میں اور تدریس (1)

آپ بیتی اور سفرنامے میرے پسندیدہ موضوعات ہیں اگرچہ اس بارے میں میرا مطالعہ کچھ نہیں۔ سکول یا کالج کی اردو کی کسی کتاب میں احسان دانش کی سوانح حیات کا کچھ حصہ پڑھا تو آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس مضمون کے آخر میں ’’جہان دانش‘‘ کا حوالہ تھا۔ یہ کتاب چند سال قبل لاہور سے منگوا کر پڑھی تو بہت لطف آیا اور میں نے بہت سے احباب کو مشورہ دیا کہ اگر آپ مشکلات میں ہیں تو جہان دانش پڑھ کر اپنے دل کو تسلی دے لیں۔

ابھی چند روز قبل اپنے لئے ایاز قدر خود بشناس کے زاوئے اور قارئین کی حوصلہ افزائی کے لئے ’’میں اور ترجمہ‘‘ کے عنوان سے ترجمے کے میدان میں اپنے سفر کی کتھا بلا کم وکاست بیان کر دی۔ میرا خیال نہیں تھا کہ اس تحریر کو اتنی پزیرائی ملے گی مگر کہتے ہیں اندھوں میں کانا راجا۔ کتنے ہی باہمت لوگ ہوں گے جنھوں نے کیا کیا جتن کئے ہوں گے مگر ان کی آپ بیتیاں تحریر میں نہ آنے کی وجہ سے دوسروں تک نہ پہنچ سکیں جبکہ میں نے اسے لکھ دیا تو بہت سے دوستوں نے کہا کہ ہم اس سے مستفید ہوئے ہیں اور بعض نے تو اسے ایسی گہرائی سے پڑھا کہ مجھے حیرت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر دے۔ اگر کسی ایک بھی شخص نے اس سے کوئی مثبت سبق لے لیا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔

اس کہانی کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ کہ اس کی وجہ سے میں پہلے کل وقتی اور اس کے بعد جز وقتی تدریس سے بھی باہر ہو گیا۔ اب دوستوں کا یہ اصرار ہے کہ میں تدریس کے سفر کو بھی بیان کر دوں۔ ہر چند کہ میں اس بارے میں کوئی الگ تفصیل اس لئے نہیں لکھنا چاہتا تھا کہ میرے روزنامچوں میں اکثر چیزیں موجود ہیں، لیکن اس اصرار کے جواب میں یہاں کچھ باتیں عرض کروں گا۔

ہمارے ہاں سکول کالج کی تعلیم کا مقصد بہت واضح ہے کہ وہ پڑھنے والے کو ملازمت کے لئے تیار کرتے ہیں۔ اسی لئے جیسے ہی کوئی بچہ میٹرک کرتا ہے تو پہلی فرصت میں نوکری کی تلاش میں نکل جاتا ہے جبکہ زیادہ پڑھ جانے والوں میں بھی اکثریت کا مطمع نظر ایک اچھی ملازمت کا خواب ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مدارس کی سوچ تھوڑی مختلف ہے کیونکہ وہاں اس گئے گزرے دور میں بھی اخلاص، للٰہیت اور آخرت کے اجر وثواب کا درس دیا جاتا ہے اور دنیا کی بے توقیری اور قناعت کا سبق بھی۔ اس کا نتیجہ بالکل واضح ہے کہ دس بیس سال سکول وکالج کی تعلیم میں لگانے والا کوئی آدمی شاید ہی ایسا ملے جو پانچ سات ہزار کی ملازمت پر راضی ہو جائے لیکن اتنی ہی عمر مدارس میں گزارنے والے بلا مبالغہ ہزاروں لوگ اس معاشرے میں موجود ہیں جو قناعت کی چادر اوڑھے ساری زندگی بتا دیتے ہیں۔

اس بات سے مقصود یہ بتانا ہے کہ مدارس سے فیضیاب ہونے والے لوگوں کی سوچ ذرا مختلف ہوتی ہے۔ اب اگر ان کی اس سوچ کے مطابق ان کا گزارہ چلتا رہے تو بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس میدان سے بھاگ جائیں بلکہ بہت سی دفعہ نہایت مشکل حالات میں بھی وہ ڈٹے رہتے ہیں۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب بیچاروں کے پاس اور کوئی رستہ ہوتا ہی نہیں تو وہ کہاں جائیں گے؟ کیونکہ آپ کو بہت سے ایسے لوگ مدارس کے ماحول میں سخت مشکلات میں زندگی گزارتے نظر آ جائیں گے جو باہر نکل کر بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن وہ نہیں نکلتے۔ یہ عزیمت پر عمل کرنے والے لوگ ہوتے ہیں جبکہ ہمارے جیسے رخصت پر عمل کرنے والے وہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔

اس تمہید کے بعد میں اپنے تدریس کے سفر کی جانب آتا ہوں۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ میں نے کب سے مدرس یا معلم بننے کا ارادہ کیا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کے اللہ کے فضل سے جو بات مجھے سمجھ آ جائے وہ دوسرے کے سامنے اس سے زیادہ اچھی طرح بیان کر سکتا ہوں لیکن جو بات سمجھ نہ آئے، اسے طوطے کی طرح نہیں دہرا سکتا۔ اسی وجہ سے سکول کے زمانے بھی امتحان کے دنوں میں کچھ دوستوں کے ساتھ اجتماعی مطالعہ کرتا تھا۔ آٹھویں کا امتحان دینے کے بعد اپنے پھوپھی زاد بھائی مولانا لطیف اللہ توحیدی کی دعوت پر گوجرانوالہ میں حضرت مولانا بدیع الزمان شاہ صاحب مرحوم کے دورہء تفسیر میں شریک ہوا تو وہاں بھی بڑے طلبہ کے سامنے دن کا سبق سناتا تھا۔ اس وقت میری فہم ہی کیا ہوگی لیکن اللہ کے فضل سے جب امتحان ہوا تو دوم آیا۔

یہ سلسلہ چلتا رہا اور جب میں دار العلوم کراچی پہنچا تو وہاں رات کو دن کے اسباق دہرانے کی ترتیب تھی۔ اس کو طلبہ کی زبان میں تکرار کہتے ہیں۔ یہاں پہلے میں ایک افغانی دوست عبید اللہ کی جماعت میں بیٹھتا تھا۔ کچھ کتابوں کا تکرار وہ اور کچھ کا میں کرتا تھا لیکن بعد میں میری اپنی جماعت بن گئی تو سارا کام مجھے ہی کرنا پڑتا تھا۔ اس تکرار سے مجھے اس بات کا ادراک ہوا کہ اچھا مدرس بننے کے لئے تکرار کرانا لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسروں کو سمجھانے کے لئے پہلے خود سمجھنا لازمی ہے اور سمجھنے کے لئے لامحالہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ درسگاہ میں استاد جو کہے طلبہ طوعاً وکرہاً اسے کان نیچے کر کے سن لیتے ہیں لیکن تکرار میں جب بات سمجھ میں نہیں آتی تو ٹوکنے والے یوں بھی کہتے ہیں ’’یار بکواس نہ کرو۔ اگر بات سمجھ میں نہیں آئی تو اول فول کیوں بکتے ہو؟ سیدھے سیدھے کہہ دو کہ نہیں سمجھا۔‘‘۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)


عبد الخالق همدرد

مضمون نگار وسیاسی تجزیہ کار
عبد الخالق ہمدرد، آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کے ایک دور افتادہ گاؤں چھولاوئی میں تقریبا سنہ ۱۹۷۴ میں پیدا ہوئے۔
تعلیم کا آغاز گھر اور گاؤں اور اس کے بعد ایبٹ آباد میں جماعت پنجم سے کالج تک تعلیم حاصل کی۔
پھر ٹی آئی پی میں اپرینٹس بھرتی ہوئے مگر وہاں سے مستعفی ہو کر دار العلوم کراچی سے دوبارہ دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ تین سال وہاں اور پانچ سال جامعہ علوم اسلامیہ میں پڑھنے کے بعد ۱۹۹۹ میں درس نظامی مکمل کرکے اسلامی اور عربی علوم کی تدریس سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور سولہ سال تک مختلف تعلیمی اداروں میں کل وقتی اور جز وقتی تدریس کرتے رہے۔
۲۰۰۱ میں فیڈرل بورڈ سے طلائی تمغہ ملا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے عربی اور ایم اے سیاسیات کیا، ۲۰۱۶ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل عربی کیا۔
پانچ سال ایک عربی اخبار اور دس سال سے زیادہ عرصہ ایک سفارتخانے میں انگریزی سے عربی مترجم رہے۔ بیس سے زیادہ کتابوں کا عربی سے اردو میں ترجمہ اور کئی بین الاقوامی کانفرسوں میں اردو عربی رواں ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔

کل مواد : 7
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020