میں اور تدریس (2)

مدارس میں چونکہ معلمین اور مدرسین کی تربیت کا کوئی باقاعدہ بندوبست نہیں۔ اس لئے میرے خیال میں جو طالب علم بعد از فراغت مسند تدریس پر جلوہ آرا ہونا چاہتا ہو، اس کو میں یہ مشورہ دوں گا کہ وہ اپنے دوستوں سے لڑ کر بھی تکرار کرایا کرے۔ اگر آپ تیاری، حوصلے اور لگن کے ساتھ تکرار کراتے رہیں تو اونچے پائے کے مدرس بن سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ پڑھنے اور پڑھانے میں بڑا فرق ہے۔ اس لئے کوئی ضروری نہیں کہ ایک اچھا عالم اچھا مدرس بھی ہو جبکہ اس کا عکس بالکل درست ہے کہ ایک کم علم آدمی اپنے اس علم کو دوسروں کی جانب منتقل کرنے پر زیادہ قادر ہو سکتا ہے۔ قربان جاؤں نبی امی اور معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اس کی جانب بھی اشارہ فرما دیا کہ ’’رب مبلغ اوعیٰ من سامع‘‘ (ہو سکتا ہے کہ جس کو بات پہنچائی جائے، وہ سننے والے سے زیادہ سمجھدار ہو)۔

خیر مدرسے سے فراغت تک تکرار کا سلسلہ جاری رہا البتہ جب بنوری ٹاؤن آیا تو اس میں یہ تبدیلی آئی کہ پہلے اردو میں تکرار کراتا تھا، اب عربی میں تکرار کرانے لگا کیونکہ یہاں میں نے رابعہ عربی میں داخلہ لیا تھا جس میں ہم تین پاکستانیوں کے علاوہ باقی سب بیرونی طلبہ تھے اور ہم میں رابطے کی زبان عربی تھی۔ تکرار کی یہ ترتیب دورہء حدیث سے فراغت تک جاری رہی۔ اس مقام پر یہ بھی بتاتا چلوں کہ میرے خیال میں مدارس کا نصاب اردو میں ترجمہ کر کے پڑھانے کی بجائے اگر طلبہ کو عربی زبان سکھانے کے بعد براہ راست پڑھایا جائے تو اس سے زیادہ قابل لوگ پیدا ہو سکتے ہیں اور اس طرح اردو شروحات سے بھی جان چھوٹ جائے گی جو طلبہ اور اساتذہ دونوں کی قابلیت کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔

میری ایک اور مشکل یہ رہی ہے کہ جب بھی سبق کا مطالعہ کرنے بیٹھتا تو چند ہی سطریں دیکھ پاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی زبان کا چٹخارہ تھا اور لغت ساتھ رکھتا تھا۔ (مجھے یاد ہے کہ میں نے المنجد عربی عربی کا ایک نسخہ مولانا مفتی عبد المنان صاحب کے کتب خانے سے دار العلوم کے زمانے میں خریدا تھا جو اب بھی میرے پاس ہے)۔ چنانچہ ادھر کوئی نیا لفظ سامنے آیا اور ادھر لغت کھل گیا۔ وہاں کوئی اور لفظ انجان مل گیا تو اس کے معانی کی تلاش شروع ہو گئی۔ اس طرح وقت نکل جاتا اور میں کچھ نہ کر پاتا جبکہ تکرار کا کم سے کم فائدہ یہ ہوتا تھا کہ دن کے اسباق زبان سے گزر جاتے تھے۔

امتحان کے دنوں میں میری تکرار کی جماعت تگنی چوگنی ہو جاتی تھی اور خاص خاص مقامات کا تکرار ہوتا تھا۔ اس میں دوست اپنی اپنی مرضی کے مقامات لے کر آتے تھے اور جیسے تیسے تکرار ہو جاتا تھا۔ یہ مشغلہ بڑا اچھا ہوتا تھا۔ اس کے مقابلے میں ہمارے کچھ قابل دوست تکرار کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہوئے الگ سے بیٹھ کر مطالعے کے لئے منظر عام سے غائب ہو جاتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح کم وقت میں اچھی تیاری ہو جاتی ہے لیکن میں اپنی افتاد طبع کی وجہ سے اس روش پر نہ چل سکا۔

اسی طرح رات کو نچلے درجوں کے بعض دوست بھی عبارت درست کرانے کے لئے آ جاتے تھے کیونکہ بہت سوں کا یہ خیال تھا کہ میں بہت لائق ہوں لیکن میں نے اپنے سے کئی گنا زیادہ لائق لوگوں کو دیکھا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اپنے پاس آنے والے کسی طالب علم کو شاید ہی کبھی واپس کیا ہو اور اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ امتحان کے دنوں میں غائب ہو جانے والوں کے ساتھ میرا مقابلہ رہتا تھا اور ہر امتحان میں کوئی ایک انعام مجھے بھی مل جاتا تھا لیکن الحمد للہ کبھی کسی سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی محنت نہیں کی کیونکہ میرا اصول روز اول سے یہ رہا ہے کہ کائنات میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ اس لئے آپ اپنی سی کوشش کریں اور نتیجہ اللہ کے حوالے کر دیں۔ اس سے آدمی کا دل صاف رہتا ہے ورنہ میں نے مدارس میں بھی ایسے طلبہ بھی دیکھے ہیں جو نمبر پر آنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے بات تک کرنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ صاحبو سوچنے کی بات ہے کہ کالے دل کے ساتھ علوم نبوت کیسے سیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ علوم نبوت کی بنیاد ہی باہمی محبت ہے۔

