فقہیاتِ رمضان (03) : افطار کے فضائل ومسائل 2

افطار کرانے کی فضیلت

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص روزہ دار کو افطار کراتا ہے یا کسی غازی کا سامان درست کرتا ہے تو اس کو اسی کے ثواب جیسا ثواب ملتا ہے (بیہقی فی شعب الایمان و شرح السنة)

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جو شخص حلال کمائی سے رَمَضان میں روزہ افطار کرائے، اُس پر رمَضان کی راتوں میں فرشتے رحمت بھیجتے ہیں، اور شبِ قدر میں جِبرئیل علیہ السلام اس سے مُصافَحہ کرتے ہیں، اور جس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام مصافحہ کرتے ہیں (اُس کی علامت یہ ہے کہ) اُس کے دِل میں رِقَّت پیدا ہوتی ہے، اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔(روح البیان)

فائدہ: ہمارے ہاں افطار کرانے کا بڑا ذوق شوق پایا جاتا ہے، اس کی جتنی حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے تاہم یہ خیال بھی رکھا جائے کہ یہ سب کرنا صرف اللہ تعالی کی خوشنودی کے واسطے ہو، کوئی دکھلاوا مقصود نہ ہو، ورنہ نیکی برباد گناہ لازم کا مصداق ہوگا، اسی طرح افطاری اپنی حیثیت کے مطابق کرائے اور اسراف سے بھی بچے، بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ سڑکوں کے اطراف پر افطاری کے دسترخوان لگے ہوتے ہیں اور بعد میں رزق کی ناشکری ہورہی ہوتی ہے، یہ اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب ہے۔

افطار پر شکر گزاری

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ افطار کرتے تو یہ فرماتے:

{ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله} پیاس چلی گئی، رگیں تر ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو ثواب ثابت ہو گیا۔(ابوداؤد)

 

افطار کی دعائیں

1- حضور اکرم ﷺ جب افطار کرتے تو دعا فرماتے :

{اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت}

اے اللہ!میں نے تیرے ہی لئے روزہ رکھا اور اب تیرے ہی رزق سے افطار کرتا ہوں۔(رواه أبو داود مرسلا)

فائدہ: ابن ملک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ یہ دعا افطار کے بعد پڑھا کرتے تھے، اس دعا میں {ولک صمت کے بعد یہ الفاظ و بک آمنت و علیک توکلت} عام طور سے پڑھے جاتے ہیں، یہ الفاظ اگرچہ حدیث سے ثابت نہیں ہیں مگر معنی کے اعتبار سے صحیح ہیں، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

 

2- آپ ﷺ یہ بھی پڑھا کرتے تھے:

{الحمدللہ الذی أعاننی فصمت و رزقنی فافطرت} تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے میری مدد کی کہ میں نے روزہ رکھا اور مجھے رزق عطا فرمایا کہ میں نے افطار کیا۔(مظاہر حق)

 

3- حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ افطار کے وقت یہ دعاکرتے تھے:

{اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِيْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیٍٔ أَنْ تَغْفِرْلِيْ}

اے اللہ! تیری اُس رحمت کے صدقے جو ہرچیز کو شامل ہے، یہ مانگتاہوں کہ تو میری مغفرت فرمادے۔

 

4- بعض کُتب میں خود حضور اکرم ﷺ سے یہ دُعا منقول ہے :

{یَا وَاسِعَ الْفَضْلِ اِغْفِرْلِيْ} اے وسیع عطاوالے! میری مغفرت فرما۔

اَور بھی مُتعدِّد دعائیں رِوایات میں وَارِد ہوئی ہیں، مگر کسی دعا کی تخصیص نہیں، اِجابتِ دُعا کا وقت ہے، اپنی اپنی ضرورت کے لیے دُعا فرماویں، یاد آجائے تو اِس سِیاہ کار کو بھی شامل فرمالیں، کہ سائِل ہوں، اور سائل کا حق ہوتا ہے۔ (مستفاد از مظاہر حق و فضائل اعمال)

مسائل

  • ہوائی جہاز میں روزہ دار کو جب آفتاب نظر آرہا ہے تو اِفطار کرنے کی اجازت نہیں ہے، طیارہ کا اعلان بھی مہمل اور غلط ہے، روزہ دار جہاں موجود ہو وہاں کا غروب معتبر ہے، پس اگر وہ دس ہزار فٹ کی بلندی پر ہو اور اس بلندی سے غروبِ آفتاب دِکھائی دے تو روزہ اِفطار کرلینا چاہئے، جس جگہ کی بلندی پر جہاز پرواز کر رہا ہے وہاں کی زمین پر غروبِ آفتاب ہو رہا ہو تو جہاز کے مسافر روزہ اِفطار نہیں کریں گے۔
  • اگر کسی نے غلطی سے غروب سے پہلے روزہ کھول لیا جائے تو قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ نہیں، اگر اس پر اس وقت روزہ فرض ہوچکا تھا تو وہ روزہ کی قضا کرلے اور اگر کسی نے اس طرح غلطی کی اور اب وہ فوت ہوچکا ہو تو اس کے اس روزے کا فدیہ ادا کردے، اور فدیہ یہ ہے کہ کسی محتاج کو دو وقت کھانا کھلانا، یا پونے دو کلو گندم کی قیمت نقد دے دینا۔(مستفاد از فتاوی یوسفی)
  • اگر کوئی غیرمسلم بوقت افطار موجود ہو تو اس کو بھی کھانے میں شامل کرسکتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی غیرمسلم دعوتِ افطار کرے اور مکمل یقین ہو کہ وہ حلال چیز سے افطار کرائے گا اور اس کی وجہ سے مسجد کی جماعت کے فوت ہوجانے کا خطرہ نہ ہو تو اس کی دعوت افطار میں شرکت کی گنجائش ہے: ولا بأس بالذھاب إلی ضیافة أھل الذمة (عالمگیري: ۵ /۳۴۷) (دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند)
  • مغرب کی اذان اور اقامت میں اتصال نہ کرنا چاہیئے، تھوڑا سا فرق ضروری ہے، مقدار فرق میں اختلاف ہے، امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہونا چاہیئے اور امام ابو یوسفؒ و امام محمدؒ کے نزدیک اس قدر بیٹھنا چاہیئے جس قدر دو خطبوں کے درمیان بیٹھتے ہیں اور رمضان المبارک میں اگر افطاری کی وجہ سے قدرے تاخیر بھی ہوجائے تو مضائقہ نہیں ہے، یہ تاخیر کسی کے انتظار کی نہیں ہے بلکہ ایک واقعی ضرورت ہے، ہاں! زیادہ تاخیر نہ کی جائے۔
  • مسجد میں کوئی چیز تقسیم کردینا درست ہے بشرطیکہ مسجد کو آلودہ کرنے والی چیز نہ ہو، اسی طرح مسجد میں افطار کرنا جائز ہے مگر مسجد کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھا جائے۔ (کفایت المفتی جلد سوم)

مفتی سفیان بلند صاحب

رکن شریعہ کمیٹی حلال آگہی و تحقیقاتی کونسل
مدرس جامعہ دارالہدی گلستان جوہر
رکن شریعہ کمیٹی حلال آگہی و تحقیقاتی کونسل

کل مواد : 29
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019