مذہبی جلسے‘اہمیت اور طریقہ کار

اللہ نے پوری انسانیت کو؛ بلکہ جنوں کو بھی اپنی عبادت کرنے کے لئے پیدا فرمایا ہے؛ لیکن اس امت کے لئے صرف عبادت کافی نہیں، اسے یہ امتیاز بخشا گیا ہے کہ وہ سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کے بعد کارِ نبوت انجام دے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو نیکی کی طرف بلائے اور برائی سے منع کرے، اسی کو قرآن مجید میں ’’امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے — ’’معروف‘‘ کے اصل معنی مشہور اور جانی پہچانی چیز کے ہیں، مقصد یہ ہے کہ نیکی کی طرف اس قدر دعوت دو کہ سماج میں اس کا عام چلن ہوجائے، وہ عرف ورواج کا درجہ حاصل کرلے اور ہر عام و خاص اس کے مطابق عمل کیا کرے، ’’منکر‘‘ ایسی چیز کو کہتے ہیں جو اَن جانی اور اَن پہچانی ہو، جو مشہور نہ ہو، اور جو عادت و رواج کے خلاف ہو، قرآن مجید نے برائی کو ’’منکر‘‘ سے تعبیر کرکے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ بْرائی سے اس قدر روکا جائے کہ وہ معاشرہ میں ایک اَن پہچانی چیز بن جائے،جو عام رواج و معمول کے خلاف ہو۔
یہ کیفیت اسی وقت پیدا ہوسکتی ہے،جب معاشرہ میں معروف کی دعوت اور برائی سے روکنے کی مہم پوری اہمیت اورسنجیدگی کے ساتھ انجام دی جائے، امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے: 
’’بے شک نیکی کی دعوت اور بْرائی سے روکنا دین کا سب سے بڑاستون (قطب اعظم) ہے، یہ وہ اہم ترین کام ہے جس کے لئے اللہ نے تمام انبیائؑ کو مبعوث فرمایا، اگر اس کی بساط لپیٹ دی گئی، اس کے علم اور اس پر عمل سے غفلت برتی گئی تو کارِ نبوت معطل ہوجائے گا، دین داری میں اضمحلال آجائے گا، انحطاط چھاجائے گا، گمراہی پھیل جائے گی، جہالت کی کثرت ہوگی، فساد بڑھ جائے گا، تباہی عام ہوجائے گی، شہر ویران ہوجائیںگے، اللہ کے بندے ہلاک کردئے جائیںگے اور انہیں اپنی ہلاکت کا احساس بھی قیامت سے پہلے نہیں ہوسکے گا۔۔۔ الخ‘‘ (احیاء علوم الدین: ۲؍۶۰۳)۔
امام غزالیؒ جیسے شریعت کے رمزشناس نے جب دعوت دین کی اہمیت پر قلم اٹھایا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ لہو میں قلم ڈبوکر اورمحبت کی انگیٹھی سے دل کو جلاکر یہ تحریر لکھی ہے؛ کیوںکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہی انسانیت کی فلاح و کامیابی کی کلید ہے، اگر معروف کی طرف بلانے والے اور منکر سے روکنے والے لوگ باقی نہ رہیں گے تو دنیا شر و فساد کی آماجگاہ بن جائے گی اورفرشتوں کو نسل انسانی سے جس فساد اور خون ریزی کا اندیشہ تھا، وہ ایک حقیقت بن کر سامنے آجائے گا؛ اسی لئے امت کے علماء اور صلحاء نے ہمیشہ دین کے اس شعبہ کو بے حد اہمیت دی ہے، امام الحرمین نے لکھا ہے کہ اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے؛ بلکہ اپنی اپنی صلاحیت کے لحاظ سے پوری امت کی ذمہ داری ہے۔ (شرح نووی علی مسلم: ۲؍۳۲)۔
لیکن دعوتِ دین کا کوئی خاص طریقہ قرآن و حدیث میں متعین نہیں کیا گیا ہے، داعی کی صلاحیت، مدعوکے مزاج اورماحول کے تقاضوں کے مطابق مختلف طریقوں پر دعوت دین کا فریضہ انجام دیا جاتا رہا ہے، مسلم حکومتوں کا فریضہ ہے کہ وہ طاقت کی لاٹھی استعمال کرکے معاشرہ میں نیکیوں کو رواج دیں اور برائیوں کو روکیں، شریعت سراپا رحمت ہے،شارع تعالیٰ رحمن و رحیم ہیں اور جن پر شریعت نازل کی گئی ہے، وہ رحمۃ للعالمین ہیں، اس کے باوجود جرائم پر سرزنش کرنے کا حکم دیا گیا اور بعض جرائم پر نہایت سخت سزائیں مقرر کی گئیں، یہ اسی لئے کہ بعض دفعہ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے روکنے کے لئے طاقت وقوت کا استعمال بھی مطلوب ہوتا ہے، مساجد میں جمعہ وعیدین کے خطبوں کا اہتمام اور وقتاً فوقتاً لوگوں سے اصلاح و تربیت کی گفتگو کا مقصد بھی دعوت دین ہی ہے، خانقاہیں اور مدارس شب و روز جس کام میں مشغول ہیں، وہ بھی دعوت ہے، اس کے علاوہ انفرادی اور اجتماعی ملاقاتوں کے ذریعہ لوگوں کو متوجہ کرنا بھی دعوت کا ایک موثر طریقہ ہے اور یہ بھی حدیث سے ثابت ہے۔
