگر فرض کریں کہ چالیس دفاتر ہیں اور فائل ایک دن میں ایک دفتر سے نکلتی ہے تو بھی چالیس دن بعد اس کا چکر پورا ہو جانا چاہئے، مگر میں تو چھ مہینوں سے منتظر ہوں۔ غصے کی وجہ سے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے یہ بھی کہا کہ شریعت کا حکم ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت ادا کر دو اور یہاں شریعہ اکیڈمی چھ مہینے سے اجرت روکے بیٹھی ہے، کیا اسلام یہی کہتا ہے؟ اور آپ یہ بھی سوچیں کہ اگر ایک آدمی کے پاس متبادل ذریعہ آمدن ہے تو وہ گزارہ کر لے گا لیکن اگر کوئی اسی اجرت کے انتظار میں ہے ہو تو اس کا کیا بنے گا؟ اس پر ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ان شاء اللہ آپ کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا اور پھر پیسے مل بھی گئے لیکن اس رویے کی وجہ سے میں نے دل میں ٹھان لی کہ آئندہ کسی سرکاری ادارے کا کوئی کام نہیں کرنا۔ بعد میں ڈاکٹر عبد الجبار صاحب کی وفات کی خبر آئی تو سخت افسوس ہوا کہ اتنے بڑے آدمی سے مجھے اس روکھے لہجے میں بات نہیں کرنی چاہئے تھی لیکن وقت گزر چکا تھا۔ یہ کتاب ‘‘مطالعہ فقہ اسلامی’’ کے نام سے دستیاب ہے۔

مئی 2005 میں میری اہلیہ اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ گھر میں دو بچے تھے جن کی عمریں تقریبا چار اور دو سال تھیں۔ ان کو سنبھالنے والا کوئی نہ تھا۔ گھر اجڑ کر مکان بن گیا۔ کچھ عرصہ میری چھوٹی بہن نے ان کو سنبھالا مگر ان کا اپنا گھر تھا، میرے پاس کب تک رہ سکتی تھیں۔ اس لئے بامر مجبوری ان کو والدہ کے پاس گاؤں بھیج دیا۔ ایک بار ان کو دیکھنے گاؤں گیا تو ان دیکھ کر جو کیفیت ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ پہلے تو میں سوچ رہا تھا کہ دوسری شادی نہ کروں لیکن بچوں کی یہ حالت دیکھ کر خیال اور خوابوں کی دنیا سے نکل کر حالات کا مقابلہ کرنے اور بچوں کے لئے ایک اور ماں لانے کا فیصلہ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ کا کرم شامل حال ہوا اور چند ماہ میں ہی دوبارہ گھر آباد ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ شاد رکھے دوسری اہلیہ نے بچوں کو اس طرح سنبھالا کہ میں اپنا سارا غم بھول گیا۔

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اہلیہ کی علالت کے دوران مجھے کوئی مالی پریشانی پیش نہیں آئی اور مجھ سے ان کی علاج کے لئے جو ہو سکتا تھا وہ کیا۔ اگر اس وقت میرے پاس وسائل نہ ہوتے اور ان کا انتقال ہو جاتا تو شاید یہ دکھ ساری زندگی کے لئے اسی طرح ایک روگ بن جاتا جس طرح میں آج تک اپنے والد مرحوم کی وفات کو اس لئے نہیں بھلا سکا کہ میں ان کی کوئی خدمت کر سکا اور نہ ان کے جنازے اور تدفین میں شریک ہو سکا۔ میں آج بھی گاؤں میں جب ان کی آخری آرامگاہ پر فاتحہ خوانی کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ کاش ابا جان ایک بار اٹھ کھڑے ہوں اور مجھے گلے لگا کر واپس چلے جائیں۔

سوئے اتفاق کہ دوسری شادی کے وقت میں بالکل تہی دست تھا۔ زیور بنوانے دیا تو جو رقم موجود تھی وہ دے دی اور باقی اس نیت سے ادھار کر لی کہ جس ادارے میں میں کام کرتا ہوں وہ میرے پورے بقایا جات یا ان کا کچھ حصہ دے دے گا تو کام چل جائے گا لیکن عین وقت پر وہاں سے ٹکہ سا جواب ملا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔ اس وقت مجبورا کراچی میں دو احباب سے رقم قرض لے کر زیور لایا۔ شادی بڑی سادگی سے ہوئی۔ بارات میں اسلام آباد سے استور صرف چار آدمی گئے اور وہ بھی اپنے خرچے پر کیونکہ میں نے ان کو بتا دیا تھا کہ میں کسی کا کرایہ نہیں دے سکتا۔ میں ان باراتیوں کا احسان کبھی نہیں بھول سکتا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بعد میں وہ زیور کے لئے لیا جانے والا ادھار اللہ کے فضل سے مقررہ وقت پر چک گیا۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے) (ھمدردیات)

 

عبد الخالق همدرد

مضمون نگار وسیاسی تجزیہ کار
عبد الخالق ہمدرد، آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کے ایک دور افتادہ گاؤں چھولاوئی میں تقریبا سنہ ۱۹۷۴ میں پیدا ہوئے۔
تعلیم کا آغاز گھر اور گاؤں اور اس کے بعد ایبٹ آباد میں جماعت پنجم سے کالج تک تعلیم حاصل کی۔
پھر ٹی آئی پی میں اپرینٹس بھرتی ہوئے مگر وہاں سے مستعفی ہو کر دار العلوم کراچی سے دوبارہ دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ تین سال وہاں اور پانچ سال جامعہ علوم اسلامیہ میں پڑھنے کے بعد ۱۹۹۹ میں درس نظامی مکمل کرکے اسلامی اور عربی علوم کی تدریس سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور سولہ سال تک مختلف تعلیمی اداروں میں کل وقتی اور جز وقتی تدریس کرتے رہے۔
۲۰۰۱ میں فیڈرل بورڈ سے طلائی تمغہ ملا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے عربی اور ایم اے سیاسیات کیا، ۲۰۱۶ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل عربی کیا۔
پانچ سال ایک عربی اخبار اور دس سال سے زیادہ عرصہ ایک سفارتخانے میں انگریزی سے عربی مترجم رہے۔ بیس سے زیادہ کتابوں کا عربی سے اردو میں ترجمہ اور کئی بین الاقوامی کانفرسوں میں اردو عربی رواں ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔

کل مواد : 5
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019