فقہ حنفی کا مختصر تاریخی ارتقاء ماہنامہ النخیل شوال 1440

[مفتی محمد انوار خان قاسمی بستوی اسلامک ریسرچ اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ،انڈیا کے صدر ہیں،جس کا مقصداسلامی تحقیق و ریسرچ کو فروغ دینا اور بطورِخاص علامہ امام محمدزاہد الکوثری ؒکی کتابوں کا اردو میں ترجمہ و اشاعت ہے،ادارے نے اب تک علامہ کوثری کی دس کتابیں اپنی تعلیقات اور ترجمے کے ساتھ شائع کی ہیں،اس کے علاوہ اِنڈوعرب ملٹی لِنگول پرائیویٹ لمٹیڈ،انڈیا کےمینیجنگ ڈائریکٹرہیںجہاں سے دو سو سے زائداردو،عربی اور انگریزی کتابوں کے ترجمے ہوچکے ہیں ا ور اسلامک لٹریچر رویو، دیوبند ،انڈیا کےمدیر اعلیٰ ہیں۔ماہنامہ النخیل کے لیےارسال کردہ مضمون نذر قارئین ہے ۔ادارہ]

خدائے ذوالجلال نے ابوالبشر سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین، جنابِ رسول اللہ ﷺ تک برگزیدہ انسانوں کی ایک مقدس جماعت کو مبعوث فرمایا جو آسمانِ رشد وہدایت کے تابندہ ودرخشندہ کہکشاں تھے۔ ہر دور میں اللہ رب العزت نے ہر نبی کی قوم کے شایانِ شان اور بشری تقاضوں کے مطابق ایک کامل اور جامع دستورِ حیات نازل فرمایا تاکہ اس کی روشنی میں انسانیت خدا کی معرفت حاصل کرسکے اور انبیاء کے لائے ہوئے دین کو حرزِ جان بناسکے۔ کم وبیش تمام انبیاء کے ایسے انصار وحواریین رہے ہیں جنھوں نے ان برگزیدہ ہستیوں کی رہنمائی کے مطابق اپنے دینی اور دنیوی امور کو ڈھالنے کو سعادت سمجھا اور ان کے ایک ایک حکم اور اشارے پر اپنی زندگیاں قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ لیکن تمام انبیاء کے دور میں انسانوں کی ایک بڑی جماعت ان کی مخالفت کرتی رہی، ان کی دعوت کو دامے درمے سخنے قدمے نقصان پہونچاتی رہی، اور اس طرح سے شقاوت وبدبختی ان کا مقدر بن کر رہ گئی۔ یہی نہیں بلکہ انبیاء کی ایک بڑی تعداد کو بنی اسرائیل کے ہاتھوں قتل تک کیا گیا۔ العیاذ باللہ

انبیاءِ کرام کے اس دارِ فانی سے دارِ جاودانی کی جانب کوچ کرتے ہی متعدد دینی فرقے اور سیاسی جماعتیں اپنا ناپاک ایجنڈا لے کر سماج کے سامنے ظاہر ہوئیں۔ بعض نے ان انبیاء کی مقدس کتابوں میں تحریف کا بیڑا اٹھایا اور کتبِ مقدسہ کو ردوبدل کرکے تختہ مشق بنادیا، جب کہ بعض دیگر فتنہ پردازوں نے انبیاء کے دین میں خرافات واوہام، اور بے سروپا باتوں کو داخل کرکے دین کے ساتھ بد ترین تمسخر کیا، اور اس طرح سےخدا کے ذریعہ یہ بھیجی ہوئی کتابیں تحریف کی نذر ہونے کی وجہ سے اکثر لوگوں کے لیے سامانِ زیغ وضلال بن گئیں۔

