مولانا عبد الشکورلکھنوی صاحبؒ کی مختصر سوانح حیات

نام ونسب :

نام عبدالشکوراوروالدماجدکانام مولوی حافظ ناظر علی ہے، اور فاروقی خاندان سےتعلق ہے اور اسی وجہ سے آپ کو فاروقی کہاجاتا ہے اوراکتیس(۳۱)واسطوں کےبعدسلسلہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔

پیدائش اور ابتدائی تعلیم وتربیت :

مولاناعبدالشکورصاحب لکھنوسے۱۱کلومیٹردور"اودھ" کےتاریخی اورمردم خیز قصبہ کاکوری ضلع لکھنو میں ۲۳ ذی الحجہ ۱۲۹۳ھ بمطابق ۱۸۷۶ء میں بوقت صبح صادق مولوی حافظ ناظرعلی رحمۃ اللہ علیہ کے گھرمیں پیداہوئے،آپ کی پیدائش کی خوشخبری حضرت مولاناعبدالسلام ہنسوی صاحب(المتوفیٰ۱۸۸۱ھ)نے پہلےہی آپ کے والد ماجد کودے دی تھی،اور فرمادیاتھا کہ انشاءاللہ تم کو ایک نیک  فرزند عطاہوگا جس سے تمہارے گھر میں خیر وبرکت ہوگی،عقیقہ کے بعدحضرت شاہ صاحب ہنسوی نے اس بچہ  پر توجہ باطنی بھی فرمائی  اورکہاکہ بیج ڈال دیاگیاہےاور انشاءاللہ بارآورہوگا،ان مبشرات کے ساتھ آپ کابچپن گزرا۔

کم سنی کازمانہ ختم ہواور سن شعور کو پہنچے تو والد ماجد نے اپنےپیرومرشد حضرت شاہ عبدالسلام صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کی بسم اللہ کرائی،اس موقع پر حضرت شاہ صاحب نے آپ کے لئے یہ دعا بھی فرمائی تھی کہ"خداتعالی ٰ برخوردارراازعلوم نافعہ بہرہ ورگرداند"۔

 آپ کی ابتدائی تعلیم ضلع فتح پور میں ہوئی،قاعدہ بغدادی ،پارہ عمَّ،اور فارسی کی چند ابتدائی کتابیں مولوی عبدالوہاب،ساکن ہنسوہ ضلع فتح پورسے پڑھیں،اس کےبعد فارسی کی باقی کتبِ درسیہ مولانا سید مظہر حسین،متوطن کوڑاجہان آباد، ضلع فتح پور سے پڑھیں،انہوں نے بڑی توجہ اور دلسوزی سے پڑھایا اور فارسی بولنے اور لکھنے کی مشق بھی کرائی۔

فارسی سے فراغت پانے کے بعد میزان،پنج گنج،وزبدہ وغیرہ بھی وہیں پڑھیں،دوسری کتابیں مولوی سید تعشق حسین صاحب کوڑوی اور مولوی محمد یاسین خان صاحب،ساکن گتنی،ضلع پرتاب گڑھ سےتحصیل کوڑااور فتح پور میں پڑھیں،اس کےبعد کچھ کتابیں فصول اکبری،شرح جامی،قطبی میرتک،فقہ میں شرح وقایہ اولین وہدایہ آخرین،اصول فقہ میں اصول الشاشی اور نورالانوار وغیرہ مختلف اساتذہ منجملہ مولانا سیدمظہرحسین صاحب سےضلع فتح پور اور دیگرمقامات میں پڑھیں ۔

آپ کےوالد ماجد کویہ بڑی تمناتھی کہ آپ کو مسندِ وقت علامہ ابوالحسنات،مولانا عبدالحئ فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردی میں دے دیں،مگر قدرت کویہ منظورنہ تھا،چناں چہ ۱۳۱۰ھ  بمطابق ۱۸۹۲ھ میں جب آپ اعلی ٰ تعلیم کے لئے لکھنو پہنچے تو اس وقت حضرت مولانا فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ علیہ وفات پاچکے تھے،لہٰذااُن کےشاگردِرشید اور جان نشین حضرت مولانا سید عین القضاۃ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آپ کی حاضری ہوئی ۔

اس طرح آپ اپنے اصلی مربی واستادِ خصوصی مولاناسید عین القضاۃ صاحب کے حلقۂ درس میں داخل کردئے گئے اس سلسلہ میں لکھنوی صاحب خود تحریر فرماتے ہیں :

"اس وقت حضرت مرحوم نے پڑھانے کاسلسلہ بہت کم،بلکہ قریب قریب ترک کردیاتھا اور فرمایا کرتے تھے کہ اب دماغ بھی بہت ضعیف ہوگیاہے اور طلبہ کی حالت دیکھ کر نہ مطالعہ میں محنت کرتے ہیں اور نہ ہی کتاب کو سمجھنے ویاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں،لہٰذا پڑھانےکو دل نہیں چاہتا،اس جواب نے مجھے مایوس تو بہت کیا،مگرمیں  نے حاضری کاسلسلہ برابر قائم رکھا، تھوڑے دنوں کے بعد فرمایا کہ ایک صاحب نے علم الفرائض شروع کی ہے اگر آپ کاجی چاہے تو شریک ہوجائیں،چناں چہ میں نے شرکت شروع کردی، دوسرے ہی دن جب آپ نے دیکھا کہ وہ صاحب جو اصل سبق پڑھنے والے تھے سبق یاد کرنے میں مجھ سے پیچھے رہ گئے توآپ نے میری طرف خصوصی نظر التفات مبذول کی جو یوماً فیوماًبڑھتی گئی"۔

اس طرح مولاناعین القضاۃ صاحب کی خدمت میں مسلسل سات سال تک آپ نے باضابطہ بقیہ علوم وفنون کی تکمیل فرمائی،آپ نے یہاں حسبِ ذیل کتبِ درسیہ پڑھیں،علم الفرائض،حمداللہ،حواشی میر زاہدبرملاجلال،رسالہ میرزاہد،قاضی مبارک،تحقیقات مرضیہ، میبذی،شمس بازغہ،صدرا،میر زاہد،شرح شرح مواقف،خیالی مع حاشیہ عبدالکریم،مسلم الثبوت،ریاضی میں شرح الملخص للعلامہ چغمینی اور اقلیدس،حدیث میں مشکوٰۃ،سنن ترمذی،اور صحیح بخاری او راصول حدیث میں شرح نخبۃ الفکروغیرہ،ان ساری کتابوں میں سوائے ترمذی اور شمس بازغہ کے ساری کتابوں کی اول سے آخر تک استا د کے سامنے خود قرأت کرتے تھے۔

