پیغمبر اسلامﷺ — دوستوں اور ہم عصروں کے ساتھ

انسان عام طورپر اپنے بزرگوں سے جھک کر ملتا اور تواضع اختیار کرتا ہے ، اکثر اس جھکاؤ اور بچھاؤ میں مذہب ، زبان اور علاقہ کا فرق بھی رکاوٹ نہیں بنتا ، اسی طرح انسان چھوٹوں اور بچوں کے ساتھ شفقت اور پیار سے پیش آتا ہے ، اس میں بھی مذہب ، علاقہ ، زبان کا کوئی فرق نہیں ہوتا ، یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے ، جیسے پھول کو دیکھ کر انسان کو اس کو دیکھنے اور سونگھنے کی رغبت ہوتی ہے ؛ اسی طرح بچوں کو دیکھ کر دل میں شفقت کا جذبہ اُبھرتا ہے اور اس سے پیار کرنے کو دل چاہتا ہے ، مگر انسان کے برتاؤ اور مزاج کا امتحان اس وقت ہوتا ہے ، جب وہ اپنے دوستوں اورساتھیوں کے ساتھ ہو ، بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ اللہ نے اس کو اپنے ہم عمروں اور ہم عصروں کے مقابلہ بلند مقام و مرتبہ سے نواز دیا ہو ، جو لوگ کم ظرف ہوتے ہیں ، وہ ایسے مواقع کو اپنی بڑائی کے اظہار اور دوسروں کو نیچا دیکھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
رسول اللہﷺکی حیاتِ طیبہ جہاں زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بہترین اُسوہ ہے ؛ اسی طرح آپﷺکے یہاں دوستوں کے ساتھ سلوک و برتاؤ کے سلسلہ میں بھی بہترین رہنمائی موجود ہے ، آپ ﷺاپنے ساتھیوں سے محبت کا اظہار کرتے ، ان کی خوبیوں کا اعتراف فرماتے ، ان کے خصوصی وصف اور امتیازی مقام کو برسرعام بیان کرتے ، جیسے : آپﷺنے حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اہل زمین میں میرے وزیر ہیں : ’’ وأما وزیر ای من أھل الأرض فأبو بکر و عمر‘‘ ( سنن ترمذی ، حدیث نمبر : ۳۶۸۰) حضرت عثمان غنی ؓکے بارے میں فرمایا کہ وہ سب سے زیادہ حیا کرنے والے ہیں : ’’ أحیاھم عثمان‘‘ (کنز العمال ، حدیث نمبر : ۳۳۱۲۱) حضرت علیؓ کے بارے میںارشاد ہوا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے : ’’ أنا مدینۃ العلم وعلی بابھا‘‘ ( المعجم الکبیر ، حدیث نمبر : ۱۱۰۶۱) حضرت زبیر بن عوامؓ کو اپنا حواری قرار دیا ، (صحیح بخاری ، کتاب الجہاد ، حدیث نمبر : ۲۶۹۱) حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو اپنا محرم راز بنایا ، ( صحیح بخاری ، باب مناقب عمار و حذیفہ ، حدیث نمبر : ۳۵۳۳) حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو امین اُمت کہا ، ( صحیح بخاری ، باب قصۃ اہل نجران ، حدیث نمبر : ۴۱۳۱) حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ کے بارے میں فرمایا کہ جو بات ان کو پسند ہے میں نے بھی اس کو اپنی اُمت کے لئے پسند کیا : ’’ رضیت لأمتی مارضی لھا ابن اُم عبد ‘‘ (مستدرک حاکم : ۳؍۳۱۷) اس طرح کے توقیر و احترام کے بہت سے الفاظ ہیں ، جو آپﷺنے اپنے اپنے مختلف رفقاء کے لئے ارشاد فرمائے ہیں ، اس سے سبق ملتا ہے کہ ایک مسلمان کے اندر اپنے ہم عصروں کی خوبیوں ، صلاحیتوں اور کارناموں کے اعتراف کا جذبہ ہونا چاہئے ؛ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں مبالغہ نہ ہو ، رسول اللہ ﷺ اللہ کے پیغمبر اور اشرف الانبیاء ہے ، اس کے باوجود آپﷺنے خود اپنے بارے میں مبالغہ کرنے سے منع فرمایا ، آپ ﷺنے فرمایا : تم میری تعریف میں اس طرح کا مبالغہ نہیں کرنا ، جو عیسائیوں نے عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں کیا تھا ، حقیقت یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ ( صحیح بخاری ، عن ابن عباس ، باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم، حدیث نمبر : ۳۴۴۵)
آپﷺاپنے رفقاء سے گہرا رابطہ رکھتے تھے ، ایسا تعلق ہوتا جیسے گھر کے افراد کا ایک دوسرے سے ہوتا ہے اور آپﷺکا برتاؤ ایسا دل موہ لینے والا ہوتا تھا کہ ہر ساتھی کو گمان ہوتا تھا کہ آپﷺکو سب سے زیادہ محبت ان ہی سے ہے ، آپ ﷺکے ایک نسبتاً نو عمر صحابی حضرت عبداللہ بجلیؓ کا بیان ہے کہ آپ جب بھی ان کو دیکھتے تبسم فرماتے ، یہاں تک کہ ان کو خیال ہوگیا کہ آپ ﷺان کو تمام صحابہ میں سب سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں ؛ چنانچہ انھوںنے یہ بات آپﷺسے پوچھ ہی لی کہ آپﷺکو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا : ابوبکر سے ، ( کنز العمال : ۱۳؍۱۲۳ ، حدیث نمبر : ۳۶۴۴۶) اسی دوستانہ رفاقت کا اثر تھا کہ آپ اپنے رفقاء کے ساتھ کھانے پینے میں شریک رہتے ، حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے مروی ہے کہ میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا ، رسول اللہﷺ کا میرے پاس سے گذر ہوا ، آپ ﷺنے مجھے اشارہ کیا ، میں آپﷺ کے پاس آگیا ، آپﷺنے میرا ہاتھ تھام لیا ، ہم دونوں چلے ، یہاں تک کہ بعض ازواج مطہرات کے حجرہ کے پاس تشریف لائے ، آپﷺ اندر چلے گئے ، پردہ گرادیا ، پھر مجھے حاضری کی اجازت دی ، میں بھی اندر داخل ہوا ، آپﷺنے دریافت فرمایا کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ عرض کیا گیا : ہاں ، اور ( روٹی ) کے تین ٹکڑے لائے گئے ، ایک ٹکڑا آپﷺنے اپنے سامنے رکھا ، ایک میرے سامنے ، تیسرے کے دو حصے کردیئے ، آدھا خود رکھا ، آدھا مجھے عنایت فرمایا ، پھر دریافت کیا : کوئی سالن بھی ہے ؟ جواب ملا : نہیں ، صرف سرکہ ہے ، آپﷺنے فرمایا : لاؤ تو سہی ، یہ توبہت اچھا سالن ہے ۔ ( مسلم ، باب فضیلۃ الخل والتأدم بہ ، حدیث نمبر : ۲۰۵۲)
اسی طرح آپﷺبے تکلف اپنے رفقاء کی دعوت قبول فرماتے تھے ، اگر دوسرے رفقاء بھوکے ہوں ، تو جو بھی میسر ہوتا ، ان میں سب کوشامل فرماتے ، غزوۂ خندق کے موقع سے بڑی تنگی تھی ، صحابہ فاقہ سے دوچار تھے ، خود رسول اللہﷺکی کیفیت بھی یہی تھی ، اس موقع پر حضرت جابرؓ نے تنگی کے باوجود آپﷺکے لئے تھوڑا سا کھانا بنایا ، اور دعوت پیش کی ، ان کا منشا تھا کہ صرف آپﷺ تشریف لائیں ؛ لیکن آپﷺ نے تمام صحابہ کو دعوت دے دی ، حضرت جابر اس صورت حال سے پریشان ہوگئے ؛ لیکن اہلیہ نے اطمینان دلایا ؛ کہ جب آپﷺنے صورت حال سے واقف ہونے کے باوجود سبھوں کو دعوت دی ہے تو انشاء اللہ کمی نہیں ہوگی ؛ چنانچہ یہی ہوا کہ آپ کی برکت سے تمام لوگوں نے سیر ہوکر کھایا ۔ ( بخاری ، کتاب الجہادوالسیر ، حدیث نمبر : ۲۰۳۹)