لیکن اللہ رب العزت نے انسانیت کے لیے اپنے سب سے آخری نبی محمدﷺ کا انتخاب فرمایا اور آپ کو ایسی کتاب عطا کی جس کو ہمیشہ تمام تحریفات اور ردوبدل سے محفوظ رہنے کی خدائی ضمانت دے دی گئی ہے اور جسے کوئی بھی شخص کسی بھی دور میں تختہ مشق نہیں بنا سکتا۔ چنانچہ قرآن جس طرح رسول اللہﷺ کی زندگی میں پورے طور پر محفوظ تھا، بالکل اسی طرح سے یہ مقدس وحی آج بھی امتِ مسلمہ کے سامنے محفوظ ہے جس میں کسی بھی رد وبدل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چونکہ قرآن تمام سابقہ کتابوں کا نچوڑ، تکملہ اور تتمہ ہے اور تا روزِ قیامت پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے آخری مصدرِ رشد وہدایت ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے انتہائی جامع اور مکمل ترین شکل میں آخری وحی کے طور پر بھیجا، اور یہی کتاب مسلمانوں کا سب سے بڑا فقہی اور تشریعی مصدر ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحابؓ کے اقوال وافعال، ارشادات وہدایات گویا کلام اللہ ہی کی شرح وتوضیح ہیں۔

دورِ نبوی میں خود رسول اللہ ﷺ تمام فقہی، سیاسی، علمی، اور اعتقادی مسائل کا حل اپنے اصحابؓ کے سامنے بقدرِ ضرورت پیش فرمایا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ کو جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو یہ حضرات بارگاہِ رسالت کی جانب رجوع فرماتے اور اپنے سوالات کے جوابات حاصل کرلیتے۔ لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام دوردراز ممالک میں پھیل گیا اور امت کے سامنے نئے نئے مسائل پیدا ہونے لگے۔ عالمِ اسلام میں بسنے والے مسلمانوں نے مسائل اور استفتاء کے لیے فطری طور پر مستند علماء وفقہاء کی جانب رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ صحابہؓ میں ایک تعداد ایسی تھی جو مسائل وفتاوی میں شہرت رکھتی تھی جنھیں فقہاءِ صحابہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حافظ ابن حزم ظاہریؒ نے ”النبذ في أصول الفقه ‘‘میں اور امام ابن القیمؒ نے ”إعلام الموقعين‘‘ میں ان مجتہدین صحابہؓ کی تفصیل پیش کی ہے جن کی خدمت میں حاضر ہوکر صحابہ کرامؓ اور تابعینِ عظامؒ اپنے دینی مسائل کا حل طلب کیا کرتے تھے۔

یقیناً صحابہؓ میں ایک جماعت اجتہاد وفتاوی کی ذمہ داری انجام دیتی تھے لیکن عام طور پر ان کا یہ کام انفرادی ہوا کرتا تھا۔ ان کا کوئی مکتب فکر اور منظم مدرسہ نہیں تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ منظم طور پر فقہ واجتہاد کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے مورخین لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے صحابی جن کو منظم اور اجتماعی انداز سے فقہ وفتاوی کے موضوع پر کام کرنے کا شرف حاصل ہے وہ ہیں معلم الامۃ، استاذ المسلمین، مجتہدِ اعظم، حلال المشکلات، منبع الفقہ والفتیا، خادم الرسول، صحابی جلیل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ امام ابن جریرؒ فرماتے ہیں:

 ”لم يكن أحد له أصحاب معروفون حرروا فتياه ومذاهبه في الفقه غير ابن مسعود‘‘ (ابن مسعودؓکے علاوہ (صحابہ میں) کوئی ایسا نہیں گذرا ہے جس کے معروف تلامذہ ہوئے ہوں، اور جس کے فقہی مسائل کو منضبط اور مرتب کیا گیا ہو۔)

(إعلام الموقعين ج۲ ص۳۶-۳۷)