 استاد محترم کاقاعدہ یہ تھا کہ جو طالب علم غلط عبارت پڑھتا، یاصرف ونحومیں اس کی استعداد اچھی نہ ہوتی تو اس کو قرأت کی اجازت نہ دیتے تھے،چوں کہ لکھنوی صاحب شروع ہی سے ذہین اورمحنتی تھے اور علمی استعداد بھی پختہ تھی اس لئے اپنے معاصرین اور ہم سبقوں میں قرأت کا شرف بھی انہیں کو حاصل ہوتا رہا،اور مولاناسید عین القضاۃسے پڑھنے کاسلسلہ ۱۳۱۷ھ میں ختم ہواور آپ مکمل طور پر فارغ التحصیل ہوگئے۔

مندرجہ بالابیان سے یہ بات متعین ہوگئی کہ مولانا کو حضرت مولانا سید عین القضاۃ صاحب کے ذریعےسے بہ یک واسطہ، استاذ الاساتذہ،مولاناعبدالحئ فرنگی محلی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے تلمذ کا فخرحاصل تھا اور مولانافرنگی محلی کو بہ طرق کثیرہ شاہ عبدالغنی محدث دہلوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اورشاہ محمداسحاق محدث دہلوی  صاحب رحمۃ اللہ علیہ سےشرف استنادحاصل تھا،حضرت کو اس سلسلۃ الذہب کے

 علاوہ حضرت مولانارشید احمد گنگوہی سے بھی بہ یک واسطہ رشتہ شاگردی حاصل تھا۔    

اس کے علاوہ آپ نے علم طب میں حکیم عبد الولی صاحب سے

جو(مولاناعبدالحئ فرنگی محلی اورسیدعین القضاۃصاحب کےانتہائی معتقدین میں سے تھے) طب کی تعلیم حاصل کی۔

آپ بچپن سے حافظ قرآن نہ تھے،بلکہ تحریک مدح صحابہ کے دنوں میں جب باربار آپ کو جیل جاناپڑا توان دنوں میں آپ نے جیل کی تنہائیوں کو ایک غنیمت موقع جان کرحفظ قرآن کی دولت حاصل کرلی۔

درس وتدریس :

درس وتدریس کاآغاز آپ نے سب سے پہلے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو سےکیا،حضرت مولانا محمدعلی مونگیری  صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس وقت ناظم تھے،انہی کی خواہش پر آپ نے  بحیثیت مدرس کام کرناقبول کیاتھا،مولاناسیدسلیمان ندوی صاحب اس دور میں وہاں

 طالب علم تھے،کم وبیش ایک سال کی تدریس کے بعد آپ نے وہاں سے ازخود استعفیٰ دے کےسبکدوشی حاصل کرلی۔

۱۹۰۴ءسے ۱۹۱۵ءتک آپ اپنے استاد محترم مولانا عین القضاۃ صاحب کےمدرسہ عالیہ فرقانیہ لکھنوسے وابستہ رہے اور اس وقت سے لیکر ۱۹۰۹ء تک آپ اپنے استاد علیہ الرحمۃ کے ساتھ معاون مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے،۱۹۰۹ءسے ۱۹۱۱ء تک آپ نے مدرس عربی وفارسی کی حیثیت سے بھی کام کیا،مدرسہ کی زیادہ تر ذمہ داری آپ ہی کے سپردتھی ،۱۹۲۱ءسے ۱۹۲۳ءتک  مدرسہ عالیہ عربیہ امروہہ کے آپ صدر مدرس رہے  ۔

تصنیف وتالیف ودیگر دینی خدمات :

مولانا لکھنوی صاحب کو تصنیف وتالیف سے مناسبت بچپن ہی سے تھی چناں چہ زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے لکھنوکےمشہور مجتہد،مولوی حامدحسین کی کتاب"استقصاء الافہام"کے بعض حصوں

 کے جواب میں ایک رسالہ فارسی میں"انتصار الاسلام بجواب استقصاء الافہام "تحریر کیاتھا۔

اپنے اسی فطری ذوق کی بنا پر آپ نے ۱۸۹۹ء میں تعلیم سے فراغت کےبعد فوراً تدریسی مشاغل کےساتھ ساتھ ایک ماہوار علمی

 رسالہ "علم الفقہ "کے نام سے لکھنو میں جاری کیا،جو پورے چھے سال تک پابندی سےنکلتارہا،یہ رسالہ خالص فقہی مضامین پر مشتمل ہوتاتھا۔

ماہنامہ النجم کااجراء :

۱۹۰۴ء میں شیعوں کی طرف سےلکھنومیں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی مذموم کوششیں ہونے لگیں،شیعہ واعظ مقبول دہلوی کی شعلہ فشانیوں  اور مناظرے کے چیلنج نے ہرطرف کشیدگی پیداکردی تھی اورملک کےمختلف حصوں میں شیعہ اخبارات ورسائل نے مذہبی  چھیڑ چھاڑ کابازار گرم کر رکھاتھا،اہل سنت عقائد کی تردید اور صحابۂ کرام پر (العیاذباللہ)کھل کر تبراکیاجاتاتھا۔

ان حالات میں مولانالکھنوی صاحب نےمسلمان عوام کو گمراہی،شکوک وشبہات میں مبتلا ہونےسے بچانےاوررفض کی تردید میں ۷رمضان المبارک ۱۳۲۲ھ بمطابق ۲۶ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو "النجم" کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار لکھنو سے جاری کیا،اوریہ اخبارکم وبیش ۳۳سال تک شائع ہوتارہا،اور مولانالکھنوی صاحب کی جتنی تصانیف ،تراجم،وتالیفات ہیں وہ سب "النجم "کے ذریعے ہی منصۂ شہود پر آئیں ہیں ۔

النجم نے بہت سارے خاص نمبر شائع کیے،جن میں سے چند یہ ہیں :خلافت نمبر، رسالت نمبر، عاشوراء نمبر، خاتون نمبر،صحابہ نمبر، ذبیح اللہ نمبر،شہداء نمبر، ہجرت نمبر،مدح صحابہ نمبر،ناموس اسلام نمبر، احتجاج نمبر،امامت نمبر،استقلال نمبر،تحریک نمبر،کربلانمبر،عتیق نمبر ،  کمیشن نمبر۔

النجم مولانا عبدالشکو رلکھنوی صاحب کےعلمی ومذہبی برکات وفیوض کامجموعہ وترجمان ہےاور ہندوستان بھر میں صرف یہی ایک جریدہ ہے کہ جو دشمنان اسلام کےمقابلہ میں سینہ سپر بناہواہے کہ جس کی تجلی نے عالم تشیع پر ایک عام بجلی گرارکھی ہے،ہم افراد وقوم سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مجلہ کی توسیع واشاعت میں ہرممکن سعی سے دریغ نہ فرمائیں ۔

دارالمبلغین کاقیام :

