مولانا سمیع الحق … قافلہ اہل حق کا ایک بزرگ شہید ماہنامہ النخیل شعبان 1440

استاد المجاہدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کل جمعہ کےدن (۲نومبر ۲۰۱۸ء) راولپنڈی میں شہید کر دئیے گئے، وہ اکوڑہ خٹک سے تحفظ ناموس رسالت کے جلسے میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے تھے، واپسی پر، بحریہ ٹاون کے ایک گھر میں کچھ دیر آرام کرنے رکے، ڈرائیور کہیں باہر نکلا اور قاتلوں نے گھر میں گھس کر چاقو اور چھری کے وار کرکے پاکستان اور عالم اسلام کی اس بزرگ ہستی کو بےدردی کے ساتھ شہید کر دیا۔وہ پاکستان میں جہاد افغانستان کی ایمان افروز داستانوں کی شناخت رکھنے والے کرداروں کے استاذ و مربی تھے، وہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سربراہ تھے، جہاں سے جہادوعزیمت کے لئے اٹھنے والے قافلوں نے افغانستان کی وادیوں میں ایک لہو رنگ تاریخ مرتب کی…مارچ  ۲۰۱۸  کو وہ بیمار ہوئے، دل کا بڑا آپریشن تھا، وہ اسپتال میں داخل تھے، احقر نے اس وقت ر ’’اکوڑہ خٹک کاچراغ ٹمٹمانے لگا‘‘کے عنوان سےان پر مضمون لکھا، آپریشن کی رات وہ پورا مضمون ان کے صاحبزادے، ماہنامہ الحق کے مدیر برادر مکرم مولانا راشد الحق سمیع صاحب نے انھیں سنایا اور مجھے یہ برقی پیغام بھیجا:

’’ السلام علیکم! برادرم، بہت شکریہ، جزاک اللہ خیرا، حضرت والد صاحب کو میں نے آپ کا مضمون تفصیل سے سنایا، انہوں نے بہت دعائیں آپ کو دیں اور خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں، دعاؤں میں بھی انہیں یاد رکھیں، کل آپ سے بات کروانے کی کوشش کروں گا۔‘‘

صحت مند ہونے کے بعد حضرت نے فون کیا، تفصیلی بات ہوئی، اور دعائیں دیں۔اللہ تعالی نے ہزاروں شہیدوں کے اس استاد و مربی کی قسمت میں شہادت کی سعادت لکھی تھی، وہ 83 سال کی عمر میں جمعے کے دن عصر کے بعد بوڑھے نحیف جسم پر بہنے والے مظلومانہ خون کے ساتھ اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے… زہے مقدر، زہے نصیب… قابل رشک زندگی، اور قابل رشک موت:

میرے خاک وخوں سےتو نے کیا یہ جہاں پیدا

صلہ شہید کیا ہے، تب وتاب جاودانہ

اب ذرا وہ مضمون پڑھیں جو ان کی حیات ہی میں لکھا گیا اور جنہیں پڑھ کر انہوں نے بیش بہا دعاؤں سے نوازا:

 

 

استاذالعلماء حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ کانام گرامی محتاج تعارف نہیں ، وہ ایک ہمہ پہلو شخصیت ہیں اور ان کی خدمات کا دائرہ بڑا وسیع ہے ، ویسے تو وہ پاکستان میں ایک سیاسی اسلامی رہنما کی حیثیت سے بھی شہرت رکھتے ہیں اور عوا م کی ایک بڑی تعداد میں ان کی شناخت کا یہی حوالہ معروف ہے … لیکن اس ناکارہ کے نزدیک ان کی شخصیت کا علمی حوالہ اس سے کہیں بلندہے ۔