فقہِ حنفی، فقہ عمری وفقہِ مسعودی کا ارتقاء ہے:مورخ ابن جریرؒ کی مذکورہ عبارت کی بنیاد پر ہم بآسانی اس بات کا دعوی کرسکتے ہیں کہ سب سے پہلا اور سب سے مستند فقہی مدرسہ منظم طور پر عالمِ اسلام میں ظہور پذیر ہونے والا عبد اللہ بن مسعودؓ کا قائم کردہ مدرسہ ہے جو سیدنا عمر بن الخطابؓ کی زیر نگرانی سرزمین کوفہ میں وجود میں آیا۔ در اصل فقہِ حنفی اسی متوارث عمری ومسعودی فقہ کا ارتقاء وتوسیع ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے دور میں یہ فقہ آپ کے عبقری تلامذۃ کی بدولت اپنے عروج کو پہونچ گئی اور چار دانگِ عالم میں پھیل گئی اور اسلامی قانون کی شکل اختیار کرلی۔ اس کے بعد کوفہ میں فقہ واجتہاد کا جو سلسلہ جاری ہوا اس کی نظیر تاریخ اسلام میں نہیں ملتی۔ سرزمین کوفہ کے فقہاء نے اپنے حیرت انگیز علمی اور فقہی اجتہادات، استنباطات اور استخراجات، اور قانونی تاصیل وتفریع، اور تحقیق وتدقیق کے ذریعہ فقہِ اسلامی کی جو خدمت کی ہے وہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قانونی ذخیرہ ہے۔

فقہِ حنفی کا شیوع:خلافتِ عباسیہ میں امام ابویوسفؓ کو جب قاضی القضاۃ کے عہدہ پر سرفراز کیا گیا، اسی وقت سے فقہِ حنفی آسمان کی بلندیوں کو پہونچ گئی۔ گویا مذہبِِ حنفی اسلام کا سرکاری مذہب بن گیا۔ اور پورے عالم اسلام میں قضاء کے عہدے سے اسی کو سرفراز کیا جاتا تھا جو مذہبِ حنفی کا ماہر اور متخصص ہوتا۔

خلافتِ عباسیہ کے بعد خلافتِ عثمانیہ میں طویل صدیوں تک مذہبِِ حنفی ہی سرکاری مذہب رہا ہے۔ اس کے علاوہ مغلیہ سلاطین سارے کے سارے مذہبِِ حنفی کے مقلد تھے اور سلطنت کے تمام احکام وفرامین مذہبِِ حنفی ہی کی روشنی میں صادر فرمائے جاتے تھے۔ فتاوی ہندیہ سے آج کون ناواقف ہے؟ اس حیرت انگیز فقہی ذخیرہ کو بعد کی مغلیہ سلطنت کا قانونی دستاویز اور آئین مملکت مانا جاتا تھا۔

خلافت عباسیہ، خلافت عثمانیہ، اور سلطنت مغلیہ اسلامی تاریخ کے تین ربع سے زیادہ عرصہ کو محیط ہیں اور اس بات سے ہر کوئی واقف ہے کہ یہ تینوں ہی حنفی مذہب پر کاربند رہے ہیں۔ اس مذہب کے شیوع کا سب سے اہم سبب ظاہر ہے اس کے بانیان کا اخلاص اور ان کی للٰہیت، اور ان کا فقہی تعمق اور قانونِ شریعت کا غیر معمولی احاطہ ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اس مذہب کے اصولِ استنباط میں وہ طاقت اور لچک ہے جو کسی بھی دور میں فقہِ اسلامی کو درپیش چلنج کا بھرپور جواب دینے کے لیے کافی ہے اور اس تغیر پذیر دنیا میں کسی بھی وقت ان اصولوں کی روشنی میں نت نئے مسائل وحوادث ووقائع ونوازل کا کافی وشافی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ امام ابن حزم ظاہریؒ کا یہ دعوی بالکل بے بنیاد ہے کہ اگر مذہب حنفی کے پیچھے حکومت کارفرما نہ ہوتی تو یہ مذہب نہ پھیلتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومتیں اس مذہب کو اختیار کرنے پر ایک طرح سے مجبور تھیں۔ کسی بھی حکومت کو چلانے کے لیے ایسا قانونی ڈھانچہ چاہئے جو تمام انسانی شعبوں اور دینی ودنیاوی گوشوں کا کامل احاطہ کرتا ہو اور ظاہر ہے یہ خوبی مذہبِ حنفی سے زیادہ کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی۔