لکھنو شہر کے مخصوص سنی شیعہ حالات کےپیش نظر وہاں کے عمائدین کے اصرارپر ۲ذیقعدہ ۱۳۵۱ھ کوبمطابق ۱۹۳۲ء میں     "دارالمبلغین"کے نام سے ایک دینی ادارہ قیام عمل میں لایا،تاکہ اسلام کی تبلیغ کے ساتھ مسلک اہلِ سنت والجماعت کے عقائد حقہ کی نشرواشاعت اور فرق باطلہ کے الزامات کی تردید بھی خصوصی طور پر کی جائے ،تاحیات آپ نے اس ادارے کاانتظام وانصرام بڑے اہتمام سے کیا۔

علامہ لکھنوی صاحب کے مشہور تلامذہ وشاگرد :

ویسے تو لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ کی ایک لمبی فہرست ہےہم یہاں ان میں سے چندکانام ذکرکرتے ہیں، مولاناعبد السلام فاروقی،مولاناعبدالرحیم فاروقی صاحب، صاحبزادگان، مولانا مصطفیٰ حسن صاحب،رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند، واستاد عربی لکھنو یونیورسٹی،مولانا مغیث الدین الہ آبادی ،مولاناعبدالحق صاحب بلیاوی ، مولانا عبدالحق خان صاحب فتح پوری،مؤلف اشرف السوانح،مولانامحمد اسباط صاحب استاد مدرسہ عالیہ فرقانیہ،لکھنو،مولاناانصارالحق امروہی، مولاناعبدالسلام زیدپوری ،مولانامحمدیحیٰ صاحب مبارکپوری ،وغیرہ۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے آپ کے تلامذہ جنہوں نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا،مولاناعبدالستارتونسوی صاحب،مشہور مناظرردرافضیت،مولاناسیدنورالحسن بخاری صاحب،مولانااحمد حسین بخاری صاحب،مولانا لال حسین اختر صاحب ،مشہورمناظر ختم نبوت ، مولاناصوفی عبدالحمیدخان سواتی صاحب برادراصغر مولانا سرفراز اخان صفدر صاحب،مولانااللہ یارخان صاحب،مولانا مجید الدین اثری زبیری صاحب،وغیرہ ۔

بیعت وارشاد :

حضرت لکھنوی صاحب اوائل عمر ہی سے نقشبندی سلسلہ کے مختلف بزرگوں سے منسلک رہے،جن میں مولاناعبد السلام ہنسوی رحمۃ اللہ علیہ،مولاناعین القضاۃ،مولاناشاہ ابو الخیر دہلوی،اور اپنے والد مولانا ناظرعلی صاحب اور ۱۹۲۱ء میں خانقاہ عالی جاہ مجددیہ میں حضر ت مولاناشاہ ابو احمد صاحب بھوپال سے بیعت کی سعادت حاصل کی ۔

حضرت لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے شیخ سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے،ان کاحددرجہ ادب و احتر ام کیاکرتے تھے،کاکوری کے ایک سفرمیں حضرت لکھنوی صاحب کوخلافت واجازت بھی عطا فرمائی، حضرت لکھنوی صاحب سلسسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے بزرگوں کے مقرر کردہ وظائف واوراد کے پابند رہے اور اپنے متوسلین کوبھی ان کی پابندی کی تلقین فرمایاکرتے تھے ۔

تحریک مدح صحابہ :

لکھنو کےمخصوص شیعہ سنی ماحول میں مقبول دہلوی شیعی کی آمد نے مزید گرمائش پیداکردی تھی،مجلس عزاء میں اعلانیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبراکیاجاتاتھا،العیاذ باللہ ازواج مطہرات پر طرح طرح کی بےبنیاد تہمتیں تراشی جاتی تھی،مقبول دہلوی کےعلاوہ معروف شیعہ علماء بھی لکھنو میں شیعہ سنی منافرت پھیلانے میں پیش پیش تھے،جن میں  مولوی ناصرحسین مجتہد،مولوی نجم الحسن مجتہد،مولوی مہدی حسین مجتہد،ڈپٹی راحت علی،مرزا محمد عباس،حکیم نذیر حسین،وکیل شہنشاہ حسین ،بیرسٹر یوسف حسین اور راجہ علی محمد آف محمود آباد وغیرہ قابل ذکر ہیں ،جوشیعوں کی مذہبی زندگی کے محرک تھے۔

حضرت مولانا لکھنوی صاحب ؒکی لکھنو آمد اور امامِ اہلِ سنت کاخطاب:

جب لکھنو میں حالات بہت زیادہ کشیدہ ہونے لگے،اوراہلِ سنت کو آئے دن مذہبی اعتبار سے تنگ کیاجانے لگاتواس  وقت علماء کے سرخیل مولاناسیدعین القضاۃ صاحب جو علامہ ابو الحسنات عبدالحئ لکھنوی صاحب کے جانشین تھے، آپ نے اہل سنت کی طرف  سے مدافعت کابیڑہ اٹھایااور علمائے وقت کو اس نازک مسئلہ کی طرف متوجہ کیااور ہر طرح سے اہل سنت کےمعتقدات ومفادات کی حفاظت  پر کمر بستہ ہوگئے ۔

جب آپ نے دیکھا کہ یہ معاملات مزید پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں اور فریق مخالف کی طرف سے برابر مناظروں کاچیلنج دیا جانے لگا ہے،توآپ نے یہ فیصلہ کرلیا کہ حضرت مولاناعبدالشکورلکھنوی صاحب کودہلی سےلکھنو بلایاجائے اور ان کو سنیوں کی طرف سے مناظروں کی جواب دہی کے لئے آمادہ کیاجائے،اس وقت لکھنوی صاحب دہلی میں مرزاحیرت کے مطبع میں بحیثیت مصنف ومؤلف کام کررہے تھے ۔

جس وقت مولاناعین القضاۃ صاحب نے حضرت لکھنوی صاحب کو لکھنو آنے کی دعوت دی اس وقت بعض معاصرین نے استاد محترم سے کہاکہ ہم خدّام تو ہرحکم کی تعمیل کےلئے حاضر ہیں لہٰذا،دہلی سے مولانا عبدالشکور صاحب کو بلانے کی کیاضرورت ہے؟مولانا اس پر سخت چیں بہ جبیں ہوئے اور فرمایا :

"ہاں میں نے اسی کام کے لئے انہیں بلایاہے،وہ اس معاملہ میں ہم اہلِ سنت کےامام ہیں "

مولاناکا یہی جملہ مستقبل میں ایک تاریخی حیثیت بن گیا اوربرصغیر کےتمام علما،عوام وخواص نے آپ کو امام اہلِ سنت کالقب دیدیا، آج آپ کو اسی لقب کے ساتھ لکھاپڑھاجاتا ہے۔

شیعوں کی دل آزار حرکتیں  :

مقبول شیعی کی دیکھادیکھی دوسرے شیعہ واعظین بھی مسلسل اشتعال انگیز یاں پھیلانے لگے،ان کی دل آزار ومذموم حرکتیں تو زیادہ ہیں،بطور مثال درج ذیل حرکتیں باعث عبرت ہیں، جوتقریباً کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہیں اور ملک پاکستان میں بھی ہورہی ہیں ۔