جب آپﷺمدینہ تشریف لائے ، تو حضرت سلمان فارسیؓ نے آپ ﷺے سامنے رُطَب کھجور پیش کی ، جو وہاں کی عمدہ کھجور سمجھی جاتی تھی ، آپﷺنے اس کے بارے میں دریافت فرمایا : حضرت سلمان عرض کیا : یہ آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے لئے صدقہ ہے ، ارشاد ہوا : اسے اُٹھالو ؛ کیوںکہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ، حضرت سلمان ؓنے اُٹھالیا ، اگلے دن پھر اسی طرح کھجور لائے ، خدمت اقدس میں پیش کیا ، آپ نے آج بھی کھجور کے بارے میں دریافت فرمایا ، کہنے لگے : یہ آپ کے لئے ہدیہ ہے ، آپﷺنے فرمایا : دسترخوان بچھاؤ ؛ چنانچہ سب نے مل کر تناول کیا ، ( مسند احمد ، عن بریدہ اسلمی ، حدیث نمبر : ۲۲۹۹۷ ) — دراصل حضرت سلمان فارسیؓ تورات کے بڑے عالم تھے اور وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ آپﷺکا دعویٰ نبوت صحیح ہے یا نہیں ؛ کیوںکہ انبیاء صدقہ نہیں کھاتے ہیں ، آپﷺکے اپنے ساتھیوں کی ضیافت کرنے اور ان کے ہم طعام ہونے کے بہت سے واقعات حدیث و سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں ۔
غرض کہ آپﷺ تمام معاملات میں ان کے ساتھ شریک رہتے تھے ، تقریبات میں بھی ، کھانے پینے میں بھی ، خوشی اور غم میں بھی ؛ اسی لئے آپ کا اپنے صحابہ سے بے حد قریبی تعلق تھا اور وہ آپ کو اس طرح ٹوٹ کر چاہتے تھے کہ گو یا ایک شمع کے گرد پروانے ہوں ، ابوسفیان نے مسلمان ہونے سے پہلے اس بات کا اعتراف کیا کہ جس طرح محمد (ﷺ)کے ساتھی ان سے کرتے ہیں ، میں نے کسی شخص کو دوسرے شخص کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا : ’’ مارأیت من الناس أحد ایحب أحدا کحب أصحاب محمد محمداً‘‘ ۔ (سیرت ابن ہشام: ۲؍۱۷۲)
باوجودیکہ آپﷺکی زندگی خود قناعت کے ساتھ گذرتی اور کئی کئی وقت فاقہ کی نوبت آجاتی ؛ لیکن اس کے باوجود آپ اپنے ساتھیوں کی مالی اعانت کا بھی خیال رکھتے ، کوئی تحفہ آتا تو اسے لوگوں میں تقسیم کردیتے ، یہاں تک کہ رمضان المبارک میں آپ کا جو دو سخا تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتا ، ( کنز العمال : ۶؍۵۱۵) دوستوں کے ساتھ داد و دہش کا مختلف انداز اختیار فرماتے ، حضرت جابر بن عبد اللہؓ سفر میں آپ کے ساتھ تھے ، ان کی اونٹنی بڑی سست رفتار تھی ، آپ نے ان سے ڈنڈا لیا اور چند دفعہ اونٹنی کو ہلکے طورپر مارا ، پھر کیا تھا اونٹنی اتنی تیز چلی کہ وہ آپ کی اونٹنی کے برابر میں چلنے لگی ، آپﷺنے ان سے پوچھا : کیا وہ اونٹنی فروخت کریں گے ؟ حضرت جابر نے پیش کش کی کہ آپ اسے ہدیتاً قبول فرمالیں ؛ لیکن آپ نے اسے خرید کرنے پر ہی اصرار کیا ، ایک درہم سے بات شروع ہوئی ، آپ قیمت بڑھاتے چلے گئے ، یہاں تک کہ چالیس درہم تک بات پہنچی ، پھر مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے پیسے بھی ادا کردیئے اور اونٹنی بھی ہدیتاً واپس کردی ، ( مسلم ، باب استحباب نکاح البکر ، حدیث نمبر : ۷۱۵) — ایک موقع پر حضرت عمرؓ سے ایک سامان خرید ا ، اور ان ہی کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کو ہدیہ کردیا ۔ ( کنز العمال : ۴؍۲۸۳)