مذہبِ حنفی کی حیرت انگیز وسعت وجامعیت:جو فقیہ بھی امورِ قضائیہ اور مسائل اجتہادیہ کا بغور مطالعہ کرے گا اور پھر مختلف مذاہب ومسالک کا اصولی وفروعی جائزہ لے گا وہ اس حقیقت کو قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مذہبِِ حنفی کے اندر واقعی ایسی حیرت انگیز جامعیت وہمہ گیریت ہے جس نے اس مذہب کی مقبولیت کو اوجِ ثریا پر پہونچا دیا اور آج تک تاریخ انسانیت میں اتنا عظیم اور منظم قانونی مذہب اور مسلک کوئی پیش نہ کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مذاہب کے مقلدین بھی نکاح وطلاق، بیوع ومعاملات کے بے شمار مسائل میں فقہِ حنفی کی تقلید کو ترجیح دیتے ہیں۔

مذہبِ حنفی کی اسی حیرت انگیز وسعت وجامعیت کا ذکرکرتے ہوئے فقیہ الادباء، ادیب الفقہاء، علامہ علی طنطاویؒ ”رجال من التاريخ‘‘ ص۲۵۳-۲۵۴ میں فرماتے ہیں:

 ” والمذهب الحنفي اليوم أوسع المذاهب انتشارا، وأوسعها فروعا وأقوالا، وهو أنفع المذاهب في استنباط القوانين الجديدة، والأجتهادات القضائية، يليه في كثر الفروع المذهب المالكي، وقد عرفت ذلك في السنين التي اشتغلت فيها بوضع مشروع قانون الأحوال الشخصية، وسبب ذلك أن المذهب الحنفي صار مذهب دولة مدة العباسيين والعثمانيين، وهي ثلاثة أرباع التاريخ الأسلامي، والمالكي مذهب المغرب طول هذه المدة، فكثرت فيهما الفروع والمناقشات، أما المذهب الشافعي فلم يكن مذهبا رسميا الا حقبة قصيرة أيام الأيوبيين، بينما اقتصر المذهب الحنبلي على نجد والحجاز اليوم‘‘

(مذہبِ حنفی آج پوری دنیا میں تمام مذاہب میں سب سے زیادہ متداول اور شائع مذہب ہے، اور اسی طرح سے فقہی جزئیات واقوال کے اعتبار سے یہ مذہب سب سے زیادہ مالامال ہے۔ نت نئے قوانین وضوابط کے استنباط، اور قضاء سے متعلق اجتہادات میں اس سے زیادہ نافع مذہب کوئی بھی نہیں ہے۔ مذہبِ حنفی کے بعد کثرتِ فروع وجزئیات میں دوسرا مذہب مالکی ہے۔ مجھے اس کا اندازہ ان سالوں میں ہوا جب میں پرسنل لاء کی منصوبہ سازی پر کام کر رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عباسی اور عثمانی خلافتوں کے دوران مذہبِِ حنفی سرکاری مذہب تھا، اور یہ دونوں ہی خلافتیں تاریخِ اسلام کے تین ربع کو محیط ہیں، جب کہ اس پوری مدت میں مالکی مذہب اندلس کا سرکاری مذہب رہا ہے، اسی لیے ان دونوں ہی مذاہب میں فروعی مسائل اور فقہی مناقشات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مذہبِِ شافعی ایوبی سلطنت کے دوران ہی مختصر مدت کے لیے سرکاری مذہب کی حیثیت رکھتا تھا، جب کہ حنبلی مذہب اس وقت نجد اور حجاز میں میں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔)

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کی شہادت:انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا مستشرقین اور مغربی مصنفین کا عظیم ترین علمی اور ادبی کارنامہ ہے اور اسے انگریزی زبان کا سب سے اہم موسوعہ مانا جاتا ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا کے مقالہ نگار نے فقہِ حنفی کی ہم آہنگی ، لچک اور وسعت کا اعتراف مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے:

The school of Abū Ḥanīfah acquired such prestige that its doctrines were applied by a majority of Muslim dynasties.