تکرار اگرچہ غیر رسمی تدریس کی ایک شکل ہے لیکن یہ تدریس سے کسی طور پر کم نہیں۔ اس سے زبان اور دماغ دونوں کی گرہ کشائی ہوتی ہے اور اگر اس کے لئے کچھ مطالعہ کر لیں تو پھر تو سونے پر سہاگہ ہے۔ میں معمول کے مطابق دن کو اساتذہ کے سبق کے دوران اہم باتیں لکھ لیا کرتا تھا اور رات کو وہ تحریر روشنی کا کام دیتی تھی کہ جہاں بھٹکے کاپی کھول لی۔ اس سے کام نہیں چلا تو کسی اور لکھنے یا سمجھنے والے سے پوچھ لیا اور اس سے بھی تشفی نہیں ہوئی تو کوئی عربی شرح دیکھ لی یا اگلے دن استاد سے پوچھ لیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مدارس میں طلبہ کے پاس شروحات کا ڈھیر ہوتا ہے لیکن میرے پاس اردو کی کوئی شرح کبھی نہیں رہی جبکہ عربی شروحات خود خریدنے کی سکت نہیں ہوتی تھی اس لئے کسی اور سے لے کر دیکھ لیتا تھا۔ میں نے صرف ’’سلم العلوم‘‘ کی ایک عربی شرح خریدی تھی لیکن اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اس شرح کے باوجود بھی سلم کو سمجھ نہیں سکا اگرچہ امتحان اچھے نمبروں سے پاس ہو گیا۔

ہمارے استاد محترم حضرت مولانا عطاء الرحمن شہید بنوری ٹاؤن کی مسجد کے دیوار سے جڑے بائیں مینار کے ساتھ فجر کی نماز کے بعد عربی زبان سکھایا کرتے تھے۔ اس میں کوئی خاص کتاب تو نہیں ہوتی تھی البتہ بول چال اور سوال جواب ہوتے تھے تاکہ طلبہ کی زبان کھل جائے اور عربی بولنے کی صلاحیت حاصل کر لیں۔ جن دنوں فجر کے بعد مجھ پر نیند کا حملہ نہیں ہوتا تھا، میں بھی اس درس میں شوق سے شریک ہوتا تھا۔ ہمارے سادسہ کے سال حضرت نے کسی وجہ سے وہ درس موقوف کر دیا تو کچھ طلبہ ساتھیوں کی تحریک پر ان کی مسند مجھے سنبھالنا پڑی۔ میرا خیال ہے کہ یہ باقاعدہ استادی کا آغاز تھا۔ فراغت کے بعد اسلام آباد آیا تو ایک بار ایک صاحب بڑے تپاک سے ملے۔ میں ان کو پہچان نہیں پایا۔ تعارف پوچھا تو کہنے لگے کہ میں عربی درس میں آپ کا شاگرد ہوں۔ اس درس میں میرے ہم جماعت، مجھ سے نچلے اور اوپر کے درجات کے طلبہ بھی بیٹھتے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے) ۔۔۔۔۔۔۔۔


عبد الخالق همدرد

مضمون نگار وسیاسی تجزیہ کار
عبد الخالق ہمدرد، آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کے ایک دور افتادہ گاؤں چھولاوئی میں تقریبا سنہ ۱۹۷۴ میں پیدا ہوئے۔
تعلیم کا آغاز گھر اور گاؤں اور اس کے بعد ایبٹ آباد میں جماعت پنجم سے کالج تک تعلیم حاصل کی۔
پھر ٹی آئی پی میں اپرینٹس بھرتی ہوئے مگر وہاں سے مستعفی ہو کر دار العلوم کراچی سے دوبارہ دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ تین سال وہاں اور پانچ سال جامعہ علوم اسلامیہ میں پڑھنے کے بعد ۱۹۹۹ میں درس نظامی مکمل کرکے اسلامی اور عربی علوم کی تدریس سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور سولہ سال تک مختلف تعلیمی اداروں میں کل وقتی اور جز وقتی تدریس کرتے رہے۔
۲۰۰۱ میں فیڈرل بورڈ سے طلائی تمغہ ملا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے عربی اور ایم اے سیاسیات کیا، ۲۰۱۶ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل عربی کیا۔
پانچ سال ایک عربی اخبار اور دس سال سے زیادہ عرصہ ایک سفارتخانے میں انگریزی سے عربی مترجم رہے۔ بیس سے زیادہ کتابوں کا عربی سے اردو میں ترجمہ اور کئی بین الاقوامی کانفرسوں میں اردو عربی رواں ترجمہ بھی کرچکے ہیں۔

کل مواد : 7
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020