(۱)"صحبت قدیمانہ"کےعنوان سے شہر بھر میں تبرائی مجالس منعقد کرتے،جس میں سوائے خلفائے ثلاثہ اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم اجمعین پر العیاذ باللہ تبرا کے سوا کچھ نہیں ہوتاتھا۔

(۲)"بزم فیروزی "کے نام سےملعون مجوسی قاتل سیدناعمر

فاروق رضی اللہ عنہ کی مدح وتعریف او راس واقعہ شہادت کی یادتازہ

کرنے کے لئے محفلیں منعقد کی جاتی تھیں۔

(۳)سنیوں کو مزیداشتعال دلانے کے لئے اذان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام اور "خلیفتہ النبی بلافصل"کےبے اصل جملوں کااضافہ کیا،جوکہ خود بتصریح کتبِ شیعہ اذان کاجزو نہیں ۔

(۴)مزیدبرآں"عیدغدیر"کوجوش وخروش کےساتھ علی الاعلان منایا جانے لگا۔

(۵)شیعہ شعراء خاص کرمیاں شیرلکھنوی وغیرہ نے اشعار کے ذریعہ اکابر اہلِ سنت اور بزرگان دین کامضحکہ اڑانا شروع کردیا،ا س کے لئے نہایت رکیک اورفحش اور تہذیب سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کرکے اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے لگے ۔

(۶)"انجمن امامیہ"کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نےجلتی پر تیل کاکام کیااور سنی وشیعہ علیحدگی پرمستقل قوانین وضع کئے اور حکام سے نافذبھی کروادیا۔

اس طرح کےقوانین کےنفاذ پر سنیوں نے ۱۳فروری ۱۹۰۸ء کو احتجاج کیا،جس کےنتیجے میں حکام نے تبرائی جلوسوں پر پابندی لگادی ، شیعوں نے ۱۹۰۸ء ہی میں انگریز حکام کو درخواست دی کہ سنیوں کے "مدح صحابہ"پربھی پابندی عائد کردی جائے،جو فی الوقت تو بے اثر ہوگئی،لیکن اہلِ سنت کو یقین ہوگیا کہ ان کےمذہبی  معاملات میں بے جا دخل اندازی کی جارہی ہے،لہٰذا انہوں نے اپنےدفاع کے لئے سوچنا شروع کیا،یوں انتہائی مجبوری واضطرار کی حالت میں تحریک مدح صحابہ کاآغازہوااور مسلسل ۳۶سا ل تک یہ تحریک چلی،جس میں حکومت کی طرف سے کئی کمیشن اور کمیٹیاں بھی بنائی گئیں،لیکن حالات سدھرنے کےبجائے مزیدبگڑنے لگے،بالآخرسول نافرمانی کی تحریک چلائی گئی۔

 ہندوستان بھرکےاہلِ سنت علماء کی کانفرنس بلائی گئی،جس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب،مولانا احمدسعید صاحب، ناظم جمیعت علمائے ہند،امامِ اہلِ سنت مولاناعبدالشکور لکھنوی صاحب،سیدسلیمان ندوی صاحب،مولوی سیدعلی حسن صاحب، مولاناعبدالرحیم فاروقی صاحب،ظفرالملک علوی صاحب رحمہم اللہ، وغیرہ حضرات نے شرکت فرمائی،اورقاری طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تحریری بیان کے ذریعہ سے تحریک مدح صحابہ کی تائید فرمائی ۔

اس تحریک کےدوران حضرت لکھنوی صاحب اوران کے رفقاءکارکو کئی دفعہ پابند سلاسل اور پس دیوار زنداں بھی جاناپڑا،مگر انہوں نے اسلام اور صحابہ کرام کی خاطر یہ سب کچھ بخوشی قبول کرلیا۔

 اسی تحریک کےنتیجے میں مسلمانوں میں دینی بیداری پیداہوئی،انہیں اپنے عقائد معلوم ہوئے،او رمخالفین اسلام وصحابہ کرام کی سازشوں سے واقفیت ہوئی اور ان کے سدّباب کی کوششوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔

مناظرے ومباحثے :

اسلام ایک دعوتی مذہب ہے،دعوت کے دوران داعی کو کبھی مزاحمت کابھی سامناکرناپڑتاہے،ان کوسمجھانے،یاان کےشکوک و شبہات اور دینِ برحق پر ان کےاعتراضات کےدفعیہ کے لئے داعی کومناظرہ ومباحثہ،علمی مدافعت سےبھی کام لینا پڑتاہے،انیسویں صدی میں ہندوستان میں عیسائیوں سے تومناظروں ومباحثوں کابازارگرم تھاہی،اس کےساتھ ساتھ اہلِ تشیع واہلِ بدعت سےبھی  مناظروں کی نوبت آگئی تھی ۔

چنانچہ لکھنومیں ۱۸۹۴ء میں شیعوں کےساتھ پہلامناظرہ ہوا، اس وقت مولاناعبدالشکورصاحب طالب علم تھے،مولاناعین القضاۃصاحب کے ساتھ آپ معاون خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔

اوردوسر امناظرہ لکھنو ہی میں ۱۹۰۸ء میں اور تیسرامناظرہ

مولوی سجادلکھنوی سے ۱۹۱۰ء میں لکھنو میں ہوا،جن میں اما مِ اہلِ سنت نےمدّمقابل کو واضح اور یقینی شکست سے دوچارکیا۔

ردِّروافض کےسلسلے میں ۱۹۱۳ءضلع سیوان (بہار) کا پہلا سفراور ۱۹۱۶ء میں ضلع سیوان کادوسراسفرکیا،اور ۱۹۱۶ء میں ہی مناظرہ بمبئ،اور ۱۹۱۸ء میں مناظرہ چکوال،ضلع جہلم پنجاب،۱۹۲۰ءمیں مناظرہ مکیریان ضلع ہوشیارپور،۱۹۲۰ء میں مناظرہ امروہہ ضلع مرادآباد،۱۹۲۲ءمیں مناظرہ بشیرکوٹ ضلع چوبیس پرگنہ(مغربی بنگال)،۱۹۲۳ءمیں مناظرہ کولوتارڑ،ضلع گوجرانوالہ،۱۹۳۰ءمیں مناظرہ منٹمگری ساہیوال کامناظرہ ہوا،جن میں امام اہل سنت نےمد مقابل کو شرمناک اور ذلت آمیز شکست سے دوچارکیا۔

اس کےعلاوہ امامِ اہلِ سنت نے اہلِ بدعت،قادیانیوں،آریہ سماج،غیرمقلدین،عیسائیوں اوردیگرکئی گمراہ فرقوں اورادیان باطلہ سےبھی مناظرےومباحثے کیے اور اہل حق کی ترجمانی کے فرائض انجام دئے ۔

تصنیفات وتالیفات :