His legal acumen and juristic strictness were such that Abū Ḥanīfah reached the highest level of legal thought achieved up to his time. Compared with his contemporaries, the Kufan Ibn Abī Laylā (d. 765) the Syrian Awzāʿī (d. 774) and the Medinese Mālik (d. 795)his doctrines are more carefully formulated and consistent and his technical legal thought more highly developed and refined.

(انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکاج۱ص۱۹) 

(یعنی ابوحنیفہؒ کے مذہب کو اتنا اثر ورسوخ حاصل تھا کہ اکثر اسلامی خلافتیں اور بادشاہتیں اسی مذہب کی پیروکار تھیں۔ ابوحنیفہؒ کی قانونی اور فقہی بصیرت وذکاوت اس زمانہ تک حاصل کی گئی قانونی فکر کے سب سے اعلی معیار تک پہونچی ہوئی تھی۔ اپنے معاصرین ابن ابی لیلیؒ کوفی متوفی ۷۶۵ ء، اوزاعیؒ شامی متوفی ۷۷۴ء، اور مالک مدنیؒ متوفی ۷۹۵ء کے مقابلہ میں آپ کے اصول کی تشکیل زیادہ محتاط انداز سے کی گئی ہے اور اس میں استقلال اور ہم آہنگی زیادہ ہے اور آپ کے علمی اور قانونی افکار وروں کے مقابلہ میں زیادہ معیاری انداز سے مرتب اور منقح کئے گئے ہیں۔)

مذہبِ حنفی اور علماءِ دیوبند: فقہ حنفی کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اس مذہب کو فروغ دینے میں علماءِ عراق کا ہاتھ رہا ہے۔ ظاہر ہے اس مذہب کی تاسیس، اور ترتیب وتدوین کا حیرت انگیز کارنامہ اسی سرزمین کے ایک عظیم اور تاریخی شہر کوفہ کے حصے میں آیا۔ اس کے بعد خلافتِ عباسیہ میں صدیوں تک اس مذہب کے پیروکاروں اور فقہاء ومحدثین نے اس مذہب کی تائید اور تقویت کے لیے متعدد تصانیف لکھیں۔ عباسی دور کے بعد خلافتِ عثمانیہ کا زریں دور شروع ہوتا ہے جس میں فقہِ حنفی پر ہزاروں اہم کتابیں تصنیف کی گئیں اور اس مذہب کو اصولی اور فروعی طور پر نہایت مدلل اور منقح کیا گیا۔