 پاکستان ہی نہیں برصغیر پاک و ہند کا بڑا دینی ادارہ ہے ، جہاں سے ہر سال دستار فضیلت حاصل کرنے والے فضلاء کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہوتی ہے ۔ملک و ملت کے کئی ممتاز رہنما اسی ادارے کے فاضل اور تربیت یافتہ ہیں، جہادِ افغانستا ن کی صف اول کی قیادت یہیں کی خوشہ چین رہی ، مولانا محمد نبی ، مولانا یونس حقانی ، پروفیسر سیاف اور مولانا جلال الدین حقانی ،اسی چشمہ فیض سے وابستہ رہے اور’’ دارالعلوم حقانیہ‘‘ ہی کی نسبت سے خود کو حقانی کہتے رہے۔ پاکستان میں اسلامی سیاست کے صفِ اول کے رہنما حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ بھی اسی ’’دارالعلوم حقانیہ ‘‘ کے فاضل ہیں ، انہوں نے علوم دینیہ کی تقریباً ساری تعلیم یہیں حاصل کی اور نو سال تک یہاں سے طالب علمانہ فیض اٹھاتے رہے ۔حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ نے جس انداز سے اپنے عظیم والد کے بعد اس ادارے کو بڑھایا ، سنوارا اور اس کے فیض کو عام کر نے کے لیے ممتاز محدثین اور اساتذہ کو جمع کر کے وہاں کے منصب درس و تدریس کی رونقوں کو نہ صرف یہ کہ بحال رکھا بل کہ اسے مزیدجلابخشی ، یہ ان کے تدبر ، فہم و بصیرت ،علمی ذوق، علمی میراث کے تحفظ اور اہل علم کی قدر دانی کاایک نمونہ ہے ، انہوں نے اس علمی ادارے کی آبیاری میں سیاسی پکڈنڈیوں کے پیچ و خم اور ذاتی پسند و نا پسند سے بالا ہو کر بڑی وسیع الظرفی کا مظاہرہ قائم رکھا ، ان کی اسی مدبرانہ پالیسی اور مومنانہ صفات کا نتیجہ ہے کہ دارالعلوم حقانیہ آج بھی طالبان علوم نبوت اور اہل حق کے سیلِ رواں کا پاکستان میں سب سے بڑا مرجع ہے ۔

مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ کا ایک بڑا کارنامہ ماہنامہ ’’الحق ‘‘ کا اجراء ہے جو گزشتہ نصف صدی سے روشنی بکھیر رہا ہے ، ’’الحق ‘‘ نے ایوانوں اور بیابانوں میں حق کی صدا بلند کی اور عرصے تک ویران راستوں کے اندھیروں میں قندیلِ ایمانی بنا رہا ، نہ جانے بھٹکے ہوئے کتنے مسافر اس سے درست سمتوں کی رہنمائی لیتے رہے !!

 ’’الحق ‘‘ کا جب بھی ذکر آتا ہے ، مجھے فکر و خیال ، عمر رواں کی تلخ و شیریں حقیقتوں سے آزاد کر کے بچپن کی حسین دنیا کی دل کشیوں میں لے جاتا ہے ،دریائے اباسین کے ساتھ گاؤں کی مسجد ، جہاں لکڑی کی سیاہ رنگ کی الماری کے اوپر ’’الحق ‘‘ کی جلدیں پڑی رہتیں ، انہیں اٹھاتا ، عمر ابھی گیارہ بارہ برس ہی ہوگی ، ان میں مولانا سمیع الحق صا حب کے ولولہ انگیز اداریے پڑھتا ، ان کے قلم کی روانی و سلاست اور مدوجزر کی حلاوت آج تک محسوس ہورہی ہے ، اس مسجد کے بورزہ پر بیٹھ کر خان بابا غازی کابلی کے مضامین پڑھے ، مولانا شمس الحق افغانی  کی تحریریں دیکھیں ، مضطر عباسی ، مولانا انظر شاہ کشمیری کی تحقیقات نظرسے گذریں ، مولانا عبد الحق صاحب کے مواعظ و نصائح کا مطالعہ کیا اور مدینہ منورہ میں مقیم اپنے خاندان کے بزرگ مولانا عبدالغفور عباسی کی اصلاحی مجالس اور ملفوظات سے مستفید ہوا ، جنہیں مولانا سمیع الحق صاحب نے وہاں رہ کر قلم بند کیا، آزادی ہند کے رہنماحضرت مولانا عزیر گل صاحب ، نابغۂ روزگار محدث مولانا نصیر الدین غور غشتوی اور سلسلہ قادریہ کے مشہور بزرگ و محدث مارتونگ بابا سے تعارف ہوا ۔یہی پر استاذ محترم مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی وہ نظم پڑھی جو انہوں نے چاندنی رات میں دریائے کابل کی سیر کرتے ہوئے کشتی میں مولانا سمیع الحق صاحب اور دیگر احباب کو سنائی تھی ، جس کا سرنامہ ہے:

 تو حسن کا پیکر ہے تو رعنائی کی تصویر

مخمور بہاروں کے حسین خواب کی تعبیر

رخشاں ہے تیرے ماتھے پہ آزادی کی تنویر

اے وادی کشمیر…اے وادی کشمیر

’’الحق ‘‘نے علمائے سرحد کی سوانح و حیات اور ان کے علمی کارناموں کے تعارف میں بھی مرکزی کردار ادا کیا اور علم و ہنر کے گنج ہائے گراں مایہ ’’الحق ‘‘ہی کے ذریعے متعارف ہوئے ، ’’الحق ‘‘ کے معیار کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ ایک زمانہ میں اردوکے نامور ادیب اس پر بحث کر رہے تھے کہ اردو رسائل و جرائد میں سب سے عمدہ نثر کس رسالے کی ہے ، اس مجلس میں پروفیسر حسن عسکری بھی تھے ، سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اکوڑہ خٹک کا’’الحق ‘‘ سب سے بہترین نثر کا حامل رسالہ ہے۔

پختون وادی سے نکلنے والے اس مجلہ نے اہل زبان وا دب میں اپنے معیار کی بناپر جس طرح حیران کن پذیرائی حاصل کی ،اسی طرح مولانا سمیع الحق صاحب کا حیران کن کارنامہ مشاہیرکے خطوط و مکاتیب کا زیر نظر مجموعہ ہے ، جو سات ضخیم جلدوں میں مرتب ہو کر شائع ہوا ۔ اس ناکارہ کے نزدیک یہ اردو ادب کی تاریخ مکاتیب و خطوط کا خاتمہ اور مولانا سمیع الحق صاحب کے علم اور اہل علم کی قدر دانی کی حیران کن لا زوال مثال ہے کہ انہوں نے معروف اور غیر معروف تمام حضرات کے خطوط اپنے پاس محفوط رکھے ، یہاں تک کہ اگر کسی نے ان کو کسی تقریب کی دعوت دی ہے یا کسی تہوار اور خوشی پر مبارک باد دی ہے اسے بھی انہوں نے محفوظ رکھا۔

’’یہ ان تاثرات کا ایک حصہ ہے جو کچھ عرصے قبل احقر نے مولانا سمیع الحق صاحب کے مرتب کردہ خطوط کے  مجموعہ کے لیے لکھے تھے‘‘ آج معلوم ہوا کہ مولانا بیمار ہیں، اور شفا خانہ میں داخل ہیں، وہ دل جو نصف صدی سے زیادہ عالم اسلام اور پاکستان کے لئے دھڑکتا رہا…شاید بہت تھک چکا ہے۔

بستر علالت پر ان کی ایک آرزو یہ ہے کہ اپنے استاد مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے تفسیری افادات پر جو عظیم الشان علمی کام وہ کر رہے ہیں، اس کے بیس پارے کئی ہزار صفحات میں مکمل ہو چکے ہیں، بقیہ دس پاروں کا کام بھی مکمل ہو جائے!حقیقت یہ ہے کہ انہی کا قلم اس مستحق ہےکہ اپنے استاد وشیخ کےتفسیری نکات وافادات کو جمع کرے، دوسری آرزو اس عظیم الشان مسجد کی تکمیل ہے جو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے احاطے میں زیر تعمیر ہے، اللہ تعالی انکی دونوں آرزوں کو پورا فرمائے، ان کو صحت عطا فرمائے اور جلد عطا فرمائے:آمین

تمتّع من شميم عرار نجد

فَمَا بعد العشية من عرار

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019