جیساکہ پہلےعرض کیاجاچکاہے کہ مولاناکو شروع ہی سے تصنیف وتالیف کےکام سے بے حدلگاؤاور  شوق تھا،اسی وجہ سے مولاناکی تالیفات بھی بہت زیادہ ہے،یہاں ہم صرف ان کےناموں کےذکر پر اکتفاکرتے ہیں ۔

قرآن کریم:

ترجمۃ القرآن،مسلک المرجان فی مصادر القرآن،مقدمہ تفسیر آیات خلافت وامامت،تفسیر آیات قرآنیہ،قرآن کریم کی وہ آیات کریمہ  جن کاآپ نےمخصوص انداز میں ترجمہ وتفسیر فرمایاہے وہ درج ذیل ہیں:

تفسیر آیت استخلاف،تفسیر آیات حفاظت قرآن،تفسیر آیت تطہیر،تفسیر آیات میراث،تفسیرآیت قتال مرتدین،تفسیر آیت ولایت، تفسیر آیت تمکین،تفسیرآیت دعوت اعراب،تفسیر آیت مباہلہ،تفسیر آیت اولی الامر،تفسیر آیات ملک طالوت،تفسیر آیات اظہاردین،تفسیر آیات مدح مہاجرین،تفسیر آیت تبلیغ،تفسیر آیات امامت،تفسیر آیات مذمت منافقین،تفسیرآیات متفرقہ،تفسیر آیت معیت،تفسیر آیت رضوان وغیرہ۔

سیرت نبویہ علیٰ صاحبہاالف الف سلام وتحیہ :

تحفۃ الانصاف لصاحب الاختلاف فی تفسیر آیۃ الاستخلاف، رسالہ ہدایت،بجواب"غوایت"مختصر سیرت قدسیہ،سیرت الحبیب الشفیع من الکتاب العزیز الرفیع،نفحہ عنبریہ بذکر میلاد خیر البریہ،اردو ترجمہ شمائل ترمذی،اردوترجمہ چہل حدیث للامام شیخ احمد سرہندی۔

فقہ وعقائد :

علم الفقہ (۶جلدوں میں )،اردوترجمہ فقہ اکبر،وصّاف اردو ترجمہ "الانصاف"۔

فضائل ومناقب اور سیروسوانح :

سیرت خلفائے راشدین،اول المؤمنین،اردوترجمہ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ،تنویر الایمان اردو ترجمہ تطہیر الجنان،کرامات

 موسویہ،الخطبۃ الشوقیۃ فی حضرۃ المجددیہ،اردوترجمہ تاریخ طبری،شجرہ طیبہ،راحۃ القلوب بذکر المحبوب۔

تائید حق :

ابو الائمہ کی تعلیمات،اردوترجمہ ازالۃ الخفاء،بنام کشف الغطاء عن السنۃ البیضاء،افاضۃ العینین علیٰ شہادۃ الحسین ملقب بہ تحقیقی شہادت نامہ،احیاء المیت فی تحقیق الآل واہل البیت،باقیات صالحات فارسی ترجمہ آیات بینات،مدح صحابہ کی مخالفت میں آیت قرآنی سے غلط استدلال اور اس کاجواب،مدح صحابہ شیعوں کی معتبر کتابوں سے، ارشاد الامم بجواب"مصباح الظلم "،قاطع اللسان بجواب "دافع البہتان،نصرۃ الشریعہ شرح"نصیحۃ الشیعہ"،ترجمہ وتحشیہ"تحفہ اثناعشریہ "،عقل سلیم اور صراط مستقیم ،ائمہ اثناعشر اور ان کامذہب،  القول الصواب۔

تردیدشیعت :

حرمت متعہ کاثبوت آیات قرآنیہ سے،کشف الاستار (استبصار

کاترجمہ اورتنقید)،کشف اللفافہ لاظہار مافی النبوۃ والخلافہ،معجزۃ القرآن، نصرۃ القرآن،قاتلان حسین کی خانہ تلاشی،قصہ قرطاس کامختتم فیصلہ،تنبیہ الحائرین بحمایۃ الکتاب المبین ،تفضیح الجائرین (تکملہ تنبیہ الحائرین )،انتصار الاسلام برد استقصاء الافحام،مولوی اعجاز حسین بدایونی کاجواب،مناظرہ اور اظہارحق (۹جلدوں میں )۔

مخالفین اہل سنت کےدوسو مسائل :

(الاول من المأتین)اقامۃ البرہان علیٰ انّ الشیعۃ اعداء القرآن (حصہ اول )،قطع الوتین من الذی یستبدل الشک بالیقین(حصہ دوم )، نہایت الخسران لمن ترک القرآن(حصہ سوم )،اجوبۃ المتحرفین فی ترک الکتاب المبین(حصہ چہارم )۔

(الثانی من المأتین )تحذیر المسلمین عن خداع الکاذبین (حصہ اول )، الحجۃ القویہ بذکر مواقع التقیہ(حصہ دوم )، التحفۃ  البہیۃ فی نتائج التقیۃ(حصہ سوم )۔

(الثالث من الماتین )مسئلہ بداکی تحقیق،الرابع من الماتین شرح حدیث ثقلین،الخامس من الماتین شرح مسئلہ  امامت،تین حصوں پر مشتمل ہے،مقدمہ جائس،النصرۃ الغیبیۃ علی الفرقۃ الشیعیہ۔

ردقادیانیت وبدعت :

اردو ترجمہ ازاحۃ العیب عن مبحث علم الغیب،رفع النزاع عمایتعلق بالسماع،صداقت کانشان بجواب نبی کی پہچان،ہدایت اہل امریکہالقول الاحکم،نبوت کی ضرورت،تحفہ محمدیہ۔

کتاب الصلوۃ،تحفۃ الاسلام لجمیع الاقوام،ان کےعلاوہ ۲۰ کےقریب مناظرے ومباحثے بھی ہیں جو مختلف عنوانات سےمطبوع ہوچکے ہیں ۔

فقہی جامعیت، افکارونظریات :

مولانالکھنوی صاحب،استاذالاساتذہ حضرت مولاناعبدالحئ فرنگی محلی اورفقیہ النفس،حضرت مولانا رشیدا حمد گنگوہی رحمہمااللہ کے بہ یک واسطہ شاگرد تھے اور استاذ الوقت مولانا سید عین القضاۃ  صاحب کےبراہ راست شاگرد تھے، اس لئے ان کا وہی فقہی مسلک تھاجو ان علماء کاتھا،اسی طرح لکھنوی صاحب مولانامحمد علی مونگیری اور مولاناخلیل احمد سہارنپوری صاحب رحمہمااللہ کے بھی معتمدین میں سے تھے، مزیدبرآں قدیم ہندی علماءمیں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کےفقہی خیالات سے بھی متاثر تھے،چنانچہ وہ حنفی المسلک  اور مقلدتھے ،"تقلید "کےجواز میں انہوں نے ایک رسالہ "دُرفرید"کے نام سے لکھاتھاجو  اب ناپید ہوچکاہے،النجم میں ایک موقع پر لکھنو ی صاحب لکھتے ہیں کہ:

" ہندوستان میں بالخصوص امامنا الاعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید اہم واجبات میں سے ہے"۔

البتہ بعض مسائل میں آپ کی رائے دیگر علماء سے ہٹ کرہے۔

تردید شیعت :

لکھنو کےمخصوص حالات اور وہاں مقبول شیعی کی آمد اور شیعہذاکرین کی شر انگیزیوں  کاتذکرہ پہلے ہوچکاہے،جن سےمجبور ہوکر علمائے اہل سنت نے مولاناعبدالشکورلکھنوی صاحب کو لکھنو میں قیام اور رد رافضیت پر کام کی دعوت دی تھی،لکھنو آکر لکھنوی صاحب نے اس کام کو اپنااوڑنابچھونا بنایاتھا،جہاں کہیں سن لیتے کہ وہاں اہل سنت کوتنگ کیاجارہاہے،یاجہاں کہیں بھی مناظرہ کےچیلنج دیے جاتے تو مولانا فوراً وہاں پہنچ جاتے تھے ۔

مولانالکھنوی صاحب نے تقریباً اہلِ سنت اور روافض کے درمیان تمام نزاعی موضوعات پر قلم اٹھایاہے،اور جس موضوع پر لکھنوی صاحب قلم اٹھاتےہیں تو اس موضوع کاحق اداکردیتے ہیں، چنانچہ یہ بات جب ان کی تصانیف میں دیکھی جائے تو روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے،اورمولاناکی ایک خصوصیت یہ تھی کہ فریق مخالف کو عام طور سے انہی کے مذہب کی کتابوں سے  غلط ثابت کرتے تھے ۔

ردشیعت میں آپ کاتحقیقی کام اس سلسلہ کے اور دوسرےموضوعات کے علاوہ خاص طور سے ان کے"عقیدہ تحریف قرآن" اور "عقیدہ امامت"پر ہے،ان دونوں بنیادی عقائد پرجس شرح وبسط کےساتھ آپ نے تحریری وتقریری بحث کی ہے وہ آپ کاخاصہ ہے اور ان ہی دونوں عقائد کے بنیاد پر آپ  نے اس فرقہ کے بارے میں حتمی فیصلہ کرکے یہ ثابت کردیاکہ شیعت ایک مستقل دین ہے،جس کااسلام سے کوئی تعلق  نہیں،کیونکہ جس کا ایمان اس موجودہ قرآن  مجید پر نہ ہو اور جو حضرت نبی کریمﷺکی نبوت کےمتوازی" عقیدہ امامت" کومانتا ہو اس کاتعلق اسلام سے کچھ نہیں ہوسکتا۔

لکھنوی صاحب کےنزدیک شیعہ موجودہ قرآن مجید  کو محرّف مانتے ہیں اس لیے  ان کاایمان قرآن مجید پر نہیں ہوسکتا اور جب قرآن مجید پر سے ایمان اٹھ گیاتو پھر اسلام سے کوئی رشتہ باقی نہیں رہ سکتا،بس یہی سے ہماری اور ان کی راہ الگ ہوجاتی ہے ،اس مسئلہ کی بنیاد پر مولانافرماتے ہیں:

"اس مسئلہ نے اب دوسرے مسائل میں شیعوں سےبحث کرنے کی حاجت نہیں رکھی ،اب نہ شیعوں سے "مطاعن صحابہ"کی بابت بحث کرنے کی حاجت،نہ مسئلہ" امامت وخلافت"پر بحث کرنے کی ضرورت، نہ "توہین انبیاء" میں ان سے الجھنے کی ضرورت،اور نہ "متعہ وزنا" و"شراب خوری وتقیہ" وغیرہ  پر ردّ وکد کی حاجت(باقی رہی)جب ان  کاایمان ہی قرآن شریف پر نہیں ہے تو ان مباحث سے ان کاکیاتعلق ہے "۔

لیکن پھر بھی لکھنوی صاحب کارجحان اس بات کی طرف ہے کہ رفض کی تکفیر کی بنیاد عقیدہ تحریف قرآن ہے اور اس پر ان کی جو تحقیق ہے وہ اس تحقیق میں تمام امت سے ممتاز ہیں اورتحقیق بھی ایسی کہ باوجوددنیائے شیعت کے بڑے بڑے مجتہدین  کو چیلنج دینے کے وہ اس کا رد پیش نہ کرسکے اور نہ کبھی کرسکتے ہیں اور لکھنو ی صاحب نے ثابت کیاہے کہ ان کے ہاں تحریف قرآن کی روایتیں متواتر ہیں،غرض  لکھنوی صاحب کی تحقیق کی مطابق ان کے کفر کی بنیاد عقیدہ تحریف قرآن ہے ۔تفصیل کےلئے ملاحظہ فرمائیں"تنبیہ الحائرین "۔

عبادت وریاضت :

مولانالکھنوی صاحب انتہائی درجہ کے متبع سنت  بزرگ تھے،  آپ کے شب وروز سنت نبوی کے آئینہ دارتھے،اپنے اعمال ومعمولات میں  اخفاکااہتمام کیاکرتے تھے،زہدوقناعت میں اسلاف کے پرتوتھے، رمضان المبارک میں اکابر واسلاف کی طرح آپ کے یہاں بھی اعمال خیر اور تلاوت،دعا،نوافل،ختم خواجگان،درس قرآن وحدیث وغیرہ کاخوب اہتمام ہواکرتاتھا،اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت عطافرمائی۔

وفات :

۱۳۸۱ھ بمطابق ۱۹۶۱ء میں دارالمبلغین کے بالائی حصہ سے اترتے ہوئےگرگئے جس سے علالت کاآغاز ہوا،پھر یہی علالت آگے چل کر مرض الموت میں تبدیل ہوگئی،بالآخر ۱۷ ذیقعدہ ۱۳۸۱ھ بمطابق ۱۹۶۲ء بروز دوشنبہ بعد نماز عصر ۶ بج کر بیس منٹ پر روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔(اناللہ واناالیہ راجعون)۔

حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے غسل دیا،صاحبزادگان اوردیگر علماء نےمعاونت کی،بلامبالغہ جنازہ میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی،نمازجنازہ حضرت کےبڑے صاحبزادے حضرت مولانا عبدالسلام فاروقی صاحب نے پڑھائی،اور مرزا چپ شاہ میاں کے احاطہ میں  تدفین عمل میں لائی گئی ۔

امامِ اہلِ سنت اپنے معاصر علماء کی نظرمیں  :

مولانا حکیم سید عبدالحئ حسنی (صاحب نزہۃ الخواطر)سابق ناظم ندوۃ العلماء لکھنو(المتوفیٰ ۱۹۲۳ء)لکھتے ہیں :

"شیخ (وقت)،فقیہ وعالم (مولانا)عبد الشکور ابن ناظر علی بن فضل علی کاکوری مشہور علماءمیں سے ہیں"، آگے لکھتے ہیں  :