آخری دور میں سر زمینِ ہند کو اللہ نے گوناگوں نعمتوں سے نوازا اور اس ملک میں ایسے عباقرہ اور حیرت انگیز رجالِ کار پیدا کئے جنھوں نے زہد وتصوف میں شبلی وجنید بغدای، اور فکر وفلسفہ میں رازی وغزالی، حدیث ورجال میں ذہبی وابن حجر، فقہ واصول میں مرغینانی وسرخسی، تفسیر میں زمخشری اور جرجانی، اور اسراروحقائق میں حارث محاسبی اور ابن عربی کی یادیں تازہ کردیں اور ایشیاءِ کوچک ان عہد ساز شخصیتوں کے علوم وفنون، مجاہدانہ کارناموں، اور ہو حق کی صداوں سے گونجنے لگا۔ اسی دور میں علماءِ ربانیین کی ایک جماعت نے مجددِ اسلام، امام المتکلمین حضرت نانوتویؒ متوفی۱۲۹۷ھ کی زیرِ قیادت ایشیاء کی عظیم ترین یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی۔ اس ادارے سے منسلک اور یہاں کے فارغ التحصیل علماء وفقہاء، محدثین ومفسرین، فلاسفہ ومتکلمین، عباد وزہاد، خطباء وواعظین، سیاسی ماہرین ومجاہدین نے برِ صغیر میں ایک علمی اور فکری انقلاب برپا کردیا۔ اسی کاروانِ علم ودانش اور مرکزِ فکر وآگہی سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں نے جہاں دین کے تمام شعبوں میں تجدیدی کارنامہ انجام دیا، وہیں ان حضرات نے مذہبِِ حنفی کی عظیم خدمت کی اور اس مذہب پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات دئیے اور فقہِ حنفی کی تائید وتقویت میں ان حضرات نے عربی اور اردو زبان میں سیکڑوں ایسی تصانیف رقم کیں جو اس وقت علمی اور فکری تاریخ کا ایک لازوال حصہ بن چکی ہیں اور بر صغیر میں اسلامی علوم وفنون کے بقاء کی ضامن بن چکی ہیں۔ امام المتکلمین، محمد قاسم نانوتویؒ ،سید الطائفہ، فقیہ ومجتہد مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، محدثِ کبیر مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ، امامِ حریت، بطلِ جلیل، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، محدثِ ناقد، علامہ ظہیر احسن نیمویؒ، محدثِ عدیم النظیر، امام العصر محمد انور شاہ کشمیری، حکیم الامت المحمدیہ، مجدد الملۃ الاسلامیہ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، محقِّق العصر، امام جلیل، محدث کبیر، شارح ابو داود حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری، متکلمِ اسلام، شارح صحیح مسلم، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، شیخ الاسلام، مجاہدِ آزادی مولانا حسین احمد مدنیؒ، مفتیِ اعظم، شیخ الحدیث، محققِ ماہر، شیخ کفایت اللہ دہلویؒ، محدثِ کبیر، مولانا عبد العزیز پنجابیؒ، محدثِ جلیل، شیخ مہدی حسن شاہجہاں پوریؒ، محدثِ عظیم، متکلمِ دوراں، مفسر ِبے مثال، شارحِ مشکوۃ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مفسرِ دوراں، علامہ مفتی محمد شفیع عثمانیؒ، شیخ الحدیث،مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، داعیِ اسلام، امامِ ربانی، عالمِ ملہم شیخ محمد یوسف کاندھلویؒ، محدثِ وقت، علامہ بدرِ عالم میرٹھی، محدثِ ناقد، فقیہِ جلیل، شیخ ظفر احمد عثمانیؒ، محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوریؒ، محدثِ جلیل، شیخ حبیب الرحمن اعظمیؒ، محدثِ ناقد، شیخِ ماہر، علامہ محمد عبد الرشید نعمانیؒ وغیرہ حضرات نے مذہبِ حنفی کی خدمت اور تائید میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں جس کی نظیر تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ ان ائمہ کی تصانیف اور کتابوں میں تقریباً تمام مباحث میں کچھ ایسے علمی نکات ولطائف ملتے ہیں جس کا ذکر قدیم مصنفین وشارحین تک کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ چنانچہ فقہِ حنفی کی تائید میں ان بلند پایہ دیوبندی علماء کی جو عربی اور اردو شروحات وحواشی اور تعلیقات وامالی ہیں ان میں جا بجا ایسی تاویلات وتفسیرات، تشریحات وتوضیحات، جمع وتطبیق، اور توفیق وترجیح کے کچھ ایسے علمی نمونے بیان کئے گئے ہیں جو متقدمین کی کتابوں تک میں دستیاب نہیں ہیں، اور یہ ان اکابر وعظماء کی عبقریت وتبحرِ علمی کابیّن ثبوت ہیں۔

دیوبند حنفیت کا سب سے عظیم مرکز:اس میں کوئی شک نہیں کہ تقریباً پچھلی دو صدی سے اللہ رب العزت نے اہلِ ہند کو اپنی خاص عنایات وتوجہات سے بہرہ مند کیا ہے، اور اس پورے عرصے میں جہاں دیوبند نے پوری دنیا میں اپنے لازوال علمی اور اصلاحی نقوش چھوڑے ہیں، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ نے اس سرزمین کو مذہبِِ حنفی کا سب سے بڑا مرکز بنادیا ہے۔ دیوبند کے جہاں بہت سارے امتیازات ہیں، وہیں اس مکتب فکر کا ایک اہم امتیاز دفاع عن المذہب الحنفی ہے۔ حنفیت دیوبندیت کا اہم ترین عنصر ہے۔ مفکرِ اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی نور اللہ مرقدہ دیوبندیت کی تعریف کرتے ہوئے اپنی کتاب ”المسلمون في الهند‘‘ ص ۱۱۴ -۱۱۶ میں بجا طور پر فرماتے ہیں:

 ”وشعارُ دار العلوم ديوبند: التمسّكُ بالدِّين، والتصلُّب في المذهب الحنفي، والمحافظة على القديم، والدّفاعُ عن السُنّة ‘‘

(یعنی دار العلوم دیوبند کا شعار دین کو مضبوطی سے تھامنا، مذہبِ حنفی پر سختی سے کاربند رہنا، اور قدیم روایات کو زندہ رکھنا، اور دفاع عن السنہ ہے۔)

مفکر اسلام مولانا ابوالحسن ندویؒ نے اپنے مورخانہ اور مفکرانہ اسلوب میں چند لفظوں میں دیوبند کی جو نہایت جامع تعریف پیش کی ہے وہ ایک ناقابلِ انکارحقیقت ہے اور تصلب فی المذہب الحنفی واقعی اس مکتب فکر کا نہایت اہم عنصر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے بانیان نے روزِ اول ہی سے اس مذہب کی خدمت کی اور سیدنا عمر بن الخطابؓ، سیدنا علی ابن ابی طالبؓ اور خاص کر سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کی اس متوارث فقہ کی ہر طرح سے حفاظت اور آبیاری کی ہے۔

دیوبند کے ذریعہ مذہبِ حنفی کی اشاعت اور حضرت نانوتویؒ کا خواب:روزِ اول ہی سے کچھ ایسے منامات اور بشارتیں ہمارے علماء نے ذکر کئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی خاص حکمت کی بنا پر حضرت نانوتویؒ کے ذریعہ قائم کردہ اس عظیم یونیورسٹی کو حنفیت کا سب سے عظیم قلعہ بنایا۔ اس سلسلے میں ایک خواب ہمارے علماء بکثرت اپنی کتابوں میں بیان فرماتے ہیں۔ ارواحِ ثلاثہ ص۲۲۱ کی روایت ہے کہ: خاں صاحب نے فرمایا کہ مولانا نانوتویؒ نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں خانہ کعبہ کی چھت پر کسی اونچی شیء پر بیٹھا ہوں اور کوفہ کی طرف میرا منہ ہے اور ادھر سے ایک نہر آتی ہے جو میرے پاوں سے ٹکرا کر جاتی ہے۔ اس خواب کو انہوں نے مولوی محمد یعقوب صاحبؒ برادر شاہ محمد اسحاق صاحبؒ سے اس عنوان سے بیان فرمایا کہ حضرت ایک شخص نے اس قسم کا خواب دیکھا ہے تو انھوں نےیہ تعبیر دی کہ اس شخص سے مذہبِ حنفی کو بہت تقویت ہوگی اور وہ پکا حنفی ہوگا اور اس کی خوب شہرت ہوگی لیکن شہرت کے بعد اس کا جلدی انتقال ہوجائے گا اور میں نے یہ خواب اور اس کی تعبیر خود مولانا نانوتویؒ سے سنی ہے۔ مولانا کا قاعدہ تھا کہ جب عام لوگوں میں اس خواب کو بیان فرماتے، تو فرماتے ایک شخص نے ایسا خواب دیکھا تھا لیکن خاص لوگوں سے فرمادیتے تھے کہ یہ خواب میرا ہے۔ جب مولانا نے مجھ سے یہ خواب بیان فرمایا، اس وقت میں اکیلا تھا اور پاؤں دبارہا تھا اور مولاناؒ نے بے تکلف مجھ سے اپنا نام لیا تھا۔‘‘

