میں اور ترجمہ (پہلی قسط)

زبانیں سیکھنے کا شوق اللہ تعالیٰ نے اس بندے کو عطا فرمایا ہے۔ اس لئے کوشش ہوتی ہے کہ کوئی نئی بات، نیا لفظ اور نیا جملہ سیکھنے میں بخل نہ کیا جائے۔ شاید یہی ذوق اور شوق ترجمے کی بنیاد بنا۔ اس کام کی ابتدا تو اس سے ہوئی کہ میں دار العلوم کراچی سے اپنے بعض ایبٹ آبادی دوستوں کو اردو کی بجائے ہندکو میں خط لکھا کرتا تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان میں سے کسی کے پاس اس کا کوئی ثبوت موجود ہے یا نہیں لیکن میرے پاس شاید ایاز گل کے کچھ ہندکو خطوط ہوں گے۔ یہ تو بات ہوئی اردو اور ہندکو کی۔

دار العلوم میں اردو اور ہندکو کے ساتھ عربی سے پالا پڑا تو اللہ کے فضل سے وہ بھی کچھ کچھ آ گئی اور دوسرے سال ششماہی امتحان عربی میں دیا۔ اس کے بعد مدرسے سے فارغ ہونے تک کبھی کوئی پرچہ اردو میں نہیں لکھا۔ وللہ الحمد۔ اسی سال ہمارے دوست عبد الخالق رہبر بلوچ نے اردو میں ‘‘کھٹمل کی پہچان’’ کے عنوان سے ایک مزاحیہ کتابچہ لکھا (کیونکہ دار العلوم میں اس زمانے میں کھٹمل بہت ہوتے تھے) تو میں نے ‘‘البق’’ کے نام سے اس کا عربی میں ترجمہ کیا۔ یہ شاید میرا پہلا ترجمہ تھا۔ اس کتابچے کی نقلیں دار العلوم میں پھیل گئیں اور ہم نے اس کا ایک نسخہ کتب خانے میں بھی جمع کرایا۔

اس کے بعد بنوری ٹاؤن گیا تو ترجمے کا کام قاعدے پہ آنے لگا۔ ہوا یوں کہ سرما کی ایک رات میں مسجد کے انتہائی مغربی کونے میں بیٹھا ‘‘تکرار’’ کر رہا تھا کہ پینٹ شرٹ میں ملبوس، ہلکی ہلکی مونچھوں والے ایک صاحب آئے اور نستعلیق اردو میں پوچھا ‘‘ارے بھائی، آپ میں عبد الخالق ہمدرد صاحب کون ہیں؟ مجھے مولانا امداد اللہ صاحب نے بھیجا ہے۔ ان سے کچھ ترجمہ کرانا تھا۔’’ میں نے کہا لائیے کیا کام ہے؟ ان کے پاس کسی دوا کے بارے میں ایک انگریزی کاغذ تھا۔ کہنے لگے اس کا عربی ترجمہ چاہئے۔ میں نے دیکھا کہ کام آسان ہے۔ ان کو بتا دیا کہ کل شام آ کر لے لیجئے گا مگر اجرت طے نہیں ہوئی۔ ان صاحب کا نام محمد عاقل تھا جو برنس روڈ میں ایک کمپنی میں عربی ٹائپنگ کا کام کرتے تھے۔ اسے زمانے میں سارا کام ٹائپ رائیٹر پر ہوتا تھا۔

یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ میں نے کمرے میں گتے کا ایک ڈبہ رکھا ہوا تھا جس پر از راہ تفنن ‘‘ڈبۃ التصنیف والتالیف’’ کے الفاظ لکھ رکھے تھے۔ مدرسے کی معمول کی پڑھائی کے علاوہ باقی چیزیں اسی ڈبے میں ہوتی تھیں۔ میں نے عاقل صاحب کا کاغذ بھی اسی میں پھینک دیا اور اگلے دن اس کا ترجمہ کر کے رکھ لیا۔ عاقل صاحب آئے۔ کام لیا۔ بہت خوش ہوئے اور کچھ رقم دے کر جاتے ہوئے کہنے لگے ‘‘ہمدرد صاحب، برا مت منائیے گا، اگر آئندہ بھی کوئی کام ہوا تو بھائی کو تکلیف دوں گا’’۔ میں نے کہا ضرور۔

اس کے بعد عاقل صاحب کام لاتے تھے اور میں ان کو کر کے دیتا تھا۔ اس سلسلے میں مجھے الیاس انطون الیاس کے اس انگریزی عربی لغت سے بہت مدد ملی جو ہمارے دوست ایوب چترالی نے یہ کہہ کر مجھے دیا تھا کہ یہ آپ رکھ لیں، ہمارے کس کام کا ہے! وہ لغت آج بھی میرے پاس ہے۔ عاقل صاحب کی تشریف آوری میرے لئے مسرت کا پیام ہوتی تھی کیونکہ ان سے ملنے والی رقم عیاشیوں میں خرچ ہوتی تھی اور اس زمانے میں ہماری سب سے بڑی عیاشی یہ ہوتی تھی کہ رات کو قریب ہی واقع کوئٹہ وال کے ڈھابے سے توے پر بنا انڈہ مغز یا دل گردہ کھائیں۔ بخدا اس کا اپنا ہی ذائقہ تھا۔