غیر مسلموں یا مسلمانوں کے ایک گروہ کو جمع کرکے انہیں دین کی طرف بلانا بھی ایک ایسا طریقہ دعوت ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے اورآپ سے پہلے آنے والے پیغمبروں کے عمل سے بھی، قرآن مجید میں حضرت نوحؑ، حضرت لوطؑ اور حضرت ابراہیمؑ وغیرہ کے دعوتی خطابات نقل کئے گئے ہیں، جن میں ’’یَا قَوم‘‘ (اے میری قوم!) سے خطاب کیا گیا ہے، اس کا صاف مطلب ہے کہ جس وقت اللہ کے ان برگزیدہ رسولوں نے دعوت پیش فرمائی، اس وقت ان کے سامنے بہت سارے لوگ موجود تھے، حضرت موسیٰؑ کا مصرکے فرعون سے، فرعون کے جمع کئے ہوئے جادوگروں سے اورخود اپنی قوم بنی اسرائیل سے بار بار خطاب فرمانے کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰؑ کے اپنے حواریوں سے خطاب کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ہے اور بائبل میں بھی، اور بائبل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہودیوں اور خاص کر یہودی علماء سے بھی اصلاحی خطابات فرمائے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کا آغاز ہی اسی انداز پر فرمایا، جب حکم دیا گیا کہ آپ اپنے خاندان کے لوگوں پر حق کی دعوت پیش فرمائیں: وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتکََ الاَقْرَبِیْنَ (الشعرائ: ۴۱۲) تو آپ نے بنوہاشم اور بنو مطلب کو جمع فرمایا، ان کے لئے کھانے کا بھی نظم کیا اور پھر ان پر توحید کی دعوت پیش فرمائی؛ بلکہ بعض سیرت نگاروں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دو دفعہ ایسا اجتماع منعقد کیا، پھر جب آپ کو عمومی طور پر دعوت دین کا حکم دیا گیا تو آپ نے صفا کی چوٹی پر چڑھ کر تمام اہل مکہ کو اس پہاڑ کے دامن میں جمع فرمایا اور ان سے خطاب کیا، فتح مکہ اور حجۃ الوداع کے موقع سے آپ نے جو اثر انگیز خطبات دئے ہیں وہ حدیث و سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں، اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کو، کہ انہوں نے نہایت تحقیق اور حسنِ ترتیب کے ساتھ ’’حیات الصحابہ‘‘ میں ان مضامین کو جمع فرمادیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ دعوت کا ایک مسنون اور ماثور طریقہ لوگوں کے ایک گروہ کو جمع کرکے ان کے سامنے اپنی باتیں رکھنا بھی ہے، موجود دور کے عرف میں اس کو جلسہ، اجتماع یا کانفرنس وغیرہ کہتے ہیں، ماشاء اللہ مذہبی جماعتیں، تنظیمیں، ادارے، دینی مدارس، انجمنیں، نیز عام مسلمان ایسے اجتماعات اور جلسوں کا اہتمام کرتے ہیں، یہ ایک خوش آئند بات ہے، اور یقیناً معاشرہ پر اس کا اچھا اثر پڑتا ہے؛بہ شرطیکہ مقررین تعمیری گفتگو کریں اور مسلمانوں میں نفرت پھیلانے والی باتوں سے اجتناب کریں؛ چنانچہ دوسرے مذاہب کے متبعین میں ایسے اجتماعات کا تصور نہیں تھا؛ لیکن اب وہ بھی مسلمانوں کا دیکھا دیکھی ایسے پروگرام منعقد کرنے لگے ہیں۔