اگرچہ خواب شریعت میں حجت نہیں ہے لیکن استیناس کے لیے خواب کا ذکر کرنا متقدمین ومتاخرین کے یہاں مستحسن مانا گیا ہےاور اگر کوئی خواب کسی عظیم عالم یا امام کا ہو اور اس خواب کی تعبیر بھی کسی عظیم ہستی کی جانب سے بیان کی جائے، تو پھر خواب کافی با معنی اور اہم ہوجاتا ہے۔ ٍصحیحین کی مشہور حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (الرُّؤْيَا الصَّالِحَة جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ) یعنی نیک خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کا وہ خواب تواریخ وطبقات کی کتابوں میں موجود ہے جس کی تعبیر ابن سیرینؒ نے بیان فرمائی تھی۔ حافظ ذہبی ؒ ”مناقب أبي حنيفة وصاحبيه‘‘ ص۳۶میں فرماتے ہیں:

 ”عَنْ أَبِي يُوسُفَ، قَالَ: رَأَى أَبُو حَنِيفَةَ كَأَنَّهُ يَنْبِشُ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَأْخُذُ عِظَامَهُ يَجْمَعُهَا، وَيُؤَلِّفُهَا، فَهَالَهُ ذَلِكَ، فَأَوْصَى صَدِيقًا لَهُ إِذَا قَدِمَ الْبَصْرَةَ أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ سِيرَينَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: هَذَا رَجُلٌ يَجْمَعُ سُنَّةَ النَّبِيِّ وَيُحْيِيهَا‘‘

(یعنی ابو یوسفؒ بیان فرماتے ہیں کہ ابوحنیفہؒ نے خواب دیکھا کہ وہ نبی ﷺ کی قبر کھود رہے ہیں، اور جسم اطہر کی ہڈیاں جمع کر رہے ہیں اور انھیں جوڑ رہے ہیں۔ اس خواب سے آپ بڑے خائف ہوئے اور اپنے ایک دوست سے یہ کہا کہ جب وہ بصرہ جائیں تو ابن سیرینؒ سے اس خواب کی تعبیر دریافت فرمالیں۔ چنانچہ انھوں نے جب ابن سیرینؒ سے سوال کیا، تو ابن سیرینؒ نے جواب دیا: یہ شخص رسول اللہ ﷺ کی سنت کو جمع کرے گا اور اس کا احیاء کرے گا۔)

امام ذہبیؒ اسی کتاب میں علی ابن عاصمؒ کی روایت سے نقل کرتے ہیں کہ ابو حنیفہؒ نے فرمایا:

 ”رَأَيْتُ كَأَنِّي نَبَشْتُ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَزِعْتُ وَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ رِدَّةً عَنِ الإِسْلامِ ، فَجَهَّزْتُ رَجُلًا إِلَى الْبَصْرَةِ، فَقَصَّ عَلَى ابْنِ سِيرِينَ الرُّؤْيَا، فَقَالَ: إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَا هَذَا الرَّجُلِ فَإِنَّهُ يَرِثُ عِلْمَ نَبِيٍّ‘‘

(میں نے خواب دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قبر کھود رہا ہوں، جس کی وجہ سے میں سہم گیا، اور مجھے اس بات کا اندیشہ ہونے لگا کہ یہ کہیں میرے مرتد ہونے کی جانب اشارہ تو نہیں ہے۔ چنانچہ میں نے ایک شخص کو بصرہ بھیجا، اور اس نے ابن سیرین ؒ کے سامنے سارا واقعہ سنایا۔ ابن سیرینؒ نے تعبیر دیتے ہوئے فرمایا: اگر اس شخص کا خواب سچا ہے، تو یہ علومِ نبوت کا وارث ہوگا۔) 

خلاصہ یہ ہے کہ پچھلی دو صدی سے دیوبندی مکتب فکر کو عالمی طور پر مذہبِِ حنفی کا سب سے بڑا ترجمان اور عظیم قلعہ کی حیثیت حاصل ہے۔ آج پوری دنیا میں علماءِ دیوبند کی علمی، فکری اور فقہی خدمات سے اہلِ ایمان سیراب ہورے ہیں اور اپنی دینی ضرورتیں پوری کر رہے ہیں۔

٭…٭…٭

شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019