انہی دنوں میں نے نجیب کیلانی کے مشہور ناول ‘‘لیالی ترکستان’’ کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ارادہ تھا کہ اسے شائع کروں گا لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے بعد اس کی ایک فصل کا ترجمہ شاید کھو گیا اور باقی کسی جگہ رکھا ہوگا۔ پھر ایک اور کتابچے کا ترجمہ کیا جو استادی ومولائی حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ نے شائع کرایا۔ اب اس کتابچے کا نام بھی یاد نہیں۔

2000 میں عملی زندگی میں قدم رکھا تو آغاز سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہو گیا۔ تنخواہ بروقت نہ ملنے کی وجہ سے متبادل ذرائع آمدن کی جانب مائل ہونا پڑا۔ میں نے سوچا کہ پڑھانے کے ساتھ ساتھ کیوں نہ ترجمے کے میدان میں قسمت آزمائی کی جائے۔ چنانچہ اسلام آباد کی آب پارہ مارکیٹ میں بیتھے ایک ایک مترجم کے پاس جاتا اور اس سے کام کا کہتا۔ لطف کی بات یہ ہے یہ لوگ عام طور پر فارم وغیرہ بھرتے ہیں اور ان میں صرف نام بدلتے رہتے ہیں اور اچھی خاصی رقم اینٹھ لیتے ہیں مگر ترجمے کا عام طور پر جو حال ہوتا ہے، وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ اس کے باوجود کچھ لائق لوگ بھی موجود ہیں۔

اس تلاش کے دوران مجھے مکھی پر مکھی مارنے والے مترجموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ایک بار بڑا تلخ تجربہ بھی ہوا۔ واقعہ یوں ہوا کہ میں نے ایک جگہ ترجمے کا بورڈ دیکھا تو اس دفتر میں چلا گیا۔ ایک صاحب میز کے پیچھے بیٹھے تھے۔ سامنے دو ایک کرسیاں پڑی تھیں۔ میں سلام کر کے بیٹھ گیا۔ ان صاحب نے پوچھا کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا کہ میں عربی، اردو اور انگریزی زبانیں جانتا ہوں۔ ترجمے کا کوئی کام ہو تو اپنی خدمات پیش کر سکتا ہوں۔ اس پر انھوں نے چھوٹتے ہی کہا ‘‘تم نے کتنے شیعوں کو قتل کیا ہے؟’’ سوال بڑا اوچھا اور اچانک تھا۔ اس لئے میں نے بھی ترکی بترکی جواب دیا کہ ‘‘آپ نے جتنے سنیوں کو قتل کیا ہے’’ اور وہاں سے اٹھ آیا۔

2003 میں کراچی سے آنے کے بعد پہلی بار وہاں جانا ہوا تو میں برنس روڈ پر محمد عاقل صاحب سے ملنے گیا۔ وہ مجھے اپنی دکان پر دیکھ کر پہلے تو دنگ رہ گئے۔ پھر بڑے احترام سے بٹھایا اور اپنے ساتھیوں سے تعارف کرایا کہ یہ مولانا عبد الخالق ہمدرد صاحب ہیں۔ بڑے علم والے آدمی ہیں بھائی۔ میں ترجمے کا کام ان سے کراتا ہوتا تھا۔ یہ میرے استاد ہیں۔ اس کے بعد مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے ‘‘ارے بھائی کہاں غائب ہیں۔ ہم نے تو آپ کی فاتحہ بھی پڑھ لی تھی۔ بڑی خوشی کی بات ہے آپ تشریف لے آئے۔’’۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے) 

 

عبد الخالق همدرد

مضمون نگار وسیاسی تجزیہ کار
عبد الخالق ہمدرد، آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کے ایک دور افتادہ گاؤں چھولاوئی میں تقریبا سنہ ۱۹۷۴ میں پیدا ہوئے۔
تعلیم کا آغاز گھر اور گاؤں اور اس کے بعد ایبٹ آباد میں جماعت پنجم سے کالج تک تعلیم حاصل کی۔
پھر ٹی آئی پی میں اپرینٹس بھرتی ہوئے مگر وہاں سے مستعفی ہو کر دار العلوم کراچی سے دوبارہ دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ تین سال وہاں اور پانچ سال جامعہ علوم اسلامیہ میں پڑھنے کے بعد ۱۹۹۹ میں درس نظامی مکمل کرکے اسلامی اور عربی علوم کی تدریس سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور سولہ سال تک مختلف تعلیمی اداروں میں کل وقتی اور جز وقتی تدریس کرتے رہے۔
۲۰۰۱ میں فیڈرل بورڈ سے طلائی تمغہ ملا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے عربی اور ایم اے سیاسیات کیا، ۲۰۱۶ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل عربی کیا۔
پانچ سال ایک عربی اخبار اور دس سال سے زیادہ عرصہ ایک سفارتخانے میں انگریزی سے عربی مترجم رہے۔ بیس سے زیادہ کتابوں کا عربی سے اردو میں ترجمہ اور کئی بین الاقوامی کانفرسوں میں اردو عربی رواں ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔

کل مواد : 5
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019