مگر کوئی بھی کام اس وقت بہتر اور اجر و ثواب کا حامل ہوتا ہے، جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اوردین و شریعت کے مزاج سے ہم آہنگ ہو، کوئی کام بہ ظاہر بہت بھلا معلوم ہو اور اس پر اللہ اور اس کے رسول کی مہر تصدیق ثبت نہ ہو تو وہ کام نامقبول ہے اور عام طور پر ایسا کام موثر اور نتیجہ خیز بھی نہیں ہواکرتا، مثلاً: نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے؛ لیکن وہی نماز اگر سورج نکلنے کے وقت، سورج کے نصف آسمان پر ہونے کے وقت اور سورج کے ڈوبنے کے وقت پڑھی جائے تو کارِ ثواب نہیں؛ بلکہ باعث گناہ ہے؛ کیوںکہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہدایت کے خلاف ہے، اور کیوں کہ اس میں سورج کی پرستار قوموں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔
اسی اصول پر ہمیں اجتماعات اور جلسوں کا بھی جائزہ لینا چاہئے، افسوس کہ آج کل ہمارے مذہبی جلسوں اور دینی اجتماعات میں بھی کئی غیر شرعی امور شامل ہوگئے ہیں، جیسے بہت سی دفعہ بلا اجازت الکٹرک کے ستونوں پر تار ڈال دیا جاتا ہے،نہ محکمہ بجلی سے اجازت لی جاتی ہے اور نہ اسے اجرت ادا کی جاتی ہے، سڑکوں کو گھیرکر جلسے کئے جاتے ہیں، حالاںکہ اس جگہ سے عام لوگوں کا اور خاص کر راہ گیروں کا حق متعلق ہے، حکومت سے بھی اجازت نہیں لی جاتی، یقیناً یہ صورت بجلی اور جگہ کی چوری یا غصب میں شامل ہے، اگرچہ بعض برادران وطن بھی ایسی حرکتوں کے مرتکب ہوتے ہیں؛ لیکن ظاہر ہے کہ ہمارے لئے ان کا عمل حجت نہیں ہے، ہمارے لئے تو قرآن و حدیث اور صحابہ کرامؓ کا طریقہ دلیل ہے۔
بعض دفعہ جلسوں میں اسراف اور فضول خرچی بھی حد سے گذر جاتی ہے، ضرورت سے زیادہ روشنی، قمقمے، پھول، پتی، استقبالیہ گیٹ، ڈائس کا ڈیکوریشن، حالاںکہ دین کی بات پہنچانے کے لئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں، ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تو استنجاء ، وضوء اور غسل میں بھی ضرورت سے زیادہ پانی کے استعمال کو پسند نہیں فرمایا، اگرچہ کوئی شخص نہر کے کنارے پر کیوں نہ ہو؟ آپ نے سوتے وقت چراغ کو بجھادینے کا حکم دیا،قرآن و حدیث میں کثرت سے فضول خرچی یعنی بے ضرورت خرچ اور ضرورت سے زیادہ خرچ کو منع فرمایا گیا ہے، — کیا دینی پروگراموں کے لئے اس فضول خرچی کی اجازت ہوسکتی ہے؟
ہمارے یہ پروگرام بعض اوقات عام لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتے ہیں، خاص کر پورے محلہ میں پروگرام کو نشر کرنا، مسلمانوں، غیر مسلموں، صحت مندوں اور بیماروں سبھوں کو اس کے سننے پر مجبور کرنا، بہت سے لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے، قرآن مجید کی تلاوت سے بڑھ کر کونسا ذکر ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی کہ نماز میں نہ بہت زور سے تلاوت کریں اور نہ بہت پست آواز میں کہ شرکاء نماز بھی نہ سن سکیں؛ بلکہ آواز کو معتدل رکھیں: وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تْخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَینَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا (الاسراء : ۰۱۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی راحت کا اس درجہ پاس و لحاظ تھا کہ آپ سلام بھی ایسی آواز میں فرماتے کہ جس سے سونے والوں کو خلل نہ ہو، دین کے اس مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے مشہور حنفی فقیہ علامہ ابن نجیم مصریؒ فرماتے ہیں کہ رات کا وقت ہو، لوگ سوئے ہوئے ہوں اور اس درمیان کوئی شخص زور سے قرآن مجید پڑھے تو وہ گنہگار ہوگا: ’’لو قرأ فی اللیل جہرًا والناس ینام یأثم‘‘(البحر الرائق، باب الامامۃ: ۱؍۴۶۳) — سوچئے کہ ہمارا یہ طرزِ عمل کیا اللہ تعالیٰ کے حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور شریعت کے مزاج کے مطابق ہے؟
یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم جذبات کی رو میں اس بات کا بھی لحاظ نہیں رکھتے کہ کہیں ہم دین کی تعظیم کے نام پر دین کی بے احترامی کے مرتکب تو نہیں ہورہے ہیں؟ — قرآن مجید کا ادب یہ ہے کہ جب قرآن پڑھاجائے تو لوگ خاموش رہیں اور توجہ سے سنیں، اگر کوئی مجلس قرآن کی تلاوت کے لئے منعقد کی گئی ہو اور اس میں لوگ بات چیت کرنے لگیں تو بات کرنے والے گناہ گار ہوںگے اور اگر کہیں لوگ اپنی ضرورتوں میں مشغول ہوں اور وہاں کوئی شخص قرآن کی تلاوت شروع کر دے، نتیجہ یہ ہو کہ لوگ قرآن کی طرف دھیان نہ دے سکیں، کھانے پینے، خرید و فروخت، بات چیت اور دوسری ضروریات میں مشغول رہیں تو قرآن پڑھنے والا گناہ گارہوگا؛ اس لئے کہ وہی شخص غلط جگہ اور غلط وقت کا انتخاب کرکے قرآن مجید کی بے احترامی کا سبب بن رہا ہے، آج کل ہمارے جلسوں میں عمومی صورت حال یہی ہوتی ہے، قرآن پڑھا جاتا ہے، دینی باتیں بیان کی جاتی ہیں، جلسہ گاہ سے باہر دور دور تک آواز پہنچانے کا نظم کیا جاتا ہے، لوگ دنیا کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں،قرآن کی تلاوت اور دین کی باتیں ان کے کانوں تک پہنچتی ہیں؛ لیکن اپنے مشاغل کی وجہ سے نہ وہ سنتے ہیں اور نہ وہ خاموش رہتے ہیں — کیا ہمارا یہ طریقہ قرآن مجید کی اور دینی باتوں کی بے احترامی کے مترادف نہیں ہے؟
پھر مزید ستم یہ ہے کہ بعض اوقات ہم کلمہ طیبہ، قرآنی آیات، احادیث، اللہ اور اللہ کے رسول کے اسماء مبارکہ کے جھنڈے، پوسٹر، بینر وغیرہ بھی لگاتے ہیں اور جلسہ ختم ہونے کے بعد نہیں دیکھتے کہ ان کا کیا انجام ہوا؟ یہ مبارک اور مقدس کاغذ اور کپڑے کے ٹکڑے سڑکوں پر گرتے ہیں اور لوگوں کے قدموں سے روندے جاتے ہیں، اس بے تعظیمی کی ذمہ داری کس پر آئے گی؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد جاگنے اور گفتگو کرنے سے منع فرمایا، خود آپ کا معمول مبارک یہ تھا کہ سوائے اس کے کہ کوئی ضروری دینی بات ہو آپ عشاء کے بعد آرام فرمایا کرتے تھے، عشاء کے بعد جلد سوجانے کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ لوگ بہ آسانی فجر کی نماز ادا کرسکیں اور جن لوگوں کو تہجد پڑھنے کی توفیق ہو، وہ آخر شب میں بیدار ہوسکیں؛ لیکن بعض اوقات یہ جلسے رات دیر تک ہوتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بہت سے سامعین فجر کی نماز سے محروم رہتے ہیں، پس کیا جلسوں کی یہ ترتیب دین کے مزاج سے ہم آہنگ ہے؟
حاصل یہ ہے کہ جلسے اور اجتماعات دعوت و اصلاح کے موثر ذرائع ہیں۔ یہ انبیاء کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہیں؛ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ان کو منعقد کرنے میں شریعت کی حدود اور دین کے مزاج کو پیش نظر رکھا جائے، یہ دوسرے کے لئے تکلیف دہ نہ ہو، زور زبردستی نہ ہو، غیر شرعی طریقے پر ایسی چیزوں کا استعمال نہ کیا جائے، جن کے ہم مالک نہیں ہیں، یہ جلسے صرف کان کی لذت کا سامان نہ ہوں؛ بلکہ ان کے ذریعہ امت کو عمل کا پیغام ملے، ہم اپنے اجتماعات کے لئے قرآن و حدیث اورصحابہ کے عمل کو بنیاد بنائیں، نہ کہ ہم جوش و جذبہ میں برادرانِ وطن کے طریقوں کی پیروی کرنے لگیں، تبھی یہ جلسے سماج میں صالح تبدیلیاں لانے اور معاشرہ کو ایک نمونہ کا معاشرہ بنانے میں ممد و معاون ہوسکتے ہیں، کاش، ہم پوری درد مندی کے ساتھ ٹھنڈے دل سے ان سچائیوں پر غور کریں!