"اس طرح انہوں نے شیعوں کےعقائد ان کےخیالات اور ان تمام چیزوں سے جن کو ان لوگوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں درج کررکھاتھاپردہ ہٹایا،جن سے اخصّ الخواص حضرات کےسوا عوام اور عام علماء ناواقف تھے،اس لئے وہ ہنداور بیرون ہند میں اس خاص علم میں یکتائے روزگار اور امام وقت تسلیم کرلیے گئے،اس موضوعِ خاص میں ان کےمعاصرین علماء میں کوئی بھی ان کامدمقابل اور ہم پلہ نہیں ہوسکا،سوائے اس کے کہ جس کاعلم اللہ ہی کوہے "،آگے لکھتے ہیں:

"ان سب باتوں کے باوجو انہیں تقویٰ وپرہیز گاری، تواضع وانکساری،اصلاح نفس،ترک تکلف،وگوشہ نشینی،مداومت گریہ زاری،زہدوتوکل،اور ذکرو مراقبہ کی بھی دولت حاصل تھی "۔

مفتی اعظم ہند،حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب (المتوفیٰ ۱۹۵۳ء)سابق صدرجمیعۃ علماء ہندلکھتے ہیں :

"جامع المعقول والمنقول وحاوی الاصول والفروع حضرت مولانامحمد عبدالشکور لکھنوی صاحب مدیر النجم علماء احناف اہلِ سنت وجماعت میں ایک متبحر اور مقدس عالم ہیں،مذاہب باطلہ خصوصاً شیعوں کے مقابل میں مولانا موصوف کی خدمات قابل قدر و تحسین ہیں،حضرت مولانا اس کےمستحق ہیں کہ مذاہب باطلہ کےمقابلے میں اہل اسلام ان کو اپنانمائندہ منتخب کریں،مولاناعبدالشکور صاحب اس دور کے شاہ عبدالعزیز ہیں"۔

محدثِ جلیل،ابو المآثرحضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی رحمۃ اللہ علیہ(المتوفیٰ ۱۹۹۲ء)لکھتے ہیں :

"میں نے امامِ اہلِ سنت کو سالہائےدرازتک ہزاروں مجلسوں میں،سینکڑوں جلسوںمیں،سفرمیں،حضر میں،اور اپنےگھر میں بھی،درس دیتے ہوئےبھی،  وعظ فرماتے ہوئے بھی،اور نمازپڑھتے ہوئےبھی، سوتے ہوئے بھی،جاگتے ہوئے بھی،ریل میں بھی اور پانی کے جہاز میں بھی،ہندوستان میں بھی اور مکہ ومدینہ اور عرفات ومنی ٰ میں بھی، مولانااسباط کو سبق پڑھاتے ہوئے بھی،عبدالغنی کوکھلاتے ہوئے بھی،اور مولانا عبدالرحیم صاحب کو ڈانٹتے ہوئے بھی،غرض ہر رنگ  اور ہر حال میں بہت ہی نزدیک سے دیکھاہے،ہزاروں صحابہ،تابعین وائمہ دین،علماء ومشائخ،صوفیااورفقہاء ومحدثین کے تذکرہ اور حالات خوب پڑھ کر اور وسیع مطالعہ کرکے امامِ اہلِ سنت کی کتاب زندگی کامطالعہ میں نے اپنی آنکھوں سے پوری بصیرت کےساتھ کیاہے ،اس کےبعد میں جس نتیجہ پر پہنچاہوں وہ یہ ہے کہ امامِ اہلِ سنت، مرد باصفاوحق آگاہ،ہم رنگ کاملین واہل اللہ،عالم باعمل کےصحیح مصداق،علوم آلیہ وعالیہ میں فرد وطاق،صاحب بصیرت،فقیہ اورنکتہ رس، مفسر،تحفظ ناموس صحابہ کےپرجوش حامی ردشیعہ واحقاق حق میں اس عہد کے ابن تیمیہ اور شا ہ عبدالعزیز،معارف صوفیہ حقہ سے کامل بہرور، مکتوبات امام ربانی کےحافظ،نماز کےعاشق،سنت کے شیدائی،دنیاسے بے رغبت،اور حطام دنیا سے متنفر اور مختصر یہ کہ وہ اس دور کےعالم ربانی تھے ،مزیدآگےلکھتے ہیں: حضرت مولانارحمۃ اللہ علیہ اپنےعلمی وعملی کمالات کے لحاظ سے اس دور میں بے نظیراور ان کی شخصیت بالکل منفردشخصیت تھی" ۔

حضرت مولانامحمدمنظورنعمانی صاحب(مدیرالفرقان) (المتوفی۱۹۹۷ء)لکھتے ہیں :

"ہمارے دینی اور علمی حلقوں میں حضرت مولاناکی شہرت مسلک اہلِ سنت کے ایک لائق اور کامیاب مناظر ومتکلم کی حیثیت سےرہی ہے اور اس کام کے لئے یہ واقعہ ہےکہ ہمارے اس زمانہ میں کسی خاص درجہ کےرسوخ علمی کی ضرورت نہیں رہی ہے اس لیے جن لوگوں کومولانا قریب رہنے کازیادہ اتفاق نہیں ہوا ان کوغالباً بالکل اندازہ نہیں ہوگا کہ ممدوح صرف مناظر اور مصنف ہی نہیں،بلکہ علمائے راسخین میں سےتھے،نامور اصحاب درس کی سی ٹھوس علمی استعداد اور اپنے دائرے میں مطالعہ بہت وسیع تھا، اسی کے ساتھ قدرت نے حافظہ بھی بےنظیردیاتھا، راقم السطور نے اپنی عمر میں بہت کم ایسے قوی الحافظہ دیکھے ہیں "۔

حضرت مولانامفتی عزیزالرحمٰن صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہ (دارالعلوم دیوبند)(المتوفیٰ ۱۹۲۸ء)لکھتے ہیں :

"حضرت مولاناعبدالشکورلکھنوی صاحب کی مساعیجمیلہ وخدمات اسلامیہ جو انہوں  نے ادیان باطلہ کی تردید اور فرق ضالّہ کے ابطال وازہاق میں فرمائی ہیں وہ ہر طرح پسندیدہ ومستحسن ہیں،درحقیقت حضرت مولانانےتما م اہل سنت وجماعت کی طرف سے اس فرض کفایہ کو ادافرماکرسب کو مرہون منت وسبکدوش فرمایاہے"

    مزید آگے لکھتے ہیں  :

"ہم ان کو ہمیشہ کے لیے فرق ضالّہ کے مقابلہ میں اپنانمائندہ منتخب کرتے ہیں اور ان کاساختہ وپرداختہ اور ان کی ہارجیت کو اپنی ہارجیت تصور کرتےہیں "۔

