ماہ ربیع اول کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ مبارکہ کے ساتھ ایک خاص قسم کی مناسبت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ اور اسکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتہ محبت کرنا یہ ایمان کا جز اور ایما ن کا تقاضہ ہے، اور اسکی بنیاد ہے، اور یہ محبت دنیا کی تمام چیزوں سے بڑہ کر ہو، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا ایمان کامل اور مکمل نہیں ہے جب تک میری محبت اسکے دل میں انکے والدین اور انکی اولاد اور دوسرے لوگوں سے بڑہ کر نہ ہو، اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس محبت کا اظہار بھی کیا جائے۔

اس دنیا کا یک دستور ہے بندہ کی جس کے ساتھ محبت ہوجاتی ہے تو اسکا تذکرہ کیے بغیر دل کو چین اور سکون نہیں ملتا،  تو سرور دوجہاں  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جب تک اظہار نہ ہو، تو دل کو سکون حاصل نہیں ہوتا، اور یہ محبت کا فطری تقاضہ بھی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح اس محبت کا اظہار کریں، اور اس محبت کے اظہار کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

محبت کے اظہار کرنے میں دو اصولوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے، ان میں ایک محبوب کے مقام اور مرتبہ کا لحاظ کرکے اسکی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے، اور دوسرا اصول یہ ہے کہ محبوب کی پسند اور ناپسند کو بھی دیکھا جاتا ہے،  اگر ان دو اصولوں کو مدر نظر رکھتے ہوئے کوئی اپنے محبوب کی محبت کا اظہار کرتا ہے تو صحیح ہے اور اگر ان اصولوں کو  نظر انداز کرکے اپنے محبوب کی محبت کا اظہار کرتا ہے تو عین ممکن ہے کہ اس میں اسکی  طرف سے محبوب کی بے ادبی  ہو۔

باب کو اپنے بیٹے سے محبت ہوتی ہے، بیٹے کو اپنے باب سے، اسی طرح استاذ کو اپنے شاگرد سے اور شاگرد کو اپنے استاذ سے، پیر کو اپنے مرید سے اور مرید کو اپنے پیر سے، لیکن اگر اس میں غور کیا جائے تو یہ بات روشن دن کی طرح ہمارے اوپر واضح ہوگی کہ ہر محبت میں فرق ہے اور اسکے اظہار کا طریقہ بھی مختلف ہے۔

باپ جس انداز میں اپنے بیٹے سے اسکی محبت کا اظہار کرتا ہے،  اسی طرح وہ اگر اپنے باپ کے سامنے اسکی محبت کا اظہار کریگا تو اسکو بے ادبی سے تعبیر کیا جائے گا،  اسی طرح اگر ایک استاذ اپنے شاگرد سے محبت کا اظہار کرتا ہے تو اسی طریقہ کو لیکر وہی استاذ اپنے استاذ کے سامنے محبت کا اظہار نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس میں انکی بے ادبی ہوگی۔ کیونکہ  محبت کے اظہار کرنے میں محبوب کے مرتبے اور مقام کو مد نظر رکھتے ہو محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

ربیع اول کا  مہینہ شروع ہوچکا ہے اور اس ماہ مبارک میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی،  اور اسی ماہ مبارک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی،  اور اسی  ہی ماہ میں سرو ر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے عالم آخرت کی طرف رحلت فرمایا۔ اور اس ماہ کو  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ مبارکہ کے ساتھ ایک خاص قسم کی مناسبت ہے۔

ویسے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ  مسلمان کا کوئی دن اور وقت اور لمحہ ایسا نہ گزرے  ، جس میں اسکے دل کی دنیا  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد سے آباد نہ ہو،  اسی مناسبت کی وجہ سے اس ماہ مبارک میں سیرت کے جلسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، اور اس میں سیرت طیبہ کا تذکرہ مختلف طریقوں ے تازہ کیا جاتا ہے۔

لیکن ہمارے آجکل کے معاشرے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت  کے اظہار کرنے کے جو طریقے اپنائے جاتے ہیں، ان میں بعض چیزیں ایسی اختیار کی جاتی ہیں، جن کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا، حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی انسان کو تکلیف پہنچانے  کو منع فرمایا ہے یہاں تک کہ حضرت مقداد رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کسی جگہ جاتے تو ایسی آواز میں سلام فرماتے کہ جو لوگ بیدار ہوں وہ سن لیں اور  جو لوگ سوئے ہوئے ہوں، ان کی نیند میں خلل واقع نہ ہو۔

تو ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار تو کریں ، کیونکہ یہ ایمان کا جز ہے ، لیکن اس میں ان باتوں سے دور رہیں ،  جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند تھی،  اور ایسا طریقہ اپنائیں جو شریعت کی میزان سے درست ہو اور اس میں دینی نفع بھی ہو۔

اس میں مختلف آراء ہوسکتیں ہیں، لیکن  سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے، کہ ہم اس یادگار مہینے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کے پڑھنے اور اپنی نئی نسل تک پہنچانے کا اہتمام کریں،  تقریبا ہرزبان میں سیرت کے کتابیں موجود ہیں، انکو لیکر پڑھیں اور اپنے بچوں کو  سنائیں، اور اگر ممکن ہو تو کچھ کتابیں لیکر اپنے دوستوں اور رشتیداروں میں ان کو تقسیم کریں۔

دوسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں ایسا ماحول بنائیں، کہ لوگ زیاد سے زیادہ درورد شریف کا ورد کریں، اور ہر مسلمان یہ طے کریے کہ میں اس ماہ میں کم  سے کم ایک لاکھ درود شریف پڑھوں گا، اور آئندہ بھی اسی سلسلے کو  جاری رکھنے کی کوشش کرے، کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی میں سے جو بھی درور پڑھتا ہے ہو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا جاتا ہے۔

تو آئیے آج ہم عہد کریں کہ ان شاء اللہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار ایسے طریقے سے کریں گہ جس میں کوئی ایسا کام نہ کریں جو تعلیما ت نبویہ کے خلاف ہو،  اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی  ہماری دلوں کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے آباد فرمائے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

ڈاکٹر خلیل احمد


کل مواد : 4
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2020