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی


مولانا کا شمار ہندوستان کے جید علما ء میں ہوتا ہے ۔ مولانا کی پیدائش جمادی الاولیٰ 1376ھ (نومبر 1956ء ) کو ضلع در بھنگہ کے جالہ میں ہوئی ۔آپ کے والد صاحب مولانا زین الدین صاحب کئی کتابوً کے مصنف ہیں ۔ مولانا رحمانی صاحب حضرت مولانا قاضی مجا ہد الاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے بھتیجے ہیں۔آپ نے جامعہ رحمانیہ مو نگیر ، بہار اور دارالعلوم دیو بند سے فرا غت حاصل کی ۔آپ المعھد الاسلامی ، حید رآباد ، مدرسۃ الصالحات نسواں جالہ ، ضلع در بھنگہ بہار اور دار العلوم سبیل الفلاح، جالہ ، بہار کے بانی وناظم ہیں ۔جامعہ نسواں حیدرآباد عروہ ایجو کیشنل ٹرسٹ ،حیدرآباد ، سینٹر فارپیس اینڈ ٹرومسیج حیدرآباد پیس فاؤنڈیشن حیدرآباد کے علاوہ آندھرا پر دیش ، بہار ، جھار کھنڈ ، یوپی اور کر ناٹک کے تقریبا دو درجن دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے سر پرست ہیں ۔ المعھد العالی الھند تدریب فی القضاء والافتاء ، پھلواری شریف، پٹنہ کے ٹرسٹی ہیں ۔اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اور مجلس تحفظ ختم نبوت ،آندھرا پر دیش کے جنرل سکریٹری ہیں ۔

آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ کے رکن تا سیسی اور رکن عاملہ ہیں ۔ مجلس علمیہ ،آندھرا پر دیش کے رکن عاملہ ہیں ۔امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ کی مجلس شوریٰ کے رکن ہیں ،امارت ملت اسلامیہ ،آندھرا پر دیش کے قاضی شریعت اور دائرۃ المعارف الاسلامی ، حیدرآباد کے مجلس علمی کے رکن ہیں ۔ آپ النور تکافل انسورنش کمپنی ، جنوبی افریقہ کے شرعی اایڈوائزر بورڈ کے رکن بھی ہیں ۔
اس کے علاوہ آپ کی ادارت میں سہ ماہی ، بحث ونظر، دہلی نکل رہا ہے جو بر صغیر میں علمی وفقہی میدان میں ایک منفرد مجلہ ہے ۔روز نامہ منصف میں آپ کے کالم ‘‘ شمع فروزاں‘‘ اور ‘‘ شرعی مسائل ‘‘ مسقتل طور پر قارئین کی رہنمائی کر رہے ہیں ۔
الحمد للہ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔آپ کی تصنیفات میں ،قرآن ایک الہامی کتاب ، 24 آیتیں ، فقہ القرآن ، تر جمہ قرآن مع مختصر تو ضیحات، آسان اصول حدیث، علم اصول حدیث ، قاموس الفقہ ، جدید فقہی مسائل ، عبادات اور جدیدمسائل، اسلام اور جدید معاشرتی مسائل اسلام اور جدید معاشی مسائل اسلام اور جدید میڈیل مسائل ،آسان اصول فقہ ، کتاب الفتاویٰ ( چھ جلدوں میں ) طلاق وتفریق ، اسلام کے اصول قانون ، مسلمانوں وغیر مسلموں کے تعلقات ، حلال وحرام ، اسلام کے نظام عشر وزکوٰۃ ، نئے مسائل، مختصر سیرت ابن ہشام، خطبات بنگلور ، نقوش نبوی،نقوش موعظت ، عصر حاضر کے سماجی مسائل ، دینی وعصری تعلیم۔ مسائل وحل ،راہ اعتدال ، مسلم پرسنل لا ایک نظر میں ، عورت اسلام کے سایہ میں وغیرہ شامل ہیں۔ (مجلۃ العلماء)

کل مواد : 106
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2019