یہ عطا کرنے کے مختلف طریقے تھے ، اس کا نتیجہ تھا کہ آپ کے پاس کثرت سے مال غنیمت آتا ، مختلف علاقوں کے محصولات آتے ؛ لیکن کوئی چیز آپ کے پاس باقی نہیں رہتی ، ایک دن چند درہم بچ گئے ، تو آپ بے چین تھے ، حضرت عائشہؓ نے آپ کی بے چینی دیکھ کر خیال کیا کہ شاید کوئی تکلیف ہوگی ، آپﷺنے فرمایا : نہیں ، میں اس لئے بے قرار ہوں کہ کہیں اس حال میں میری موت نہ آجائے کہ یہ سکے میرے پاس موجود ہوں ، ( مسند حمیدی ، حدیث نمبر : ۲۸۳ ، بخاری ، حدیث نمبر : ۱۱۶۳) خاص طورپر نو مسلموں کا آپ اتنا گرانقدر تعاون فرماتے کہ خود انھیں بھی حیرت ہوئی ، حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے آپﷺسے جو بھی مانگا جاتا ، آپﷺعطا فرمادیتے ، ایک ایسے ہی صاحب آئے تو آپ نے دو پہاڑوں کے درمیان موجود پوری بکریاں انھیں عطا فرمادیں ، وہ جب اپنی قوم کی طرف واپس ہوئے تو کہنے لگے : اے لوگو ! اسلام قبول کرلو ، محمد (ﷺ)اتنا عطا فرماتے ہیں کہ اپنے فقر و فاقہ کا بھی کوئی خوف نہیں کرتے ۔ ( مسلم ، باب ماسئل رسول اﷲ شیئاً قط الخ ، حدیث نمبر : ۲۳۱۲)
دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک پہلو بے تکلفی ہے ، اس بے تکلفی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ ساتھیوں سے مزاح بھی فرمایا کرتے تھے ، اور آپ کی بے تکلفی کو دیکھتے ہوئے آپ کے رفقاء بھی آپ سے مزاح کرتے تھے ، حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ زاہر نام کے ایک صاحب دیہات سے آتے تھے اور دیہات کی چیزوں کا تحفہ آپ کو پیش کرتے تھے ، پھر جب واپس ہونے لگتے تو آپ ان کو سامان واسباب دے کر رُخصت فرماتے تھے ، آپﷺنے ایک موقع پر فرمایا : زاہر ہمارے دیہاتی ساتھی ہیں اور ہم ان کے شہری ساتھی ہیں ، رسول اللہ ﷺ ان سے بڑی محبت فرماتے تھے ، وہ خوش شکل آدمی نہیں تھے ، ایک دن جب وہ اپنا سامان بیچ رہے تھے ، آپﷺان کے پاس تشریف لائے اوران کو پیچھے سے اس طرح اپنی گود میں لے لیا کہ وہ دیکھ نہ سکے ، کہنے لگے : مجھے چھوڑ دو ، یہ کون شخص ہے ؟ پھر انھوںنے محسوس کرلیا کہ آپﷺہیں ، آپﷺ فرمانے لگے : کون ہے جو اس غلام کو خرید لے ؟ حضرت زاہرؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول تب تو آپ مجھے کھوٹا مال پائیں گے ، ارشاد ہوا ؛ لیکن تم اللہ کے پاس کھوٹے نہیں ہو ، یا فرمایا : تم اللہ کے پاس بہت قیمتی ہو : ’’ لکن عند اﷲ أنت غالی‘‘ ۔ (مسند احمد ، عن انس ، حدیث نمبر : ۱۲۶۶۹)