حضرت مولانااسعداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ(سابق ناظم مظاہرالعلوم سہارنپور)المتوفی ٰ ۱۹۷۹ء)لکھتے ہیں :

"حضرت مولاناعلوم آلیہ اور عالیہ دونوں میں یکساں دستگاہ رکھنے والے متبحر عالم تھے،قدیم بزرگانہ وضع اور سادگی کاپیکر تھے،وہ مجددی تھے،اور ان کے کارناموں میں اس چیزکاایک مخصوص رنگ نمایاں تھا، وہ فاروق وفارق بین الحق والباطل بھی تھے اور فاروقی بھی ،ان کی ذات گرامی مجموعۂ کمالات تھی "۔

حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ (سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماءلکھنو)(المتوفیٰ۱۹۹۹ء)لکھتے ہیں:

"مولانا اس وقت دنیائے اسلام کے ممتازترین علماء ومصلحین اور ان چند برگزیدہ شخصیتوں میں سے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے تاریخ اسلام کےمختلف زمانوں میں خاص  اصلاحی اور تجدیدی کام لیاہے،وہ علاوہ اس کے کہ ایک متبحر عالم اورعمیق النظر فقیہ تھے ایک کامیاب مصنف اور متکلم صاحب سلوک اورصاحب سلسلہ شیخ اور خوش بیان مقرربھی تھے"۔

حضرت مولاناسیدمحمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ(سابق ناظم جمیعۃ علمائے ہند)(المتوفیٰ ۱۹۷۵ء)لکھتے ہیں :

"انتہائی رنج وغم کامقام ہے کہ علم وفضل کاایک اور آفتاب غروب ہوا، دنیائے اسلام کے مقبول ترین اور مشہور فاضل اجل،اما مِ اہلِ سنت وجماعت،حضرت مولاناعبدالشکورلکھنوی صاحب کی دینی اصلاحی اور کلامی خدمات سے مسلمانان ہند نصف صدی تک فائدہ اٹھاتے رہےہیں،مرحوم صاحب تصنیف اور اہل قلم تھے،مجلہ النجم کے ادارتی فرائض بھی انجام دیتے رہے، بہت سی عربی اور فارسی کتابوں کو اردوکاجامہ پہنایا، فقہ پر چھے سات جلدوں میں ایک مبسوط کتاب لکھی"۔

حضرت مولاناقاضی مظہرحسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ (خلیفہ شیخ  الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ وبانی تحریک     خدّام اہل سنت ،چکوال)لکھتے ہیں:

"آپ حقیقی معنوں میں امامِ اہلِ سنت وجماعت ہیں اور مذہب اہل سنت وجماعت کےتحفظ اورخلفائے راشدین اورحضور خاتم النبین،رحمۃ اللعالمین،شفیع المذنبین حضرت محمدرسول اللہ ﷺکےجمیع صحابہ واہل بیت کےدفاع کافريضہ اداکرنےمیں وہ اپنے دور کےعظیم محسن امت ہیں،آپ کو اللہ تعالیٰ نے سنی شیعہ نزاعی مسائل میں ایک اجتہادی شان عطافرمائی تھی،  آپ نےفاروقی اورمجددی نسبتوں کو مال وجاہ کےحصول  کاذریعہ  نہیں بنایا،بلکہ توفیق ربانی سے حضرت فاروق اعظم اور امام ربانی مجدد الف ثانی کی عظیم نسبتوں کاپرچم بلندکیا"۔

سید علی مطہر نقوی صاحب امروہوی،متوطن کراچی لکھتے ہیں:

"مولاناموصوف کےعلمی ودینی مقام کےتعین کے اصل مجاز تو علماء اور ارباب فہم وبصیرت  ہی  ہیں ،مگر مجھ ناچیز کاتاثر یہ ہےکہ پور ی تاریخ اسلامی میں امام موصوف کو مذہب مذکورہ بالاکی تحقیق اور اس کے متوازن تجزیہ میں اللہ تعالیٰ نےمجدد،اور حجۃ اللہ فی الارض بناکربھیجاتھا"۔

ہندوستان مین تبلیغی سلسلہ کےبانی حضرت مولانامحمدالیاسصاحب کاندہلوی رحمۃ اللہ علیہ(المتوفیٰ ۱۹۴۴ء)ایک بار تبلیغی اجتماع کے موقع پر۱۹۴۳ء میں ایک بڑی جماعت کےساتھ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو تشریف لائے تھے،اس موقع پر آپ نے دارالعلوم کے کچھ اساتذہ کی موجودگی میں مولانامعین اللہ صاحب ندوی کومخاطب کرکےفرمایا:

"میاں مولوی معین اللہ حضرت مولاناعبدالشکور صاحب کوجانتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا :ہاں! حضرت جانتاہوں اور زیارت بھی کی ہے،فرمایا: نہیں! تم نہیں جانتے،پھر فرمایا : وہ امام وقت ہیں،ان مشرقی دیارمیں حضرت مولاناعبدالشکور صاحب کاوہی مقام ہےجو ہمارے مغربی دیار میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کاتھا"۔

شیخ الاسلام مولاناشبیر احمدعثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ ۱۹۴۹ء)نے ایک موقع پر فرمایا :

"شیعوں کےمتعلق مولاناعبد الشکور صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ شیعہ تحریف قرآن کےقائل ہیں اور ہم مولاناعبد الشکور صاحب پر اعتماد کرتے ہیں "۔

حضرت مولانا محمدیوسف بنوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ  (المتوفیٰ۱۹۷۷ء)نے اپنے ایک تبصرہ میں لکھاتھا :

"حضرت العلامہ مولاناعبد الشکور صاحب لکھنوی قدس سرہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ،حق تعالیٰ شانہ نے ان کی زبان وقلم سے حفاظت سنت اور رد روافض وبدعت کی عظیم خدمت لی،جس کی بناپر انہیں "امام اہل سنت"کاخطاب عطاکیاگیا،جب تک "النجم" لکھنوحضرت کی ادارت میں جاری رہاہندوستان اور ایران کےتما م روافض مل کربھی اس کامقابلہ کرنے سےعاجزرہے"۔

آپ کےوفات پر بہت سارے شعراءنے منظوم خراج  عقیدت پیش کی، عبدالرشید خان قمر افغانی لکھنوی نے لکھاہے کہ:

اپنی مثال عالم   اسلام  میں تھا   آپ

یکتائے    عالمان    زمانا   کہیں  جسے

 سب  ہیں  امام  اہل تسنن  نہیں  کوئی

غماض  سنت  شہِ  بطحا    کہیں   جسے

عبد   الشکور     بانی   دار   المبلغین

اسلام  کا مبلغ ِ  اعلیٰ    کہیں   جسے

روشن کیاہے محفل دنیا  میں  وہ  چراغٖ

حل   کردہ    مسائل  عقبا  کہیں   جسے

رخصت ہوا ہے آج وہ کچھ اس طرح قمر

بے ساختہ  مشیت   مولی ٰ  کہیں جسے.

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019