جیساکہ عرض کیا گیا ، آپ کی خوش اخلاقی اور بے تکلفی سے حوصلہ پاکر بعض دفعہ خود صحابہ بھی آپﷺے مزاح کرلیتے تھے ، غزوۂ تبوک کے موقع سے حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓخدمت اقدس میں حاضر ہوئے ، سلام کیا ، آپﷺے جواب دیا اور فرمایا : اندر آجاؤ ، حضرت عوف ابن مالکؓ نے از راہ مزاح عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا پورا کا پورا آجاؤں ، آپﷺے فرمایا : پورے پورے آجاؤ ؛ چنانچہ عوف ابن مالکؓ اندر تشریف لائے ، ( ابوداؤد ، باب ماجاء فی المزاح ، حدیث نمبر : ۵۰۰۰) ایک بار آپﷺے حضرت صہیبؓ کو کھجور کھاتے ہوئے دیکھا ؛ حالاںکہ ان کے آنکھ میں تکلیف تھی ، آپﷺے فرمایا : تمہاری آنکھ میں تکلیف ہے ، پھر بھی کھجور کھاتے ہو ، حضرت صہیبؓ نے عرض کیا : جس طرف تکلیف نہیں ہے ، اس طرف سے کھاتا ہوں ، آپ ان کے اس بے ساختہ جواب پر ہنس پڑے ۔ ( مستدرک حاکم ، باب ذکر مناقب صہیب ، حدیث نمبر : ۵۳۰۳)
لیکن مزاح میں بھی آپ کی زبان سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی تھی ، جو حق اور سچائی کے خلاف ہو ، آپ کے مزاح کرنے پر تعجب کرتے ہوئے بعض صحابہ نے دریافت کیا : کیا آپ بھی ایسا کرتے ہیں ؟ آپﷺنے فرمایا : ہاں ؛ لیکن میں کوئی ایسی بات نہیں کہتا ، جو حق اور سچائی کے خلاف ہو : ’’ انی لا اقول إلاحقا‘‘ ۔( مسند احمد ، حدیث نمبر : ۸۴۸۱) 
البتہ آپ کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ ہنسی مذاق تکلیف دہ اور اہانت آمیز ہوجائے ، یا کسی کو اس بہانے سے دل آزار بات کہی جائے ، عبداللہؓ نام کے ایک صاحب تھے ، جن کو لوگ غالباً مذاق سے حمار ( گدھا ) کہا کرتے تھے ، یہ رسول اللہﷺکو ہنسایا کرتے تھے ، ایک دن اُن پر آپ کے حکم سے شراب پینے کی سزا جاری کی گئی ، لوگوں میں سے ایک صاحب کہنے لگے : یہ کس قدر بار بار یہ حرکت کرتا ہے ، اس پر اللہ کی لعنت ہو ، آپ ﷺنے فرمایا : اس پر لعنت نہیں بھیجو ، خدا کی قسم ! جہاں تک مجھے معلوم ہے ، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ، (بخاری ، کتاب الحدود ، حدیث نمبر : ۶۳۹۸) اسی طرح جب بھی آپ کے سامنے کوئی ایسی بات آتی ، جس سے بے توقیری کا پہلو ظاہر ہوتا ہوتو آپ اس کی نفی فرماتے ، ایک بار حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ مسواک توڑنے کے لئے ایک درخت پر چڑھے ، ان کی پنڈلیاں بہت پتلی تھیں ، ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے ہوا ان کو اُڑالے جائے گی ، لوگ ہنسنے لگے ، آپﷺنے دریافت فرمایا : کیوں ہنستے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : ان کی پتلی پتلی پنڈلیوں کی وجہ سے ، آپﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اللہ کی ترازو میں ان کا وزن اُحد پہاڑ سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ ( مسند احمد ، عن عبد اللہ ابن مسعود ، حدیث نمبر : ۳۹۹۱)
(جاری)

تبصرے

يجب أن تكون عضوا لدينا لتتمكن من التعليق

إنشاء حساب

يستغرق التسجيل بضع ثوان فقط

سجل حسابا جديدا

تسجيل الدخول

تملك حسابا مسجّلا بالفعل؟

سجل دخولك الآن
ویب سائٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس سائٹ کے مضامین تجارتی مقاصد کے لئے نقل کرنا یا چھاپنا ممنوع ہے، البتہ غیر تجارتی مقاصد کے لیئے ویب سائٹ کا حوالہ دے کر نشر کرنے کی اجازت ہے.
ویب سائٹ میں شامل مواد کے حقوق Creative Commons license CC-BY-NC کے تحت محفوظ ہیں
شبکۃ المدارس الاسلامیۃ 2010 - 2018